مایوسی کے اندھیروں‌ میں بس ایک دئیے کہ لو - فرح رضوان

بجلی چلی گئ تو اندھیرا پھیل گیا ، کل بھی یو پی ایس چارج نہیں کیا جا سکا تھا، اس میں کوئی مسئلہ تھا ، مگر گھر میں کسی نے بھی اسے تب اہمیت ہی نہ دی ، پہلے تو سستی میں کسی کو مرمت کے لئے فون تک نہیں کیا ، اور الیکٹریشن کو جب میسیج ملا تو ایک دو دن سستی تو اسکا بھی حق ٹہری ۔۔۔

بچوں کے دل اس سخت حبس اور اندھیرے سے گھبرا گئے، کئی کام وقت رہتے پورے نہیں کیۓ جاسکے تھے ۔ ایک نے تو ابھی تک ہوم ورک ہی نہیں کیا تھا دوسرے کا پرچہ تھا صبح ، تو اسے چین کیسے آتا؟ جبکہ تیسرے کو اندھیرے میں ڈراؤنے ہیولے دکھائی دے رہے تھے، تو خود بھی ڈر کر چیخ رہا تھا دوسروں سے بھی اپنے خیال کی تصدیق چاہ رہا تھا ۔ادھر ابا جی نے کھانا تک نہ کھایا کہ اندھیرے میں ، مبادہ کوئی مچھر مونہہ میں چلا جائے ،اماں جی کو پہلے ہی دو بار فرنیچر سے ٹھوکر لگ چکی تھی تو اب اس گھٹاٹوپ اندھیرے میں وضو کسطرح کرتیں ۔۔۔۔۔۔گھٹتے چاند کی سیاہ رات کے اس پہر، ثروت نے بہت محنت سے کھوج کر کہیں سے ایک موم بتی ڈھونڈ ہی نکالی ۔۔۔۔ اتنے گھپ اندھیرے میں فقط ایک موم بتی جلی تو، مانو اس چھوٹے سے چراغ نے ہر سو چھائے مایوسی کے اندھیرے کو اکیلے ہی مات دے دی ہو، اگلے ہی پل ، خوشی اور زندگی کی لہر دوڑ گئی ، بچے اپنے کام لے کر اسی کھلے ہال میں آگئے ابا جی بھی کھانا پلیٹ میں ڈالے ادھر ہی آگئے اماں جی نے بھی یہیں مناسب جگہ پر نماز شروع کردی ۔ روشنی کی طلب میں بڑھتی عمر اور نئے زمانے کے پرائویسی کے رسیا بچے بھی کمروں اور ،دل کی دیواروں کو پھلانگ کر یکجہتی کی مثال بنے،ابھی ذرا بیٹھے ہی تھے کہ سب نے محسوس کیا کہ موم بتی بلا شبہ روشنی تو دے رہی ہے مگر معیاری ہرگز نہیں.

کیونکہ جلتے وقت نہ صرف بہت تیزی سے پگھل رہی ہے بلکہ ساتھ ہی پہت زیادہ سیاہ دھواں دے رہی ہے، جو بیک وقت سب کے حلق کو چوک اور بد ذائقہ بھی کر رہا تھا ، اور آنکھوں میں بھی چبھ رہا تھا ، کسی کو اس سے کھانسی شروع ہوئی تو کسی کا جی متلانے لگا ، یوں چند لمحوں میں ہی سب کے سب اٹھ اٹھ کر اپنے اپنے اندھیرے کمروں میں واپس چلے گۓ- شمع بیچاری تن تنہا “روشنی کے خزانے” لٹاتی رہ گئی . تو سمجھنے کی بات یہ ہے کہ اسی دھوئیں والی شمع کی صورت، انسان میں دین کی روشنی پھیلانے کا جذبہ اور خواہش تو ہومگر اسکے اخلاق معیاری نہ ہوں رویے میں نرمی ، درگذر ، حکمت نہ ہو تو نادان انسانوں کو انکے برے کاموں کے نتیجے میں برے انجام سے بچانے کی کتنی ہی سچی خیر خواہی کا جذبہ اور کتابی علم کی روشنی پاس ہو ، مگر پھر بھی وہ ضرورت مند لوگ جو قسمت ،گناہوں اور بے علمی کے اندھیروں سے جوجتے تھک چکے ہوتے ہیں ، شدت سے روشنی کے طالب بھی ہوتے ہیں،پھر بھی دھواں دھار شخصیات سے گھبرا کر اندھیرے میں ہی رہنے کو ترجیح دیتے ہیں - کسی بھی انسان کو اللہ کی راہ سے روکنا بہت شدید گناہ ہے اور اسکا انجام دردناک -مگر کیا کریں کہ جیسے جیسےعلم دین کی روشنی پانے والے "نیکی کے پہاڑ " کھڑے کرتے جاتے ہیں ، ناک اس قدر اونچی ہوتی جاتی ہے کہ اس" اونچائی "سے دوسروں کے گناہ اور عیب ، زیادہ سے زیادہ دکھائی دیتے ہیں ،

اور زبان کی جنبش سے ان پر فتویٰ دیتے،کافر ! منافق! ،جہنمی ! کا لیبل لگاتے دیر بھی نہیں لگتی. لیکن ہمیں اپنی ہی ناک کے نیچے وہ دردناک انجام نہیں دکھ پاتا جس سے دھرے اور شدید نقصان کا اندیشہ ہے - غلطی کہاں ہوتی ہے ؟جب شیطان ہمیں نیکی کا جھانسہ دے کر،غلط سمت مشقت کروا کر ساتھ ہی نتیجے کی تلاش میں بھٹکا دیتا ہے - حالانکہ ہمارا کام تو صرف نرمی حکمت محبت عزت سے لوگوں کو اللہ تعالیٰ کے دین کی دعوت دینی ہوتی ہے - ہم باہر والوں سے زیادہ گھر والوں کو "اپنائیت " کی وجہ سے دین سے دور کر کے شیطان کا کام آسان کر رہے ہوتے ہیں -کیا حکم تھا فرعون سے بات کرنے کے لیۓ موسی علیہ السلام کو ؟ کہ نرمی سے بات کریں ، (حالانکہ ) وہ سرکش ہو چلا ہے - جبکہ اس نے تو خدائی کا دعوی کرڈالا تھا - یقین کریں کہ کچھ روز گھر والوں کو غیر سمجھنے لگیں تو وہ آپ کے اپنے بن جائیں گے ان شا اللہ - جان لیں کہ ہدایت اللہ کے ہاتھ میں ہے،انکی دین سے دوری آپ کی آزمائش ہے کہ اب آپ احسن عمل کیسے کرتے ہیں ؟ تو غور کریں ذرا کہ کیا کیا کرتے ہیں ہم باہر والوں کے لیۓ ؟ اخلاق سے بات ،بہت برداشت ،اچھا کھانا پیش کرنا ،تحفه دینا ،آگے بڑھ کر کوئی کام خود کر لینا،کچھ اونچ نیچ ہو تو انا کو پرے رکھ کر فوری طور پر معاملہ اور تعلق درست کر لینا -

یوں باہر والے آپ کے گرویدہ ہوتے ہیں آپ ان سے خوش - تو لب لباب یہ کہ گھر والوں کو اتنا بھی نہ چاہیں کہ انکا دم گھٹنے لگے- وہ ویسے بھی ہمارے نہیں اللہ کا مال ہیں، اللہ کا مال ہمارے پاس امانت ہے ، تو لاپرواہی غیر ذمہ داری سے اس کی توڑپھوڑ نہیں کرنی بلکہ احتیاط سے حفاظت کرنی ہے - کبھی اپنی زبان کی حفاظت سے، کبھی اپنے ہاتھوں کی حفاظت سے - دل کی تمام کڑھن ، جلن ، دکھ کے ساتھ انکو گھڑی گھڑی کھری کھری سنانے کے بجاۓ اسی گھٹے اور ٹوٹے دل سے جائےنماز یا کوئی کونہ پکڑ کر بیٹھ کر اللہ تعالیٰ سے رو رو کر دل ہلکا کریں اپنی عرضی اور استغفار اسکے حضور پیش کریں - اگر کوئی مریض آئی سی یو میں ہو تو کیا کرتے ہیں ہم ؟ جی تو صدقہ دیں انکی طرف سے ، اگر مال ہے تو مال سے اور نہیں تو انگنت اقسام میں سے کسی بھی طرح ، ( صدقے کی ایک قسم اپنے شر سے لوگوں کو محفوظ رکھنا بھی ہے، یہ بھی صدقہ کیجیے ) اور پھر دعا مانگیے اور صبر ایوب و یوسف و یعقوب علیہم السلام کو یاد رکھۓ کہ انتہائی برگزیدہ و مقرب بندے دعا کرتے رہے ، مگرآزمائش ٹلی تبھی جب اللہ کی حکمت کے لحاظ سے اسکی معشیت کو منظور ہوا ...تو نامرادی نہیں کرنی، پلان آف ایکشن نہیں بدلنا بلکہ جمے رہنا ہے استقامت سے- بھروسہ رکھیں کہ جو بات آپ چیخ چلا کر، تشدد سے ، کر کے بگاڑ دینے والے تھے ، وہ اس صبر جمیل کے بعد اللہ نے چاہا تو اسکے فرشتوں کے ذریعے انکے دل تک رسائی پا جائے گی -

Comments

فرح رضوان

فرح رضوان

فرح رضوان کینیڈا میں مقیم ہیں۔ خالق کی رضا کی خاطر اس کی مخلوق سے لگاؤ کے سبب کینیڈا سے شائع ہونے والے ماہنامے میں قریباً دس برس قبل عائلی مسائل پرلکھنا شروع کیا تھا، اللہ کے فضل و کرم سے سلسلہ جاری ہے۔ دلیل کی مستقل لکھاری ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.