"تحریک انصاف کی تنقید و الزامات - حقیقت یا افسانہ" محمد فیضان

گزشتہ گیارہ برسوں میں تحریک انصاف کی سیاست حکومتِ وقت پر شدید تنقید کے گرد گھومتی رہی ہے- شاذ و نادر ہی کسی حکومتی اقدام کو تحریک انصاف کی لیڈرشپ کی جانب سے قبولیت کا درجہ حاصل ہوا ہوگا- بالخصوص پاکستان مسلم لیگ ن کی حکومت پر جس شد و مد سے تحریک انصاف نے "رَد" کی تحریک چلائی، وہ عوام کے ذہنوں میں تازہ اور کیمرے کی آنکھ میں محفوظ ہے- ملک دشمنی ہو یا غداری، خراب پالیسیاں ہوں یا بدعنوانی، اقربا پروری ہو یا میرٹ کا استحصال، تحریک انصاف نے ن لیگ کے ہر ہر عمل کے گرد اپنے بیانیے کو مضبوط بنانے اور تقویت دینے کے لیے اسے کرپشن اور بُری گورننس کے پیمانوں پر تولے رکھا -

اس دوران ن لیگ کی جانب سے تحریک انصاف پر کس قسم کے الزامات لگتے رہے، اس سے فی الحال قطع نظر ایک خاص نکتہ کی طرف نشاندہی مقصود ہے اور وہ یہ کہ کچھ عرصہ سے مجھے یہ خیال ستائے جا رہا ہے کہ جن الزامات کی بنیاد پر تحریک انصاف نے الیکشن کی مہم چلائی، انہیں ثبوتوں کی روشنی میں بھی تو گویا پرکھنا چاہیے؟ میں خود اپنی یادداشت کو، بالخصوص سیاسی اکھاڑے میں، کافی کمزور پاتا ہوں لہٰذا قارئین سے گزارش ہے کہ ان الزامات کے علاوہ اگر کچھ مزید کی نشاندہی ہو سکے یا انہی کی لفظی تشکیل از سر نو کرنے میں اگر کوئی مدد مل سکے تو بڑی نوازش ہوگی- تحریک انصاف سے تعلق رکھنے والے سیاست دانوں اور اب ان میں سے چند حالیہ وزراء کی جانب سے ہمیں بارہا بتایا گیا ہے کہ ن لیگ کی حکومت نے:
١. تقریباً 15,000 ارب روپے کے قرضے لے کر ملکی قرضہ کو دگنا یعنی تقریباً 30,000 ارب روپے تک پہنچا دیا ہے جو کہ 2013 تک پاکستان کے کُل تاریخی قرضوں کے برابر ہے
٢. اپنے دورِ حکومت کے اختتام تک ملک کو دیوالیہ کر کے چھوڑا . ٣. ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر، بیرونی قرضوں کی مدد سے سنبھالے رکھی . ٤. موٹروے، ریڈیو اسٹیشن، ایئرپورٹ اور دیگر سرکاری عمارتیں گروی رکھ کر قرضے لئے اور جو کہ ابھی تک گروی ہیں . ٥. پنجاب صوبے کے سارے ترقیاتی فنڈز لاہور میں خرچ کئے . ٦. اپنی ناقص معاشی پالیسیوں سے مہنگائی اور غربت میں اضافہ کیا .

یہ بھی پڑھیں:   مجھے کہنا ہے - موسیٰ مجاہد

٧. منی لانڈرنگ کے ذریعے بیرون ملک اثاثے بنائے، خصوصاً لندن کے ایون فیلڈ فلیٹس . ٨. کرپشن کے ذریعے شریف خاندان کے کاروبار کو فائدے پہنچائے، کہ معیشیت نیچے گرتی گئی اور ان کے اثاثے بڑھتے گئے . ٩. بھارت میں میاں صاحب کی فیکٹریاں اور مِلیں چل رہی تھیں جس کی وجہ سے بھارت کے ساتھ تعلقات اچھے کرنا چاہتے تھے، سو جندال بھی چپکہ سے پاکستان ذاتی کاروبار کے لئے آیا . ١٠. ڈرامہ رچایا کہ میاں صاحب کا لندن میں دل کا بائی پاس آپریشن ہوا تھا . ١١. پیپلز پارٹی کے ساتھ مل کر کرپشن کی اور ایک دوسرے کے جرائم پر دانستہ طور پر پردہ ڈالے رکھا . ١٢. افراطِ زر کی شرح میں کمی کرنے میں کوئی پالیسی کردار ادا نہیں کیا بلکہ بنیادی طور پر یہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں کمی کی وجہ سے ہوا . ١٣. اسٹاک ایکسچینج کو مصنوعی ہوا بھر کے غیر فطری سطح تک لے جایا گیا . ١٤. میڈیا انڈسٹری میں سالانہ 65 ارب روپے کے فنڈز جاری کئے اور بالخصوص کچھ لوگوں کو لفافہ صحافی بنایا . ١٥. موروثی سیاست یا بادشاہت کو اپنا شعار بنا کر ملک میں رائج جمہوریت کو شدید نقصان پہنچایا ہے .١٦. مولانا فضل الرحمن کی کرپشن پر بھی پردہ ڈالے رکھا اور انہیں کشمیر کمیٹی کا چیئر مین ان کی اہلیت کے برخلاف اپنے سیاسی مقاصد کے فروغ کے لئے بنایا . ١٧. تقریباً 45 فیصد عوام تک صاف پانی کی رسائی اور مکمل غذائیت نہ پہنچا کر انہیں طبی طور پر اسٹنٹڈ گروتھ کے مسائل سے دوچار کیا .

١٨. پاکستان دشمنوں کی ایما پر ڈان لیکس کے ذریعے افواجِ پاکستان کو بدنام کرنے کی سازش کی . ١٩. ملکی اداروں کو، خصوصاً پنجاب میں، سیاسی مداخلت سے برباد کیا . ٢٠. اسمبلی کے حلف نامہ میں تحریف کے ذریعے عقیدۂ ختمِ نبوت پر کاری ضرب لگائی . ٢٢. حکومتی وراثت میں ملے دہشت گردی کے جن کو بوتل میں بند کرنے کے بجائے کالعدم تنظیموں کی سرپرستی کر کے منفی کردار ادا کیا . ٢٣. نیشنل ایکشن پلان اور آپریشن ضربِ عضب میں فوج کا ساتھ بحالتِ مجبوری دیا وغیرہ
آپ لوگ دیکھ سکتے ہیں کہ یہ تمام تنقید یا سارے الزامات مختلف نعروں، لطیفوں اور بیانات کی صورت میں اخبارات کی شہ سرخیوں اور ٹی وی پر حالاتِ حاظرہ کے پروگراموں کی زینت بنے رہے ہیں- اوپر لگائے گئے الزامات میں سے چند سیاسی نوعیت کے ہیں جبکہ دیگر علمِ معاشیات سے تعلق رکھتے ہیں- معیشیت سے متعلق الزامات کو ثابت کرنے کے لئے تحریک انصاف کو حکومتی اور بین الاقوامی اداروں کے دستاویزات سے مدد درکار ہوگی جبکہ سیاسی الزامات کو حقیقت ثابت کرنے کے لئے کورٹ کچہری کا راستہ اختیار کرنا پڑے گا-
جب تک یہ تنقیدی نکات ثابت نہ ہوجائیں، الزامات کی حیثیت سے پہچانے جاتے رہیں گے- سو ان الزامات کو ہمیں کیسے دیکھنا چاہیے؟ میرے نزدیک تحریک انصاف کے مخالفین اس فہرست کو آگے بڑھا کر اپنا حصہ ڈال سکتے ہیں جبکہ حمایتیوں کو چاہیے کہ ان الزامات کے ثبوت کے طور پر کسی مستند ادارے کے دستاویزات وغیرہ میسر ہوں تو انہیں ازراہِ کرم شیئر کردیں-

یہ بھی پڑھیں:   تحریک انصاف نے بھی اس حمام میں کپڑے اتار دیے - اعزاز سید

میری دسترس میں جو تحریک انصاف کے حلقے اور ان سے جُڑے لوگ ہیں، ان میں سے غالب اکثریتی ووٹرز اور حمایتیوں کے نزدیک ان الزامات کو ثابت کرنے کی کچھ خاص ضرورت یا گنجائش موجود نہیں کیونکہ ان الزامات کا فقط موجود ہونا ہی ان کے حقیقت ہونے کے لئے کافی ہے، لیکن بندۂ عاجز راقم الحروف ان سوالوں کے ساتھ ساتھ دیگر کئی معاملات پر حکومت کی جانب سے تسلی بخش دلائل فراہم کئے جانے اور منطقی انجام تک پہنچتی ہوئی کارروائیوں کو سرانجام دئے جانے کا منتظر ہے-