پاکستان پر مزید دو ماہ مشکل گزریں گے، وزیر اعظم

کراچی: وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ پاکستان پر مزید دو ماہ مشکل گزریں گے لیکن قوم متحد ہو کر ہر قسم کے چیلنجوں کا مقابلہ کرسکتی ہے، ہمیں آئی ایم ایف سے بہت پہلے رجوع کرلینا چاہیے تھا۔
شوکت خانم ہسپتال کے لیے فنڈ ریزنگ افطار ڈنر سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ شوکت خانم اسپتال کا منصوبہ شروع کیا تو لوگوں نے کہا یہ ہسپتال نہیں بن سکتا کیوں کہ کینسر کا علاج مہنگا بہت ہوتا ہے، ایسے مشکل وقت میں سیٹھ عابد ہمارے ساتھ کھڑے ہوئے اور دیگر لوگوں نے بھی ساتھ دیا، اب شوکت خانم واحد ہسپتال ہے جسے جوائنٹ کمیشن انٹرنیشنل کی سرٹیفکیشن مل چکی ہے، ایسا اس لیے ممکن ہوا کہ اس ہسپتال میں 75 فی صد مریضوں کا مفت علاج ہو رہا ہے۔

وزیر اعظم نے کہا کہ 25 سال میں اس ہسپتال نے غریب مریضوں کے علاج پر 40 ارب روپے خرچ کیے، زکوة سے ملنے والی رقم صرف غریب مریضوں کے علاج پر خرچ کی جاتی ہے اس سے کوئی تعمیرات نہیں کی جاتیں، ہر سال پہلے سے زیادہ عطیات اکٹھے ہوتے ہیں۔
وزیراعظم نے کہا کہ اس سال ہسپتال کو ساڑھے 8 ارب روپے کا خسارہ ہے تاہم گزشتہ سال کی نسبت زائد عطیات جمع ہوئے ہیں، پشاور کا ہسپتال بھی بن چکا ہے، یہاں کیمو تھراپی اور ریڈی ایشن تھراپی کے بعد اس سال کے آخر تک آپریشن بھی شروع کر دیں گے۔
عمران خان نے کہا کہ ان دونوں ہسپتالوں کے مقابلوں میں کراچی میں بننے والا کینسر ہسپتال زیادہ جدید ہوگا جب ہم نے لاہور کینسر ہسپتال شروع کیا تھا تو ہمارے پاس ایک کروڑ روپے بینک میں تھے اور 70 کروڑ کا منصوبہ شروع کیا اور اسے تین سال میں مکمل کیا، پیسوں کی وجہ سے ایک دن بھی کام میں رکاوٹ نہیں ہوئی، یہ اللہ کی برکت تھی۔

وزیر اعظم نے کہا کہ قوم اگر متحد ہو تو وہ کسی بھی چیلنج کا مقابلہ کر سکتی ہے، آئندہ دو یا ڈھائی ماہ مشکل وقت ہے، اس کی وجہ 10 سال جس طرح ملک کو لوٹا گیا اور مقروض بنانا ہے اسی وجہ سے آج ہمیں بحران کا سامنا ہے، خرچے کم اور آمدن بڑھانے تک یہ مشکل وقت گزارنا پڑے گا۔
آئی ایم ایف سے بہت پہلے رجوع کرلینا چاہیے تھا، عمران خان
وزیراعظم عمران خان نے اعتراف کرتے ہوئے کہا ہے کہ آئی ایم ایف پروگرام کے حصول میں تاخیر ہوئی ہمیں آئی ایم ایف سے بہت پہلے رجوع کرلینا چاہیے تھا۔
یہ بات انہوں نے جمعہ کو کراچی چیمبر آف کامرس، ایف پی سی سی آئی، ٹاول مینوفیکچررز ایسوسی ایشن، پریگمیا، پی ایچ ایم اے، ریپ اور دیگر تاجر برادری کے نمائندوں سے ملاقات کے دوران کہی۔

وزیراعظم نے کہا کہ ان کی خواہش ہے کہ موجودہ حکومت سب سے زیادہ تاجر و سرمایہ کار دوست حکومت کے طور پر جانی جائے، پاکستان سے غربت مٹانا میرا مشن ہے جس میں تاجر برادری میرا ساتھ دے، تاجربرادری معیشت کو مکمل دستاویزی بنانے میں معاونت کرے اور اعلان کردہ ایمنسٹی اسکیم سے استفادہ کرے۔
وزیر اعظم نے کہا کہ حکومت کی خواہش ہے کہ نجی شعبہ معیشت کے استحکام اور اقتصادی ترقی میں ہراول دستے کا کردار ادا کرے، حکومت تجارت و سرمایہ کاری کی سرگرمیوں کو فروغ دینے میں ہر ممکن تعاون کرے گی اور تمام ترسہولیات فراہم کرے گی، کاروبارکو آسان کرنے، ایف بی آر کی اصلاحات اور تجارت کے لیے ساز گار اور کاروبار دوست ماحول کی فراہمی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہیں۔

عمران خان نے مزید کہا کہ سابق حکمرانوں نے معیشت کو کرپشن سے تباہ کر دیا اور ہمیں ایک خستہ حال معیشت ملی اس لیے میں چوروں کو نہیں چھوڑ سکتا۔
اس موقع پر تاجربرادری کے نمائندوں نے معاشی استحکام اور اقتصادی اہداف کے حصول کے لیے تجاویز پیش کرتے ہوئے کہا کہ قرضوں پر سود کی موجودہ شرح بہت زیادہ ہوگئی ہے جس میں سرمایہ کاری کرنا مشکل ہوگیا ہے۔

تاجر نمائندوں نے تجویز دی کہ ایمنسٹی اسکیم سے استفادہ کرنے والوں کے ڈیٹا کو خفیہ رکھا جائے تاکہ اس اسکیم سے زیادہ سے زیادہ لوگ استفادہ کرسکیں۔ دوران ملاقات برآمدی شعبوں کے نمائندوں نے 5زیرو ریٹڈ برآمدی شعبوں کی زیرو ریٹنگ کی سہولت ختم نہ کرنے کا بھی مشورہ دیا۔
وزیراعظم عمران خان نے افطار ڈنر سے خطاب میں اپنی زندگی کے اہم واقعات بھی بتائے اور عمائدین شہر کو مشورے بھی دیے۔ وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ جب مشکل وقت ہو تو رشتے داروں کی شادی میں نہیں جانا چاہیے اور اگلے دن کا اخبار نہیں پڑھنا چاہیے۔

وزیراعظم عمران خان نے پاکستان کی موجوہ مشکل صورتحال اور معاشی حالات کے تناظر میں کہا کہ آسان وقت میں توسارے دوست ہوتے ہیں، ایک بار ہماری کرکٹ ٹیم بھارت میں سیریز ہار گئی تو فیصلہ ہوا کہ رات کی تاریکی میں وطن واپس آئیں گے تاکہ لوگوں کا سامنا نہ ہو مگر جب پاکستان پہنچی تو کسٹم حکام نے تاخیرکردی اور ٹیم ایئرپورٹ سے باہر آئی تو صبح کے 6 بج چکے تھے اور پھر رکشا والے سے لے کر ہر راہ چلتے نے ہم پر خوب جملے کسے اور تنقید کا نشانہ بنایا۔
وزیراعظم نے مشورہ دیا کہ جب مشکل وقت ہوتو دو کام نہیں کرنے چاہئیں ایک اگلے دن کا اخبا ر نہیں پڑھنا کیونکہ اس میں سب کچھ لکھا ہوگا اور دوسرا رشتے داروں کی شادی میں نہیں جانا چاہیے کیوں کہ رشتے دار بھی سوال و جواب اور تنقید کرکے مزید پریشان کردیں گے۔