فادرز ڈے اور اباجی کی یادیں۔۔۔ افشاں نوید

لاکھ کہیں کہ ہم رسمی مدرز اور فادرز ڈے نہیں مناتے مگر لمحہ بھر کو ٹہر کر سوچنے پر آمادہ تو کرتے ہیں یہ مواقع۔۔ میں صبح سے سوچ رہی ہوں کہ ہمارے والد محترم پر ہم آٹھ بہن بھائ تھوڑا تھوڑا بھی لکھتے تو ایک کتاب بن جاتی۔ہم نے سوچا ہی نہیں ایسے،اپنے اباجی کی زندگی میں انکو تلاش ہی نہ کیا،ان کو جان ہی نہ سکے۔میں نے زندگی کی دو دھائیاں پوری کی تھیں کہ وہ داغ مفارقت دے گئے۔۔

ان سے جڑی یادوں میں ایک تکلیف دہ یاد یہ ہے کہ وہ میری شادی میں شریک نہ ہوسکے کیونکہ وہ ہسپتال میں داخل تھے گردے کے مرض کے سبب ۔ وہ ہسپتال گئے، میں سسرال اور ھم دونوں ہی پھر ساری زندگی C.77/8 میں دوبارہ نہ پلٹ سکے ۔ جو ھمارا گھر ، ہم آٹھ بہن بھائیوں کی جائے پیدائش تھا ۔ اچانک اھل خانہ وہ گھر چھوڑ کر بڑے گھر میں شفٹ ہوگئے ۔ بڑا گھر تو درکار تھا مگر آنافانا شفٹنگ شائد رب کو منظور تھا کہ پھر اپنی جائے پیدائش سے ناتہ ٹوٹ گیا۔ ان دو کمروں اور صحن سے ہمارا بچپن جڑا تھا ۔جہاں کچن اسٹور تھا اور صحن کا ایک حصہ کچن۔۔ وھیں آنکھ کھولی اور بہت کچھ دیکھا جس کو جانا بہت بعد میں بلکہ اب تک سوچوں کے وہ در کھلتے ہیں تو ایک نئ دنیا آباد ہو جاتی ہے
تم میرے پاس ہوتے ہو گویا - جب کوئی دوسرا نہیں ہوتا۔
اس گھر کی تمہید یوں کہ وہ ہمارے " باپ " کا گھر تھا ، میکہ تھا ہمارا ۔ باجی تو اسی گلی میں رہتی ہیں اب تک ۔ پڑوسیوں نے بتایا کہ ہمارے گھر چھوڑنے پر وہ کئ دن بہت ٹوٹ کر روئی تھیں کہ میکہ سے بچھڑنے کا غم اب محسوس کیا ہے۔ باپ تو باپ ہوتا ھے چاہے پڑھا لکھا ہو یا ناخواندہ۔اعلی حکومتی عہدیدار ہو یا ریڑھی بان۔ ماں یا باپ کو جب بیان کیا جائے گا انکے تشخص کے لئے "والدین" ہونا کافی ہے۔ ہمارے اباجی تو اللہ کی نشانیوں میں سے ایک نشانی تھے۔کوئی اولاد یہ گواہی دے سکتی ہے کہ ہمارے گھر میں کبھی رات کا خامشی ہم نے نہ دیکھی کیونکہ ہمارے اباجی ساری رات تلاوت کرتے تھے۔

نانی جان نے ایک بار کہا۔۔۔۔۔۔۔مظاہرالحق آپ رات کا کچھ حصہ آرام کیا کریں قدسیہ(ہماری امی)بھی تھکی ہوئی ہوتی ہے۔اس پر اباجی نے جواب دیا۔۔وہ کیسے بے فکری کی نیند سو سکتا ہے جس کے سرہانے آگ جل رہی ہو۔۔۔۔۔ہمارے اباجی شائد صوفی تھے مگر ہمیں کسی نے یہ نہ بتایا۔انھوں نے دنیا کو سچ مچ تین طلاقیں دی ہوئی تھیں۔ وہ اعلی تعلیمیافتہ چار زبانوں پر عبور رکھتے تھے۔انکی خواھش تھی کہ میں فارسی پڑھوں میں نے کراچی یونیورسٹی میں انکی خواھش پر ڈپلومہ کورس میں داخلہ لیا۔جب اسکول کے نصاب سے فارسی کو ختم کیاگیا تھا تب وہ بہت دکھی ہوئے تھے کہ یہ پستی کے دلدل میں پہلا قدم ہے۔۔۔۔عربی اور انگلش پر انھیں دسترس حاصل تھی۔بچپن سے ہمارے گھر انگلش اخبار ڈان اور اردو اخبار جنگ آتاتھا۔ہم سمجھتے تھے کہ ڈان کا ترجمہ جنگ ہوتا ہے ۔اباجی صرف ڈان ہی پڑھتے بلکہ ھمیشہ بچوں سے اصرار کرتے کہ ڈان ضرور پڑھیں نئے آلفاظ دسترس میں آئیں گے۔امی ساتویں جماعت میں تھی اسکول میں تقریری مقابلہ کا اعلان ہوا۔اباجی نے عربی میں تقریر لکھ دی میں نے رٹ لی۔بار بار ریہرسل ہوتی تھی پروگرام کی۔میری اس "عربی دانی" نے بڑا معتبر کردیا.. ایک سال مزید اس اسکول میں گزرا۔اسکول میں شہرت۔۔۔عربی اسپیکنگ۔۔۔کی وجہ سےعزت دار ہوگئ۔

بچوں کو حلال لقمہ کھلانا اس وقت بھی بڑی آزمائش تھا۔اباجی نے پی آئی اے کی وائٹ کالر جاب اسوقت چھوڑی جب انکے سب بچے زمانہ طالب علمی میں تھے اور وجہ یہ تھی کہ ان کے باس کے انتقال کے بعد یہ عہدہ کسی خاتون کے پاس چلا گیا تھا اباجی نے کہا کہ میں کسی عورت کے ساتھ ہمہ وقتی تعلق نہیں رکھ سکتا۔ان کا کہنا تھا کہ شیطان بہت طاقتور ہے اور ہم کمزور۔ اب سوچتی ہوں کہ ان کا شیطان طاقت ور تھا کہ ان کا ایمان!!! ایک ملازمت انھوں نے اس لئے چھوڑ دی تھی کہ انکو دوران ڈیوٹی قرآن پڑھنے سے منع کیا ۔۔۔۔
ایک دن کسی سے گفتگو کرتے ہوئے کہہ رہے تھے ۔اوروں کا شیطان ان سے دور رہتا ہوگا میرا شیطان تو مجھ سے بہت قریب رہتا ہے۔قرآن نہ پڑہوں تو کہیں جائے پناہ نہیں۔
وہ طرز کہن کے آدمی تھے۔ایسی طرز کا کوئ آج تک نظر نہ آیا۔ان کی زندگی جیسی انھوں نے چآھی بسر کی۔اپنی زندگی جی کر گئے جی داروں کی طرح۔۔۔ہمارے گھر میں دو مواقعوں پر بہت تلخ ماحول ہو جاتا۔ایک اگر انکی مسواک ادھر ادھر ھوگئ یا زمین پر گری ہوئ انھوں نے دیکھ لی۔دوسری ان کی رنگین پنسلوں میں کوئ کم ہوگئ یا تراشنے کے لئے بروقت شاپنر نہ دستیاب ہوا۔جو میں نے کہا کہ شائد صوفی تھے تو ایسی جابجا مثالیں ہیں۔امی جان مرحومہ کہا کرتیں جس وقت اس گلی کے گھر بک رہے تھے میں کہتی کہ آپ کی تو ایک تنخواہ سے گھر آسکتا ہے۔ سن پچاس کی دہائی میں جب لوگوں کی تنخواھیں سینکڑوں میں ہوتی تھیں انکی اسوقت بھی چار عددی تھی۔مگر اباجی کہتے اصل گھر تو دو گز کا ہے اس کی فکر ہر فکر سے بے نیاز کردیگی۔

یہ بھی پڑھیں:   فادرزڈے مسلمانوں میں کیسے منائیں ؟ - فرح رضوان

جس وقت اباجی کے ایک سائن سے پرمٹ اور پلاٹ بک ہوجاتے تھے امی سے یہی کہا کہ دنیا بہت مت طلب کرو۔ بہت اچھی پوسٹوں پر رھے مگر کم ہی کسی کو پتہ چلا کہ ملازمت کیوں چھوڑ دیا کرتے تھے۔۔۔خوش قسمتی سے انکی قابلیت کی بناء پر نئ بھی فوری مل جاتی مگر مشکل وقت بھی دیکھے ہمارے بچپن نے۔ ہمارے گھر کی چھت پر مزید شیلٹر نہ تھا۔اگر امی کے پاس کوئ پڑوسن یا رشتہ دار خاتون ہوتیں تو اباجی ان کے سلام کا جواب دے کر بغیر انکی جانب دیکھے چھت پر چلے جاتے۔محلہ کی خواتین کہتیں کہ حق صاحب نے آج تک نظر اٹھا کر نہ دیکھا۔ہمیں تو لگتاتھا کہ ھمیں بھی نہ دیکھا۔وہ اتنے حیادار تھے کہ شائد ھی آئی کونٹیکٹ کرتے ہوں۔اس کی نوبت یوں بھی نہ آتی کہ وہ بات ہی بہت کم کرتے تھے۔
اباجی کی عادت تھی باآواز بلند تلاوت کرتے ہوئے نماز فجر کو جاتے۔اگلی گلیوں میں کچھی میمن آبادی تھی ۔انکے انتقال پر ان عورتوں نے کہا ہم فجر کے وقت دروازوں کی اوٹ سے ان کی تلاوت سنتے ، ہم ان کی آواز سے بیدار ہو جاتے ۔اسی طرح جن لوگوں نے ہمارا گھر خریدا ، نئے مکینوں نے جا کر باجی کو بتایا کہ نصف شب کے بعد گھر کی دیواروں سے کبھی کبھی تلاوت جیسی آوازیں آتی ہیں۔آخر ان درودیوار نے رات دن جو سنا تھا اس کی گواہی تو وہ اینٹیں روز حشر بھی دینگی ان شاءاللہ

چھوٹا سا گھر تھا جس میں اباجی کی۔۔ہوں۔۔۔۔ہی کافی ہوتی تھی ۔ پورا گھرانہ اس ۔۔ھوں۔۔۔کا مطلب سمجھتا تھا اور امی مرحومہ بدرجہ اتم۔جو خدمت گاروں کی طرح ہر وقت تیار ۔اباجی کو گھر میں بدرجہ مہمان پروٹوکول دیا جاتا تھا۔اس نسل میں باپ اس دور کی طرح " فرینڈلی" نہ ہوتے تھے عموما ایک فاصلہ ہوتا تھا۔ یعنی حد درجہ احترام ۔ مجھے نہیں یاد کبھی ہم بہن بھائی اتنے بولڈ ہوئے ہوں کہ اباجی کے سامنے گپ شپ کی ہو ۔ ممکن ہے ہر جگہ ، ہر گھر کا ایسا ماحول نہ ہوتا ہو۔ مگر ہمارے گھر میں نہ اباجی کے سامنے ٹی وی کھل سکتا تھا،نہ ہنسی مذاق ہو سکتا تھا۔ ان کا سوشل سرکل نہ تھا۔مگر ایک دوسرا پہلو بھی حیران کن تھا۔سن ستر کی دھائی میں جب ہم نے اسکول نیا نیا جانا شروع کیا تھا ہمارے گھر فون لگا تھا۔سعود آباد اور ماڈل کالونی تک کے فون آتے۔ فون کرنے والا وقت بتا دیتا اب یہ بھائیوں کی ذمہ داری کہ سائیکل پر فرد متعلقہ کو مطلع کرکے آئیں کہ کتنے بجے اسکی کال آنی ہے۔ اباجی بہت خفا ہوجاتے اگر کبھی شکایت مل جاتی کہ کسی اہل محلہ کو بلانے میں ہم اہل خانہ سے تاخیر ہوئی ہے۔اسی طرح وہ سائل کے معاملہ میں بہت حساس تھے کہ خالی ہاتھ نہ بھیجو بالخصوص اگر کوئی کھانا مانگے۔انکے کراما کاتبین کی ڈیوٹی ھلکی تھی کہ گفتگو ہی نہ کرتے اور جو زبان کھلتی بھی تو تلاوت میں مصروف ۔

باوجود اس کے کہ حافظ قرآن تھے مگر قرآن دیکھ کر ہی پڑھا کرتے عموما۔سرخ،سبزاور نیلے رنگوں کے اتنے نشان تھے ان کے قرآن پر ۔ ہر صفحہ پر درجنوں لائنیں، دائرے، طرح طرح کے علامتی نشانات۔ تمام عمر ایک ہی قرآن ان کے ہاتھوں میں دیکھا جس سے عشق تھا انھیں۔ جو انھیں راتوں کو بے قرار رکھتا تھا۔ ایک بار بیماری سے اٹھے امی نے نرم گدا ڈال دیا پلنگ پر۔ رات گذار کر صبح امی سے کہا نہ معلوم رات گہری نیند کیوں آئی۔امی نے کہا آپ پلنگ پر چادر ڈالتے ھیں اور کھیس ، رات میں نے روئی کا گدا بچھا دیا تھا فورا وہ گدا ھٹوا دیا کہ مجھے غافل کردیا اس گدے نے۔ ہم نے آفس جاتے ہوئے اباجی کو تھری پیس سوٹ میں بھی دیکھا، عمدہ ٹائیاں انکو تحفہ میں ملتیں کیونکہ وہ اعلی سرکاری عہدوں پر بھی رہے۔
گھر میں ھمیشہ امی کے ہاتھ کا سلا پاجامہ اور دوپلی لٹھے کی ٹوپی پہنتے تھے۔ایک بار امی پاجامے میں پیوند لگا رہی تھیں۔میں نے کہا پاجامے تو اور بھی ہیں اباجی مسجد جاتے ہیں پیوند نظر آئے گا۔امی بولیں میں نے بھی منع کیا مگر بولے اگر پیوند سے عزت کم ہوتی تو نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کبھی پیوند نہ لگاتے۔یہ بھی سنت رسول صہ ہے۔
ایک بار غلطی سے رمضان میں کچھ کھالیا۔ ساٹھ روزے انتہائی گرمی میں رکھ کر اس کا کفارہ ادا کیا۔ان دنوں ٹرین سے آفس جاتے تھے۔ چھوہارا جیب میں رکھتے کہ مغرب راستے میں ہو جاتی تھی۔

یہ بھی پڑھیں:   فادرزڈے مسلمانوں میں کیسے منائیں ؟ - فرح رضوان

اپنی ماں کو بہت یاد کرتے انکو آپا کہتے تھے۔میں اپنی دادی کی ہم شکل تھی اس لئے مجھے آپا ہی کہتے اور میں سمجھتی یہ میرا نام ہے۔رزق برباد ہوتا نہیں دیکھ سکتے تھے پلیٹ میں کھانا بچنا ہمارے گھر میں پھانسی کے برابر جرم تھا۔ پلیٹ میں بچا کھانا دیکھ کر ان کا طیش قابل دید ہوتا کہ ہم اللہ کو رزق کا حساب کیسے دیں گے۔ خود بچی ہوئ پلیٹیں روٹی سے صاف کرکے کھاتے۔ایک جملہ تکیہ کلام تھا۔۔ خدا کے غضب سے بچو۔۔ہم چار بہنیں تھیں نہ رشتوں کے لئے پریشان ، نہ جہیز کے لئے۔ کبھی امی کے منہ سے نکل گیا کہ فلاں نے تو اتنا جوڑ لیا ہے بیٹیوں کے لئے ہمارے پاس کچھ نہیں۔کہا ۔جس نے بیٹیاں دیں ہیں وہ دے کر بھول نہیں گیا ہے اس کی ذمہ داری ہے۔ ہماری شادیاں بھی ویسے ہی ہوئیں جیسے سب کی ہوتی ہیں کہ اللہ نے انھیں لائق بیٹے عطا کئے جنھوں نے باپ کی طرح ہمیشہ ہر ذمہ داری کو نبھایا۔ شوگر تو شائد جوانی سے تھی چائے میں ہمیشہ سکرین استعمال کی مگر میٹھے کے بہت شوقین۔سوجی کا حلوہ بہت شوق سے بنواتے۔۔۔۔۔۔ ہمارے گھر کے ہر کمرے کی سب دیواری الماریوں میں اباجی کی قانون کی کتابیں بھری ہوئ تھیں۔ جنھیں ہم چھو نہ سکتے تھے کہ ترتیب نہ بگڑ جائے۔اباجی کے پاس لاء کی ڈگری تھی کچھ عرصہ پریکٹس کی۔ مگر جلد چھوڑ دی کہ یہاں وکالت کرنا عاقبت برباد کرنا ہے۔جانے قانون کی کتابیں کیوں ساری عمر بھری رھیں الماریوں میں۔ کئ سوالوں کی طرح اس سوال کا جواب بھی قرض ہی رہ گیا۔

اباجی کا ذکر نامکمل رہے گا رمضان کے ذکر کے بغیر۔ ان کی خوشی،ان کی چابک دستی، انکا رمضان میں بس جانا۔ کیا فضا ہوتی تھی ہمارے گھر کی بیان نہیں کی جاسکتی۔ ہر سات برس کا بچہ روزے دار۔اہتمام افطاری سہ پہر سے شروع۔ اباجی کی افطار کی تیاری میں دل چسپی اور ہاتھ بٹانا۔ قینچی سے باریک باریک ہری مرچیں کاٹ کر باجی کو دینا پکوڑے بنانے کے لئے۔ تھال بھر کر پکوڑے بنتے اور روزبنتے۔ شوگر کی وجہ سے اباجی بیسن کا استعمال کثرت سے کرتے۔ ہم باجی جیسی خستہ بیسن کی روٹی آج تک نہ بنا سکے۔
ایک حیران کن بات اباجی کی خدمت جو وہ امی کی کرتے۔ ہر صبح بستر پر چائے اور ابلے ہوئے انڈے جو اباجی نے ہی ابالے ہوتے۔ کبھی امی سے نہ روٹی بنوائی نہ ہانڈی کیونکہ امی کی شادی اس شرط پر کی تھی انکے والدین نے کہ وہ ہانڈی روٹی نہیں پکائیں گی کیونکہ بچپن میں بہت بیمار رہی ہیں اس لئے نازوں کی پلی ہیں۔اباجی نے ہمیشہ خانساماں رکھا۔جب باجی بڑی ہوگئیں تو سلیم خانسامہ کو فارغ کردیا اور کل کی کل باورچی خانے کی گرھستی باجی نے سنبھال لی اور اباجی نے اپنا وعدہ نبھا دیا۔۔۔۔ان کے انتقال پر قریبی عزیز نے کہا۔He was a satisfied but not a successful person. تیس برس قبل تو نا سمجھی میں یہ بات سمجھ نہ آئی مگر اب سمجھ آتی ہے کہ دنیا میں کامیابی کا معیار کیاہے۔اور قلب مطمئنہ کس چیز کا نام ہے۔دنیا تو نکال پھینکتی ہے اپنے اندر سے مگر دنیا کو اس کا مقام دینا اور دامن بچا کے گزر جانا ۔۔رب ارحمہما کما ربینی صغیرہ ۔آمین یا رب اللعالمین

ٹیگز

Comments

افشاں نوید

افشاں نوید

روزنامہ جسارت میں کالم لکھتی ہیں۔ نوید فکر کے نام سے کالموں کا مجموعہ شائع ہو چکا ہے، اسی عنوان سے 5 ماہناموں میں تحاریر شائع ہوتی ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.