اکانومی نہیں،پولیٹیکل اکانومی! خورشید ندیم

یہ معیشت کا سادہ معاملہ نہیں۔اس کا تعلق سیاسی معیشت سے ہے۔ یہ 'پولیٹیکل اکانومی‘ ہے جناب!
معاشی سرگرمی، فرد اور معاشرے کے باہمی تعلق، حکومتی پالیسی اور سماجی روایات سے آزاد نہیں ہے۔ روپے کی قدر محض بازار سے وابستہ ایک معاشی عمل نہیں، اس کا تانا بانا عالمی سیاست کے ساتھ ساتھ، مقامی سیاسی استحکام سے بھی جڑا ہوا ہے۔ یہی سبب ہے کہ اسے کسی ماہرِ معیشت پر نہیں چھوڑا جا سکتا۔ اس کے لیے ایسے صاحبانِ بصیرت کی ضرورت ہوتی ہے جو معیشت کے ساتھ دیگر سماجی علوم بالخصوص سیاسیاست اور عمرانیات کا بھی گہرا علم رکھتے ہوں۔
'بریگزٹ‘ (Brexit) کا معاملہ حل ہونے کو نہیں آ رہا۔ برطانیہ کی سیاسی قیادت الجھتی چلی جا رہی ہے۔ وجہ وہی ہے۔ یہ ایک فیصلہ ہے جو معیشت کے ساتھ سیاست اور سماج سے براہ راست متعلق ہے۔ اس کے اثرات سب کو اپنی لپیٹ میں لیں گے۔ کسی کا سیاسی زوال ہو گا اور کسی کا عروج۔ یورپین یونین سے نکلنا اور پھر اس کا حصہ بننا، دونوں کا تعلق 'پولیٹیکل اکانومی‘ سے ہے۔

ہمارے ہاں جو لوگ حکومت کے معاملات کو چلا رہے ہیں، وہ معیشت کو سماج اور سیاست سے ماورا ایک عمل سمجھتے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ معیشت کا کوئی تعلق سیاسی استحکام سے ہے نہ سماجی روایات سے۔ زیادہ سے زیادہ امریکہ سے ہے کیونکہ آئی ایم ایف اس کے زیرِ اثر ہے۔ اس کا ایک حل انہوں نے یہ تلاش کیا کہ معاشی عمل ان افراد کے حوالے کر دیا جائے جو آئی ایم ایف کے معاشی فلسفے اور طریقہ کار کو سمجھتے ہیں۔ یوں وہ ہمیں ایک معاہدے تک لے جائیں گے۔ انہوں نے اپنا کام کر دیا‘ لیکن اس کے جو معاشی و سماجی اثرات متوقع تھے، وہ سامنے نہیں آ سکے۔ جیسے سٹاک مارکیٹ میں ٹھہراؤ آ جانا چاہیے تھا‘ مگر نہیں آیا۔
ایسا کیوں ہوا؟ یہ سیاسی حکومت کا کام تھا کہ وہ ایسے اقدامات کرتی جو سیاسی استحکام پیدا کرتے۔ وہ اس معاہدے پر ایک وسیع البنیاد اتفاق پیدا کرتی۔ وہ اعلانیہ اور غیر اعلانیہ سطح پر پارلیمانی جماعتوں کو اعتماد میں لیتی۔ اس کے بعد اسے پارلیمان میں لے آتی۔ ایسا کچھ نہیں ہوا بلکہ معلوم یہ ہوا کہ دور دور تک اس کا ادراک ہی نہیں ہے۔ کسی کو شک ہو تو وہ عمران خان صاحب کی تازہ ترین تقریر سن لے۔

مسئلہ صرف تحریکِ انصاف کا نہیں‘ بلکہ ان سب قوتوں کا ہے جن کے ہاتھ میں زمامِ کار ہے۔ کوئی یہ نہیں سمجھ رہا کہ ہر معاہدہ کاغذ کا محض ایک ٹکڑا ہے اگر لوگ اس کی روح کے مطابق، اس پر عمل پیرا نہ ہوں۔ آئی ایم ایف کی پالیسی کو عوام پر نافذ ہونا ہے۔ ٹیکس ان کو دینے ہیں۔ اگر وہ اس سارے عمل کا حصہ ہی نہیں تو یہ پالیسی کیسے ثمر بار ہو سکتی ہے؟ موجودہ سیاسی نظم میں عوام سیاسی جماعتوں کے ذریعے بروئے کار آتے ہیں۔ لیکن انہیں اس عمل میں شریک ہی نہیں کیا جا رہا۔
جب مسئلہ پولیٹیکل اکانومی کا ہے تو پھر لازم ہے کہ اس کی باگ ایک ٹیکنوکریٹ کے بجائے کسی سیاست دان کے ہاتھ میں ہو۔ انسانی تاریخ میں ریاست کے امور اگر ہمیشہ سیاست دانوں کو سونپے گئے ہیں تو اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ سیاست دان ہی ہے جس کی بصیرت تمام اہم امور کا احاطہ کر سکتی ہے۔ ٹیکنوکریٹ جتنا بھی پڑھا لکھا کیوں نہ ہو، اس کا علم محدود ہوتا ہے۔ ایک خاص مضمون Disciplineکا پابند۔ اس سے فنی معاونت تو لی جا سکتی ہے، اسے فیصلے کا اختیار نہیں دیا جا سکتا۔ فیصلہ وہی کر سکتا ہے جو سماجی اقدار کو جانتا ہو اور اس کے ساتھ سیاسی حرکیات کو بھی۔
لیڈر وہی ہوتا ہے جس کا کوئی وژن ہو۔ وہ لیڈر بنتا ہی اسی وقت ہے جب ملک و قوم کے مسائل کا گہرا ادراک رکھتا اور ان کا قابلِ عمل حل پیش کر سکتا ہو۔ اس کے بعد، وہ اپنے وژن کے مطابق افرادِ کار جمع کرتا اور یوں اپنے تصور میں رنگ بھرتا اور اسے ایک قابلِ دید تصویر میں بدل دیتا ہے۔ معاشروں پر دیرپا اثرات انہی کے ہوتے ہیں جو وژن رکھتے ہیں۔

پاکستان کی بد قسمتی یہ ہے کہ آج معاملات ان کے ہاتھ میں ہیں جن کا کوئی وژن ہی نہیں ہے۔ چند ماہ ٹامک ٹوئیاں مارنے کے بعد، انہوں نے اپنی بے بسی کا اعتراف یوں کیا کہ اپنے ہاتھ کھڑے کر دیے اور معاملات کو ٹیکنوکریٹس کے حوالے کر دیا۔ حکومت اب امام نہیں، مقتدی ہے۔ ٹیکنوکریٹس پالیسی بنائیں گے اور وہ عمل کرانے والی ایک مشینری کے طور پر کام کر ے گی۔ ایمنسٹی سکیم دراصل اس بات کا اعلان ہے کہ ملک سرِ دست 'چوروں‘ کو پکڑنے کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ عمران خان صاحب جلسوں میں جو فرما رہے ہیں، عملاً حکومت اس کے خلاف عمل پیرا محسوس ہوتی ہے۔
سیاسی طور پر نیم خواندہ معاشروں میں عمران خان جیسے افراد کی جگہ اس لیے بنتی ہے کہ لوگ پولیٹیکل اکانومی کی ہمہ جہتی سے واقف نہیں ہوتے۔ وہ آسانی سے 'پاپولزم‘ کا ہدف بن جاتے ہیں۔ نوجوان سیاسی طور پر سب سے کم خواندہ ہوتے ہیں۔ ووٹر کی عمر اٹھارہ سال ہوئی تو خان صاحب جیسے 'پاپولسٹ‘ کے لیے سیاست میں جگہ پیدا ہو گئی۔

وہ لوگ بھی ان سے آ ملے جو محض اقتدار کے لیے سیاست کرتے ہیں۔ انجام ہمارے سامنے ہے۔
سیاست کے مبادیات سے واقف بھی جانتا ہے کہ معاملہ محض اکانومی کا نہیں، پولیٹیکل اکانومی کا ہے۔ فروس عاشق اعوان صاحبہ سیاسی پس منظر رکھتی ہیں۔ انہیں اندازہ ہے کہ سیاست کے مطالبات کیا ہیں۔ وہ جب وزیر بنیں تو ان کا پہلا بیان یہ تھا کہ 'حکومت اپوزیشن کے ساتھ مفاہمت کی پالیسی کو جاری رکھے گی‘۔ یہ بات مضحکہ خیز تھی کہ وہ ایک ایسی پالیسی کو جاری رکھنے کی بات کر رہی تھیں جو کہیں پائی نہیں جاتی تھی۔ یہ بیان لیکن اس بات کا اظہار تھا کہ وہ سیاست کے مطالبات سے واقف ہیں۔ چند دن کے بعد ہی انہیں اندازہ ہو گیا کہ ان کی قیادت کو تو ایسا وزیر اطلاعات چاہیے جو ہر وقت اپوزیشن کو سینگوں پر اٹھائے رکھے۔ اب وہ بھی کانِ نمک میں نمک ہو چکیں۔

پولیٹیکل اکانومی کا مفہوم یہ ہے کہ سیاست زمینی حقائق سے مطابقت کا نام ہے۔ معیشت اصلاً ایک سماجی عمل ہے۔ ٹیکس کی شرح کا تعلق لوگوں کی آمدن سے ہے۔ اگر وہ کم ہے تو زیادہ ٹیکس نہیں لگائے جا سکتے۔ جمہوریت کا پودا پھوٹا ہی اس بیج سے تھا کہ ٹیکس لگانے کا اختیار کسی 'ہاؤس آف لارڈز‘ کو نہیں دیا جا سکتا۔ یہ حق عوام کے منتخب نمائندوں کا ہے۔ وجہ یہی تھی کہ عوام کے حالات سے لارڈز یا اشرافیہ آگاہ نہیں ہوتی، عوامی نمائندے ہی ہو سکتے ہیں۔
آج یہ بات طے ہے کہ حکومت چلانے والوں کے پاس کوئی جامع منصوبہ موجود نہیں۔ انتقام کی ایک بے لگام خواہش ہے جسے وہ کرپشن کے خلاف جنگ سے تعبیر کرتے ہیں۔ ایمنسٹی سکیم کے ذریعے، وہ اس سے رجوع کر چکے لیکن اس کا ادراک نہیں رکھتے۔ یا شاید وہ یہ خیال کرتے ہیں کہ سیاسی اعتبار سے نیم خواندہ لوگوں کو، وہ اب بھی اس عنوان سے پیچھے لگائے رکھیں گے۔ وجہ جو بھی ہے، یہ بصیرت کی عدم موجودگی کا افسوس ناک مظاہرہ ہے۔
معیشت جب سیاست سے الگ ہوتی ہے تو ملک و قوم کو اس کے تباہ کن اثرات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ عمران خان صاحب آج بھی ایوب خان کے عہدِ اقتدار کے گن گاتے ہیں کہ اس دور میں معاشی ترقی ہوئی۔ لیکن وہ نہیں جانتے کہ عوام اور ملک کو اس کی کیا قیمت ادا کرنا پڑی؟ مشرقی پاکستان کی علیحدگی انہی 'کامیاب‘ معاشی پالیسیوں کا ثمر تھا۔ معیشت کو ہم کبھی سیاست سے الگ کر کے نہیں دیکھ سکتے۔
پولیٹیکل اکانومی اب ایک با ضابطہ علم ہے۔ یہ دراصل اس کا مطالعہ ہے کہ معیشت پر سیاسی و سماجی حالات کیسے اثر انداز ہوتے ہیں۔ پاکستان کو آج اکانومی کے نہیں، پولیٹیکل اکانومی کے ماہرین کی ضرورت ہے۔ فطرتاً یہ صلاحیت سیاست دان میں ہوتی ہے۔ افسوس کہ موجودہ حکمران، سیاسی ہوں یا غیر سیاسی، نہ معیشت کے فہم کا اچھا مظاہرہ کر سکے ہیں نہ سیاست کے فہم کا۔