محکمہ پولیس میں اصلاحات کی ضرورت - علی احمد ساگر

ویسے توجب بھی پو لیس کا نام آئے تو لوگوں کے دلوں میں دہشت ، وحشت ، رشوت ، بے وجہ تشدد ، لا قا نو نیت اور نا انصافی کے خیالات آ نا شروع ہو جا تے ہیں ۔لو گ پو لیس کے جیسے نام ہی سے نفرت کرتے ہیں ۔ یہ نفر ت بے وجہ نہیں ہے۔ اس کی وجہ وہ کا لا اور اندھا قا نو ن ہے جو انگریز سما ج نے بر صغیر کی غلا م قو م کیلئے بنا یا تھا ۔جو آ ج آزا دی کے بعد بھی من عن را ئج ہے۔

آج کے ترقی یافتہ دور میں بھی اپنے اپنے علاقوں کے سیا سی قا ئدین جہا لت سے فا ئدہ اٹھا تے ہو ئے ان سے تھا نہ کلچر کے ذریعے ووٹ حا صل کرتے ہیں ۔تھا نوں میں زمیندا رو ں کے فو ن پر شرفاء پر جھو ٹی ایف آ ئی آ رز درج ہو تیں اور ان کے فو ن پر ہی بڑے بڑے ملزمان با عزت اپنے گھرو ں میں چلے جا تے ہیں۔ ہمارے نام نہاد آزاد معا شرے کا المیہ یہی ہے کہ آج بھی وطن عزیز میں دوہرا قا نو نی نظا م را ئج ہے۔ شرفاءاپنے جائز مقصد کے لئے تھانوں میں جانے سے کتراتے ہیں۔ تھانے کے سامنے جاتے ہی ٹاﺅٹ گھیرہ ڈال لیتے ہیں۔ اندر جاتے ہی حوالات کے سامنے کھڑا سنتری اور اندر جا نے پر رضا کا ر سے لے کر ایس ایچ او تک مٹھا ئیو ں کے نا م پر اس طرح کھال ادھیڑے گا جس طرح مر دا ر کی گدھ ۔اگر غلطی سے کسی کوانکا ر کر بیٹھے تو وہ جا نی دشمن بن جا تے ہی اور سنگین نتا ئج بھگتنے کی دھمکیا ں دیتے ہیں۔ سا ئل بے چا رہ با ہر لگے ہو ئے بو رڈز جن پرلکھا ہوا ہے کہ جھو ٹی ایف آ ئی آ راور میرٹ پر کا م نہ ہو نے اور رشوت ما نگنے پر اس نمبر ز پر را بطہ کریں، را بطہ کر کر کے تھک جا تا ہے آ خر کا ر اسے اپنے جا ئز کا م کے لئے وہی روایتی را ستہ (رشوت ) اختیا ر کر نا پرتا ہے ۔اگر کو ئی ہمت باندھ کر کسی پولیس ملازم کے خلاف درخواست دائر کر بھی دے تو حکام بست کشاد اپنے زیر سا یہ کا م کر نے وا لے آ فیسرا ن کے خلا ف در خواست پر پیٹی بھائیو ں کا دفا ع کرتے ہیں۔ باوثوق ذرائع بتاتے ہیں کہ تمام صوبوں کے آئی جی زیر سایہ تھانوں کو مال حرام اکٹھا کرنے کا ٹارگٹ دیتے جس کی بنا پر تقرریاں اور تبادلے ہوتے ہیں ۔

یہی وجہ ہے کہ در خواست گزا ر کی تزلیل کی جاتی ہے اور اسے مختلف حیلے بہانوں سے شدید پریشان کیا جا تا ہے ۔حتی کہ ان کے خلا ف حق اور سچ کی رپورٹنگ کرنے والے صحا فیو ں پر بھی جھو ٹی ایف آ ئی آ رز در ج کی جاتی ہیں۔ جبکہ کسی پو لیس ملازم کے خلا ف کو ئی کا روا ئی عمل میں نہیں لا ئی جاتی ۔ سانحہ ماڈل ٹاﺅن ہو ،سانحہ ساہیوال یا کراچی کا راﺅ انوار پولیس ملازمین ہر جگہ بے لگا م ہوئے نظر آتے ہیں ۔تھا نو ں کے رضا کا ران اپنے آ پ کوایس ایچ او سمجھتے ہیں حا لا نکہ ا ن میں زیا دہ تر جرا ئم پیشہ اور منشیا ت کے مستقل عا دی افراد بھرتی ہیں۔ تبدیلی حکومت پر لو گو ں کو بڑی توقعات تھیں کہ نئی حکومت دیگر محکموں کے ساتھ ساتھ محکمہ پولیس میں بھی اصلاحا ت لائے گی لیکن 8 ماہ کی کارکردگی کے دوران ابھی تک اس حوالے کو ئی اصلاحات تو نہیں کی گئیں البتہ ان کے دور حکومت میں پولیس کے سخت رویے اورکرپشن میں واضح اضافہ دیکھنے میں آیا ہے ۔ پو لیس کا کا م عوا م کے جا ن و ما ل کی حفا ظت کر نا ہے لیکن اس وقت پو لیس نہ تو عوا م کے جا ن و ما ل کی حفا ظت کر رہی ہے ا ور نہ ہی ان سے عوا م کے جا ن و ما ل اور عزت محفو ظ ہیں۔ حکومت وقت کو چاہیے کہ محکمہ پولیس میں چھپی کالی بھیڑو ں اور وڈیروں کی چمچہ گیری کرنے والے ملازمین کی چھانٹی کرے اور وافر تعداد میں نئے اور ایماندار ، فرض شناس ملازمین کو موقع فراہم کیا جائے ۔ملازمین کے ڈیوٹی آورزکا تعین کیا جائے اور دیگر محکموں کی طرح بائیومیٹرک حاضری لی جا ئے۔کرپشن کرنے والے اور کرپشن کرنے والے کا ساتھ دینے والے ملازمین کو سروس سے معطل کر کے تاحیات پابندی لگا ئی جائے تاکہ کرپشن کا ناسور محکمہ پولیس سے ہمیشہ ہمیشہ کے لئے نکل سکے۔