میں عمران خان سے کیوں مایوس ہوا؟ محمود فیاضؔ

عمران خان سے میری مایوسی اکانومی پر نہیں، انداز حکومت پر ہے۔ اس تدبر پر ہے جو ایک حکمران کا خاصہ ہوتی ہے۔ اس کارزمہ پر ہے جو ایک لیڈر کا ہتھیار ہوتا ہے۔
پی ٹی آئی کی حکومت شروع ہوئی تو محسوس ہوا کہ ہم ایک چھت کے نیچے آ گئے ہیں، سائبان کے نیچے۔ جہاں چاہے اکانومی، دہشتگردی، اور عالمی ہواؤں کے خشک تھپیڑے ہمارے ہونٹوں پر پپڑیاں تو جما دیں گے، مگر سر پر ایسے حاکم کا سایہ ہوگا جو عوام کے دلوں کے قریب ہے، جس کو عوام کی بات سننا آتی ہے، اور انکے دکھوں کا درماں بننا آتا ہے۔

جو پروٹوکول کو لعنت کہتا ہے، غریبوں کے علاج کے لیے دل میں درد رکھتا ہے، ناانصافی کی لعنت کے خلاف تو اسکی جماعت کا نام و منشور ہی گواہ ہے۔
مگر سانحہ ساہیوال ہوا، اور ہم نے ایک لاپرواہ انسان دیکھا۔ اداروں کے پیچھے چھپا ہوا۔ گئے گذروں سے بھی گیا گذرا۔ نہ ڈھنگ سے عوام کے زخموں پر مرہم رکھا اور نہ ہی جرات سے اداروں کو پیغام دیا کہ کم از کم آئندہ ہی کے لیے کسی بہتری کی گنجائش نظر آئے۔ سانحہ ماڈل ٹاؤن پر اپنی سیاست چمکانے والوں نے ایک اور کمیٹی ایک اور جے آئی ٹی بنا کر شریفوں کی یاد تازہ کی اور اکانومی اور صبر کی قوالی پر سر دھننے لگے۔ تب کچھ لوگوں نے کہا، ابھی تو حکومت کے پاؤں نہیں جمے، مگر اب تک درجنوں ایسے واقعات رپورٹ ہو چکے ہیں اور سینکڑوں سوشل میڈیا پر ہی مر کھپ گئے، کہ انکو زیادہ پذیرائی نہ ملی، جن میں ہر گلی ہر کوچے سے انسانیت کی سربریدہ ، نچی ہوئی نعش نکل رہی ہے۔ کہیں ملتان میں ایک بچی اسکول والوں کے ہاتھوں لاش بنتی ہے، تو کہیں پولیس کے ہاتھوں مرنے والے کے لواحقین دہائی دیتے نظر آتے ہیں۔ اسلام آباد میں فرشتہ کی سوختہ لاش پولیس ڈیپارٹمنٹ سے زیادہ اس حکومت کے مفلوج ہاتھوں کی جانب اشارہ کرتی ہے۔ حکومت کو ایک سال ہونے کو آیا ہے اور پاؤں جمانے کی بجائے عوام کی سانس اکھڑنے لگی ہے۔ عوام جن کے نام پر ووٹ لے کر ہم نے اس جماعت کی جھولی میں ڈالے ، اس سے کہیں زیادہ ذلیل ہوتے نظر آ رہے ہیں جتنے پچھلی حکومتوں میں تھے۔

یہ بھی پڑھیں:   قطرہ قطرہ پگھلتی ’’پی ٹی آئی‘‘ - حسن نثار

پولیس ایک مافیا ہے، یہ ہم جانتے ہیں۔ اسکو مافیا بنانے والوں کو تو منظر سے ہٹا دیا گیا۔ اب یہ کنٹرول سے باہر مافیا آپ کی زمہ داری تھی۔ مگر اسکو عوام پر کھلا چھوڑ دیا گیا۔ ایک آئی جی تبدیل، دوسرا آئی جی مستعفی، اور ہم جیسے اس امید پر کہ آج کل میں ہی حالات بہتر ہوتے جائیں گے۔ بیوروکریسی مافیا ، پولیس مافیا، اسکول مافیا، ڈاکٹر مافیا، ٹول پلازہ مافیا، پارکنگ مافیا، قبضہ مافیا، وکیل مافیا، جج مافیا، پراپرٹی و ہاوسنگ کالونی مافیا، و دیگر یہ سب مل کر عوام کی ہڈیاں (کہ خون و گوشت تو پہلے ہی نہیں) چچوڑ رہے ہیں، اور ان کو ٹھیک کرنے کے لیے کسی آئی ایم ایف سے منظوری یا چین و سعودی عرب سے ڈالر لینے کی ضرورت نہیں تھی۔ شہریار آفریدی کی چند دن کی اسلام آباد میں ٹپوشیاں مارنے اور لاہور میں کھوکھر چوک سے قبضہ گروپ کو گرفتار کرنے کے علاوہ بھی ملک بھر میں بکھرے مافیاؤں سے نجات کے لیے مناسب قانون سازی، اور تحرک کی ضرورت تھی۔ مگر اس بیتے سال میں کتنی قانون سازی کی گئی؟ میری عمران خان سے بڑھتی مایوسی کا سبب اکانومی ، مہنگائی اور ڈالر نہیں ہے، بلکہ عوام کی ہڈیاں بھنبھوڑتے یہ مافیا ہیں، جن کے جن جپھے سے وہ عوام کو زرا سا ریلیف دلانے میں بھی کامیاب نہیں ہو سکا۔
٭٭ اگلی قسط میں مایوسی کا دوسرا پہلو ذکر کرونگا، کہ کونسے طریقے اختیار کر کے عمران خان مافیاؤں کے خلاف بھی لڑ سکتا تھا اور اکانومی بھی بہتر کر سکتا تھا۔

Comments

محمود فیاض

محمود فیاض

محمود فیاض نےانگلستان سے ماس کمیونیکیشنز میں ماسٹرز کیا اور بین الاقوامی اداروں سے وابستہ رہے۔ آج کل وہ ایک عدد ناول اور ایک کتاب پر کام کر رہے ہیں۔ اساتذہ، کتابوں اور دوستوں کی رہنمائی سے وہ نوجوانوں کے لیے محبت، کامیابی اور خوشی پر لکھتے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.