حلوہ کھانا کون سا مشکل کام ہے؟ خالد مسعود خان

ے اس بیان پر بڑی حیرت کا اظہار کیا کہ پاکستان میں اپوزیشن کا کام صرف اور صرف حکمرانوں کی غلطیوں کو پکڑنا اور عوام کے سامنے لانا ہے اور غلطیاں وہی کرتا ہے جو کچھ کر رہا ہو۔ حکومت وقت کچھ نہ کچھ کر رہی ہوتی ہے خواہ خرابیاں ہی کر رہی ہو، مگر کچھ نہ کچھ ایسا کر ضرور رہی ہوتی ہے جو قابلِ گرفت ہو۔ سو ان قابلِ گرفت حرکات پر گرفت کرنا خاصا آسان کام ہوتا ہے اور اپوزیشن یہ کام کرتی رہتی ہے۔ میاں نواز شریف اینڈ کمپنی یہ قابل گرفت والے کام باافراط کر رہی تھی لہٰذا ان پر گرفت کرنا خاصا آسان کام تھا جو عمران خان نے بہرحال کیا۔ میں اسے بہ احسن کرنا نہیں کہوں گا کیونکہ اس دوران عمران خان بھی برابر ڈنکے کی چوٹ پر الٹے سیدھے بیانات دینے اور بے مقصد کاموں میں اپنی صلاحیتیں صرف کرتے رہے حالانکہ وہ صرف اور صرف میاں صاحبان کی غلطیوں پرہی گرفت کرتے رہتے تو انہیں اور کچھ کرنے کی ضرورت ہی نہیں تھی لیکن اب اس پر بحث لاحاصل ہے؛ تاہم یہ بات طے ہے کہ خواہ وہ پیپلز پارٹی کی حکومت ہو یا مسلم لیگ ن کی، معاملات میں اتنی خرابیاں ہوتی ہیں کہ اپوزیشن کو روزانہ کی بنیاد پر ایک آدھ سیکنڈل ملتا رہتا تھا اور اپوزیشن کی موج لگی رہتی تھی۔

پہلے یہ ہوتا تھا کہ ایک پارٹی حکومت میں ہوتی تھی اور ایک اپوزیشن میں۔ عمران خان صاحب کو یہ فالتو سہولت میسر تھی کہ انہیں اپنی ''چاند ماری‘‘ کے لیے دو پارٹیاں بیک وقت دستیاب تھیں اور خرابیاں اتنی کثیر تعداد میں میسر تھیں کہ زیادہ محنت ہی نہیں کرنا پڑتی تھی۔ سو عمران خان کی موجیں لگی ہوئی تھیں اور اس میں ان کی ذاتی قابلیت سے کہیں زیادہ، بلکہ یوں سمجھیں کہ سو فیصد کریڈٹ ہی میاں صاحب اور زرداری کی ذاتی صلاحیتوں کو جاتا تھا۔ ہاں ایک کریڈٹ بلا شبہ عمران کو جاتا ہے اور وہ یہ کہ عمران خان نے ان کی خرابیوں اور غلطیوں کو عوام تک پہنچانے کا فریضہ بڑے حوصلے، تسلسل اور مستقل مزاجی سے سرانجام دیا۔ مایوس ہوئے بغیر اور اعتماد میں کمی لائے بنا۔
میں نے شاہ جی سے پوچھا کہ عمران خان کے اس بیان کا کیا مطلب ہے کہ اپوزیشن کا فرض نبھانا بہت مشکل کام ہے جبکہ حکومت کرنا بہت آسان ہے؟ شاہ جی ہنسے اور کہنے لگے: عمران خان صاحب بالکل ٹھیک کہتے ہیں۔ کچھ نہ کرنا بہت ہی آسان کام ہے اور عمران خان آج کل یہی کچھ کر رہے ہیں۔

بھلا کچھ نہ کرنے میں کون سی محنت لگتی ہے؟ معیشت کا، مہنگائی کا، روپے کی بے قدری کا، بیورو کریسی کا، پنجاب کے وزیراعلیٰ کا اور اداروں کی کارکردگی کا جو حال ہے کہیں سے لگتا ہے کہ حکومت کچھ کرر ہی ہے؟ اگر بندے نے صرف مزا انجوائے کرنا ہو کہ وہ بالآخر وزیراعظم بن گیا ہے اور اب چونکہ اس نے اپنا زندگی کا آخری ٹارگٹ حاصل کر لیا ہے اور اس نے کچھ بھی نہیں کرنا تو بھلا پھر حکومت کرنا کوئی مشکل کام ہے؟
تم نے وہ واقعہ تو سنا ہوگا کہ ایک ملک کا بادشاہ انتقال کر گیا اور وہ لا ولد تھا۔ وزیروں مشیروں نے باہمی جنگ و جدل سے بچنے کے لئے فیصلہ کیا کہ کل صبح شہر میں داخل ہونے والے پہلے شخص کو بادشاہ بنا دیا جائے گا۔ خدا کی قدرت کہ صبح شہر میںد اخل ہونے والا پہلا شخص ایک فقیر تھا۔ گدڑی پہنے ہاتھ میں کاسہ لئے وہ شہر میںداخل ہوا اور درباریوں نے شاہی تاج اس کے سر پر رکھ دیا۔ بادشاہ نے پہلا شاہی فرمان جاری کیا کہ اس کے لیے لذیذ حلوہ پکایا جائے۔ حلوہ پکایا گیا۔ اس میں خوب بادام پستے ڈالے گئے اور بادشاہ سلامت نے سیر ہو کر کھایا اور مزید حلوہ پکانے کا حکم دے دیا۔

اسی دوران ہمسایہ ملک کے بادشاہ نے حملہ کر دیا اور بلا روک ٹوک ملک کے دارالسلطنت کی طرف بڑھتا ہوا شہر پناہ کے دروازے تک آن پہنچا۔ وزیروں مشیروں نے حملے کے بارے میں بتایا۔ فقیر بادشاہ نے مزید حلوہ بنانے کا حکم صادر فرمایا۔ حلوہ آیا اور مزے سے کھایا بھی گیا۔ بتایا کہ دشمن کی فوجیں محل کے باہر تک آ گئی ہیں۔ بادشاہ نے دیگچی کے کناروں پر لگا ہوا حلوہ ہاتھ سے صاف کیا۔ آخری لقمہ منہ میں ڈالا اور آخری حکم دیا کہ ہماری گدڑی اور کاسہ لایا جائے۔ گدڑی پہنی، کاسہ ہاتھ میں لیا اور محل کے عقبی دروازے سے نکلتے ہوئے بہ آواز بلند فرمایا: ہم نے حلوہ کھانا تھا کھا لیا‘ آپ جانو، ملک جانے اور حکومت جانے‘ حکومت اپنے بس کی بات نہیں اور حلوہ کھانا کون سا مشکل کام ہے؟