تم اس وقت کیا تھے؟ محمد اظہارالحق

اس نے تہمد باندھا ہوا تھا۔ سر پر ایک دھجی پٹکے کے طور پر لپیٹی ہوئی تھی بیٹا اسے گلے مل رہا تھا۔ بیٹے نے کیڈٹ کی چمکتی ہوئی دلکش وردی پہنی ہوئی تھی۔ کاکول میں پاسنگ آئوٹ پریڈ تھی۔ در دروازے کے پاس یہ منظر اپنی آنکھوں سے اس کالم نگار نے دیکھا۔ برس بیت گئے آج تک دل میں جیسے کُھدا ہوا ہے۔ سالہا سال یہ پریڈ‘ سامنے بیٹھ کر دیکھی۔ سالہا سال نوٹ کیا کہ اگر دنیا میں کوئی غیر طبقاتی (class-less)سوسائٹی ہے تو وہ کاکول سے کامیاب ہو کر نکلنے والے کیڈٹوں کے والدین ہیں۔ پاکستان میں صرف دو ادارے ایسے ہیں جہاں ایک عامی کا بیٹا یا بیٹی میرٹ پر کامیاب گردانی جاتی ہے اول نمبر پر کاکول ہے (اور بحریہ اور فضائیہ کے تربیتی مراکز) جہاں جرنیل کا بیٹا فیل ہو جاتا ہے اور صوبیدار کا فرزند پاس جہاں کسان کا بیٹا لفٹین بن جاتاہے اور چودھری کا بیٹا ناکام ہو جاتا ہے۔ دوسرا ادارہ فیڈرل پبلک سروس کمیشن ہے جو سی ایس ایس کے امتحان کی بنیاد پر بیورو کریسی کو خوراک بہم پہنچاتا ہے۔ اب اگر کوئی ضیاء الحق نکلے یا پرویز مشرف‘ یا کوئی عشرت حسین کی طرح جاہ طلب نکلے یا فواد حسن فواد اور احد چیمہ کی طرح ناعاقبت اندیش تو اس میں کاکول کا قصور ہے نہ سی ایس ایس کے امتحان لینے والے ادارے کا! بیٹا ناخلف نکلے تو ماں کی کوکھ کیسے مجرم قرار دی جا سکتی ہے؟ یہ پہلی بار نہیں ہوا کہ فوج نے اپنے افسرں کو کسی جانبداری‘ کسی طرفداری کے بغیر سزائیں دی ہیں اور سخت سزائیں دی ہیں۔ ہمیشہ سے یہی ہوتا آیا ہے۔ کیا کسی کو عشروں پہلے کا واقعہ یاد ہے جب سندھ میں سانحہ ہوا تھا۔

فوج نے ملوث اپنے افسر کو (شاید اس کا نام میجر جمیل تھا) موت کے گھاٹ اتار دیا تھا۔ مگر جرم میں برابر کا شریک پولیس سروس کا افسر نہ صرف بچ نکلا بلکہ ترقی پاتا گیا۔ ایک پامال شدہ فقرہ دہرایا جاتا ہے کہ دفاع کے بجٹ کی پوچھ گچھ نہیں ہوتی۔ کھا گئے۔ سارا پیسہ ڈیفنس پر لگ جاتا ہے۔ اس سے زیادہ بڑا جھوٹ کوئی نہیں! دنیا کی اکثر و بیشتر افواج کا فی کس خرچ پاکستان عساکر سے کہیں زیادہ نہیں۔ لاعلمی کی انتہاہے۔ انٹرنل(اندرونی) آڈٹ جتنا ڈیفنس کے بجٹ کا ہو رہا ہے۔ پاکستان میں کسی ادارے کا نہیں ہو رہا۔ ایک سو سے زیادہ آڈٹ پارٹیاں رات دن بری فوج، فضائیہ، بحریہ ‘ واہ اور کامرہ کی فیکٹریوں کا محاسبہ کر رہی ہیں۔ رات دن! ہر آڈٹ پارٹی ایک ذمہ دار افسر کی قیادت میں چھان پھٹک کرتی ہے۔ پھر آڈٹ کرنے والے جی ایچ کیو‘ نیوی اور ایئر فورس کے ہیڈ کوارٹرز اور دفاعی پیداوار کے اداروں کو سامنے بٹھا کر بحث کرتے ہیں۔ ہر ماہ رپورٹ‘ پوری احتیاط سے‘ اوپر‘ حکومت کو بھیجی جاتی ہے۔ ہر سال کروڑوں اربوں روپے واپس وصول کر کے وفاقی حکومت کے خزانے میں ڈالے جاتے ہیں۔ اس سب کچھ کے بعد آڈیٹر جنرل آف پاکستان کا آڈٹ اس کے علاوہ ہوتا ہے۔ سینکڑوں افراد اس محکمے میں کام کر رہے ہیں جو آڈیٹر جنرل آف پاکستان کی طرف سے مسلح افواج کا سپریم آڈٹ کرتا ہے۔ پبلک اکائونٹس کمیٹی کے سامنے وزارت دفاع اور مسلح افواج پیش ہوتی ہیں۔ ون لائن بجٹ کا الزام لگانے والوں کو طریق کارکا علم ہے نہ مبادیات اور جزئیات کا! کوئی برامانے تو مانتا رہے سچ یہ ہے منتخب اداروں میں جونابغے بیٹھے ہیں ان کی بھاری تعداد بجٹ کی دستاویز کو پڑھنا تو دورکی بات ہے‘ کھولتی تک نہیں! تاریخ کا بے رحم لطیفہ یہ ہے کہ قومی لٹیروں کی کھرب پتی اولاد اور ان کے خاندانی زلّہ خوار مسلح افراج پر کیچڑ اچھالتے ہیں۔

کارگل کے برفانی پہاڑیوں سے لے کر کشمیر کی سرحد تک رگوں میں خون منجمد کرنے والی چترال کی ہوائوں سے لے کر وزیرستان کے بنجر‘ سفاک پہاڑوں تک‘ سینوں پر زخم سجانے والوں کی خاکِ پا کے برابر بھی قوم کا مال لوٹنے والے نہیں ہو سکتے۔ ان کی کیا حیثیت ہے؟ ان کی کیا اوقات ہے؟(سما عون للکذب اکالون للسحت)جھوٹ سنتے ہیں۔ حرام کھاتے ہیں۔ ملک پر کٹھن وقت آئے تو یہ لندن کے عشرت کدوں اور دبئی کی حرم سرائوں میں جا چھپتے ہیں۔ فخر سے کہتے ہیں ہمارے بیٹے پاکستانی شہری نہیں۔ جائیدادکاروبار رہائش اولاد سب ولایت میں ہیں۔ کلائیو‘ میکالے اورمائونٹ بیٹن کی طرح حکومت کرنے آتے ہیں پھر بھری ہوئی تجوریاں اٹھائے واپس ’’وطن‘‘ چلے جاتے ہیں۔ یہ عید کا تہوارمنانے اسی طرح لندن جاتے ہیں جیسے پاکستانی سب عید کے موقع پر اپنے آبائی گھروں کارخ کرتے ہیں۔ ان کے اپنے لخت ہائے جگر ان کے اپنے بھائی پاکستان کی شہریت کو عاق کر کے باہر بیٹھے ہیں اور یہ پاکستانیوں کے جگر کے ٹکڑوں کو اپنا ناجائز اقتدار واپس لینے کے لئے احتجاج کا ایندھن بنانا چاہتے ہیں اور بنانا چاہتی ہیں! ملک سے وابستگی ہے نہ محبت! ایک ایک پل انگاروں پر لوٹ رہے ہیں۔

انگلستان جانے کے لئے وہی ان کا وطن موعود(promised land)ہے۔ وہی ان کا آخری ٹھکانہ! ان کی زندگیوں کا مقصد ہی کیا ہے سوائے اس کے کہ یہاں سے روپیہ اکٹھا کریں اسے ڈالر اور پائونڈ میں تبدیل کرائیں باہر جمع کرتے رہیں اور جیسے ہی اقتدار سے اتریں واپس چلے جائیں۔ ملک کے وفادار وہ ہیں جو اپنی نوجوان بیویوں اور دودھ پیتے بچوں کو پیچھے چھوڑ کر برف تلے دب جاتے ہیں اور صحرائوں کی سلگتی ریت اور بنجر پہاڑوں کی وسعتوں میں ہمیشہ ہمیشہ کے لئے گم ہو جاتے ہیں۔ سچ کہا تھا مجید امجد نے تم اس وقت کیا تھے تمہارے محلوں تمہارے گھروں میں تو سب کچھ تھا آسائشیں بھی‘وسیلے بھی‘ اس کبریائی کی ہر تمکنت بھی سبھی کچھ تمہارے تصرف میں تھا زندگی کا ہر اک آسرا بھی کڑے بام و در بھی خزانے بھی‘ زر بھی چمن بھی ‘ ثمر بھی مگر تم خود اس وقت کیا تھے تمہاری نگاہوں میں دنیادھوئیں کا بھنور تھی اگر اس مقدس زمیں پر مرا خوں نہ بہتا اگر دشمنوں کے گرانڈیل ٹینکوں کے نیچے میری کڑکڑاتی ہوئی ہڈیاں خندقوں میں نہ ہوتیں تو دوزخ کے شعلے تمہارے معطر گھروندوں کی دہلیز پر تھے تمہارے ہر اک بیش قیمت اثاثے کی قیمت اسی سرخ مٹی سے ہے جس میں میرا لہو رچ گیا ہے ایک طرف مورچے‘ سوکھی روٹیاں‘ مہینوں پرانے ڈبوںمیں بند دال اور سبزی کے سالن۔

لوہا آگ اور خون! گھروں کو واپس آتی لاشیں الحمد للہ کہتی صابر بہشتی مائیں بچوں کے شہید باپ کی طرح شہادت کے لئے تیارکرنے والی جواں بیوائیں۔ دوسری طرف بیس بیس بلٹ پروف گاڑیاں اپنے حفاظتی قافلے میں رکھنے والے وہ حکمران جو کسی سے بات نہیں کر سکتے۔ اس ملک کو ان طالع آزمائوں سے کب نجات ملے گی جو اداکاری کے میدان میں ناکام ہونے کے بعد۔ بی اے کا امتحان کسی دوسرے سے دلوانے کے بعد اس ملک پر حکمرانی کو اپنا حق سمجھتے ہیں اور اب یہ وراثت اپنی اولاد کو منتقل کرنا چاہتے ہیں؟