احتساب کا ڈرامہ - ابو محمد مصعب

ہے تو لطیفہ مگر بات سمجھنے کے لیے سن لیتے ہیں۔ " کسی فقیر نے کسی باریش مرد سے خیرات مانگی۔ اس نے جواب دیا کہ میں اپنی ڈاڑھی پر ہاتھ پھیرتا ہوں، جتنے بال میری مُٹھی میں آئیں گے اتنے سِکّے تجھے خیرات میں دوں گا۔ پھر اس نے نرم سی مٹھی بنا کر اپنی ڈاڑھی پر ہاتھ پھیرا تو ایک بھی بال ہاتھ میں نہیں آیا۔ یہ دیکھ کر بیچارے فقیر نےصرف اتنا کہا: جناب یہ دھاندلی ہے۔ ہاتھ میرا اور ڈاڑھی آپ کی ہو تو انصاف رہے گا۔ "

پچھلے نو دس ماہ سے احتساب کا ڈرامہ چل رہا ہے۔ اور نتیجہ یہ ہے کہ معاملات دو قدم آگے بڑھتے ہیں تو چار قدم پیچھے ہٹتے ہیں اور نتیجتاََ سفربجائے آگے بڑھنے کے پیچھے کی طرف ہو رہا ہے۔ سچ یہ ہے کہ نیب جیسے ادارے کو محض سیاستدانوں کو جھکانے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ معاملات کہیں اور طے ہو رہے ہیں۔ جو اچھا بن جانے کی حامی بھر لے، آزاد کر دیا جاتا ہے یا پھر شکنجہ تھوڑا نرم کر دیا جاتا ہے۔ شہباز شریف اور ان کے خانوادے کی مثال سامنے ہے۔ نوازشریف سے بھی معاملات بنتےبنتے رہ گئے لیکن چوں کہ بھائی صاحب کے اندر ’’ووٹ کو عزت دو‘‘ کا خناس گاہے بہ گاہے سر اٹھٹاتا رہتا ہے، لہٰذا بات پھر بگڑ جاتی ہے۔ مگر یہ یاد رکھیں کہ نواز شریف کبھی بھی سزا کا پورا عرصہ جیل میں نہیں رہیں گے، آج نہیں تو کل انہیں لندن جانا ہے، کسی بھی بہانے، کسی بھی طرح۔ جب ’’اوپر والے‘‘ راضی ہوں تو کوئی روک نہیں سکے گا۔ یہ بات سمجھ لینی چاہیے کہ چیئرمین نیب کے حوالہ سے ریکارڈ کی گئی فون کال اچانک باہر نہیں آ گئی، اس کے لیے باقاعدہ تیاری کی گئی ہوگی۔ خاتون کو آمادہ کیا گیا ہوگا، جن پر خود نیب کے اندر مقدمات چل رہےہیں۔ بعید نہیں کہ اس کھیل کے پیچھے خود موجود حکومت ہو کیوں کہ جس ٹی وی چینل نے یہ خبر بریک کی ہے، اس کے مالک کا نام ملک طاہر خان ہے جو وزیراعظم کے خصوصی مشیر تھے اور جنہیں ڈرامہ کے اسکرپٹ کے عین مطابق، خبر بریک ہوتے ہی فارغ کر دیا گیا۔ کیا یہ ممکن ہے کہ وزیراعظم کے انتہائی قریبی مشیر کا نیوزچینل اتنی بڑی خبر لیک کرنے جا رہا ہو اور وزیراعظم اس سے بے خبر ہو؟ سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔

اب اگلا سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ حکومت اور نیب کے مابین تعلقات کیوں خراب ہوئے؟ تو اس کی صاف وجہ یہ ہے کہ نیب نے اس تاثر کو ختم کرنے کے لیے کہ احتساب صرف مخالف پارٹیوں اور سیاستدانوں کا ہو رہا ہے، معاملہ بیلنس کرنے کے لیے کچھ حکومتی وزراء اور عہدیداران کے خلاف بھی کیس تیار کر لیے۔ علیم خان کی گرفتاری اسی سلسلہ کی ایک کڑی تھی۔ پرویز خٹک کے خلاف بھی کیس تیار ہے۔ اور بھی کئی حکومتی ارکان نشانہ پر ہیں جس کی وجہ سے حکومت نے ٹھان لی کہ چیئرمین نیب سے جان چھڑانی چاہیے۔ لہٰذا ان کے کردار کو متنازعہ بنانے کے لیے یہ سارا جال پھینکا گیا جس میں یقینی طور پر چیئرمین نیب پھنس چکے۔ چیئرمین نیب کی تقرری اپوزیشن کی مشاورت اور تعاون سے کی جاتی ہے اس لیے حکومت کے لیے اپنی پسند کے نئے فرد کو چیئرمین لگانا مشکل تھا جس کا حل یہ نکالا گیا کہ موجود چیئرمین کے خلاف ریفرینس سپریم جیوڈیشنل کونسل کو بھیج کر ان کی جگہ ڈپٹی چیئرمین نیب کو ایکٹنگ چیئرمین بنا کر ان سے کام چلایا جائے اور چیئرمین نیب کا عہدہ لمبے عرصہ کے لیے خالی رکھا جائے۔
سیاستدانوں کا احتساب نامی یہ ڈرامہ کوئی نیا نہیں، بہت پرانا ہے۔ سب سے پہلے اسکندر مرزا نے ، پھر جنرل ایوب نے، پھر ضیاءالحق نے، پھر مشرف نے یہ ڈرامہ رچایا اور سیاستدانوں کو خوب بدنام اور رسوا کیا۔ اور اب عمران خان یہ ڈرامہ رچا رہے ہیں۔ ان تمام شخصیات میں جو چیز مشترک ہے وہ یہ کہ یہ سب غیرجمہوری شخصیات تھیں، سازشوں اور چور راستوں سے اقتدار میں آئی تھیں لہٰذا ان کو سیاستدانوں اور عوامی نمائندوں سے توڈر لگتا ہی تھا لیکن اپنے سائے سے بھی ڈرتے تھے۔

اطہر شریف ایک جگہ لکھتے ہیں: ’’ 1958میں صدر اسکندر مرزا نے چھپن کا آئین منسوخ کرکے مارشل لا نافذ کردیا اور بارہ رکنی کابینہ کا وزیراعظم چیف مارشل لا ایڈمنسٹریٹر ایوب خان بنا۔ احتساب کے نام پر سیاسی انتقام کی تاریخ ایوب خان کے زمانے سے شروع ہوتی ہے جب الیکٹِو ڈس کوالیفیکیشن آرڈر یا ’ایبڈو‘ اور ’پروڈا‘ کے تحت ٹرائبیونل قائم کر کے مخالف سیاستدانوں یا ایوب خان کے اس وقت کے ناپسندیدہ سیاستدانوں، جن میں ان کے سابق وزیر دفاع اور سندھ میں بیک وقت مرد آہن اور ون یونٹ کی حمایت کے وجہ سے سندھ کے غدار کہلانے والے محمد ایوب کھوڑو ، پنجاب کے فیروز خان نون اور مشرقی پاکستان کے حسین شہید سہروردی سمیت قریباً سات ہزار لوگوں اور سیاستدانوں پر مقدمات قائم کر کے انہیں جیل بھج دیا گیا تھا اوربعض کو سزائيں دلوا کر نااہل قرار دے دیا گیا تھا۔ ایوب خان نے 98 معروف سیاستدانوں پر ایبڈو کے مقدمات دائر کئے۔ ایوب خان کی حکومت نے ذوالفقار علی بھٹو پر ان کی زمینوں پر غیر قانونی طور سرکاری بلڈوزر استعمال کرنے اور ہتھیار رکھنے کے مقدمات قائم کیے جو کبھی ثابت نہ ہو سکے- ایبڈو ( ELECTIVE BODIES DISQUALIFICATION ORDER) کے نام سے بنائے گئے اس آمرانہ قانون کی وجہ سے پورے ملک سے سات ہزار سیاستدانوں کو الیکشن کے عمل سے باہر کر دیا۔

آمریت کی چھتری تلے بننے والے اس قانون کی وجہ سے پاکستان کی چوٹی کے سیاستدانوں کو ریاستی نفرت کا سامنا کرنا پڑا اور اس سیاسی قیادت میں شیخ مجیب الرحمٰن، ولی خان، باچا خان، خیر بخش مری، جی ایم سید جیسے قد آور سیاستدانوں کو الزامات کی وجہ سے سیاست سے کنارہ کر دیا گیا جس کے نتیجہ میں پاکستان میں جمہوریت کو شدید نقصان پہنچا اور سیاسی عمل کے راستے میں خاردار تاریں بچھا دی گئیں (اییڈو ) جیسے قانون کی کو کھ سے جنم لینے والی نفرت کا ثمر دیکھنے کو ملا کہیں بنگلہ دیش کی صورت میں ایک نیا ملک پاکستان کو دو لخت کر کے بنایا گیا اور اس کا سہرہ اسی شیخ مجیب الرحمٰن کے سر جاتا ہے جسے احتساب کے نام پر قومی سیاست سے بے دخل کر دیا گیا اسے غدار وطن اور وطن دشمن ثابت کرنے کی ہر ممکن کوشش کی گئی جبکہ دوسری طرف خان ولی خان، خیر بخش مری جیسے جمہوریت پسندوں کو اپنی حب الوطنی ثابت کرنے کے لےے ملک کی عدالتوں کے سامنے رسوا ہونا پڑا اور زندگی کا بڑا حصہ مقدمات کا سامنہ کرتے گزر گئی۔ ان سب سیاستدانوں کا صرف یہ جرم تھا کہ وہ پاکستان میں جمہوریت کو مضبوط دیکھنا چاہتے تھا- ‘‘

خلاصہءِ کلام یہ ہے کہ اب یہ بات واضح ہو چکی ہے کہ تینوں پارٹیاں، پیپلزپارٹی، نوازلیگ اور تحریکِ انصاف، نیب کے موجود چیئرمین کے خلاف ایک ہی پیج پر ہیں اور ان سے کسی طور جان چھڑانا چاہتی ہیں۔ لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ چیئرمین نیب کوئی دودھ کے دھلے اور معصوم ہیں۔ فون کال اسکینڈل بھی اپنی جگہ سچ معلوم ہوتا ہے تو مذکورہ بالا تینوں بڑی پارٹیوں کا چیئرمین نیب کے خلاف ایک پیج پر ہونا بھی واضح ہے۔

آخری بات پھر وہی۔ احتساب وہ لوگ نہیں کر سکتے جن کے اپنے دامن داغ داغ ہوں۔ہاتھ بھی اپنا اور ڈاڑھی بھی اپنی سراسر دھاندلی ہے۔ بات تب بنے گی جب ہاتھ سراج الحق جیسے کسی مرد درویش کا ہو اور ڈاڑھی حکومت کی ہو۔ پھر دنیا دیکھ لے گی کہ احتساب کسے کہتے ہیں!