’’چلتے ہو تو چین کو چلئے‘‘ امجد اسلام امجد

آج سے 28 برس قبل جب چین کی سرزمین پر پائوں رکھے اور اس کی ہوائوں میں سانس لینے کا موقع ملا تو اُس وقت میرے ہم سفروں میں اجمل خٹک ، منیر نیازی ، اے اے بروہی، نواز طاہر، حسن رضوی ، عزیز بگتی اور ڈاکٹر فرمان فتح پوری شامل تھے۔

عزیزی بگتی صاحب سے اُس کے بعد رابطہ نہیں ہوا۔ اللہ کرے وہ خوش اور سلامت ہوں باقی کے چھ دوست اب اُس سفر پر نکل چکے ہیں جس پر کوئی کسی کا ہم سفر نہیں ہو سکتا۔ یوں تو یہ احباب کبھی بھی دل سے دُور نہیں ہوئے مگر جس وقت سے اکادمی ادبیات کے ڈائریکٹر جنرل برادرم ڈاکٹر راشد حمید نے یہ اطلاع دی کہ مجھے بھی اس برس کے چین جانے والے ادبی وفد میں شامل کیا جا رہا ہے تب سے 28 برس پہلے کے ایک ساتھ گزارے ہوئے پندرہ دن اور یہ ہم سفر بے طرح یاد آ رہے ہیں ۔

اُس سفر کی یادیں اور یادداشتیں میں نے ’’ریشم ریشم‘‘ کے نام سے چھپنے والے اپنے سفر نامے میں محفوظ کر دی تھیں جس کا تازہ تر ایڈیشن سنگِ میل پبلی کیشنز نے شائع کیا ہے۔ ہمارے گروپ لیڈر اجمل خٹک مرحوم تھے اور ہمیں چین کے چار شہروں کے ادیبوں سے ملاقات اور وہاں کی سیر کروائی گئی تھی جن میں سے دو یعنی بیجنگ اور شنگھائی تو مشہور اور جانے پہچانے نام ہیں مگر ہانگ چُو اور سوچُو کا نام ہم سب نے ہی پہلی بار اسی سفر کے دوران سنا تھا۔
اگر ہوا بازی کی اصطلاح سے کام لیا جائے تو یہ زمانہ جدید چین کے ٹیک آف کا زمانہ تھا۔ چیئرمین مائو اور کامریڈ چو این لائی کو گزرے ہوئے تقریباً پندرہ برس ہو چلے تھے۔ نیا چین اُن کے کارناموں ، جدوجہد اور خدمات کی وجہ سے اُن کی اب بھی بے حد عزت کرتا تھا لیکن تیزی سے بدلتی ہوئی دنیا کے تناظر میں نئی سیاسی قیادت نئے راستوں کی نہ صرف تلاش میں تھی بلکہ اُن پر چلنا بھی شروع کر چکی تھی۔

امریکی صدر رچرڈ نکسن اور اُن کے سیاسی امور کے ماہر ہنری کسنجر کے دوروں کے بعد سے (جس کے لیے مختلف پاکستانی حکومتوں نے رابطہ کاری کا فریضہ بے حد خوبصورتی سے سرانجام دیا تھا) ۔ چین سیاسی ، معاشی اور تہذیبی ہر طرح کی تنہائی سے باہر آ رہا تھا اور کمیونسٹ دنیا واضح طور پر دو حصوں میں تقسیم ہو چکی تھی جس کا اثر بیرونی دنیا کے چین کے ساتھ تعلقات کے ساتھ ساتھ خود اُن کے ملک کے اندر نظریوں کے ٹکرائو کی صورت میں رُونما ہو رہا تھا۔

چین ایک عالمی طاقت کے طور پر اُبھر تو رہا تھا لیکن یہ بات غالباً کسی کے گمان میں بھی نہیں تھی کہ آیندہ دس پندرہ برس میں وہ نہ صرف عالمی منڈیوں پر چھا جائے گا بلکہ اس کی نصف کے قریب آبادی بھی خط غربت سے باہر نکل آئے گی اور اُس کی ترقی پوری دنیا کے لیے ایک مثال بن جائے گی ۔ ہم بنیادی طور پر شعر وادب سے تعلق رکھنے والے لوگوں کے لیے اس صورتِ حال کو سمجھنا اس لیے بھی زیادہ مشکل تھا کہ ہماری معلومات نہ صرف سطحی اور نامکمل تھیں بلکہ ابھی چین نے بھی اپنے آیندہ کے عزائم کا کھل کر اظہار نہیں کیا تھا البتہ دو باتیں جنہوں نے خاص طور پر چونکا یا ایسی تھیں جن سے اندازہ ہو سکتا تھا کہ ان کی سیاسی قیادت غیر معمولی طور پر بلند نظر ، بلند ارادہ اور بلند حوصلہ ہے۔

ایک تو جہاں جہاں ہم گئے وہاں بیرونِ ملک مقیم سیّاح چینیوں کی غیر معمولی موجودگی تھی۔ معلوم ہوا کہ موجودہ قیادت مغربی ممالک میں حاصل کردہ ان کی تعلیم، دانش اور دولت سے بھر پور استفادہ کرنا چاہتی ہے اور اس کے لیے یہ انھیں چین میں بزنس کرنے کے ایسے مواقع فراہم کر رہی ہے جن میں ترقی کے راستے آسان بھی ہیں اور بے شمار بھی اور یہ کہ ان کا سرمایہ اور تجارتی سمجھ بوجھ اور مغربی زبانوں اور تہذیب سے گہری واقفیت چین میں موجود سستی لیبر اور دیگر سہولیات سے مل کر ایک ایسا ماحول بنا سکتے ہیں کہ جس کی مدد سے تیسری دنیا میں موجود صارف معاشروں کے وسائل تک ایسی رسائی حاصل کی جا سکتی ہے کہ پہلی دنیا کے سرمایہ دار اور دانشور بھی دیکھتے رہ جائیں اور پھر ایسا ہی ہوا۔

دوسری بات جو آج بھی میرے حافظے میں موجود ہے وہ شنگھائی کے ایک ہوٹل کے استقبالیہ پر رکھے گئے سیاحتی اور معلوماتی کتابچوں کے درمیان پڑا ایک ایسا کتابچہ تھا جس کا عنوان one Country two Systems جس میں بتایا گیا تھا کہ چند برس بعد (1993 میں) ہانگ کانگ کی برطانیہ سے آزادی کے بعد چین کس طرح وہاں کے چالو مغربی نظام تہذیب اور طرزِ بُود و باش کو ایسی خاص رعائتیں دے گا جو صرف اُن کے لیے ہوں گی تا کہ وہ اپنے تحفظات سے آزاد ہو کر نہ صرف اپنے مانوس ماحول میں زندگی گزار سکیں بلکہ اُن کے مروّج چینی دفاع کو بھی قریب سے دیکھ سکیں۔

میری ذاتی رائے میں یہی حقیقت پسندی اور مستقبل کا شعور چین کی غیر معمولی ترقی کے دو اہم ستون ہیں ۔ گزشتہ چند برسوں میں جو دوست آج کے چین سے ہو کر آئے ہیں اُن کا کہنا ہے کہ جو چین ہم لوگوں نے 28برس پہلے دیکھا تھا اب وہ بھی ایک طرح سے ماضی بعید بن چکا ہے کہ وہاں کی ترقی کی رفتار کسی زندہ معجزے سے کم نہیں اب اس بات میں کتنی اور کس نوح کی صداقت ہے اس کا احوال تو آیندہ چند دنوں میں آپ سے شیئر ہوتا رہے گا۔

اس وقت مجھے مائو اور چو این لائی کی دو مختلف مواقع پر کہی ہوئی باتیں یاد آ رہی ہیں جو میری معلومات کے مطابق آج کے چین میں بھی اُسی طرح سے زندہ اور متحرک ہیں جیسے یہ پچاس برس قبل تھیں وہ د و باتیں کچھ اس طرح سے ہیں ماوزے تنگ نے ادب اور پراپیگنڈے پر گفتگو کرتے ہوئے یہ تاریخی جملہ کہا تھا کہ:

’’دنیا کا سارا ادب پراپیگنڈہ ہوتا ہے مگر سارا پراپیگنڈہ ادب نہیں ہوتا‘‘

اور چو این لائی نے بہت اچھی انگریزی جاننے کے باوجود امریکی صدر سے اپنی زبان میں بات کرنے پر زور دیتے ہوئے کہا تھا :

’’میں آپ کو بتانا چاہتا ہوں کہ چین گونگا نہیں ہے‘‘