کتاب زندہ ہے اور کائرہ صاحب سے تعزیت- ڈاکٹر محمد اجمل نیازی

اب ہمارے ہاں پڑھنے پڑھانے کا معاملہ کھٹائی میں پڑا ہوا ہے۔ مگر میں ایک بے حد خوبصورت سرکاری اور نیم فوجی رسالہ ’’ہلال‘‘ دیکھ کر اس عارضی خوشی میں مبتلا ہو گیا ہوں کہ ابھی پڑھنے کے لیے اچھی تحریریں مل سکتی ہیں اور اچھے خوبصورت اورملائم کاغذ پر یہ تحریریں چھپ سکتی ہیں۔
میں اس مفروضے کو نہیں مانتا کہ کتاب رسالے سے ہماری رغبت ختم ہوتی جا رہی ہے اور ہمارے ہاں پڑھنے کی عادت (ریڈنگ ہیبٹ) تقریباً ختم ہو گئی ہے۔ کتاب بکتی نہیں تو شائع کیوں ہوتی ہے۔ پڑھی نہیں جاتی تو بکتی کیوں ہے؟ الیکٹرانک میڈیا کا زور یورپ امریکہ میں زیادہ ہے۔ مگر وہاں ہر عورت مرد کے ہاتھ میں کتاب ہوتی ہے۔ وہ گاڑی میں اور ریل میں ہوں، سڑک پر ہوں ، ہوائی اڈے پر ہوں، میں نے ہر دوسرے آدمی کے پاس کتاب دیکھی ہے۔

الگ لائبریری کے لیے سہولت اکثر گھروں میں نہیں ہوتی وہاں بھی کتابیں ہوتی ہیں۔ میرے اپنے گھر میں ہر کمرے کے اندر کتابیں پڑی ہیں ۔ جن سے میری بیوی بڑی تنگ ہے۔ میری بیوی کا نام رفعت خانم ہے۔ صرف رفعت لکھیں تو بھی وہ ناراض ہوتی ہے کہ میرا پورا نام کیوں نہیں لکھا۔ مگر یہ ضرور ہے کہ وہ بہت ذوق و شوق والی خاتون ہے۔ اس کو مجھ سے زیادہ اشعار یاد ہیں ا ور اچھے اشعار یاد ہیں۔ اس کے ابا جی کو بھی بہت اشعار آتے تھے۔ میرے ابا جی کو بھی اشعار بہت پسند تھے پڑھتے تھے۔ میرے قارئین کہیں گے کہ آج میں نے کالم اپنے گھر والوں کے حوالے سے لکھنا شروع کر دیا ہے۔ ایسا بالکل نہیں میں کالم کو پڑھنے والوں کی امانت سمجھتا ہوں۔

بات ہی خود بلکہ خودبخود اس طرف نکل گئی۔ میں کئی بار یہ بات لکھ چکا ہوں مگر یہ بات بار بار کرنے کا جی چاہتا ہے کہ ہم نے ابتدائی زندگی میں گھر میں صرف کتابیں ہی دیکھیں۔ ہمیں معلوم نہ تھا کہ زندگی گزارنے کے لیے کوئی اور سامان بھی ہوتا ہے۔ اب بھی یہی حال ہے۔ اب لگتا ہے کہ کچھ کچھ اور بھی ضروری ہے۔ محبت ہی کافی نہیں۔ محنت بھی لازمی ہے۔ یہ بات بھی بار بار کر چکا ہوں مگر اپنی یاددہانی کے لیے ضروری ہے کہ چیزوں کو اور باتوں کو دہراتے رہنا چاہئے۔ ہم اگر ایک نماز عمر بھر پڑھتے ہیں ، ہرسال رمضان کے روزے رکھتے ہیں تو اس میں بڑی مصلحت اور معنویت چھپی ہوتی ہے۔ کئی عمل ہیں اور کام ہیں جو ہم بار بار کرتے رہتے ہیں اور نہیں تھکتے۔ پھول کھلتے ہیں اور مرجھا جاتے ہیں ۔ پھر کھلتے ہیں اور پھر مرجھا جاتے ہیں۔

میں نے آغاز میں سرکاری نیم فوجی رسالے ’’ہلال‘‘ کا ذکرکیا تھا۔ انہوں نے اس کے ساتھ ایک اور رسالہ بھی نکالنا شروع کیا ہے۔ ہلال فارکڈز (بچوں کا ہلال) کم از کم اردو حصے کا نام ’’بچوں کا ہلال‘‘ ہوتا۔
رسالے میں انگریزی کا حصہ بھی شامل ہے۔ کیا بچے اتنی انگریزی جانتے ہیں۔ ایک آدمی انگریزی بہت بولتا تھا اور دوسروں پر رعب جماتا تھا۔ ایک دن کسی نے اسے ڈٹ کر کہا۔ کیا انگریزی انگریزی تم نے لگائی ہوئی ہے۔ برطانیہ میں تو انگریزوں کے چھوٹے چھوٹے بچے بھی انگریزی بولتے ہیں۔

ہم اس زمانے کو یاد کرتے ہیں جب ’’ہلال‘‘ صرف اردو میں ہوتا تھا۔ اب شاید فوجی افسران کو اردو بھولتی جا رہی ہے۔ لیکن یہ رسالہ بہت خوبصورت ہے۔ اچھے کاغذ نے شاید اسے خوبصورت بنا دیا ہے۔ اس کا ایڈیٹر بھی کوئی اور آدمی ہے۔ محمد امجد۔ ہم نے تو ہلال میں دلچسپی لی جب ادیب اور دانشورممتاز اقبال ملک ایڈیٹر تھے اور اب ہمارے دوست ایک تخلیقی آدمی اور معروف ادیب یوسف عالمگیرین ایڈیٹر ’’ہلال‘‘ ہیں۔ وہ خود بہت اچھے مزاح نگار ہیں۔ ’’ہلال فار کڈر‘‘ میں عدیلہ خالد نے ’’رمضان کریم کی برکتیں ‘‘ کے نام سے ایک شاندار مضمون لکھا ہے۔ مگر وہ بتائیں کہ انہوں نے یا مضمون بچوں کے لیے لکھا ہے یا بڑوں کے لیے لکھا ہے۔ شاید ان کے گھر میں بچے روزے رکھتے ہونگے۔ البتہ مجھے غزالہ یاسمین کی تحریر ’’علامہ اقبال کے بچپن‘‘ کی چند یادیں۔‘‘ اچھی لگی۔

اس کا انگریزی حصہ بھی میں نے دیکھا۔ تحریروں پر بھی نظر دوڑائی مگر تصویریں بہت اچھی لگیں۔ پھر میں نے اصلی ’’ہلال‘‘ دیکھا جس کا ایڈیٹر یوسف عالمگیرین ہے ڈپٹی ایڈیٹر جہانزیب ہے۔ یہ ایک معیاری رسالہ ہے۔ لکھنے والوں کی تصویریں بھی پہلے صفحے پر موجود ہیں۔ بڑی مدت کے بعد ان لوگوں کو دیکھ کر خوشی ہوئی۔ یاسر پیرزادہ تو اکثر ’’ہلال‘‘ میں شائع ہوتا ہے۔ اس کی تحریریں اچھی لگتی ہیں۔ پروفیسر فتح محمد ملک ڈاکٹر صفدر محمود ، حسینہ معین، علی جاوید نقوی اور عالیہ شاہ کی تحریریں اورتصویریں اچھی لگیں۔ یوسف کے ادارئیے ’’قومی کردار اور ملکی ترقی‘‘ نے صورتحال کی صحیح عکاسی کی ہے۔پاکستان سب کا ہے اس کو چیلنجز سے نکالنے کے لیے سب طبقات کو آگے بڑھ کر اپنے اپنے حصے کا کام کرنا ہے۔ کام کرنے کا ایک وقت ہوتا ہے۔ یقیناً یہی وہ وقت ہے جب تمام اداروں نے دیانت داری سے کام کرتے ہوئے سبز ہلالی پرچم کو سربلند کرنا ہے‘‘ قمرالزمان کائرہ سے تعزیت کرنا ہمارا فرض ہے۔ جوان بیٹے کی فوتیدگی پر تعزیت میری سمجھ میں نہیں آتی۔

ایں ماتم‘ سخت است کہ گوئندہ جواں مرد۔ یہ سخت ماتم کی بات ہے کہ کوئی بتائے ایک جوان فوت ہو گیا ہے۔ یہ کائرہ صاحب کا تو دکھ ہے کہ اس سے کوئی مقابلہ نہیں۔ وہ بہت اچھے دل کے آدمی ہیں۔ سیاست میں ان کی شہرت ایک بھلے آدمی کی ہے۔ ان کے لیے کوئی منفی بات نہیں سنی ۔ کسی سکینڈل کاتو تصور ہی نہیں۔ ایک بار صدر زرداری کے پاس سرسری سی ملاقات ہوئی۔ کہیں اور بھی ذرا سی دیر کوملے ہونگے۔ مگر وہ اپنے اپنے لگتے ہیں۔ اسے دوستی نہیں کہا جا سکتا مگر اس تعلق میں کیا ہے کہ دوستی پیچھے رہ جاتی ہے۔
میں نے چودھری پرویز الٰہی اور چودھری شجاعت حسین کو کائرہ صاحب کے ساتھ فاتحہ خوانی کرتے ہوئے دیکھا تو میں نے بھی فاتحہ خوانی کے لیے ہاتھ اٹھا لیے، جبکہ میں وہاں موجود نہیں تھا۔ کائرہ صاحب تصویر میں بہت اطمینان میں دکھائی دے رہے تھے۔ یہ بڑے دل گردے کی بات ہے۔