دوست آئے وقتِ دفن- ہارون الرشید

حیات کی سب سے بڑی حقیقت ہی ہماری نگاہوں سے اوجھل رہتی ہے۔ پھر اچانک وہ ہمیں آ لیتی ہے۔ مٹھیوں میں خاک لے کر دوست آئے وقت ِدفن زندگی بھر کی محبت کا صلہ دینے لگے رحمت علی رازی چلے گئے ۔یادوں کا ایک ہجوم ہے اور دل کا وہ حال کہ بیان کرنا مشکل ۔ ایسے میں ہمیشہ فاروق گیلانی مرحوم یاد آتے ہیں۔ صاف ستھرے اور سلیقہ مند تو ہمیشہ سے تھے‘آخر کو ایسے تابناک ہو گئے کہ سبحان اللہ ۔سی ایس ایس کے امتحان کا ہنگام تھاکہ ان سے ملاقات ہوئی۔ پھر وہ دن‘ کل شام کی طرح یاد ہے کہ بیٹی مریم نے ان کے انتقال کی خبر دی۔ زیادہ دن نہ گزرے تھے‘ وزارت خزانہ میں ایڈیشنل سیکرٹری کے منصب سے دستبردار ہوئے تھے۔ فارسی کے شاعر نے کہا تھا: رفتید ولے از نہ دل ما۔دنیا سے رخصت ہوئے مگر میرے دل سے نہیں۔ آج بھی ان کے ہنسنے بولنے ‘قہقہہ برسانے ‘ حادثات پہ رنجیدہ ہونے‘ لگ بھگ ہر شام ملاقات کے لئے اصرار کا انداز یاد آتا ہے۔ پاک باز آدمی کی وہ خوش دلی۔ ہائے او موت تجھے موت ہی آئی ہوتی۔ خورشید رضوی کا شعر ہے ؎ کب نکلتا ہے کوئی دل میں اتر جانے کے بعد اس گلی میں دوسری جانب کوئی رستہ نہیں اچانک ہی داغ مفارقت دیا۔ دل کا دورہ پڑا۔ خاندان ہراساں‘ دوست حیران اور دل گرفتہ۔ہم نفس اظہار الحق نے جو نوحہ لکھا وہ میرے پاس محفوظ ہے ۔جیب میں پڑا رہتا ہے۔

وہ روشنی کا جو تھا بھرم ختم ہو گیا ہے عجیب دن ہے کہ صبحدم ختم ہو گیا ہے خوشی خموشی سے اٹھ کے باہر چلی گئی ہے حیات !تیرا ہر ایک الم ختم ہو گیا ہے وہ گفتگو جو زر و جواہر تھی بجھ گئی ہے جو حرمتِ حرف تھا قلم‘ ختم ہو گیا ہے پو پھٹے کا وضو ہی باقی نہ شامِ یاراں ٹھہر چکا وقت ‘زیر و بم ختم ہو گیا ہے لپیٹ دو خوان حاتم عصر جا چکا ہے وہ ابر وہ منبع کرم ختم ہو گیا ہے یہاں دریچے بہشت کی سمت کھل رہے ہیں یہاں پہنچ کر ہر ایک غم ختم ہو گیا ہے رحمتہ ا للعالمین دنیا سے اٹھے تو ظاہر ہے کہ تاریخِ انسانی کا سب سے بڑا حادثہ تھا۔ زمین جیسے خالی ہو گئی تھی۔ لوگ آتے اور چلے جاتے رہے‘ لاکھوں‘ کروڑوں اور اربوں ۔ایسا مگر کب کوئی آیا تھا۔ ایسا مگر کوئی گیا تھا۔ کوئی دن بیت چکے تو کوئی افسوسناک واقعہ رونما ہوا۔ سیدہ عائشہ صدیقہؓ کو اطلاع دی گئی تو فرمایا: رسول اللہ ؐ دنیا سے چلے گئے۔ اب اس کے بعد کسی چیز کا کیا غم۔ آپؐ کی بات ہی دوسری ہے۔انسان بھی کبھی اس پہ قادر نہ ہو سکے گا کہ آپؐ کے اوصاف حمیدہ کا احاطہ کر سکے۔ ایک عارف نے کہا تھا: آدمی کے لئے کبھی ممکن نہ ہو گا کہ دو چیزوں کا ادراک کر سکے۔ ایک یہ کہ نفس کے فریب کتنے بے شمار ہیں۔ دوسرے یہ کہ مصطفیؐ کے مقامات کس قدر ہیں۔ دوستوں اور عزیزوں کا بھی یہ ہے کہ زمین کو سونپ دیے جائیں تو ان کی قدرو قیمت اور خوبیوں کا احساس ہوتا ہے۔ جدائی محبت کو بھڑکاتی ہے ۔

پھر الم جاگتا اوربڑھتا چلا جاتا ہے‘لو دینے لگتا ہے۔ ہاتھ خالی ہو جائیں تو پچھتاوا کہتا ہے کہ رونے پیٹنے سے کیا اب کیا حاصل۔ زندہ انسانوں کی توقیر کرنی چاہیے۔ ابھی کل کی بات لگتی ہے ۔ حالانکہ ٹھیک 44برس بیت گئے۔ نیلا گنبد میں‘ اس گلی میں جس کی نکر پر ڈائو میڈیکل کالج کا ہوسٹل واقع ہے‘ بائیں ہاتھ ایک عمارت تھی۔جس کی دوسری منزل پر جناب سعید اظہر نے اپنادفتر بنایا۔ ایک پندرہ روزہ جریدے کا آغاز۔ آئے دن جرائد‘ اخبار اشاعت کا آغاز کرتے اور گلستان کی طرح پھلتے پھولتے چلے جاتے ہیں یاچپ چاپ بجھ جاتے ہیں۔ پندرہ روزہ گیت اور اس کا مدیر مگر مختلف تھے۔ ایسا شاندار دفتر‘ اس قدر خوبصورت فرنیچر۔ ہر میز کے ساتھ چمکتے پیتل کی ایش ٹرے ۔ان کے درمیان وہ معصوم چہرے والا وہ متلّون مزاج مدیر‘ جس کے بارے میں کبھی کوئی پیش گوئی ممکن نہ تھی۔ ایک دن رحمت علی رازی سے تعارف کرایا ۔سر تاپا ایک دیہاتی آدمی‘ جو آخری دن تک ویسے کا ویسا ہی راز۔ داتا نگری میں اس نے فروغ بہت پایا۔ زینہ زینہ عسرت سے خوش حالی اور خوش حالی سے توانائی اور تونگری کا سفر طے کیا۔ اہل عزم اور ریاضت کے کیش جس طرح کیا کرتے ہیں ۔وہ جو غالبؔ کے شعر میں جگمگاتے ہیں رہا آباد عالم اہل ہمت کے نہ ہونے سے بھرے ہیں جس طرح جام وسبومے خانہ خالی ہے مسکین‘ مگر جیسا کہ عرض کیا عزم و ارادے کا پہاڑ۔اسے سمجھانے کی کوشش کی کہ صحافت کا ریگ زار نامہرباں بہت ہے۔ پڑھے لکھے ہو‘ بی اے پاس ‘سرکاری سکول میں نوکری کر لو۔ آمدن کا کوئی ذریعہ نہیں۔ اس شہر کی بھیڑ میںکچلے جانے کا اندیشہ لاحق رہتا ہے۔

اس کا ایک ہی جواب: کروں گا تو بس اخبار نویسی۔ یا رب! یہ دیہاتی کیا خاک صحافت کرے گا ۔اس دیار کے پیچیدہ مطالبات کو کیونکر وہ نبھا سکے گا۔ وہ اخبار نویس بنا اور ایسا اخبار نویس کہ ملک کے بہترین رپورٹر کا اعزاز پایا۔ دیکھنے والے حیران ہوئے کہ کتاب سے شفقت نہ سیاست کے خم و پیچ کا اشتیاق۔ اس نے اپنی راہ الگ تراشی۔ اس کا بے پناہ تجسس ‘سرکاردربار کی دنیا۔ نوکر شاہی کے خم و پیچ کا رفتہ رفتہ وہ رموز آشنا ہوتا گیا۔ ایسا اور اتنا کہ حیرت ہوتی اور رشک آتا۔ آغازِکار جناب جمیل اطہر کی شاگردی سے ہوا‘ جو اس نالائق اورناکردہ کار کے بھی استاد ہیں‘ سخت گیراور کام کاج میں رعایت نہ برتنے والے۔ خوش دلی سے چند برس جس کسی نے ان کے ساتھ بتادیئے تو ایسا چوکنا کر دیتے کہ پھرٹھوکراس نے کم ہی کھائی۔ صحافت کی دنیا آج بھی ادق ہے۔ وہ زمانہ اور بھی مشکل تھا۔ ٹی وی کا تو ذکر ہی کیا‘ اخبارات گنے چنے ‘وسائل محدود تر۔ سعید اظہر صاحب کی شفقت کے سائے میں وہ دن اس نے بتائے۔بتا اس لئے سکا کہ سخت جان بہت تھا۔ شاہ عالمی کے ایک ہوٹل میں ہم دونوں رہا کرتے ۔پہلے دو کمرے پھر ایک میں محدود ہو گئے۔ دشواری ہوئی اور ظاہر ہے کہ مالی دشواری تو لاہورہوٹل میں اٹھ آئے۔ ایک بہت وسیع کمرہ دمگرایک بستر اور ایک گدّا۔ صوفے کی دوکرسیاں مگر اس کے سواتھیں۔ رازی سے کہا بستر پہ سو جائے۔ ایک گدّا اور بچھاتے ہیں۔

بستر سے اس نے انکار کر دیا’’ گستاخی کا میں مرتکب نہیں ہو سکتا‘ ‘۔فرش پہ لیٹ رہو۔ جواب ملا یہ کیا کسی مرد کے شایان شان ہے؟ صوفے پر بیٹھ جاتا‘ تپائی سامنے رکھتا اور ٹانگیں درازکر کے سو رہتا۔ کیسا مشکل رہا ہو گا۔ کتنا مشکل ہے مگر وہ جنونی بہت تھا ۔اس قدر جنونی آدمی کے مقابل ‘گاہے ازل سے چلے آئے قوانین بھی تھک جاتے ہیں۔ تنگ دستی کے دن طویل ہوئے تو تمباکو اس نے ترک کر دیا اس کے بعد چائے اور ٹھنڈا مشروبات بھی۔ آخر کو بس کاسفر بھی ترک کر دیا۔ روکھا سوکھا دو وقت کا کھانا اور دائم محو سفر۔لاہور کی خاک آلود گلیوں نے بالآخر اسے شادماں دیکھا۔ تنگی کے ساتھ آسانی ہے‘ بے شک تنگی کے ساتھ آسانی ہے۔ خاک اوڑھے اب وہ سو رہا ہے۔ ایک شاداب زندگی تمام ہوئی۔ ایسا ہی ہوتا ہے۔ ازل سے ابد تک ہمیشہ ایسا ہی ہوتا رہے گا۔ حیات کی سب سے بڑی حقیقت ہی ہماری نگاہوں سے اوجھل رہتی ہے۔ پھر اچانک وہ ہمیں آ لیتی ہے۔ مٹھیوں میں خاک لے کر دوست آئے وقت ِدفن زندگی بھر کی محبت کا صلہ دینے لگے