فرشتے مت اتارا کر زمیں پر- ڈاکٹر محمد اجمل نیازی

میں کچھ بیمار بیمار ہوں۔ رات تقریباً جاگتے گزری۔ طبیعت اچھی نہیں تھی اور میں نے کالم لکھنے کا ارادہ کیا کہ شاید طبیعت سنبھل جائے۔ اتنے میں صبح صبح مجھے نامور شاعرہ اور ادبی شخصیت ناز بٹ کا فون آ گیا۔
اس نے مجھے اپنی وہ نظم سنائی جو اسلام آباد میںظلم و بربریت کا شکار ہونے والی بچی کے نام تھی۔ اس بچی جس کا نام فرشتہ تھا۔ جس کے ساتھ کچھ درندوں نے ظلم اور بربریت کی انتہا کر دی۔ پہلے معصوم بچی کو جنسی درندگی کا شکار کیا اور پھر اسے قتل کر دیا۔

بچی کے وارثان جب بچی کی گمشدگی کی رپورٹ کرانے اسلام آباد میں مقامی تھانے میں پہنچے تو ظالم تھانیدار بولا۔ تمہاری بچی کسی کے ساتھ بھاگی ہو گی۔ بچی کا بھائی بولا کہ اتنی چھوٹی بچی کس کے ساتھ بھاگی ہو گی۔ تھانے میں بیٹھے ان درندوں سے بھی لوگوں کی جان چھڑانا ظلم و بربریت سے نجات کے لیے ضروری ہے۔ ہمارے تھانے جو ہماری حفاظت کے لیے ہیں وہاں ظالم ا ور درندے بیٹھے ہوئے ہیں۔ وہ ظالموں اور درندوں کی حمایت کرتے ہیں۔ میری گزارش ہے کہ اس بھیڑیا نما تھانیدار کے خلاف بھی عبرتناک کارروائی کی جائے۔

میں ناز بٹ کی درد مندیوں اور دل سوزیوں سے بھری ہوئی نظم ضرور پیش کروں گا۔ مگر میں اس لیے پریشان ہوں کہ یہ خبریں بڑے تسلسل کے ساتھ آ رہی ہیں تو پھر ہماری انتظامیہ پولیس اور اشرافیہ کیا کر رہی ہے۔
اگر کوئی بچی ہے تو وہ بھی اللہ کی مخلوق ہے اس کا کیا قصور ہے کہ وہ بچی کے طور پر پیدا ہوئی ہے۔ میں درد سے مرتا جا رہا ہوں کہ کیا درندوں کو اس بچی کی معصومیت نظر نہ آئی تھی۔ میں نے اس بچی کی تصویر اخبار میں دیکھی۔ وہ اتنی معصوم ہے کہ میرا دل تڑپ تڑپ گیا ہے۔ وہ بچی کس کس طرح تڑپی ہو گی۔ یہ منظر ظالموں نے نہ د یکھا ہو گا۔ وہ یہ تو سوچیں کہ اس بچی کی بجائے اُن کی اپنی بچی ہوتی تو میں اس کے لیے بھی تڑپتا۔ بچی تو بچی ہوتی ہے۔ سب کی بچی۔

کسی بچی کے ساتھ ایسی بربریت کے بعد فوری طور پر مجرم کو سب کے سامنے پھانسی دی جائے۔ میں تو کہتا ہوں کہ سنگسار کیا جائے۔ اُسے پتھر مار مار کے مار دیا جائے۔
بچی کے ساتھ قتل کرنے سے پہلے جو ظلم کیا جاتا ہے وہ جنسی درندگی کی بدترین مثال ہے۔ اس عمل کے لیے دنیا کے سب سے بڑے انسان اور پیغمبر اعظم رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سنگسار کرنے کی سزا سنائی تھی۔ جو اللہ کی طرف سے ہے۔ مجھے بتایا جائے کہ دیارِ حجاز میں کتنے لوگوں کو یہ سزا ملی۔ اس سزا کے بعد لوگ جرأت نہیں کر سکتے کہ یہ درندگی کریں۔

یورپ والے یہ بتائیں کہ اس طرح کی سزا زیادتی ہے تو یہ زیادتی کیا کم ہے کہ ایک معصوم بچی کو جنسی درندگی کا شکار بنایا جائے اور پھر قتل کر دیا جائے۔ ہم کس درندگی اور ظلم کے مارے ہوئے معاشرے میں پیدا ہوئے ہیں۔ خدا کی قسم اب تو ا پنے آپ سے شرم آتی ہے۔ ہم کتنے بے شرم ہیں کہ ایسی درندگی کے درمیان زندہ ہیں۔ یہ اگر ز ندگی ہے تو پھر شرمندگی کیا ہے ا ور درندگی کیا ہے۔ اب تو ایک ہی صورت کہ شرمندہ ہو جائو، زندہ رہنے ا ور شرمندہ رہنے میں کوئی فرق نہیں رہا اور کچھ لوگوں کے لیے زندہ رہنے اور درندہ ہونے میں فرق نہیں رہا۔

میرے پاس الفاظ ختم ہو گئے۔ اب آپ ناز بٹ کی معرکتہ الآرا نظم دیکھیں۔ نجانے اس نے یہ نظم کتنے کرب میں گزر کر لکھی ہے۔ بچی کا نام فرشتہ ہے۔ یہ نظم بچی کی فریاد ہے۔

فرشتے مت اتارا کر زمیں پر

خدایا کیوں اتارا تھا مجھے ایسی زمیں پر

جہاں وحشی درندے گھات میں بیٹھے ہوئے ہیں

مرے سائے سے لپٹے جانور مرے بدن کو نوچنے کے منتظر ہیں

مجھے کیوں تو نے خون آشام جنگلی بھیڑیوں کے پائوں میں روندا

تو سترمائوں جتنا پیار کرتا ہے

ترا دعویٰ ہے اور میرا یقیں ہے

بتا پھر میری چیخیں آسماں تک کیوں نہیں پہنچیں

خدایا کیوں زمیں چُپ تھی

اگر مٹی ہی قسمت تھی تو پھر اس دور میں پیدا کیا ہوتا

کہ دھرتی پر جنم لیتے ہی اپنے باپ کے ہاتھوں

اسی تیری زمیں میں دفن ہو جاتی

میں ان کتوں سے بچ جاتی

میں ان کتوں سے بچ جاتی