اسٹریس اور ٹیشن سے نجات کا طریقہ - ناصر محمود بیگ

طبی تحقیقات کے مطابق موت کی سب سے بڑی وجہ دہشت گردی نہیں بلکہ اسٹریس ہے ۔ عالمی ادارہ صحت نے اسٹریس کو اکیسویں صدی کی وبا قرار دیا ہے۔ اسٹریس یا ڈپریشن ایک ایسا مرض ہے جو ہم ایک سے دوسرے کو منتقل کرتے ہیں اور پھر ہمارے تعلقات سب سے زیادہ اسٹریس کی وجہ سے خراب ہوتے ہیں۔

سب سے زیادہ کاروباراسٹریس کی وجہ سے تباہ ہوتے ہیں اور تواور انسانی صحت اسٹریس کی وجہ سے ہی برباد ہوتی ہے، ہارٹ اٹیک کا سب سے بڑاسبب اسٹریس ہے۔ جو لوگ اسٹریس کا شکارہوتے ہیں ان کی زندگی اتنی تکلیف دہ ہوجاتی ہے کہ انہیں موت کی تکلیف نہیں رہتی وہ سمجھتے ہیں کہ مرنا آسا ن ہے کہ روز روز کی تکلیف سے توجان چھوٹے گی ۔کوئی بھی شخص اسٹریس سے نہیں بچ سکتا ۔ یہ ایک فطری عمل ہے جسے اللہ تعالیٰ نے انسان کے اندررکھا ہے البتہ اسٹریس سے بچنے کے لیے خود کو ضرور مینج جاسکتا ہے جسے سیلف مینجمنٹ کہتے ہیں ۔ جو آدمی خود کو جتنا اچھا مینج اور منظم کرسکتا ہے اس کی زندگی میں اتنا ہی اسٹریس کم ہوتا ہے ۔ اسٹریس مینجمنٹ ہر اس فردکا مسئلہ ہے جس کے پاس سیلف مینجمنٹ کی کمی ہے اپنی زندگی کو مینج کرنے اور خود کو منظم نہ کرنے کا مطلب اسٹریس کو دعوت دینا ہے ۔ ذیل میں سیلف مینجمنٹ کے لیے ضروری اقدامات اور مفید مشورے دیے گئے ہیں جن پر عمل کرکے کوئی بھی فرد اسٹریس کو بڑی حدتک کم کر سکتا ہے ۔ اسٹریس کی وجوہات کی فہرست بنائیے . ماضی میں آپ کو کن چیزوں نے اسڑیس میں مبتلا کیا ان کی ایک فہرست بنائیں مثال کے طور پر امتحان میں ناکامی، کاروباری نقصان یاکوئی گھریلو مسائل ۔۔۔۔

پھر اس فہرست میں سے جو چیز یں آپ کے اختیار میں نہیں تھیں ان پرنشان لگایے، پھر سوچیں کہ ان غیر اختیاری واقعات سے میں نے کیا سیکھا ۔ اپنے تجربات سے سیکھئے . آپ کی زندگی میں کئی بار ایسا ہوا ہوگا کہ کسی سانحے نے آپ کو بہت قیمتی سبق دیا اور اس سبق کا آئندہ زندگی میں بہت فائدہ ہوا ، اس کی ایک فہرست بنائیے کہ آپ اپنی زندگی کے غیر اختیاری واقعات اور غلطیوں سے سیکھاہے جو آدمی اپنے تجربات سے سیکھنے کا جذبہ رکھتاہے وہ بہت کم اسٹریس کا شکار ہوتاہے ۔ بانٹنے کا جذبہ پیدا کیجئے : جو لوگ دوسروں پر خرچ کرنے کا حوصلہ رکھتے ہیں ان کی زندگی میں اسٹریس کم ہوتاہے ،کنجوس انسان اپنااسٹریس مینج نہیں کر سکتاجبکہ سخی کے لیے اسٹریس کو مینج کرنا کچھ مشکل نہیں ہوتا بلکہ سخی کو دیکھ کر اسٹریس تو دور سے بھاگتاہے ۔ پیسہ خرچ کر نے کی صلاحیت پیدا کیجئے . اسٹریس کا معاشی کیفیت سے بھی گہرا تعلق ہے عموماََلوگوں کے پاس پیسہ توخوب ہے مگر پیسہ خرچ کرنے کی اہلیت نہیں ہے لہٰذاوہ خوب کماتے ہیں مگر پھر بھی معاشی مسائل میں پھنسے رہتے ہیں. اگر آپ کو پیسہ کمانا آتا ہے مگر اس کو خرچ کر نے کا ٹیلنٹ آپ کے پاس نہیں ہے تو بہت محنت سے کمایا پیسہ آپ ضائع کر دیں گے۔ نتیجہ؟ پیسہ کمانے کا اسڑیس اور پھر پیسہ ختم ہونے کا اسٹریس ۔

اپنی ذات کے خول سے باہر نکلئے : گوتم بدھ کے پاس ایک عورت آئی اور کہا کہ میراجوان بیٹا مرگیا ہے ، میری تکلیف کو کم کر دو گوتم بدھ نے اسے ایک مٹی کا برتن دیا اور کہا کہ شہر جاﺅاور اس گھر سے دانے لے کر آنا جہاں موت نہ ہوئی ہو۔ کئی دنوں کے بعد وہ واپس آئی تو برتن خالی تھا کیونکہ اسے ایک بھی گھر ایسا نہ ملا جہاں موت نہ ہوئی ہوگوتم بدھ کے پوچھنے پر اس نے بتایا کہ میری تکلیف اب ختم ہوگئی ہے اور دوسروں کے دکھ دیکھ کر میرا دکھ دور ہو گیا ہے لہٰذا اپنی ذات کے خول سے باہر نکل کر دوسروں کے دکھ درد بانٹیے۔ یہ ہسپتال، یہ حوالات ، یہ قبرستان ایسی جگہیں ہیں جو اسٹرلیس کو کم کرنے کا بہت بڑا ذریعہ ہیں ۔ماضی اور مستقبل سے نکل کر حال سے لطف اٹھائیے : انسان کو اسٹرلیس میں مبتلا کرنے والی دو ہی سوچیں ہیں، ایک ماضی کے غم اور دوسری مستقبل کے خدشات۔ خودکو ماضی کے غموں اور مستقبل گی تشویشوں سے نکال کر حال میں رہنا آج کے انسان کے لئے بہت ضروری ہے حال کی گھڑی سے لطف اندوز ہونا اسٹریس کا فطری علاج ہے ۔ اپنے رب سے تعلق مضبوط کیجئے : اللہ تعالیٰ کے سامنے سجدہ ریز ہو نا دراصل اپنے مسائل کی گھڑی اپنے رب کے حضور پیش کرنے کا نام ہے۔ اپنے اللہ کے سامنے جھکیں۔انسان اپنی خوشی اور کامیابی کے لیے طرح طرح کی پلا ننگ کرتا ہے۔

اپنے آپ کو بہترین پلانر کے حوالے کر دیجئے آپ کے بہت سے اسڑیس خود ہی ختم ہو جائیں گے ۔ اسڑیس سے بچاﺅ کے چند عملی مشورے : دوسرں کے معاملات میں دخل اندازی نہ کریں ،جس طرح آپ چاہتے ہیں کہ کوئی آپ کی زندگی میں دخل اندازی نہ کرے ۔ کسی بھی بات کو حتمی نہ سمجھیں ۔تبدیلی کی گنجائش رکھیں، جوآپ سن یا دیکھ رہے ہیں عین ممکن ہے کہ اس کی حقیقت کچھ اور ہو ۔ دوسرے لوگوں سے غیر ضروری توقعات قائم نہ کریں ،جو توقعات پوری نہ ہوں ہمیشہ اسڑیس کا باعث بنتی ہے ۔ پیسہ کمانے کے ساتھ ساتھ پیسہ خرچ کرنے کی صلاحیت بھی اپنے اند ر پیدا کریں ۔کیوں کہ خوشحالی کا تعلق پیسے کی زیادتی سے نہیں بلکہ پیسے کے درست استعمال اور اس کی تنظیم سے ہے ۔ زندگی کو دیکھنے کا موجودہ زاویہ بدلیے ۔کالے رنگ کی عینک سے دنیا کو دیکھیں گے تو پوری دینا میں تاریکی ہی تاریکی دکھائی دے گی ۔دنیا کو دیکھنے کا بہترین زاویہ روشن خیال اور حقیقت پسندانہ سوچ کے بین بین ہوتا ہے ۔یادرکھیے کہ اسٹریس ہمیشہ برانہیں ہوتا ۔بعض اوقات اسٹریس اچھا بھی ہوتاہے، مثبت اسٹریس کا مقصد انسان کو آگے بڑھنے کے لئے توانائی فراہم کرنا ہوتا ہے، اس توانائی کو استعمال میں لائیے ۔
تندی باد مخالف سے نہ گھبرااے عقاب - یہ تو چلتی ہے تجھے اور اونچا اڑانے کے لئے