آسمان کا فیصلہ- ہارون الرشید

قسم ہے زمانے کی بے شک انسان خسارے میں ہے مگر وہ لوگ جو ایمان لائے اور صالح عمل کئے جنہوں نے حق کی نصیحت کی صبر کی نصیحت کی۔ اب یہ تو فرمانِ الٰہی ہے لہٰذا اصل الاصول ہے کہ وقت کی قہر مانیوں کے مقابل صرف وہ سرخرو ہوگا جو سچائی پہ قائم رہے گا،بلکہ پیہم صبر سے کام لے۔ صبر سے مراد کیا ہے ؟اگر خود قرآن حکیم سے ہی مدد مانگی جائے،جناب رسالت مآب کے ارشادات کو ملحوظ رکھا جائے اور تاریخ سے سیکھا جائے تو یہ ٹھنڈے دل سے تجزیہ ہے ، حکمت اور تدبیر ہے۔ فقط خاموشی اور اپنے آپ پہ جبر نہیں۔ایک ارشاد عالی جناب کا یہ بھی ہے’’ صبر وہ ہے جو پہلی چوٹ پڑنے پہ کیا جاتا ہے‘‘۔ سوال ذہن میں یہ ابھرا کہ کیا عمران خان اور ذوالفقار علی بھٹو میں کوئی مشابہت ہے۔ کیا عمران خان بھی بالآخر ناکام رہیں گے؟ کہا جا سکتا ہے کہ بھٹو بالکل مختلف تھے۔غیر معمولی ذہانت اور زندگی کے خم و پیچ سے آشنا تھے، سیاست اور کاروبارِ ریاست کے خوگر،فطری اور پیدائشی سیاست دان۔بہت کم عمری میں اعلیٰ عہدوں پر براجمان ہوکر ، بتدریج آگے بڑھتے ہوئے نہ صرف حکمرانی پالینے والے بلکہ بہت سوں کے ہیرو۔ عمران خان کافی سادہ لوح واقع ہوئے ہیں۔حکمرانی تو کیا کاروبار اور نوکوی کا بھی تجربہ نہیں رکھتے۔بھٹو شک وشبہ پالتے تھے ،کوئی بھی آسانی سے انہیں فریب نہ دے سکتا تھا۔دونوں ہی خوشامدیوں میں گھرے،مگرعمران خان کو اس کے ساتھی دھوکا دیتے ہیں، اور آئے دن۔ اس کے اردگرد ایسے لوگ بھی موجود ہیں جو بعض اوقات اْس کے بارے میں ناقابل یقین حد تک منفی بات کرتے ہیں۔ظاہر ہے راز داری کے ساتھ، لیکن کرتے ہیں۔

بہت سے لوگوں کو معلوم ہے ،نہیں معلوم تو خان صاحب ہی کو۔ پتہ پتہ بوٹا بوٹا حال ہمارا جانے ہے جانے نہ جانے گل ہی نہ جانے باغ تو سارا جانے ہے خود اپنے باب ہی میں نہیں ،بہت سی چیزوں کے بارے میں عمران خان پرلے درجے کے خوش فہم واقع ہوئے ہیں ، مردم شناسی ہے اور نہ معاملہ فہمی۔ وعدہ کرنے اور خواب دکھانے میں کوئی تامل نہیں۔پورا کرنے کا وقت آئے تو یو ٹرن لیتے ہیں اوراِس عمل کو فضیلت قرار دیتے ہیں۔ بھٹو بہت کائیاں تھے۔ خواب وہ بھی بہت دکھاتے اور اکثر پورے نہ کر سکے مگر وہ جان بوجھ کر سوچ سمجھ کر ایسا کرتے تھے۔جذبات کی آگ بھڑکاتے اور اس پر ہاتھ سینکتے تھے۔آخر کار وقت نے ان کے ساتھ بھیانک مذاق کیا۔ اقتدار کی تمنا خان صاحب میں بھی اسی قدرہے ، نمودِ ذات کی بھی اتنی ہی۔ ہیرو بنے رہنے کی بے تابی بھی۔سینہ ء شمشیر سے باہر ہے دم شمشیر کا۔اور جو وہ میر صاحب نے فرمایا تھا سارے عالم پر ہوں میں چھا یا ہوا مستند ہے میرا فرمایا ہوا اسد اللہ غالب زیادہ فہیم اور دانا تھے۔داد ظاہر ہے سبھی کو چاہئے ہوتی ہے لیکن ہمیشہ نہیں ، ہر قیمت پر نہیں۔انہوں نے یہ کہا تھا ،ہم سخن فہم ہیں غالب کے طرف دار نہیں۔اور یہ کہا تھا۔ نہ ستائش کی تمنا نہ صلے کی پروا گر نہیں ہیں مرے اشعار میں معنی نہ سہی بھٹونے حصول ِ اقتدار کیلئے ہر طرح کی فریب کاری بہم کی۔ فوجی ڈکٹیٹر کے سائے میں پلے۔ اسے ڈیڈی کہا ،صلاح الدین ایوبی اور ڈیگال قرار دیا، لیکن پھر اس کی مخالفت اور مزاحمت بھی کی۔پھر اس کے مقابل ابھرے ، خطرات مول لئے ، ضرورت پڑی تو فوج سے ساز باز کی ،ضرورت پڑی تو اس کے خلاف سازش۔جان ملٹن نے کہا تھا To reign is worth ambition though in hellتمنا کو اقتدار چاہئے خواہ جہنم میں ہو۔

اقتدار کیلئے بھٹو اپنی خواہش کے سامنے سر بسجود ہوئے اور عمران خان بھی۔ دونوں نے وعدے کئے ،نہ پورے ہونے والے وعدے۔دونوں نے ساز باز کی۔خان صاحب نے تو بعض ایسے وعدے بھی کئے کہ خلق خدا دنگ ہے۔ مثال کے طور پر پچاس لاکھ مکان ،ایک کروڑ نوکریاں اور یہ دعوی کہ دنیا بھر سے لوگ نوکریاں ڈھونڈنے ان کے زیر ِ اقتدار پاکستان میں آیا کریں گے۔بھٹو چالاک تھے ، بچ کر نکل جاتے رہے، آخر کو پھنس گئے۔عمران خان ابھی سے گرفتار بلا ہیں۔ وزیراعظم ضرور ہیں مگر اقتدار کا انبساط ،نہ عوام اور فعال طبقات کی داد و تحسین۔کسی سخن فہم کی داد تو بہر حال نہیں ، حتی کہ ان کے قریب ترین لوگ بھی نجی محفلوں میں بے بسی سے ہاتھ ملتے اور ناکامی کا اعتراف کرتے ہیں۔ بھٹو سیکولر تھے، خان صاحب مذہبی ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں بلکہ روحانیت آشنا ہونے کا بھی۔ دونوں نے دعوے کئے ، اکثر تو نہیں لیکن کبھی کبھی خان صاحب ''انشاء اللہ '' بھی کہہ دیتے ہیں۔دونوں نے دعوے کئے اور اتنے بڑے بڑے دعوے کہ خلقِ خدا ششدر رہ گئی۔ دونوں نے نئی دنیا تخلیق کرنے کے سپنے دکھائے۔بھٹو اپنے وطن کو شکستہ حالت میں چھوڑ گئے۔ منقسم ، باہم متصادم اور غیر یقینی مستقبل سے دوچار۔ اگرچہ مہلت ان کیلئے باقی ہے ،عمران خان کا معاملہ بھی مختلف نہیں ،بلکہ بعض اعتبار سے بھٹو سے بھی بدتر۔ بھوک بڑھتی جارہی ہے ، بے روزگاری اور بے یقینی بھی۔

آنے والے کل کیلئے قرائن اچھے نہیں۔غنیمت ہوگاکہ بچ نکلیں ،اپنی اور ملک کی آبرو بچا لیں۔کشتی بھنور سے نکل آئے اور ساحل کا رخ کرنے کا امکان باقی رہے۔ معرکے سر کرنے اور کارنامے انجام دینے کا وقت شاید بیت چکا۔ منزل کا سہانا سپنا تو ہے مگر راستہ معلوم نہیں۔ ہم نفسوں میں بھی کوئی ایسا نہیں کہ ٹوک سکے۔ خوشامدیوں کا گھیرا تنگ ہوتا جارہا ہے۔حیرت انگیز طور پر ان میں وہ شخص بھی شامل و شریک بلکہ بہت قریب ہے ، خلق خدا کے سامنے ، مدتوں سے جس نے ان کا پر چم اٹھا رکھا اور تنہائی میں بعض اوقات پرلے درجے کی بد زبانی کا مرتکب ہوتا رہا۔خوش فہمی کی ایسی جنت خان صاحب نے آباد کر رکھی ہے کہ گرد و پیش کی خبر ہی نہیں بلکہ شاید اپنی بھی نہیں۔ ہم وہاں ہیں جہاں سے ہم کو بھی کچھ ہماری خبر نہیں آتی حال ہی میں ایک امریکی دانشور نے لکھا : ایک چیز خرافات ہوتی ہے ، Bullshit دوسری جھوٹ۔ ڈونلڈ ٹرمپ کے بارے میں اس کا خیال یہ ہے کہ وہ دونوں امراض میں مبتلا ہے۔ فرق یہ ہے کہ ایک میں آدمی پرلے درجے کی خوش فہمی کا شکار ہوتا ہے۔کیسا ہی دعویٰ کر ڈالے ، کتنا ہی خلق ِ خدا کو اس پہ تعجب ہو خود اسے پورا یقین اس پر ہوتا ہے ، اس کے بعض چاہنے والوں کو بھی۔خان صاحب اور ان کے ساتھی کس چیز میں مبتلا ہیں ، شایدخود فریبی میں ،شاید خوش فہمی میں۔ آدمی اس وقت حیرت زدہ رہ جاتا ہے جب فیصل واوڈا کے اقوالِ زریں سنتا ہے۔ مثلا ً یہ کہ چند دن میں کروڑوں نوکریاں پیدا ہونے والی ہیں ،مثلاً یہ کہ اللہ کی ذات بڑی ہے اور اس کے بعد عمران خان کی۔انسانی تقدیروں کے فیصلے زمین پر نہیں آسمان پر ہوتے ہیں اورآسمان کا دائمی فیصلہ یہ ہے کہ صبر نہیں ، قرار نہیں ،حکمت اورتحمل نہیں تو کامیابی بھی نہیں قسم ہے زمانے کی بے شک انسان خسارے میں ہے مگر وہ لوگ جو ایمان لائے اور صالح عمل کئے جنہوں نے حق کی نصیحت کی صبر کی نصیحت کی۔