فرشتہ روزہ دار تھی - مجاہد ہمایوں تارڑ

فرشتہ ہمارے گھر سے بائیں جانب قدمی فاصلہ یعنی walking distance پر رہتی تھی، بینک چوک پر مدینہ بیکرز والی گلی میں۔ اب اُس کی مسخ ہوئی لاش ہمارے گھر سے دائیں جانب قدمی فاصلے پر ہی رکھی ہے ـ یہاں کے مشہور ترامڑی چوک میں۔ یہ اِس موسم میں اب تک کا گرم ترین دن ہے۔ اُوپر سے روزہ داری بھی۔

تابوت کے پاس بیٹھے فرشتہ کے پڑوسی عامر نے بتایا کہ فرشتہ صورت فرشتہ نے اغوا والے روز روزہ بھی رکھا ہوا تھا۔ دس سالہ فرشتہ 15 مئی کو افطاری سے تھوڑی دیر پہلے گھر سے نکل کر گلی کی نکڑ تک دودھ لینے گئی تھی۔ افطاری کے لئے شربت بنانا تھا۔ پھر واپس نہ آئی۔ گھر والے بھاگم بھاگ پولیس سٹیشن پہنچے۔ ایف آئی آر درج نہ ہو سکی۔ پانچ روز تلاش جاری رہی۔ کل شام اِس کی لاش پارک روڈ پر تھانہ چک شہزاد کے پیچھے جھاڑیوں بھرے جنگل نما ایریا سے ملی ہے۔ بوقتِ دریافت لاش کو کوئی جانور بھنبھوڑنے میں مصروف تھا۔ والدین نے جوتوں اور کپڑوں سے شناخت کیا کہ یہ وہی فرشتہ ہے جو گلی پار کرنے نکلی تھی، پھر دو چار گھنٹوں میں کہکشاؤں کے پار اتر گئی۔

عین ممکن ہے، تفتیش کو گمراہ کرنے کی غرض سے یہ لاش دوسرے تھانہ کے ایریا میں پھینک دی گئی ہو۔ جبکہ فی الواقع یہ واردات لہتراڑ روڈ والے تھانہ کے علاقہ میں ہوئی ہو۔ واللہ اعلم۔

میں عرض کروں، زینب والے واقعہ سے کچھ ہی عرصہ بعد ہماری کالونی کی مسجد میں کسی بچی کی گمشدگی کا اعلان ہوا تھا۔ بعد میں ہمیں پڑوسن نے تفصیل بتائی کہ ایک حواس باختہ بڑھیا ہانپتے کانپتے مسجد تک آئی تھی، اور اعلان کرنے کا کہا۔ تفصیل پوچھی تو بتایا کہ وہ بچّی کیساتھ مین روڈ کے کنارے کنارے پیدل چل رہی تھی۔ شام کا وقت تھا۔ پیچھے سے ایک موٹر سائیکل سوار آیا، اور بچّی کو بازو سے پکڑ کر اُچک لے گیا۔ بڑھیا نہ پیچھے بھاگنے کے لائق، نہ بے ہنگم ٹریفک کے شور میں اس کا واویلا ہی کارآمد۔

کہنا یہ ہے کہ شاید خود پولیس اندر یا باہر (پولیس کی معاونت سے) اِس علاقہ میں چند درندوں کا ایک گروہ سرگرمِ عمل ہے۔ اگر کوئی چھان بین کرے تو ایسی متعدّد بچیوں کا سراغ ملے جو اغوا کی گئیں، مگر جن بارے رپورٹ منظرِ عام پر آنے نہیں دی گئی۔ اصل مسئلہ محض فرشتہ کا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ پبلک کی سیکیورٹی کے لئے دستیاب بندوبست ہی خود بھیڑیا ہے۔

ہرکمیونٹی کی سطح پر خود اپنی طرف سے وضع کردہ سسٹم اس سے کئی گُنا زیادہ بہتر تحفّظ دے سکتا ہے ہر علاقے کو۔ ہمیں قبائلی نظام کی طرف لوٹنا ہو گا۔ اِس ٹوِن سٹی میں ایسی ان گنت وارداتیں ہو چکیں۔ کوئی پوچھنے والا نہیں۔ آپ بتائیں، اس پولیس ڈیپارٹمنٹ کا کوئی فائدہ؟
ابھی دو روز پہلے اس جوان بچی کیساتھ پولیس والوں نے کیا کِیا؟ ایسی دیدہ دلیری میں خود اِن کا اِنوالو ہونا یا معاون بن جانا بعید نہیں۔