بچوں کی تربیت کے لیے خود کو بدلیں - نمرہ فرقان

جس طرح کسی عمارت کی پختگی اور مضبوطی کا اندازہ اس کی بنیاد سے لگایا جاتا ہے اسی طرح معاشرے کی ترقی کا انحصار بھی اس کی آنے والی نسل پر ہے۔ گویا کسی معاشرے کی بنیاد اس کے بچے ہیں اور بچوں کی بہترین تربیت کر کے ہی ہم معاشرے میں سدھار پیدا کر سکتے ہیں اور اس کی بنیاد کو بھی مضبوط کر سکتے ہیں۔

یہ بات درست ہے کہ ماں کی گود بچے کے لیے پہلی درسگاہ ہے اور زندگی کے بہت سے اسباق بچہ اپنی ماں سے ہی سیکھتا ہے لیکن بچوں کی اچھی تربیت کے لیے صرف ماں کو ذمہ دار نہیں ٹھہرایا جا سکتا بلکہ ماں اور باپ دونوں کو ہی اس ضمن میں اپنا کردار ادا کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ ہر ذی شعور والدین کے دل میں یہ خواہش ضرور موجود ہوتی ہے کہ ان کی اولاد بہترین انسان بنے اور ہر میدان میں سرخرو ہو۔ ہمیشہ یاد رکھیے کہ والدین اپنی اولاد کے لیے رول ماڈل ہوتے ہیں لہذا کوشش کیجیے کہ آپ اپنے بچے کے اس بھروسے اور عقیدت کو ٹوٹنے نہ دیں۔ اس سلسلے میں گھر میں رہنے والے افراد پر بھی ایک ذمہ داری عائد ہوتی ہے اور وہ یہ ہے کہ بچوں کے سامنے کبھی بھی ان کے والدین کو برا نہ کہیں۔ ایسے بچے کے ذہن پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں اور وہ دوہری سوچ کا شکار ہو جاتا ہے۔ کوشش کریں کہ گھر میں ایک خوشگوار ماحول بنا رہے تاکہ بچوں کی شخصیت بہتر طور پر نشوونما پا سکے۔ جو آپ اپنے بچے کو سکھانا چاہتے ہیں اس پر سب سے پہلے آپ خود عمل کریں۔ ایک اہم عنصر جو بچوں کی تربیت میں انتہائی کارآمد ثابت ہو سکتا ہے، وہ برداشت اور درگزر ہے۔ اپنے بچے کی غلطیوں کو درگزر اور برداشت کیجیے۔ انھیں نرمی اور محبت سے سمجھائیے تاکہ وہ بھی نرمی اور محبت سے اپنا نکتہ نظر پیش کرنا سیکھیں۔اپنے بچے کو ڈانٹنے یا سزا دینے سے پہلے اسے بتائیے کہ آپ اس سے کیا امید رکھتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   پاس لحاظ صرف چھوٹوں پر لازم ہے؟ عبدالباسط ذوالفقار

یاد رکھیے کورے کاغذ پر تحریر کا آغاز جیسا ہو گا انجام بھی ویسا ہی ہو گا۔ ابک اور اہم عنصر جو تمام عناصر کو اپنے اندر سموئے ہوئے ہے وہ ہے حسن اخلاق۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا روایت کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا”تم میں بہتر شخص وہ ہے جو اپنے گھر والوں کے لئے سب سے اچھا ہو اور میں تم سب میں اپنے گھر والوں کے لئے زیادہ اچھا ہوں“۔ اس موقع پر حدیث کا سہارا لینے کا مقصد بھی یہی ہے کہ اگر آپ اپنے بچے کو اچھے اخلاق اپناتے ہوئے دیکھنا چاہتے ہیں تو سب سے پہلے اپنے اخلاق کی خود تصحیح کیجیے۔ تلخ لہجے اور گالی گلوچ سے پرہیز کریں۔ اپنے رویے کے ذریعے اپنے بچے کو رشتوں کی عزت کرنا سکھائیں۔ اپنے گھر والوں سے خاص طور پر اپنے والدین اور بیوی سے اچھا سلوک رکھیے۔ بچہ جو دیکھتا ہے وہی سیکھتا ہے اور زندگی کے یہی چند ایسے رشتے ہیں جو ہمیشہ ساتھ نبھاتے ہیں۔ بچوں سے ہمیشہ شفقت سے پیش آنا بھی سنت رسول ہے لہٰذا کوشش کیجیے کہ آپ کا رویہ اور سلوک آپ کے بچے کو ایک بہتر طرز زندگی کی جانب گامزن کر سکے۔ عموماً دیکھنے میں آتا ہے کہ والدین بچوں کے ساتھ سختی سے کام لیتے ہیں۔نتیجتاً بچے بھی ضدی اور خودسر ہو جاتے ہیں۔ والدین کو چاہیے کہ وہ اپنے رویے میں اعتدال پیدا کریں۔

کوشش کریں کہ جب آپ کا بچہ آپ کو دیکھے تو اسے اپنا ایک ایسا دوست نظر آئے جس سے وہ اپنی تمام باتیں کر سکتا ہو, اپنے دکھ سکھ بانٹ سکتا ہو, اپنے مسائل بتا سکتا ہو۔ سختی کے وقت ڈانٹ لیجیے لیکن کوشش کریں کہ معاملات پیار محبت سے دوست بن کر سمجھانے سے ہی سلجھ جائیں۔ جیسے ہر انسان کو ایک بہترین دوست کی ہمیشہ ضرورت ہوتی ہے اسی طرح کوشش کریں کہ وہ بہترین دوست گھر کے اندر ہی آپ کی صورت اسے ہر دم میسر ہو۔ زندگی ایک بہت مختصر سا وقفہ ہے۔ اپنی زندگی کی تمام تر مصروفیات میں سے اپنے بچوں کے لیے وقت ضرور نکالیے۔ یہ وقت آپ کے لیے بھی اتنی ہی خوشی اور مسرت کا باعث ہو گا جتنا ان کے لیے ہے۔ ایک سائنسی تحقیق کے مطابق ایسے بچے جن کے والدین انہیں وقت دیتے ہیں اور ان کے دوست بن کر رہتے ہیں, ان میں خوداعتمادی کا عنصر دیگر بچوں کے مقابلے میں زیادہ پایا جاتا ہے۔ ایسے بچے چیزوں کو بہت جلدی سمجھنے کی صلاحیت کے ساتھ ساتھ معاشرتی زندگی بھی بہتر طریقے سے گزارنے کی خوبی رکھتے ہیں۔ اس کے برعکس جن بچوں کے والدین اپنی مصروفیات کی بنا پر انہیں وقت نہیں دے پاتے، غم و غصے کا شکار رہتے ہیں۔ اولاد ایک بہت بڑی نعمت ہے۔ ہمیں کوشش کرنی چاہیے کہ ہم اپنے بچوں کی ایسی پرورش کریں کہ اس دنیا کو ایک بہتر انسان فراہم ہو اور روز محشر ہم اپنے پروردگار کے سامنے سرخرو ہوں۔

ٹیگز