المصطفیٰ ٹرسٹ اور عمران کی داڑھی- ڈاکٹر محمد اجمل نیازی

ایک عالمی اسلامی فلاحی تنظیم المصطفیٰ ٹرسٹ کے ذکر سے پہلے عرض ہے کہ مریم اورنگزیب اور مریم نواز میں گاڑھی چھنتی ہے۔ مریم نواز ہی مریم اورنگزیب کو میدان میں لائی ہیں مگر وہ مریم نواز سے آگے نکلنے کی ناکام کوشش کر رہی ہیں۔ سیاستدان حکمران بنتے ہی دماغی معائنہ احتیاطاً کرا لیا کریں۔ وہ مریم نواز کے جیتے جی مریم ثانی بننا چاہتی ہیں۔ مریم اورنگزیب نے عمران خان کو دماغی معائنہ کرانے کا مشورہ دیا ہے۔ یہ بات بذات خود مریم کیلئے قابل غور ہے کہ وہ پہلے اپنا دماغی معائنہ کرائیں۔ مریم نواز دل والی خاتون ہے۔ دل والی خاتون دلیر خاتون بھی ہوتی ہے مگر شرط یہ ہے کہ وہ دلیر خاتون بھی ہو۔

برادرم نواز کھرل نے بتایا کہ المصطفیٰ ویلفیئر ٹرسٹ ایک عالمی فلاحی اسلامی تنظیم ہے۔ نیک نام سماجی شخصیب حاجی حنیف طیب اس کی بڑی سرپرستی کرتے ہیں۔ تجمل گورمانی اور نواز کھرل پاکستان میں ان فلاحی کاموں سے وابستہ ہیں۔ برطانیہ میں انجمن طلبائے اسلام کے سٹوڈنٹ لیڈر عبدالرزاق ساجد کی سربراہی میں المصطفیٰ کا پیغام دنیا والوں تک پہنچ رہا ہے۔

المصطفی نے حئی علا الفلاح مہم شروع کی ہے۔ ’’آئو فلاح کی طرف‘‘ یہ پانچ وقت اذان کا پیغام بھی ہے۔ پوری دنیا کو اس پیغام کی آفاقیت اور افادیت پر غور کرنا چاہئے۔ یہ ایک پکار ہے جو حقوق العباد پورے کرنے کا سبق یاد دلاتی ہے۔ پچھلے دس برس میں پاکستان اور بیرون پاکستان آنکھوں کے 88 ہزار مفت آپریشن مکمل کرلئے گئے ہیں۔ 2020ء میں ایک لاکھ آپریشن مکمل کرنے کا ہدف ہے۔ المصطفیٰ ایک سال میں دو بار مفت آئی آپریشن کے کیمپوں کیلئے مہم چلاتی ہے۔ برما کے لٹے پٹے روہنگیا مسلمانوں کیلئے امداد فراہم کی گئی ہے۔ شام اور ملائشیا کے مسلمانوں کیلئے بھی مہم چلائی گئی ہے۔ کراچی میں المصطفیٰ کا بڑا ہسپتال گلشن اقبال میں قائم ہے۔ کراچی ہی میں کورنگی کے علاقے میں ایک آرفن ہائوس ’’میرا گھر‘‘ کے نام سے چلایا جا رہا ہے۔ گلستان‘ جوہر بلاک میں پہلے بے سہارا اور بیوہ اور پھر خواتین کیلئے گوشۂ سیدہ فاطمہ کے نام سے ایک سنٹر بنایا گیا ہے۔ بوڑھے بیماروں کیلئے گوشۂ سیدنا امیر حمزہ سنٹر قائم کیا گیا ہے۔ اخوت کے پیغام کو پھیلانے کا منصوبہ عام کیا جا رہا ہے۔ ایک فلاحی شخصیت برادرم ڈاکٹر امجد ثاقب نے بھی اخوت کے نام سے ایک وسیع نیٹ ورک قائم کیا ہے جو لاہور میں خدمات سرانجام دے رہا ہے۔ المصطفیٰ نے حکومت تائیوان کو کئی ٹن چاول بھیجے ہیں۔ ایک کلو چاول میری طرف سے بھیج دیئے ہوتے۔

ایک ادبی اور سماجی شخصیت نامور شاعرہ ناز بٹ نے چند دوستوں کو ایک عشایئے پر بلایا۔ وہاں ادیبوں‘ شاعروں کے فلاحی معاملات کیلئے سوچا گیا۔ ایک ادبی شخصیت جاپان میں رہنے والے عامر بن علی بھی خاص طورپر شریک ہوئے۔ نامور شاعر قمر رضا شہزاد اور اور خاکسار بھی موجود تھے۔ ہم نے بہت زور لگایا کہ عامر بن علی اور ناز بٹ ہمیں اپنے خوبصورت اشعار بھی سنائیں میں دل سے سمجھتا ہوں کہ شاہد خاقان عباسی کو سابق وزیراعظم پاکستان نہیں کہنا چاہئے وہ عوام کا نہیں صرف نوازشریف کا وزیراعظم تھا۔

نوازشریف نے چودھری نثار کی موجودگی میں اسے وزیراعظم بنایا جو وزیر شذیر بننے کے بھی اہل نہیں۔ نوازشریف نے اپنے ایسے ہی وفادار ملازموں کو قوم پر مسلط کیا۔ چودھری نثار کے ساتھ نوازشریف پرسنلٹی کلیش محسوس کرتے ہیں۔ جبکہ چودھری نثار قابل اور اہل آدمی ہے۔ بہادر اور وفادار بھی ہے۔ اس نے کبھی اپنے دوستوں کے ساتھ دھوکہ نہیں کیا۔ اسے ایک دفعہ پاکستان کا وزیراعظم بنا دیا گیا ہوتا تو تاریخ ہی مختلف ہوتی۔ چودھری نثار کے ساتھ میری ملاقاتیں دو چار ہیں مگر اس کی شخصیت اور اہلیت نے مجھے متاثر کیا ہے۔ میں ان لوگوں سے میں ہوں جو نہ کوئی خواہش رکھتا ہے اور دنیاوی فائدوں کیلئے نہ کوشش کرتا ہے۔اب تک صرف ایک کالم نگار ہوں۔ ادیب و شاعر اور محبت کرنے والا انسان۔

میں نے پاکستانی سیاست میں ایک اور کام کا آدمی دیکھا ہے۔ وہ بھی چودھری ہے۔ چودھری پرویزالٰہی۔ کام کا آدمی سے یہ مطلب نہیں ہے کہ وہ دوستوں کے کام بہت کرتے ہیں۔ انہوں نے سپیکر پنجاب اسمبلی کے طورپر اپنے سیاسی مخالف قائد حزب اختلاف حمزہ شہباز کیلئے پروڈوکشن آرڈر بلاتاخیر جاری کر دیئے ہیں۔
برادرم سلمان رفیق ممبر پنجاب اسمبلی نے اس کیلئے چودھری صاحب کی تعریف کی ہے۔ جبکہ سپیکر صاحب کو بہت منع کیا گیا تھا۔ عمران نے وزیراعظم بنتے ہی پہلا حکم چودھری صاحب کیلئے دیا تھا۔

فواد چودھری دلچسپ سیاستدان ہیں۔ ان کی بات میں کوئی بات ہوتی ہے۔ انہوں نے عمران خان وزیراعظم پاکستان کو داڑھی رکھنے کا مشورہ دیا۔ وہ کہتے ہے کہ عمران دیندار آدمی ہیں۔ صرف انہوں نے داڑھی نہیں رکھی ہوئی۔ فواد کی خدمت میں گزارش ہے کہ داڑھی سنت رسولؐ ہے آج کل یورپ کی تقلید میں داڑھی منڈوانے کا رواج چل پڑا ہے ورنہ کسی مذہب اور تہذیب کی تفریق کے بغیر لوگ داڑھی رکھتے تھے۔ امریکہ کے پہلے صدر واشنگٹن کی داڑھی تھی۔ مغل شہنشاہوں اور بڑے بڑے ہندو مہاراجوں کی داڑھیاں تھیں۔آج بھی بڑے بڑے لوگوں نے داڑھیاں رکھی ہوئی ہیں۔

میرے خیال میں بھائی فواد چودھری صاحب کا عمران خان کیلئے مشورہ مناسب ہے بلکہ ضروری ہے۔ یہ ایک بڑا تاریخی اور سیاسی واقعہ ہوگا۔ اس طرح عمران خان جو پہلے ہی بہت مقبول ہیں اور مقبول ہوںگے۔ اتنا ضرور ہے کہ وہ مذکور ہوں گے۔ ان کی شہرت میں اضافہ ہوگا۔ مگر یہ کیا بات ہے کہ وزیراعظم کے طورپر لوگ اب ان سے محبت کرنا چھوڑ گئے ہیں۔ میں یہ تو نہیں کہتا کہ لوگ ان کے ساتھ نفرت کرنا شروع ہو گئے ہیں مگر وہ کوئی فلاحی کارنامہ کریں۔ کسی حکمنامے کے ذریعے مہنگائی کم کر دیں۔ ان کا یہ حکم کرپٹ لوگ‘ جعلی امیر کبیر لوگ ظالم اور نالائق لوگ ماننے کیلئے گڑ بڑ کریں گے۔ وہ ان لوگوں کے ساتھ سختی سے نمٹیں۔ وزیراعظم کی طرح ایسا بہادر بنیں جو کرکٹ کے میدان میں کیپٹن کے طورپر تھے۔ صرف چند لوگوں کو عبرتناک سزا دینا ہوگی۔ ایران کے امام خمینی تو عمران خان کو یاد ہونگے۔ مجھے یقین ہے کہ قابل احترام خاتون اول بشریٰ بی بی بھی عمران کو یہی مشورہ دیں گی۔

قمر رضا شہزاد نے ایک عجیب بات سنائی کہ ایک محفل میں مرحوم خالد احمد نے اعلان کیا کہ میں قصور جا رہا ہوں۔ تو کسی نے کہا کہ پھر بلھے شاہ کہاں جائے گا۔ قمررضا شہزاد بہت بڑے مرتبے کا شاعر ہے۔ اس کا شعری مجموعہ ’’خامشی‘‘ ناز بٹ کے پاس تھا جو اس نے مجھے دیدیا۔ یہ شعر ’’خامشی‘‘ کے بیک ٹائٹل پر لکھا ہوا ہے۔

ہرطرف میری خامشی کا شور

ان کہا ان سنا کلام ہوں میں

قمر رضا شہزاد کے چار مجموعے شائع ہو چکے ہیں۔ پیاس بھرا مشکیزہ‘ ہارا ہوا عشق‘ یاد کہانی‘ اورخامشی‘‘ مجھے ابھی تک ایک بھی شعری مجموعہ نہیں ملا۔ طلب صرف میرے اندر جاگی تھی۔ قمر رضا کہنے لگے آپ کو چاروں کتابیں ملیں گی۔ ایک تو رکھ لو۔