The Kite Runner- روف کلاسرا

میرے ساتھ ایسا پہلے کبھی نہیں ہوا۔ لاس ویگاس ائیرپورٹ پر ڈاکٹر احتشام قریشی اور ریحانہ بھابھی نے ڈراپ کیا تھا۔ تین گھنٹے کی فلائٹ کے بعد نیو جرسی کے قریب فلاڈیلفیا ائیرپورٹ پر اترنے تک میں خالد حسینی کا ناول The Kite Runner پڑھتا رہا تھا‘ اور اب جہاز میں ہی بھول آیا تھا۔ خود پر غصہ آیا۔ صبح سویرے کہاں سے ناول خریدوں گا جبکہ ائیرپورٹ کے باہر نوید وڑائچ اور عامرہ باجی انتظار کر رہے تھے۔ میں یہ ناول سات برسوں سے پڑھنے کی کوشش کر رہا تھا۔ 2012ء میں لندن میں ایک شام دوستوں‘ صفدر عباس اور ندیم سعید کے ساتھ کیفے پر بیٹھا گپیں مار رہا تھا۔ قریب ایک خوبصورت گوری لڑکی بیٹھی ہوئی تھی۔ اس نے ہم تین ایشینز کو دیکھا تو باتیں شروع کر دیں۔ اسے پتہ چلا کہ ہم پاکستانی ہیں تو خوش ہوئی۔ وہ شعیب اختر کی فین تھی اور اس کی شعیب سے ملاقات بھی ہوئی تھی۔ ندیم سعید اور صفدر عباس کی گوری سے گپ شپ بڑھ گئی تو اس نے پوچھ لیا: آپ نے خالد حسینی کا ناول The Kite Runner پڑھ رکھا ہے؟ میں نے ایمانداری سے تسلیم کیا کہ میں نے نہیں پڑھا۔ صفدر عباس اور ندیم سعید نے کیا جواب دیا مجھے یاد نہیں۔ اس پر وہ گوری مجھے دیکھ کر بولی: پاکستان واپس جا کر آپ نے وہ ناول ضرور پڑھ کر مجھے ای میل کرنی ہے۔ یوں میرا پہلا تعارف اس ناول سے لندن کی اس شام اس کیفے میں ہوا تھا۔ پاکستان لوٹ کر میں بھول گیا اور گوری کی ای میل بھی گم ہو گئی۔

پھر ایک دن میری دوست سعدیہ نذیر نے مجھ سے پوچھا: رئوف تم نے خالد حسینی کا ناول پڑھا ہے؟ تو مجھے لندن کی وہ گوری لڑکی یاد آئی۔ میں سمجھتا تھا‘ میرا کتابیں پڑھنے کا taste بہت اچھا ہے‘ لیکن بعد میں پتہ چلا کہ سعدیہ نذیر کا مجھ سے اچھا تھا۔ وہ ناول کافی عرصہ میرے بیڈ روم کی میز پر پڑا رہا‘ لیکن پتہ نہیں کیوں میں شروع نہ کر سکا۔ ایک دفعہ کچھ صفحات پڑھے اور چھوڑ دیا۔ اب جب میں پچھلے سال دسمبر میں امریکہ گیا تھا اور اعجاز بھائی کے ساتھ جارجیا میں پرانی کتابوں کے لیے گیا تو یہ سکینڈ ہینڈ ناول نظر آیا۔ میں نے اٹھا کر سوچا: یہ ناول جب تک پڑھ نہیں لوں گا یہ میرا پیچھا نہیں چھوڑے گا۔ اب کچھ بھی ہو جائے اس ناول کو ختم کرنا ہے۔ جونہی ناول شروع کیا تو میں اس میں ڈوبتا ہی چلا گیا اور مجھے افسوس ہوا کہ کیوں دیر سے پڑھ رہا ہوں۔ ایک دفعہ یہ ناول لاس ویگاس میں گم ہوا تو ڈاکٹر احتشام قریشی کے ساتھ پرانی کتابوں کی دکان میں سکینڈ ہینڈ خریدا تاکہ جہاز میں پھر پڑھ سکوں۔ اب وہ ناول میں پھر جہاز میں بھول آیا تھا۔ مجھے خود پر جہاں غصہ آنا شروع ہو گیا وہاں پریشان بھی ہوا کہ یہ کیا مسئلہ ہے۔ سات برس اس ناول کو نہ پڑھا اور جب پڑھنے کی ٹھان لی تو یہ بار بار گم ہو رہا ہے۔

اب فلاڈیلفیا ائرپورٹ کے باہر نوید وڑائچ بھائی اور عامرہ باجی ہمارا انتظار کر رہی تھیں۔ میرا خیال تھا گھر کہیں قریب ہو گا۔ وہ نیو جرسی رہتے ہیں۔ مجھے افسوس ہوا کہ انہیں دور سے آکر ائیرپورٹ سے لینا پڑا۔ باجی عامرہ میری بیوی کی کزن ہیں۔ نوید وڑائچ کا نام سنا ہوا تھا‘ لیکن ملاقات پہلی دفعہ ہو رہی تھی۔ چند منٹ بعد محسوس ہوا کہ میں نوید وڑائچ کو برسوں سے جانتا ہوں۔ ایسے خوبصورت دل اور دماغ کے کھلے ڈلے لوگ آپ کو زندگی میں بہت کم ملیں گے۔ ڈیڑھ دو گھنٹے کی ڈرائیو یاد رہے گی۔ راستے میں سورج کی کرنیں پھوٹ رہیں تھیں۔ تازہ تازہ بارش ہوئی تھی اور اوپر سے خزاںکا موسم‘ رک کر ایک جگہ کافی بھی پی۔ نوید بھائی نے بتایا: بیٹی کا ابھی داخلہ دنیا کی سب سے بڑی یونیورسٹی MIT میں سکالرشپ پر ہوا ہے۔ پورا راستہ وہ مجھ سے اپنی بیٹیوں کی باتیں کرتے رہے۔ علیزہ کی باتیں کہ کیسے اس بچی نے دنیا کی اعلیٰ ترین یونیورسٹی میں داخلہ لیا تھا۔ نوید بھائی امریکہ میں ورجینیا کے اکبر چوہدری کی طرح ان چند لوگوں میں سے تھے‘ جنہوں نے تحریک انصاف اور عمران خان کی بہت مدد کی تھی۔ ان سے جو کچھ ہو سکتا وہ کر رہے تھے۔ چندہ اکٹھا کرنا‘ لوگوں کو اکٹھا کرنا ‘ گھروں پر سیاسی میٹنگز رکھنا یا کمیونٹی کو ایکٹو کرنا اور عمران خان کے ہسپتال اور دیگر پروجیکٹس کے لیے چندے اکٹھے کرکے بھیجنا۔ وہ کافی دیر تک پاکستانی سیاست اور عمران خان کی کوششوں اور محنت پر باتیں کرتے رہے کہ ان تمام برسوں میں ان سب کی محنتیں رنگ لائیں اور اب پاکستان بدل جائے گا۔

گھر پہنچے تو وہ مجھے گھر کی بیسمنٹ میں لے گئے۔ میں حیران رہ گیا کہ وہاں کرسیاں‘ میزیں‘ تحریک انصاف کے جھنڈے‘ سپیکر اور چائے پانی‘ سب انتظام موجود تھا۔ عمران خان کے پورٹریٹ وہاں موجود تھے۔ ہنس کر کہنے لگے: جب دل چاہتا ہے تو اپنا جلسہ جلوس یہیں کر لیتے ہیں۔ اب کون ہوٹل بک کرائے۔ یہیں یار دوست اکٹھے ہو کر سیاسی ٹھرک پورا کر لیتے ہیں۔ مجھے پہلی دفعہ احساس ہوا کہ جینوئن سیاسی ورکر کیا چیز ہوتا ہے اور وہ اپنے لیڈر یا ملک سے محبت کے لیے کس حد تک چلا جاتا ہے۔ نوید وڑائچ اور عامرہ باجی نے اپنی دو بیٹیوں سے ملایا اور پہلی دفعہ علیزہ اختر سے ملاقات ہوئی جس نے ابھی ایم آئی ٹی میں داخلہ لیا تھا۔ میں نے پوچھ لیا کہ یہاں کتابوں کی دکان ہے؟ اس نے پوچھا: انکل کون سی کتاب خریدنی ہے؟ میں نے کہا: The Kite Runner‘ جہاز میں بھول آیا ہوں۔ وہ ہنس کر بولی: انکل یہ ناول تو میں بھی پڑھ چکی ہوں‘ چلیں آپ کو لے چلتی ہوں‘ قریب ہی بارنز اینڈ نوبل ہے وہاں سے خرید لاتے ہیں۔

میں تیار ہو گیا۔ علیزہ بولی: میں آپ کو گاڑی پر لے جاتی ہوں۔ میری بیوی نے کہا: بیٹا آپ کے انکل کو پرانی دکانوں کا جنون ہے‘ جہاں سے پرانے ایڈیشن مل سکیں۔ علیزہ کہنے لگی: چلیں انکل اس وقت آپ کو خالد حسینی کا ناول لے دیتی ہوں۔ مجھے اچانک نہ جانے کیا خیال آیا‘ میں نے کہا: چلیں رہنے دیں۔ علیزہ نے اصرار کیا: قریب ہی ہے‘ آپ چل کر لے لیں۔ میں ایک دفعہ پھر تیار ہوا‘ لیکن پتہ نہیں پھر میرے ذہن میں ایسا کیا آیا کہ میں نے کہا: رہنے دیں۔ مجھے خود سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ ایک طرف دل چاہ رہا تھا‘ ابھی جا کر ناول خرید لوں‘ لیکن میں علیزہ کو انکار کیوں کر رہا ہوں؟ اس بچی نے تین چار دفعہ اصرار کیا۔ نوید وڑائچ اور باجی نے بھی کہا: رئوف بھائی چلے جائیں‘ علیزہ آپ کو لے جائے گی۔ میں نے کچھ سوچا اور فائنل فیصلہ کیا کہ بعد میں لے لوں گا۔ نوید وڑائچ نے کہا: چلیں علیزہ آپ پھر میرے اور رئوف کے فوٹوز لیں۔ اور وہ کیمرہ لے کر ہمارے فوٹو لیتی رہی۔ فوٹوز نوید وڑائچ کو پسند نہ آئے تو کہا: بیٹا اچھی طرح بنائو میں نے فیس بک پر لگانے ہیں۔ وہ ہنس پڑی۔

اب پانچ ماہ بعد کل صبح فیس بک کھولی تو پہلی خبر پڑھ کر ہی جھٹکا لگا۔ لکھا تھا: نوید وڑائچ کی بیٹی علیزہ اختر کی گاڑی کو نشے کی حالت میں ڈرائیونگ کرتے ایک نوجوان نے سیدھی ٹکر مار دی تھی اور وہ جان بحق ہوگئی تھی جبکہ اس کہ بہن شدید زخمی تھی۔ چوبیس گھنٹے گزر گئے ہیں۔ شدید ڈپریشن اور اداسی ہے۔ اتنی جرأت نہیں ہو رہی کہ نوید وڑائچ بھائی اور عامرہ باجی کو فون ہی کر سکوں۔ پچھلے ہفتے قمر زمان کائرہ کے گھر لالہ موسیٰ ان کے جوان بیٹے کی وفات پر افسوس کرنے ارشد شریف اور انور بیگ کے ساتھ گیا تھا۔ وہیں ایک دکھی باپ نے ایک ایسی بات کہی جو علیزہ کا سن کر پھر یاد آ گئی۔ کائرہ صاحب کا کہنا تھا: صرف ایک لمحہ سب کچھ بدل دیتا ہے۔ سب کچھ بہا کر لے جاتا ہے۔ ایک لمحہ زندگیاں تبدیل کر جاتا ہے۔ ایک ایسی گہری اداسی اور نہ ختم ہونے والا دکھ جس کا مداوا نہیں۔ کائرہ صاحب‘ نوید بھائی اور عامرہ باجی کے دکھ سے ہمارے ملتان کے بڑے شاعر اسلم انصاری کی شاہکار نظم ''گوتم کا آخری واعظ‘‘ یاد آئی۔

میرے عزیزو تمام دکھ ہے
حیات دکھ ہے‘ ممات دکھ ہے
جدائی تو خیر آپ دکھ ہے‘ ملاپ دکھ ہے
یہ زندہ رہنے کا‘ باقی رہنے کا شوق یہ اہتمام دکھ ہے
سکوت دکھ ہے‘ کلام دکھ ہے‘ یہ ہونا دکھ ہے‘ نہ ہونا دکھ ہے ثبات دکھ ہے‘ دوام دکھ ہے
میرے عزیزو تمام دکھ ہے