اپوزیشن دوراہے پر- الطاف حسن قریشی

حکومت اور اپوزیشن کے بلی چوہے کے کھیل پر تبصرہ کرنے سے پہلے میں پاکستان کے عظیم اصول پسند اور معاملہ فہم سیاستدان جناب قمر زمان کائرہ سے اُن کے جواں سال بیٹے اُسامہ کی ٹریفک حادثے میں شہادت پر اظہارِ تعزیت کروں گا۔ وہ ابھی کالج میں پڑھتا تھا کہ اُسے اجل نے آ لیا اور اُس کے ساتھ اُس کا دوست حمزہ بٹ بھی موت کی آغوش میں چلا گیا۔ انا للہ و انا الیہ راجعون۔ ہم اللہ ہی کے لئے ہیں اور ہمیں اُسی کی طرف لَوٹ کر جانا ہے۔ زندگی اور موت کا یہ فلسفہ دل کو کس قدر سکون بخشتا ہے اور ایک لافانی روحانی کیفیت پیدا کرتا ہے۔ سادہ الفاظ میں ہمارا جینا بھی ربِ کائنات کے لئے اور ہمارا مرنا اس کی لامحدود ذات سے وابستہ ہے۔ یہ ایک ناقابلِ فراموش حقیقت ہے کہ جناب قمر زمان کائرہ کا صدمہ پورے پاکستان میں شدت سے محسوس کیا گیا اور کئی روز تعزیت کرنے والوں کا تانتا بندھا رہا۔ میں چار دن کی مسلسل کوشش کے بعد کائرہ صاحب سے ٹیلی فون پر بات کر سکا۔ وہ غم سے نڈھال تھے، مگر لہجے میں ایک ٹھیراؤ تھا۔ کہنے لگے میں اپنے ہم وطنوں کا بےحد شکرگزار ہوں کہ اُنہوں نے میرا دُکھ بٹایا اور مغفرت کی دعائیں کیں۔ اُسامہ اِتنی سی مدت کے لئے ہی دنیا میں آیا تھا، اللہ تعالیٰ ہمارے خاندان کو صبرِجمیل عطا کرے۔ وہ کہہ رہے تھے کہ تعزیت کے لئے آنے والوں سے مجھے بڑا حوصلہ ملا اور مجھے احساس ہوا کہ میں ایک وسیع انسانی برادری کا ایک فرد ہوں اور لاکھوں لوگ میرے ساتھ بہت گہرے رشتے میں بندھے ہوئے ہیں۔

اب ہم اِس امر کا جائزہ لیں گے کہ گزشتہ اتوار کے افطار ڈنر میں اپوزیشن کی بیشتر سیاسی جماعتوں کے اکابرین کا اجتماع ہماری قومی سیاست پر کیسے کیسے اثرات مرتب کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے یا اپوزیشن کے دوراہے پر کھڑا رہنے سے ایوانِ اقتدار میں کوئی قابلِ ذکر ارتعاش پیدا نہیں ہو گا۔ بلاشبہ اپوزیشن کی جماعتیں آپس میں دست و گریبان رہی ہیں اور ایک دوسرے کے خلاف سنگین الزامات لگاتی رہی ہیں، اِس لئے کچھ تجزیہ کار اِس خیال کے حامی نظر آتے ہیں کہ کارکنوں کے اندر وہ یکجہتی پیدا نہ ہو سکے گی جو ایک ملک گیر تحریک میں تبدیل ہو سکتی ہے، مگر تحریکِ انصاف کی اعلیٰ قیادت سے لے کر سوشل میڈیا کی تلچھٹ کا جو ردِعمل سامنے آیا ہے، اس نے سیاسی پنڈتوں کو حیران کر دیا ہے۔ اِس سے تو یوں لگا جیسے اقتدار کی صفوں میں کھلبلی مچ گئی ہے۔ جناب عمران خان اپوزیشن سے کہا کرتے تھے کہ وہ احتجاج کے لئے آگے بڑھے، ہم اسے کنٹینر فراہم کریں گے لیکن اتوار کا اجتماع دیکھ کر اُنہوں نے ارشاد فرمایا کہ وہ شکست خوردہ لوگوں کا اکٹھ تھا۔ کوئی صاحبہ کہہ رہی تھیں کہ چلے ہوئے کارتوس ہمارا کیا بگاڑ سکتے ہیں۔ ایک صاحب کا فتویٰ تھا کہ اِن تلوں میں تیل نہیں اور عوام اُن سیاسی جماعتوں کا ہرگز ساتھ نہیں دیں گے جنہوں نے پاکستان کی معیشت کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچایا ہے۔ ایک وزیرِ باتدبیر فرما رہے تھے کہ پاکستان کی ترقی اور خوشحالی کا راستہ روکنے والی طاقتیں یکجا ہو گئی ہیں۔

اربابِ اقتدار کو اِس حقیقت کا ذرا اِحساس نہیں کہ اپوزیشن کو ان کی بددماغی اور نالائقی نے ڈرامائی طور پر اکٹھا کر دیا ہے۔ گزشتہ نو دس مہینوں میں حکومت کی کارکردگی تشویش ناک حد تک غیرتسلی بخش رہی۔ اس نے عوام سے جو بلند بانگ وعدے کئے تھے، اُن کے برعکس عام شہری ناقابلِ برداشت مشکلات کا شکار ہو چکا ہے۔ دیکھتے ہی دیکھتے روزمرہ استعمال کی اشیاء کی قیمتیں بلند ترین سطح تک پہنچ گئی ہیں۔ ڈالر قابو سے باہر ہے اور یہ تلخ حقیقت کھل کر سامنے آ گئی کہ جناب عمران خان کا کوئی وژن ہے نہ اُمورِ حکومت کا کوئی فہم۔ اُن کی ٹیم بدترین ثابت ہوئی جس نے زندگی کا ہر شعبہ ابتری کی نذر کر دیا ہے۔ آئی ایم ایف کے اسٹاف لیول پر جو معاہدہ سامنے آیا، اس نے اس مجموعی تاثر کو تقویت پہنچائی کہ خزانے کی چابیاں آئی ایم ایف کے حوالے کر دی گئیں۔ معاہدے کی تفصیلات میں بہت ابہام پایا جاتا ہے اور وضاحت کے ساتھ قوم کو کچھ نہیں بتایا جا رہا۔ ماضی میں جب معاہدہ ہوتا تھا تو پاکستان کے وزیرِخزانہ اور آئی ایم ایف ٹیم کے انچارج پریس کانفرنس میں ایک ایک پہلو کی وضاحت کرتے تھے۔ اِس بار ایسا نہیں ہوا جس نے افواہوں اور بدگمانیوں کو ہوا دی۔ تب اپوزیشن کی بڑی جماعتوں کے قائدین نے محسوس کیا کہ پاکستان کو ڈیفالٹ سے بچانے اور عوام کے دکھ درد میں شامل ہونے کے لئے ہمیں فوری احتجاج کی راہ اختیار کرنا ہو گی۔

یہ امر قابلِ ستائش ہے کہ اپوزیشن کے بیشتر زعما نے کہا کہ ہم حکومت گرانے کے بجائے عوام کی آواز سننے کے لئے جمع ہوئے ہیں۔ حالات کی سنگینی کے پیش نظر اپوزیشن میں دو رائے پائی جاتی ہیں۔ ایک یہ کہ حکومت کو مزید وقت دینا اور اس پر دباؤ بڑھانا چاہئے کہ عوام جس عذاب میں مبتلا کر دیے گئے ہیں، اس کے خاتمے کے لئے منصوبہ بندی کی جائے۔ پارلیمان میں اتفاقِ رائے سے فیصلے کئے جائیں اور جمہوری روایات کا احترام کیا جانا چاہئے۔ بعض قائدین نے میثاقِ جمہوریت کی طرز پر میثاقِ معیشت کی صورت گری پر زور دیا۔ محترمہ مریم نواز جو عمران خان کو وزیرِاعظم تسلیم نہیں کرتیں، نے بھی تجویز دی ہے کہ حکومت کو گرنے سے بچایا جائے تاکہ عوام کو اُن کی صلاحیتوں کا صحیح صحیح اندازہ ہو جائے، تب تحریک چلانا مناسب اور ثمرآور ہو گا۔

اپوزیشن میں ایک نقطۂ نظر یہ پایا جاتا ہے کہ نااہل حکمرانوں کو وطن کی قسمت سے کھیلنے کی مزید اجازت نہیں دی جا سکتی، چنانچہ جماعتِ اسلامی نے 15جون سے مہنگائی، بےروزگاری اور آئی ایم ایف کی غلامی کے خلاف تحریک چلانے کا اعلان کر دیا ہے۔ نظر یہی آتا ہے کہ تحریکِ انصاف اپنی روش تبدیل کرنے پر تیار نہیں ہو گی، جس کے نتیجے میں اپوزیشن تحریکِ مزاحمت کا صُور پھونک سکے گی۔ ہمارا مشورہ یہی ہو گا کہ تحریک اِس انداز سے چلائی جائے کہ ملک میں افراتفری نہ پھیلنے پائے اور جمہوری نظام کو بھی گزند نہ پہنچے۔ قومی اور ٹیکنو کریٹس پر مشتمل حکومت قائم کرنے کی باتیں دارالحکومت اور اس کے آس پاس گردش کر رہی ہیں۔ جلد انتخابات کے لئے بھی فضا تیار ہو رہی ہے جبکہ جون میں بجٹ کی منظوری اور نومبر میں قیادت کی تبدیلی کے مشکل مقام بھی آنے والے ہیں۔ تبدیلی تو ناگزیر معلوم ہوتی ہے مگر اسے پُرامن، عوام دوست اور رَوشن مستقبل بدوش ہونا چاہئے۔