پانی دیر سے لانے پر نوبیاہتا لڑکی قتل، قاتل آزاد

کراچی: اسے قیامت نہ کہیں تو اور کیا نام دیں جب ماں باپ کے لاڈ اور پیار میں پلی لڑکی شادی کے 2 ماہ بعد ہی لاش کی صورت میں میکے پہنچے۔
رواں سال پیر11مارچ کو قمبر شہداد کوٹ کے تعلقہ میرو خان کے گاؤں گلاب خان مگسی میں رات تقریباً ساڑھے8بجے فائرنگ کی آواز سنائی دی۔ کچھ دیر بعد پتہ چلا کہ رشیدہ بی بی کو اس کے شوہر رانجن ولد مولائی مگسی نے اپنے باپ مولائی مگسی اور بھائی اقبال کے ساتھ مل کر صرف اس بات پر قتل کردیا کہ اس انے پانی لانے میں تھوڑی سے دیر کردی تھی ، یہ ’’جرم‘‘ رشیدہ اور اس کے گھر والوں کے لیے قیامت بن گیا۔

ملزمان نے مقتولہ پر کاروکاری کا الزام لگاکر واقعے کو غیرت کا شاخسانہ بنانے کی ہی کوشش کی مقتولہ کے اہل خانہ کا کہنا ہے کہ جب یہ ہولناک واردات ہوئی۔ اُس روز رشیدہ کو بخار تھا، شوہر رانجن نے گھر آکر پانی مانگا، طبیعت کی خرابی کی وجہ سے رشیدہ کو پانی لانے میں معمولی تاخیر ہوگئی جس پر رانجن غصے میں آگیا اور اس نے مبینہ طور پر پہلے اپنے والد اور بھائی کے ساتھ مل کر رشیدہ کو خوب برا بھلا کہا اور اسے مارا پیٹا، اس پر بھی اُسے چین نہ آیا تو اس نے فائرنگ کرکے رشیدہ کو ابدی نیند سلا دیا۔
مقتولہ کے رشتے داروں کا کہنا ہے کہ ہماری بیٹی کو2گولیاں ماری گئیں جو ایک رانجن نے ماری اور دوسری اس کے بھائی اقبال نے ماری۔واقعے کے بعد پولیس نے اپنی ابتدائی کارروائی توکی، مرکزی مجرم اور مقتولہ کے شوہر رانجن کو گرفتار کیا لیکن اب کیس اس رفتار سے آگے نہیںبڑھ رہا جیسے بڑھنا چاہیے تھا۔

رشیدہ کے ماں باپ اور دیگر رشتے داروں کو یہی تشویش لاحق ہے کہ تاخیری حربے استعمال کرکے کیس کو خراب اور کمزور کیا جارہا ہے ۔ اس وقت صورتحال یہ ہے کہ 2ماہ کی بیاہی رشیدہ کے قتل کو بھی تقریباً2ماہ گزر چکے ہیں۔مرکزی مجرم رانجن گرفتار ہے، اس کے باپ مولائی مگسی نے ضمانت قبل از گرفتاری کرالی ہے جبکہ قتل کی واردات میں شریک اقبال مفرور ہے۔

مقتولہ کے رشتے داروں رحمت علی اور دیگر کا موقف ہے کہ ملزمان مختلف ذرائع سے انھیں ڈرا دھمکا رہے ہیں اور آپس میں بیٹھ کر صلح کرنے پر زور دے رہے ہیں جبکہ ہم چاہتے ہیں کہ ہماری بچی کو انصاف ملے اور اس کے قاتلوں کو عدالت کے ذریعے سزا دی جائے۔ ہم نے بار بار پولیس سے رابطہ کیا ہے لیکن ابھی تک تمام ملزمان کی گرفتاری عمل میں آئی ہے نہ ہی ہمیں پولیس کی جانب سے ایسی ٹھوس یقین دہانی کرائی گئی ہے کہ ہمیں انصاف ملے گا۔
اس حوالے ایس ایچ او تھانہ کھبڑ (KHABARR) محمد خان ودھو نے پر بتایا کہ ملزم اقبال کی گرفتاری کے لیے کوشش جاری رہیں۔ دو تین بار اس کے گھر پر چھاپہ مارا۔ رانجن نے رشیدہ کو کاروکاری کے الزام میں مارا ہے۔ لڑکی کے گھر والوں سے پورا تعاون کررہے ہیں یہ اُن کی اپنی سوچ ہے کہ پولیس جانبدار ہوگئی ہے۔

محمد خان کا کہنا تھا کہ جہاں جہاں اور جب جب مقتولہ کے گھر والوں نے کہا ہم نے ریڈ کیا، چھاپے مارے، ہماری پوری کوشش ہے کہ یہ کیس منطقی انجام تک پہنچے۔
ایس پی قمبر شہداد کوٹ کامران فضل رابطہ کرنے پر بتایا کہ ہم کیس کو میرٹ پر حل کریں گے اور جو بھی ذمے دار ہوا اسے سزا ملے گی۔ مقتولہ کے ماں باپ بھی اس صورت حال سے بہت پریشان ہیں، بچپن میں طے کی گئی شادی کے وعدے کو نبھانے کی وجہ سے ان کی بیٹی منوں مٹی تلے جا سوئی ہے۔ دونوں خاندان کھیتی باڑی کرتے ہیں۔

مقتولہ رشیدہ کے گھر والوں کا کہنا ہے کہ ہم نے متعلقہ تھانے کے ایس ایچ او، ایس پی اور ڈی ایس پی کو بھی درخواستیں دی رہیں لیکن ہم تاحال انصاف کے منتظر ہیں۔ ایک سوال کو انھوں نے یہ بھی بتایا کہ مقتولہ 5ویں کلاس پاس کر چکی تھی جبکہ اس کا شوہر بالکل ان پڑھ ہے۔ مقتولہ کے گھر والے کہتے ہیں کہ ملزمان کا موقف ہے کہ ہم سے غلطی ہوگئی، اب مل بیٹھ کر معاملہ طے کر لیے ہیں۔
دوسری جانب علاقے کے بڑے بھی ٹال مٹول سے کام لے رہے ہیں۔ مقتولہ کے والد اور دیگر گھر والوں کو ملزم رانجن کے بھائی اقبال سے شدید خطرہ لاحق ہے جو مفرور ہے لیکن انھیں دھمکیاں پہنچاتا رہتا ہے۔