عمران خان صاحب! احتیاط ضروری ہے - عالم خان

اسلام کا پہلا معرکہ غزوہ بدر اور اصحاب بدر پر گفتگو اور کسی کی جہالت کے لیے تاویلات باطلہ دینے سے پہلے یہ باتیں یاد رکھیں کہ غزوہ بدر کو اللہ تعالی نے “یوم الفرقان” [الانفال ۱۲] فرمایا ہے، کیونکہ اس دن حق اور باطل کا ظہور اور حق کو غالب اور باطل کو مغلوب کیا گیا تھا۔ یہ وہی معرکہ حق تھا کہ شروع ہونے سے پہلے اللہ تعالی نے مسلمانوں کو اس کا نتیجہ بتایا تھا اور یہ معرکہ حق و باطل اللہ تعالی ہی چاہتا تھا تاکہ حق کا اظہار ہوجائے۔ [الانفال ۷-۸]۔

غزوہ بدر میں شریک مجاہدین افضل المسلمین اور شہداء افضل الشہداء تھے۔ یہ صرف اہل بدر کی خصوصیت تھی کہ اللہ تعالی نے انھیں اپنی مغفرت کا اظہار کچھ یوں فرمایا تھا [اعملوا ما شئتم فقد غفرت لكم۔ متفق علیہ] اور عظیم بشارت اصحاب بدر کے علاوہ کسی اور کو نصیب ہی نہیں ہوئی [ابن حجر، فتح الباري]۔

اس معرکہ میں جو صحابہ شریک نہیں ہوئے تھے، اس کو بزدلی سے تعبیر کرنا تاریخ اسلام سے جہالت کے سوا کچھ نہیں، کیونکہ جو حضرات صحابہ [رض] شریک نہیں ہوئے، اگر ہم تاریخ اسلام کا بنظر غائر مطالعہ کریں تو کہیں بھی یہ ذکر نہیں ملتا کہ یہ صحابہ کرام جنگ سے ڈرتے تھے، اس لیے شریک نہیں ہوئے تھے۔

جو صحابہ کرام [رض] شریک نہیں ہوئے تھے، ان میں تین مہاجرین [عثمان بن عفان، طلحہ، سعید بن زید] اور پانچ انصار [ابو لبابہ مروان بن المنذر، عاصم ، حارث بن صمہ، حارث بن حاطب، خوات بن جبیر] شامل تھے۔ ریاست مدینہ کے خلیفہ ثالث [عثمان بن عفان] بزدلی سے نہیں بلکہ رسول اللہ [ص] کی بیٹی [رقیہ] کی تیمارداری کے لیے رہ گئے تھے اور یہ رسول اللہ کا امر تھا اور دیگر صحابہ کرام [رض] بھی ریاست کی انتظامی امور سنبھالنے اور کچھ خاص ڈیوٹیوں پر مامور ہونے کی وجہ سے شرکت سے قاصر تھے، اس لیے ان سب کو مال غنیمت میں حصہ بھی دیا گیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں:   وزیراعظم صاحب! ذرا احتیاط کیجیے - فضل ہادی حسن

خان صاحب! آپ نے شاید تاریخ اسلام میں انس بن نضر کی تاریخ شجاعت نہیں پڑھی ہے، اگر پڑھی ہوتی تو آپ کبھی یہ نہیں فرماتے کہ تین سو تیرہ [۳۱۳] کے علاوہ باقی ڈرتے تھے، انس بن نضر کو غزوہ بدر میں شرکت کا موقع نہیں ملا تھا اور وہ کہا کرتے تھے کہ اگر مجھے موقع ملا تو دیکھ لینا کہ میں کیا کرتا ہوں، اور غزوہ احد میں جب شریک ہوئے تو اتنی بہادری سے لڑے کہ اسی [۸۰] سے اوپر زخم آپ کے جسم پر موجود تھے، کوئی شہداء میں ان کو پہچان نہیں سکا تھا، تب ان کی بہن نے اپنے بھائی کی شناخت انگلیوں سے کی۔

میرا یقین کامل ہے! کہ خان صاحب کی تقریر عقیدہ کی بنیاد پہ نہیں بلکہ تاریخ اسلام سے لاعلمی کی بنیاد پہ ہے، لیکن جو لوگ اس تقریر کا دفاع کرتے ہیں، ان کو مشورہ ہے کہ اپنا ایمان برباد نہ کریں، چونکہ اسلام اور اسلامی تاریخ کے حوالے خان صاحب یہ غلطی بار بار کرتے ہیں، اس لیے درخواست یہ ہے کہ اسلامی امور پر کوئی مستند مشیر رکھیں اور تاریخ اسلام پر بات کرنے سے پہلے اس سے مشورہ اور اپنی معلومات کی توثیق کریں تاکہ آئندہ مسلمانوں کی دل آزاری کا باعث نہ بنیں۔

Comments

عالم خان

عالم خان

عالم خان گوموشان یونیورسٹی ترکی، میں فیکلٹی ممبر اور پی ایچ ڈی کے طالب علم ہیں۔ اسلام اور استشراقیت ان کی دلچسپی کا موضوع ہے۔ دلیل کے مستقل لکھاری ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.