کیا یہ ریاستِ مدینہ کے وعدے سے یوٹرن نہیں؟ انصار عباسی

جب میاں نواز شریف کو وزارتِ عظمیٰ کے عہدہ پر سے نکال باہر کیا گیا تو وہ اکثر یہ سوال پوچھتے رہے کہ اُنہیں کیوں نکالا، کیس پاناما کا بنایا گیا اور نکالا اقامہ پر گیا، کوئی کرپشن کا الزام نہیں لگا بلکہ جرم یہ بنا کہ بیٹے سے جو تنخواہ نہیں لی، وہ اپنے ٹیکس گوشواروں میں ظاہر کیوں نہ کی۔ بہت بڑی تعداد میں قانون دانوں کا بھی خیال تھا کہ نواز شریف کے خلاف سپریم کورٹ کا فیصلہ کمزور تھا۔ میری بھی ذاتی رائے یہی تھی اورمیں (ن) لیگ کے رہنمائوں کو کہتا رہا کہ یہ بالکل درست بات ہے کہ نواز شریف کا ٹرائل متنازع تھا۔ اس دوران بہت کچھ ایسا بھی ہوا جس کے بارے میں آزادیٔ صحافت کے موجودہ حالات کے تناظر میں اب لکھا بھی نہیں جا سکتا لیکن بحیثیت سابق حکمران میاں صاحب کو اپنے دورِ اقتدار پر ضرور نظر ڈالنا چاہئے اور یہ سوچنا چاہئے کہ کہیں اپنے دورِ حکومت میں اُنہوں نے کچھ ایسا تو نہیں کیا جس سے اُنہوں نے اللہ تعالیٰ کو ناراض کیا ہو۔ کیا تیسری بار حکومت سنبھالنے سے قبل میاں صاحب نے اپنے اِن ارادوں کا دوسروں سے تذکرہ نہیں کیا تھا کہ اگر موقع ملا اور حکومت دوبارہ ملی تو ملک میں اسلامی نظام کے لیے کام کریں گے اور یہ بھی کہ سود کا خاتمہ کریں گے؟؟ حکومت مل گئی لیکن نہ اسلامی نظام کی طرف کوئی قدم بڑھایا اور نہ ہی سود کی لعنت کا خاتمہ ہوا بلکہ بحیثیت وزیراعظم انہوں نے پاکستان کو لبرل اور پروگریسیو (Progressive) ریاست بنانے کی بار ہا بات کی۔ کچھ اور بھی ایسے اقدامات کیے جس نے اسلامی سوچ رکھنے والوں کو بہت مایوس کیا۔

ویسے تو نواز شریف نے لوڈشیڈنگ ختم کی، دہشت گردی پر قابو پایا، کراچی کے حالات بہتر بنائے، سی پیک جیسا پروجیکٹ شروع کیا، میٹروز، ہائی ویز اور موٹر ویز بنائیں، کئی اور بڑے ڈویلپمنٹ پروجیکٹس شروع کیے، معاشی طور پر پاکستان کو بہتر پوزیشن میں لائے لیکن اسلامی پاکستان کا وعدہ وعدہ ہی رہا بلکہ گزشتہ (ن) لیگ کی حکومت میں ایسے اقدامات کیے گئے جس سے لبرل اور سیکولر حلقوں میں یہ امید پیدا ہوئی کہ پاکستان کو ایک لبرل اور پروگریسیو ریاست بنایا جا سکتا ہے۔
اب ہم موجودہ وزیراعظم عمران خان کے بارے میں بات کر لیں لیکن اس سے پہلے یہ بات واضح کر دوں کہ ان معاملات پر جو میں میاں صاحب کے دور میں لکھتا رہا اور اب بھی لکھ رہا ہوں، اس کا مقصد کسی کو نشانہ بنانا نہیں بلکہ اُن معاملات کی نشاندہی کرنا ہے جن کا تعلق اسلام سے ہے تاکہ ہمارے حکمران اور سیاستدان اپنے اُن وعدوں کو پورا کر سکیں جن کا وہ اظہار کرتے رہے۔ عمران خان کا سب سے بڑا وعدہ یہ رہا کہ وہ ریاستِ مدینہ کے رول ماڈل کو سامنے رکھ کر پاکستان کو ایک اسلامی اور فلاحی ریاست بنائیں گے۔

گزشتہ نو ماہ کی اپنی حکومت کے دوران اُنہوں نے اس وعدہ کو بار بار دہرایا بھی لیکن عملی طور پر جو ہو رہا ہے وہ کچھ حوصلہ افزا نہیں بلکہ اُس وعدے کی جو عمران خان نے کیا، ضد ہے۔ سود کے بارے میں جو اسلام کہتا ہے وہ سب پر واضح ہے اور اسی لیے اس سے مسلمانوں کو سختی سے منع کیا گیا تھا۔ باوجود اس کے کہ سود کو اللہ اور اللہ کے رسولﷺ کے ساتھ جنگ گردانا گیا، ریاستِ مدینہ کی بات کرنے والے عمران خان نے نہ صرف شرح سود کو بڑھا دیا بلکہ نوجوانوں کو قرضہ دینے والی اسکیم کے ساتھ ساتھ گھروں کی تعمیر کے لیے بھی سود اور سودی قرضوں کی ہی شرط رکھی۔ جس بیماری کو پاکستان سے ختم کرنے کی ضرورت ہے، جس گناہ سے پاکستانی قوم کو پاک کرنا لازم ہے، اُسے عمران خان بڑھاوا دے رہے ہیں۔ جنہیں کاروبار کے لیے پیسہ درکار ہے اور جو اپنا گھر بنانا چاہتے ہیں اُن کو بھی سود جیسے‘ ایک ایسے گناہِ کبیرہ میں شامل کیا جا رہا ہے جو سراسر گھاٹے کا سودا ہے۔ میری سیاستدانوں سے درخواست ہے کہ آپ اپنی سیاست چمکانے کے لیے جو مرضی کرتے رہیں، جتنے مرضی یوٹرن لیں لیکن جو وعدہ اللہ سے کریں اور جس وعدے کا تعلق ہمارے دین سے ہو، کم از کم اُسے ضرور پورا کریں۔ دینی معاملات اور اللہ سے کئے گئے وعدوں پر سیاست نہیں ہو سکتی اور نہ ہی ایسے معاملات میں یوٹرن لیا جا سکتا ہے۔