ہمیں ٹیکس دینا ہو گا- عبدالقادر حسن

ہمارے وزیر اعظم عمران خان کا آج کل اس بات پر زور ہے کہ پاکستانی قوم کو ٹیکس دینا ہو گا، اس کے بغیر ملک ترقی نہیں کر سکے گا۔ وہ اپنی اس بات پر ڈٹے ہوئے ہیں لیکن یہ سوال بھی اہم ہے کہ ایسی نوبت کیوں آتی ہے اور ہم ٹیکس کیوں نہیں دیتے، ٹیکس ادا کرنے سے تاجروں کی جان کیوں جاتی ہے اور غیر تاجر کیوں جی چراتے ہیں۔

اس سوال کا ایک جواب تو ایک اور سوال کی صورت میں ہے کہ ہم ٹیکس کیوں دیں، جب ہمارا ٹیکس بذریعہ سرکاری خزانہ سرکاری ملازمین کی جیبوں میں چلا جانا ہے تو پھر ہمارے خون پسینے کی کمائی ہماری جیبوں میں کیوں نہ رہے ۔

ایک دوسرا جواب یہ ہے کہ حکومت ہم سے ٹیکس لیتی ہی نہیں، ایک افسر آتا ہے اور کہتا ہے کہ تمہارا ٹیکس اتنا بنتا ہے، اس میں سے اتنا مجھے دے دو، خود اتنا رکھ لو اور یہ جو حقیر سی رقم بچتی ہے، یہ حکومت کو ادا کر دو۔ چنانچہ اسی مک مکا پر ٹیکس کا پورا نظام چل رہا ہے اور یہ جو بڑی بڑی مارکیٹوں کے بارے میں معلوم ہوتا ہے کہ پوری مارکیٹ کا انکم ٹیکس اس کی کسی ایک دکان کے انکم ٹیکس سے بھی کم ہے تو یہ اسی مک مکا کا نتیجہ ہے ۔ یہ سلسلہ جو برسہا برس سے چل رہا ہے اب ایک معمول بن گیا ہے ۔
تجارت اور صنعت کے کاروبار میں ٹیکس کی یہ ’’چھوٹ‘‘ ایک مستقل معمول ہے اور کسی کاروبار کی اسکیم میں یہ مستقل رعایت شامل کی جاتی ہے اور ٹیکس کی رقم کی ایک معمولی مقدار کو کسی کاروبار کے اخراجات میں شامل کیا جاتا ہے۔ اگر کوئی حکومت پورا ٹیکس یا زیادہ ٹیکس حاصل کرنے کی کوشش کرے گی تو گویا وہ کسی کاروبار کو بالکل الٹ پلٹ کر دے گی۔

یہ تو ممکن ہے کہ ٹیکس کے کسی نئے نظام اور معمول کے بعد کوئی کاروبار شروع ہو تو اس کاروباری کو کسی قسم کی الجھن نہ ہو اور یہ ٹیکس اس کے کاروباری منصوبے کا حصہ ہو لیکن جو کاروبار پرانی طرز کے معمول پر چل رہے ہیں وہ کیسے پورا ٹیکس ادا کر سکتے ہیں اور ان ٹیکسوں میں حصہ دار سرکاری ملازمین کیسے ٹیکسوں کی کوئی نئی اسکیم کامیاب ہونے دیں گے۔ یہ تو ٹیکس چرانے کی پرانی باتیں ہیں کہ نہ کوئی ٹیکس وصول کرتا ہے اور نہ کوئی دیتا ہے، اب اگر ان لوگوں سے ٹیکس لیا جائے گا تو گویا ان کے پلے سے لیا جائے گا۔

ٹیکس چوری کی ایک اہم ترین وجہ ٹیکس رقوم کی خورد برد ہے۔ ٹیکس حکومت اس لیے مانگتی ہے کہ وہ اجتماعی ترقیاتی منصوبے چلا سکے جو کہ صرف عوام کی جانب سے جمع شدہ ٹیکسوں سے ہی مکمل کیے جا سکتے ہیں ورنہ تو ملک کی معیشت کی جو صورتحال ہے وہ سب سن اور پڑھ رہے ہیں کہ ہم نے کئی ہزار ارب روپے تو غیر ملکی قرضوں کے سود کی مد میں ادا کرنے ہیں، حکومت نے اگر ترقیاتی کام کرانے ہیں تو وہ ہمیں اپنے وسائل سے ٹیکس وصول کر کے شروع کرنے چاہئیں ورنہ صورتحال پھر وہی ہو گی کہ غیر ملکوں کے قرضوں پر عیاشی کی جائے گی جس کی اب کوئی گنجائش نہیں رہی، اس لیے حکومت کو صرف وہی ترقیاتی منصوبے شروع کرنے چاہئیں جو انتہائی ضروری ہوں اور ان کو اپنے وسائل سے مکمل کرنے کی استعداد ہو۔ ٹیکس کی ایک تھوڑی سی رقم ٹیکس انتظامیہ پر خرچ ہوتی ہے مگر اصل رقم ترقیاتی منصوبوں کے ذریعے واپس عوام کے پاس پہنچ جاتی ہے۔

ٹیکس دہندگان جب اپنی آنکھوں سے فلاحی منصوبے دیکھتے ہیں، جب وہ تعلیمی، طبی اور دوسری سہولتیں حاصل کرتے ہیں، جب وہ بیروزگاری الائونس وصول کرتے ہیں تو انھیں ٹیکس ادا کرنے میں لطف آتا ہے۔ ہمارے وہ پاکستانی جو بیرون پاکستان کسی فلاحی ریاست میں رہتے ہیں، ٹیکس دیتے ہیں اور ضرورت پڑنے پر موج اڑاتے ہیں ۔ وہ یہ کہتے ہیں کہ ہم نے عمر بھر جو ٹیکس دیا ہے آج اس کو کھا رہے ہیں اور مزے میں ہیں ۔

امریکا کی ایک سڑک پر جہاں مرمت کا کام جاری تھا، یہ بورڈ لگا ہوا تھا کہ آپ کے ٹیکس کے خرچ سے آپ کی یہ سڑک مرمت کی جا رہی ہے اور یہ صرف بورڈ نہیں تھا ایک حقیقت تھی جب کہ ہمارے ہاں کوئی چھوٹا موٹا بورڈ بھی نہیں لگایا جاتا اور اگر لگایا بھی جاتا ہے توا س پر کسی ایم این اے یا ایم پی اے کا نام لکھا ہوتا ہے کہ فلاں کی مہربانی سے عوام کا یہ کام ترقیاتی مکمل ہوا ہے۔ لوگ زکوٰۃ دیتے ہیں مگر سرکاری زکوٰۃ فنڈ میں جمع نہیں کراتے اور کٹوتی کے موقع پر بینکوں سے رقوم نکلوا لیتے ہیں ۔ اس لیے کہ انھیں یقین ہے کہ ان کی زکوٰۃ کی رقم خورد برد کر لی جاتی ہے۔

مرحوم عبدالستار ایدھی کہتے تھے کہ روپیہ پیسہ میرے لیے کوئی مسئلہ نہیں ہے، اصل مسئلہ فلاحی منصوبوں کو چلانے کے انتظامات ہیں۔ کچے مکانوں والے کسی گائوں میں شاندار مسجد تعمیر ہو جاتی ہے اور عمران خان جو کہ آج قوم سے ٹیکس کی اپیل کر رہے ہیں ان پر پوری قوم نوٹ نچھاور کر دیتی ہے، وجہ یہ ہے کہ انھوں نے اپنے فلاحی منصوبے مکمل کر کے عوام کے لیے پیش کر دیئے، اب جب وہ حکومت میں ہیں تو ان کو پاکستانی عوام سے ٹیکس کی اپیل کرنی پڑ رہی ہے ۔ وجہ صرف ایک اور وہ یہ کہ رقم دینے والوں کو اعتماد ہوتا ہے کہ ان کا پیسہ ضایع نہیں ہو گا جب کہ حکومت کے بارے میں انھیں یقین ہوتا ہے کہ ان کا پیسہ ضایع ہو گا۔

لیکن ان تمام وجوہات کے باوجود ہمارے کاروباری لوگوں کے پاس ٹیکس نہ دینے کا کوئی جواز نہیں ہے ۔ ان کی شرح منافع دنیا میں سب سے زیادہ ہے ۔ یہ تھیلوں اور بوریوں میں نوٹ جمع رکھتے ہیں ۔ یہ گاہک سے منافع حاصل نہیں کرتے، اسے لوٹتے ہیں۔ یہ کاروبار نہیں کرتے لوٹ مار کرتے ہیں۔ حکومت کو جہاں ایک طرف اپنی صفیں درست کرنی چاہئیں وہاں ان کاروباری حضرات کو بھی درست کرنا چاہیے، یہ کیا بات ہوئی کہ ایک ملازم تو اپنا پیٹ کاٹ کر ٹیکس ادا کرے کہ اس کی تنخواہ سے ہی ٹیکس کاٹ لیا جاتا ہے لیکن ایک کاروباری جس کی نصف دن کی آمدنی بھی کسی بڑے ملازم کی بنیادی تنخواہ سے زیادہ ہے، ٹیکس ادا ہی نہ کرے۔ دکانداروں کو معلوم ہونا چاہیے کہ ان کے صارفین کی ان کے ساتھ کوئی ہمدردی نہیں ہے، وہ زندگی بھر کے لیے بھی اگر دکانیں بند کر دیں تو ’’ چشم ما روشن دل ما شاد‘‘۔

ہمارے ملک کے کاروباری حضرات اسی آمدنی کو جو سرا سر ناجائز ہے چھپانے کے لیے ٹیکس دینے سے انکاری ہیں کیونکہ اس طرح انھیں ریکارڈ رکھنا پڑے گا اور آمدنی کا بھید کھل جائے گا ورنہ ٹیکس تو خریدار نے ادا کرنا ہے۔ قوم کو اس بات کا انتظار ہے کہ ان کے ٹیکسوں کے پیسے سے بنائے گئے ترقیاتی کاموں پر کسی عوامی نمائندے کی تصویر اور اس کے احسان مندانہ شکریئے کی بجائے ان کی حکومت کی جانب سے بورڈ پر یہ کب لکھا جائے گا کہ آپ کا ٹیکس یہاں ان فلاحی منصوبوں پر استعمال ہو رہا ہے۔