نبی کریم ﷺکے اسماء مبارکہ کی تعداد - ڈاکٹر عمیر محمود صدیقی

بھارت کے ایک کیتھولک مسیحی مبلغ ماریو جوزف (سابق سلیمان)نے۲۰۱۴ء یہ دعویٰ کیا کہ وہ سابقاً اٹھارہ برس کی عمر میں ایک مسلم امام مسجد کی حیثیت سے اپنی خدمات سرنجام دے رہا تھا کہ ایک شخص کے سوال پر اس نے قرآن مجید میں حضرت سیدنا مسیح علیہ السلام کے بارے میں پڑھنا شروع کیا ۔

قرآن مجید پڑھ کر وہ اس نتیجہ پر پہنچا کہ حضرت سیدنا مسیح علیہ السلام خاتم النبیین افضل الانبیاء محمد رسول اللہ ﷺ سے زیادہ افضل ہیں کیونکہ ان کا نام مبارک ۲۵ بار قرآن مجید میں ذکر ہوا ہے جبکہ نبی کریم ﷺ کا نام مبارک صرف پانچ بار قرآن مجید میں مذکور ہے ۔اسی سبب سے اس نے ترک اسلام کے بعد مسیحیت کو اختیار کر لیا اور اب ایک کیتھولک مبلغ کی حیثیت سے کام کر رہا ہے ۔حال ہی میں اس کے انٹرویوز کو دنیا کے کئی مسیحی تبلیغی چینلز پر شائع کیا گیا اور خاص طور پر اہل پاکستان کے مابین اسے سوشل میڈیا پر تقسیم کیا گیا۔()پیش نظر تحریر کا مقصد یہی ہے کہ اس اعتراض کا تحقیقی جواب پیش کیا جائے ۔اولا ً س بات کو سمجھنا ضروری ہے کہ عقائد اسلام میں عقیدہ رسالت انتہائی اہمیت کا حامل ہے ۔بحیثیت ایک مسلمان ہم تمام انبیاء کرام علیہم السلام پر ایمان لاتے ہیں اور ان میں تفریق نہیں کرتے ۔کسی بھی نبی کے افضل ہونے کا یہ ہر گز مطلب نہیں کہ دیگر انبیاء کرام علیہم السلام کی رسالت و نبوت کا انکار کر دیا جائے۔اگر کسی نبی کی نبوت کے قبول و رد کا یہی معیار ہے تو یاد رکھیں کہ موجودہ عہد نامہ قدیم میں حضرت مسیح علیہ السلام کانام مبارک کہیں بھی ذکر نہیں ہے جبکہ قرآن مجید میں حضرت سیدنا موسیٰ علیہ السلام کا نام مبارک( ۱۳۶ )باراور حضرت ابراہیم علیہ السلام کا نام مبارک( ۶۹ )بارذکر ہوا ہے ۔

قرآن مجید اور احادیث میں نبی مکرم محمد رسول اللہ ﷺ کے اسماء ذاتی کے علاوہ کئی اسماء صفاتی بھی ذکر ہوئے ہیں جنہیں ماریو جوزف نے یکسر نظر انداز کر دیا اور یہ تاثر دینے کی کوشش کی کہ مجھے مسیحیت قبول کرنے پر قرآن مجید نے آمادہ کیا ہے ۔ کسی ذات کے لیے کثیر اسماء و صفات کا استعمال ہونا اس کی علو شان اور عظمت کی دلیل ہے۔اسم اعظم’’اللہ‘‘ اس رب العالمین کا اسم ذات ہے جو تمام عالمین کا خالق ، مالک، بدیع اور فاطر ہے۔ اللہ رب العزت کی ذات اقدس جس طرح لامحدود ہے اسی طرح اس کی صفات و اسماء حسنیٰ کے بارے میں کبھی کوئی یہ دعویٰ نہیں کر سکتا کہ وہ ان صفات و اسماء کا احاطہ کیے ہوئے ہے۔آسمانوں کی رفعت ،زمین کی وسعت ،پہاڑوں کی صلابت ،دریاؤں کی روانی ،سمندروں کی طغیانی ، پرندوں کا چہچہانا ، پھولوں کا کھلنا اور مہکنا ،سورج کی حرارت ،چاند کا مد و جزر ،ستاروں کی گردش ،کہکشاؤں کے جھرمٹ یہ سب کچھ اللہ رب العزت کی صفات کا مظہر ہیں اور ان مخلوقات میں اللہ رب کریم کی صفات ہر روز ایک نئی شان میں ظاہر ہوتی ہیں ،اس کائنات کا خلاصہ انسان ہے اور تمام نوع انسانی میں اکمل الموجودات سید الثقلین محمد رسول اللہ ﷺ کی ذات اقدس ہے اسی لیے اللہ رب العالمین نے آپ کی ذات مبارکہ سے ہی امر ربی کی ابتداء فرمائی اور آپ ﷺ کی ذات اقدس پر ہی نبوت کا سلسلہ ختم فرمایا۔ اسی لیے شیخ اکبر محی الدین ابن عربی فرماتے ہیں : فکان صلی الله علیه واله وسلم اول دلیل علی ربه صلی الله علیه واله وسلم() ’’نبی کریم ﷺ اپنے رب پر سب سے پہلی دلیل ہیں۔‘‘

یعنی اگر چہ یہ تمام کائنات اللہ رب العزت کے وجود پر دلیل ہے لیکن اللہ تبارک وتعالیٰ کے وجود پر سب سے اوّل و واضح دلیل نبی کریم ﷺ کا وجود مسعود ہے ۔ نبی کریم ﷺ کے اسم مبارک کو اللہ رب العزت نے اس قدر رفعت عطا فرمائی ہے کہ جہاں کہیں اللہ رب عظیم کا نام مبارک لیا جاتا ہےوہاں نبی آخر الزماں محمد رسول اللہ ﷺ کا نام مبارک بھی ذکر کیا جاتا ہے یہاں تک کہ اللہ رب العزت کی کوئی عبادت بھی بغیر ذکر مصطفیٰ کریم ﷺ مکمل نہیں ہوتی ۔حضرت امام مزالی مراکشی حدیث نقل فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا : لما خلق الله الأرض واستوى إلى السماء فسواهن سبع سموات وخلق العرش كتب على ساق العرش محمد رسول الله خاتم الأنبياء وخلق الله الجنة التي أسكنها آدم وحواء فكتب اسمي على الأبواب والأوراق والقباب والخيام وآدم بين الروح والجسد، فلما أحياه الله تعالى نظر إلى العرش فرأى اسمي فأخبره الله أنه سيد ولدك، فلما غرهما الشيطان تابا واستشفعا باسمي إليه ( )
’’جب اللہ تعالیٰ نے زمین کو تخلیق فرمایا اور آسمان کی طرف استواء فرمایا تو انہیں سات آسمان بنایا اور عرش کی تخلیق فرمائی۔عرش کی ساق پر لکھا ’محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں تمام انبیاء کے سلسلہ کو ختم کرنے والے ہیں‘۔اللہ تعالیٰ نے جنت تخلیق فرمائی جس میں حضرت آدم اور حضرت حوا علیہا السلام کو بسایا ۔اللہ نے میرا نام (جنت کے)دروازوں، پتوں،قبوں اور خیموں پر لکھا جبکہ حضرت آدم علیہ السلام روح اور جسم کے درمیان میں تھے ۔پس جب اللہ نے ان کو زندہ فرمایا تو انہوں نے عرش کی طرف دیکھا وہاں انہوں نے میرا نام دیکھا۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں خبر دی کہ بے شک یہ ذات اقدس تمہاری اولاد میں سب کے سردار ہیں ۔ جب شیطان نے ان دونوں کو دھوکہ دیا اور ان دونوں نے توبہ کی تو میرے نام کے وسیلہ سے اللہ تعالیٰ سے شفاعت طلب کی ۔‘‘

اسم’’محمد‘‘ نبی کریم ﷺ کا سب سے مشہور اسم مبارک ہے ۔یہ اسم مبارک ’’حمد‘‘سے مشتق اسم مفعول ہے اور اپنے ضمن میں قابل حمد شخص کی ثناء ،محبت و جلال اور تعظیم کو لئے ہوئے ہے ۔یہی حمد کی حقیقت ہے۔ اسم’’محمد‘‘ ﷺ مفعل کے وزن پر ہے جیسے مُعَظَّم ۔ یہ صیغہ تکثیر کے لئے وضع کیا گیا ہے ۔جب اس سے اسم فاعل مشتق ہو تو اس سے مراد وہ ذات ہے جس سے کثرت کے ساتھ بار بار وہ فعل صادر ہوتا ہو جیسے مُعَلِّم ،مُفَھِّم وغیرہ ۔معلم تعلیم کا فریضہ سر انجام دیتا ہے اور با ر بار تعلیم و تدریس کے عمل کو دہراتا ہے۔اگر اس سے اسم مفعول مشتق ہو تو اس سے مراد وہ ذات ہو گی جس پر وہ فعل بار بار واقع ہو۔اسم محمد ﷺ بھی حمد سے مفعل کے وزن پر اسم مفعول ہے جس سے مراد وہ ذات اقدس ہے جس کے لئے حامدین کی حمد کثیر ہو اور بار بار اس کی حمد و ثناء کا عمل ان سے صادر ہوتا ہو۔ یعنی اسم محمد ﷺ سے مراد وہ ذات شریفہ ہے جو اس بات کا استحقاق رکھتے ہیں کہ ان کی بار بار حمد و ثناء کی جائے کیونکہ اللہ رب العزت خود ان کی تعریف کرتا ہے اس لئے اسم محمد ﷺ کا معنی وہ مبارک ہستی ہے جس کی سب سے زیادہ تعریف کی جاتی ہے ۔اسی لئے حضرت حسان بن ثابت فرماتے تھے : و ذو العرش محمود و ھذا محمد(ﷺ) ’’عرش والا محمود ہے اور آ پ کی ذات اقدس محمد ﷺ ہے۔‘‘

نبی کریم ﷺ اللہ کے ہاں بھی محمود ہیں۔اس کے انبیاء کرام اور ملائکہ علیہم السلام کے ہاں بھی محمود ہیں اور اہل ارض و سماء آپ ﷺ پر درود و سلام میں مصروف ہیں ۔اللہ رب العزت قیامت کے دن نبی کریم ﷺ کو لواء حمد عطا فرمائے گا اور مقام محمود پر سرفراز فرمائے گا ۔جیسا کہ قرآن مجید میں ہے :
وَمِنَ اللَّيْلِ فَتَهَجَّدْ بِهِ نَافِلَةً لَّكَ عَسَىٰ أَن يَبْعَثَكَ رَبُّكَ مَقَامًا مَّحْمُودًا﴿الإسراء: ٧٩﴾
’’اور رات کے کچھ حصہ میں تہجد کرو یہ خاص تمہارے لیے زیادہ ہے قریب ہے کہ تمہیں تمہارا رب ایسی جگہ کھڑا کرے جہاں سب تمہاری حمد کریں۔‘‘
مفسرین فرماتے ہیں کہ اس وقت جب آپ ﷺ کو مقام محمود پر فائز کیا جائے گا تمام اہل محشر چاہے وہ مسلمان ہوں یا کافر اول تا آخر سب ہی محمد رسول اللہ ﷺ پر درودوسلام بھیجیں گے اور حمد و ثناء بیان کریں گے ۔()

یہ اسم مبارک جنت کے دروازوں ،عرش کے پایوں اور تمام مقامات قدسیہ پر اللہ رب العزت کے اسم جلالت کے ساتھ لکھا ہوا ہے اور اسی نام مبارک کے وسیلہ سے حضرت آدم علیہ السلام کی توبہ قبول ہوئی ۔اس اسم مبارک کی برکتیں کبھی آسمانوں پر،کبھی درختوں کے پتوں پر،کبھی شجرو حجر پر ظاہر ہوتی ہے ۔ایک مرتبہ راقم نے گھر کے قریب ہی زیر تعمیر ایک مسجد میں جمعۃ المبارک کی نماز سے جیسے ہی سلام پھیرا تو سامنے نگاہ ایک پودے کے پتے پر جم گئی ۔اس پتے پر قدرتی طور نبی کریم ﷺ کا اسم مبارک ’’محمد‘‘ﷺ لکھا ہوا تھا ۔اسی طرح اس اسم اقدس کی برکات کا مشاہدہ کائنات میں انسانیت کو ہوتا رہتا ہے۔

نبی کریم ﷺ کی محبت اصل ایمان ہے اور انسان جس سے جتنی زیادہ محبت کرتا ہے اتنا ہی اس کے ذکر میں مشغول رہتا ہے اسی لیے اہل محبت کثرت ذکر کے ساتھ رسول اللہ ﷺ پر درودو سلام بھیجتے ہیں ۔بعض محدثین نے اپنی کتب میں متعدد صیغوں کے ساتھ نبی کریم ﷺ پر درودو سلام اپنی کتابوں میں رقم کیے ہیں جن کے ساتھ درود پڑھتے ہوئے اہل ذوق نبی کریم ﷺ کی محبت سے اپنے دامن کو مالا مال کرتے ہیں ۔اس کی مثالیں امام جزولی کی دلائل الخیرات ،حضرت شاہ عبد الحق محدث دہلوی کی جذب القلوب،امام سبکی کی شفاء السقام ،امام مراکشی کی مصباح الظلام ،امام سخاوی کی القول البدیع اور امام ابن قیم کی جلاء الافہام میں دیکھی جا سکتی ہیں ۔یاد رہے ان تمام صیغوں میں سب سے افضل وہ درود ابراہیمی ہے جو رسول اللہ ﷺ کی زبان مبارک پر جاری ہوا۔اسی طرح رسول اللہ ﷺ پر درودو سلام پڑھتے ہوئے اور بالخصوص مواجہہ شریف پر بارگاہ رسالت میں درودوسلام پیش کرتے ہوئے اہل ایمان نبی کریم ﷺ کے اسماء گرامی و صفات مطہرہ پر علیحدہ علیحدہ درودوسلام بھیجتے ہیں ۔

قرآن مجید میں جس طرح رب العزت نے اپنے ذاتی نام کے ساتھ صفاتی ناموں کا بھی ذکر فرمایا جیسے غفور، رحیم،رب العالمین،الملک ،القدوس ،السلامـــ اسی طرح اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب مکرم ﷺ کو بھی رحمۃ للعالمین،شاھد ،نعمۃ ﷺ اور دیگر صفاتی ناموں سے مخاطب فرمایا ہے ۔نبی کریم ﷺ کے اسماء گرامی پر متعدد محدثین نے کتابیں تحریر فرمائیں ہیں جبکہ سیرت نگاروں نے آپ ﷺ کے اسماء گرامی پر اپنی کتب سیرت میں ابواب بھی رقم کیے ہیں ۔حافظ ابن عساکر نے بھی ایک تفصیلی باب تاریخ دمشق میں نبی کریم ﷺ کے اسماء گرامی کے ذکر میں رقم کیا ہے۔مدینہ منورہ کے ’’مکتبۃ المخطوطات‘‘کی زیارت کے دوران ایک مخطوطہ اسی موضوع پر دیکھا جس کا نا م ’’تذکرۃ المحبین باسماء سید المرسلین‘‘ ﷺہے۔اس کے مصنف امام رصاع ابو عبد اللہ محمد بن قاسم انصاری تلمسانی (متوفیٰ 894ھ)ہیں۔اس کتاب میں تقریبا 200 اسماء گرامی کو جمع کیا گیا ہے اور 398 صفحات پر مشتمل ہے۔( ) چند ایک کتابوں کے نام حاجی خلیفہ نے کشف الظنون میں بھی ذکر کیے ہیں جیسے

1۔أرجوزة فی اسماء النبی ﷺ، ابو عبد الله قرطبی ()
2۔اسماء النبی ﷺ،ابو الحسن علی بن احمد حرانی
3۔ اسماء النبی ﷺ، عبد الرحمن بن عبد المحسن الواسطی
4۔ المغنی،ابو الحسن احمد بن فارس لغوی ()
5۔ المستوفی فی اسماء المصطفیٰ ﷺ،ابو الخطاب ابن دحيہ عمر بن علی سبتی لغوی ()
6۔الرياض الانیقہ فی شرح اسما ء خیر الخلیقہ،جلال الدين عبد الرحمن سيوطی()
7۔المنبی فی اسماء النبی ﷺ ، ابن فارس احمد لغوی ()
ان کے علاوہ امام یوسف نبہانی نے بھی ایک کتاب ’’حسن الوسائل فی نظم اسماء النبی الکامل‘‘ﷺکے نام سے تحریر فرمائی ہے جس میں آپ نے منظوم انداز میں آپ ﷺ کے اسماء کو جمع فرمایا ہے۔

نبی کریم ﷺ کے دادا جان حضرت عبد المطلب نے آپ کا اسم مبارک ’’محمد‘‘ صلی اللہ علیہ والہ وسلم رکھا۔عرب اور غیر عرب میں کسی نے بھی اس سے قبل یہ نام کبھی نہیں رکھا تھا البتہ آپ ﷺ کی ولادت باسعادت سے قبل یہ خبر پھیل گئی تھی کہ عنقریب اللہ کے آخری نبی کی بعثت ہونے والی ہے اور ان کا نام مبارک ’’محمد‘‘ﷺ ہوگا اسی لیےبعض اہل عرب نے اپنے بچوں کا نام اس امید پر ’’محمد‘‘ رکھنا شروع کر دیا کہ شاید یہی وہ فرزند ہو جو رحمت للعالمین ﷺ بن کر تشریف لانے والے ہیں ۔عبد اللہ بن خالویہ نے اپنی کتاب ’’لیس‘‘میں اور امام سہیلی نے اپنی کتاب ’’الروض‘‘میں 3 افراد کے نام لکھے ہیں جن کے نام نبی کریم ﷺ کی بعثت سے قبل ’’محمد‘‘رکھا گیا تاہم امام سخاوی نے اس تحقیق سے اختلاف کیا ہے اور تقریبا 15 نفوس کے نام اپنی کتاب القول البدیع میں ذکر کیے ہیں جن کا نام ’’محمد‘‘رکھا گیا ۔( )نبی کریم ﷺ کے کثیر اسماء گرامی قرآن مجید اور احادیث طیبہ میں ذکر ہوئے ہیں ۔جیسے ایک حدیث میں حضرت سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے :
كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُسَمِّي لَنَا نَفْسَهُ أَسْمَاءً فَقَالَ أَنَا مُحَمَّدٌ وَأَحْمَدُ وَالْمُقَفِّي وَالْحَاشِرُ وَنَبِيُّ التَّوْبَةِ وَنَبِيُّ الرَّحْمَةِ()
رسول اللہ ﷺ ہمارے لیے اپنی ذات اقدس کے لیے نام مبارک بیان فرمایا کرتے تھے ۔آپ ﷺ نے فرمایا کہ میں محمد ہوں، احمد ہوں ،مقفی ہوں ، حاشر ہوں ، نبی التوبۃ ہوں اور نبی رحمت ہوں ۔

ایک اور حدیث شریف میں حضرت امام مسلم روایت فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا :
إِنَّ لِي أَسْمَاءً أَنَا مُحَمَّدٌ وَأَنَا أَحْمَدُ وَأَنَا الْمَاحِي الَّذِي يَمْحُو اللَّهُ بِيَ الْكُفْرَ وَأَنَا الْحَاشِرُ الَّذِي يُحْشَرُ النَّاسُ عَلَى قَدَمَيَّ وَأَنَا الْعَاقِبُ الَّذِي لَيْسَ بَعْدَهُ أَحَدٌ وَقَدْ سَمَّاهُ اللَّهُ رَءُوفًا رَحِيمًا ()
’’ بے شک میرے (کثیر)نام ہیں ۔میں محمد ہوں ۔میں احمد ہوں ۔میں ماحی ہوں جس سے اللہ کفر کر مٹاتا ہے۔ میں حاشر ہوں جس کے قدموں میں لوگ جمع ہوں گے ۔میں عاقب ہوں جس کے بعد کوئی نبی نہیں اور اللہ نے جس کا نام رؤف و رحیم ﷺرکھا ہے ۔‘‘
حضرت امام بخاری علیہ الرحمۃ اسی مفہوم کوحضرت مطعم بن جبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اس طرح روایت فرماتے ہیں :
لِي خَمْسَةُ أَسْمَاءٍ أَنَا مُحَمَّدٌ وَأَحْمَدُ وَأَنَا الْمَاحِي الَّذِي يَمْحُو اللَّهُ بِي الْكُفْرَ وَأَنَا الْحَاشِرُ الَّذِي يُحْشَرُ النَّاسُ عَلَى قَدَمِي وَأَنَا الْعَاقِبُ()
میرے پانچ ہی نام ہیں ۔میں محمد ہوں اوراحمد ہوں ۔میں ماحی ہوں جس کے ذریعے اللہ کفر کو مٹاتا ہے اور میں حاشر ہوں جس کے قدموں میں لوگ جمع ہوں گے اور میں عاقب ہوں۔
حضرت امام بخاری کی اس روایت میں ان اسماء مبارکہ کے عدد کا بھی ذکر ہے کہ میرے پانچ ہی نام ہیں جبکہ بعض روایات میں یہ بھی ذکر ہے:لى عشرة أسماء() یعنی میرے دس نام ہیں ۔ ایک اور حدیث شریف میں ہے:وَأَنَا النَّبِيُّ الْمُصْطَفَى()’’میں نبی مصطفیٰ ﷺ ہوں۔‘‘
کیا پانچ کے عدد میں حصر ہے؟
اس بحث میں ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا اس حدیث شریف کےمطابق نبی کریم ﷺ کے اسماء مبارکہ کی تعداد میں حصر ہے؟کیونکہ علم المعانی کے مطابق جب جار مجرور کو مقدم کر دیا جائے تو یہ حصر کا فائدہ دیتا ہے ۔بعض اہل علم کی رائے یہ ہے کہ اس حدیث شریف میں عدد کا ذکر راوی کی طرف سے اضافہ ہے یہ سید الانبیاء محمد رسول اللہ ﷺ کا کلام مبارک نہیں ہے۔حضرت امام منوفی مالکی علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں : ای : اختصصت بھا،او معظمۃ ،او مشھورۃ فی الامم السابقۃ و الکتب السابقۃ و الا فاسماءہ کثیرۃ جدا و قیل : العدد من عند الراوی لامن کلامہ ﷺ و ھو الارجح عندی ()

یعنی میں ان ناموں کے ساتھ خاص ہوں یا یہ میرے عظیم نام ہیں یا سابقہ امتوں اور کتب میں مشہور ہیں ورنہ نبی کریم ﷺ کے اسماءمبارکہ بہت زیادہ ہیں ۔کہا گیا ہے کہ اسماء کی تعداد کا ذکر راوی کا بیان ہے یہ نبی کریم ﷺ کا کلام نہیں ہے۔ میرے نزدیک یہی زیادہ راجح ہے۔
حضرت امام ابن ملقن شرح بخاری میں فرماتے ہیں :
فانھا لیست صیغۃ حصر او انھا فی الکتب القدیمۃ او ان ھذا من تصرف الراوی بدلیل الزیادۃ من الراوی الواحد کما سلف فی حدیث جبیر اجتمع فیہ ستۃ محمد احمد الماحی الحاشر العاقب الخاتم۔()
یہ حصر کا صیغہ نہیں ہے یا اس کا معنی یہ ہے کہ کتب قدیمہ میں میرے پانچ نام ذکر ہوئے ہیں یا یہ راوی کا تصرف ہے جس کی دلیل یہ ہے کہ اسی راوی نے حدیث جبیر میں جیسا کہ پیچھے گزر چکا ہے چھ اسماء کا ذکر کیا ہے یعنی محمد،احمد،ماحی،حاشر،عاقب،خاتم
علامہ بدر الدین عینی فرماتے ہیں :

و زعم بعضھم ان العدد لیس من قول النبی ﷺ و انما ذکرہ الراوی بالمعنی ورد علیہ لتصریحہ فی الحدیث بذلک ،و قیل معناہ:لی خمسۃ اسماء لم یسم بھا احد من قبلی ()
بعض اہل علم کی رائے یہ ہے کہ یہ عدد کا بیان نبی کریم ﷺ کا قول مبارک نہیں ہے یہ راوی نے اپنی طرف سے بیان کیا ہے اور اس کی دلیل یہ ہے کہ راوی نے اس کی وضاحت ایک اور حدیث میں بھی کی ہے ،اس کے جواب میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس کا معنی یہ ہے کہ میرے پانچ نام ایسے ہیں کہ ان سے قبل کسی کے یہ نام نہیں رکھے گئے۔

اس حدیث کی شرح میں امام کرمانی فرماتے ہیں : فان قلت ـ:صفاتہ اکثر من الخمسۃ اذ ھو خاتم النبیین و نبی الرحمۃ و غیرھا حتیٰ قالا ابو بکر بن العربی فی کتابہ عارضۃ الاحوذی فی شرح الترمذی عن بعضھم ان للہ تعالیٰ الف اسم و کذا لرسول اللہ ﷺ ؟قلت: مفھوم العدد لا اعتبار لہ فلا ینفی الزیادۃ و قیل انما اقتصر علیھا لانھا موجودۃ فی الکتب القدیمۃ و معلومۃ للامم السابقۃ ()
اگر تم یہ کہو کہ نبی کریم کی صفات تو پانچ کے عدد سے زیادہ ہیں کیونکہ آپ ﷺ تو خاتم النبیین اور نبی رحمت ہیں۔آپ ﷺ کے دیگر اسماء بھی ذکر ہوئے ہیں ۔یہاں تک کہ ابو بکر بن عربی نے اپنی کتاب ’عارضۃ الاحوذی فی شرح الترمذی‘ میں بعض اہل علم سے روایت کیا ہے کہ بے شک اللہ تعالیٰ کے ایک ہزار اسماء ہیں اور اسی طرح سے نبی کریم ﷺ کے بھی ایک ہزار اسماء ہیں ۔میں اس کے جواب میں یہ کہوں گا کہ عدد کے مفہوم کا اعتبار نہیں ہوتا تو اس سے آپ ﷺ کے اسماء مبارکہ کے زیادہ ہونے کی نفی نہیں ہوتی ۔یہ بھی کہا گیا ہے کہ ان اسماء پر اقتصار اس لئے کیا گیا کہ یہ مبارک نام قدیم کتب میں موجود ہیں اور سابقہ امتوں کو معلوم ہیں ۔

اس حدیث شریف کے بارے میں امام ابن حجرعسقلانی علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں :
’’ وَالَّذِي يَظْهَر أَنَّهُ أَرَادَ أَنَّ لِي خَمْسَة أَسْمَاء أَخْتَصّ بِهَا لَمْ يُسَمَّ بِهَا أَحَد قَبْلِي ، أَوْ مُعَظَّمَة أَوْ مَشْهُورَة فِي الْأُمَم الْمَاضِيَة ، لَا أَنَّهُ أَرَادَ الْحَصْر فِيهَا‘‘()
’’اور اس یہ ظاہر ہوتا ہے کہ آپ ﷺ کی مراد یہ ہے کہ بے شک میرے پانچ نام ہیں جو صرف میرے ساتھ خاص ہیں ۔مجھ سے قبل کسی کے یہ نام نہیں رکھے گئے یا یہ ایسے نام ہیں جو گزری ہوئی امتوں میں زیادہ معظم اور مشہور ہیں ۔آپ ﷺ کی مراد یہ نہیں کہ صرف ان پانچ ناموں میں حصر ہے ۔‘‘
حضرت امام قسطلانی ارشاد الساری میں فرماتے ہیں :
فان قیل: ان المقرر فی علم المعانی ان تقدیم الجار و المجرور یفید الحصر و قد وردت الروایات باکثر من ذلک حتی قال ابن العربی : ان لہ ﷺ الف اسم ۔اجیب: بانہ لم یرد الحصر فیھا فا لظاھر انہ اراد ان لی خمسۃ اسماء اختص بھا او خمسۃ اسماء مشھورۃ عند الامم السابقۃ ۔ ()
اگر یہ کہا جائے کہ علم المعانی میں یہ طے ہے کہ اگر جار مجرور کو مقدم کر دیا جائے تو اس سے حصر کا فائدہ ہوتا ہے جبکہ روایات میں اس سے زیادہ اسماء ذکر ہیں یہاں تک کہ ابن العربی نے کہا ہے کہ نبی کریم ﷺ کے ایک ہزار اسماء ہیں ۔اس کا جواب یہ دیا جائے گا کہ اس میں حصر مراد نہیں ہے ظاہر یہ ہے آپ ﷺ کا ارادہ یہ ہے کہ میرے پانچ نام ہیں جومیرے لئے خاص ہیں یا سابقہ امتوں میں پانچ مشہور نام ہیں ۔

ان تمام علماء کی آراء سے یہ بات واضح ہو گئی کہ اس حدیث شریف میں بیان کردہ عدد حصر کے لئے نہیں ہے کیونکہ قرآن مجید اور احادیث میں نبی کریم ﷺ کی دیگر اسماء مبارکہ بھی ذکر ہیں ۔ قرآن مجید میں نبی کریم ﷺ کا نام مبارک ’’محمد ‘‘ اور’’احمد‘‘ﷺذکر ہوا ہے جبکہ کئی ایک صفاتی نام بھی قرآن پاک میں بیان کیے گئے ہیں ۔ امام نووی فرماتے ہیں :
وبعض هذه المذكورات صفات، فإطلاقهم الأسماء عليها مجاز.()
’’ان میں سے بعض اسمائے مبارکہ صفات ہیں ۔ان پر اسماء کا اطلاق مجاز ا کیا جاتا ہے۔ ‘‘
قرآن مجید اور نبی کریم ﷺ کے اسما ء مبارکہ
یہ موضوع انتہائی وسعت کا حامل ہے ۔ نبی کریم رحمۃ للعالمین ﷺ کے تمام اسماء مبارکہ کی توصیف و ثناء کرنا انسانی قدرت سے باہر ہے کیونکہ جس ذات اقدس کی حمد و توصیف خود اللہ رب العالمین فرماتا ہو اور جن پر اللہ اور اس کے فرشتے درود پڑھتے ہوں ان کی تعریف کا حق کوئی ادا نہیں کر سکتا ۔مسیحی مبلغین بیان کرتے ہیں کہ قرآن مجید میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نام مبارک 25 بار ذکر ہوا ہے جب کہ آپ ﷺ کا نام مبارک پانچ بار ذکر ہوا جو اس بات کی دلیل ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام محمد (رسول اللہ ﷺ) سے زیادہ افضل ہیں ۔اس کے جواب میں ہم یہ عرض کرنا ضروری سمجھتے ہیں کہ اسلام ہی وہ واحد غیر مسیحی دین ہے جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی نبوت پر ایمان لانے کی دعوت دیتا ہے اور قرآن مجید میں جہاں آپ ﷺ کی افضلیت تمام قرآن مجید میں بیان کی گئی وہاں نبی کریم ﷺ کے تقریبا چالیس سے زائد اسمائے صفاتی ذکر کیے گئے ہیں۔ ذیل میں ہم اختصار کے ساتھ قرآن مجید میں مذکور نبی کریم ﷺ کے اسماء مبارکہ ذکر کریں گے ۔

1۔محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم (سب سے زیادہ لائق تعریف جس کی بار بار سب سے زیاد حمد کی جائے )
قرآن مجید میں پوری ایک سورت کا نام ’’سورۃ محمد‘‘ہے ۔قرآن مجید میں آپ ﷺ کا اسم مبارک ’’محمد‘‘ ﷺ چار بار سورۃال عمران ، الاحزاب ،الفتح اور سورۃمحمد ذکر ہوا ہے ۔
2۔احمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم
سورہ الصف میں حضرت سیدنا مسیح علیہ السلام کی اس بشارت کا ذکر ہے جس میں آپ ﷺ کو احمد فرمایا گیا ۔
3۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم(اللہ کے رسول )
سورہ احزاب میں نبی کریم ﷺ کو رسول اللہ فرمایا گیا ۔قرآن مجید کی دیگر آیات مقدسہ میں نبی کریمﷺکورسول،رسول كريم.الرسول،رسوله،رسولھم ،رسولکم ،رسولنا بھی فرمایا گیا ہے ۔
4۔النبی صلی اللہ علیہ والہ وسلم(نبی) ﴿الأحزاب: ٥٦﴾
5۔شاھد صلی اللہ علیہ والہ وسلم(مشاہدہ فرمانے والا) ﴿الفتح: ٨﴾
6۔مبشر صلی اللہ علیہ والہ وسلم(خوشخبری سنانے والے) ﴿الأحزاب: ٤٥﴾
7۔نذیر صلی اللہ علیہ والہ وسلم(ڈر سنانے والے) ﴿الفرقان: ٥٦﴾
8۔منذر صلی اللہ علیہ والہ وسلم(ڈرانے والے) ﴿النازعات: ٤٥﴾
9۔النجم صلی اللہ علیہ والہ وسلم(چمکتے ستارے) ﴿النجم: ١﴾
10۔صاحبکم صلی اللہ علیہ والہ وسلم(تمہیں اپنی صحبت سے نوازنے والے) ﴿النجم: ٢﴾
سورہ اعراف میں' صاحبہم 'بھی فرمایا گیا ہے ۔
11۔عبدہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم(اس کے بندہ کامل) ﴿الإسراء: ١﴾
12۔المزمل صلی اللہ علیہ والہ وسلم(کملی کی جھرمٹ والے) ﴿المزمل: ١﴾
13۔المدثر صلی اللہ علیہ والہ وسلم(چادر اوڑھنے والے ) ﴿المدثر: ١﴾
14۔عبد صلی اللہ علیہ والہ وسلم(عظیم الشان بندہ) ﴿العلق: ١٠-٩﴾
15۔البینۃ صلی اللہ علیہ والہ وسلم(روشن دلیل) ﴿البينة: ١﴾
16۔شہید صلی اللہ علیہ والہ وسلم(گواہی دینے والے ) ﴿النساء: ٤١﴾
17۔نور صلی اللہ علیہ والہ وسلم(عظیم الشان نور ) ﴿المائدة: ١٥﴾
18۔بشیر صلی اللہ علیہ والہ وسلم(خوشخبری سنانے والے ) ﴿البقرة: ١١٩﴾
19۔ولی صلی اللہ علیہ والہ وسلم(مددگار اور دوست) ﴿المائدة: ٥٥﴾
20۔نعمۃ اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم(اللہ کی نعمت ) ﴿آل‌عمران: ١٠٣﴾
21۔رؤف صلی اللہ علیہ والہ وسلم(نہایت شفیق ) ﴿التوبة: ١٢٨﴾
22۔رحیم صلی اللہ علیہ والہ وسلم(بے حد رحم فرمانے والے ) ﴿التوبة: ١٢٨﴾
23۔رجل صلی اللہ علیہ والہ وسلم(مرد کامل) ﴿يونس: ٢﴾
24۔المؤمن صلی اللہ علیہ والہ وسلم(ایمان لانے والے) ﴿يونس: ١٠٤﴾
25۔بریء صلی اللہ علیہ والہ وسلم(کافروں کے اعمال سے بیزار) ﴿الشعراء: ٢١٦﴾
26۔بشر صلی اللہ علیہ والہ وسلم(جن کی تخلیق اللہ رب العزت نے براہ راست اپنے دست قدرت سے فرمائی ) ﴿فصلت: ٦﴾
27۔طٰہٰ صلی اللہ علیہ والہ وسلم(طٰہٰ)﴿طه: ٢-١﴾
28۔یٰس صلی اللہ علیہ والہ وسلم(یٰسین) ﴿يس: ٣-١﴾
29۔سراج صلی اللہ علیہ والہ وسلم(آفتاب) ﴿الأحزاب: ٤٦-٤٥﴾
30۔منیر صلی اللہ علیہ والہ وسلم(روشن کرنے والے ) ﴿الأحزاب: ٤٦-٤٥﴾
31۔مخلص صلی اللہ علیہ والہ وسلم(اللہ کے خالص بندے) ﴿الزمر: ١١﴾
32۔نذیر مبین صلی اللہ علیہ والہ وسلم(صریح ڈر سنانے والے ) ﴿العنكبوت: ٥٠﴾
33۔النبی الامی صلی اللہ علیہ والہ وسلم(امی لقب نبی) ﴿الأعراف: ١٥٧﴾
34۔النذیر المبین صلی اللہ علیہ والہ وسلم(واضح اور صریح ڈرسنانے والے ) ﴿الحجر: ٨٩﴾
35۔نذیر للعالمین صلی اللہ علیہ والہ وسلم(تمام جہانوں کے لئے ڈر سنانے والے ) ﴿الفرقان: ١﴾
36۔اول المسلمین صلی اللہ علیہ والہ وسلم(سب سے پہلے مسلمان ) ﴿الأنعام: ١٦٣﴾
37۔اولیٰ بالمؤمنین صلی اللہ علیہ والہ وسلم(مؤمنین سے سب سے زیادہ قریب ) ﴿الأحزاب: ٦﴾
38۔خاتم النبیین صلی اللہ علیہ والہ وسلم(سلسلہ نبوت کو ختم فرمانے والے ) ﴿الأحزاب: ٤٠﴾
39۔داعی الی اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم(اللہ کی طرف دعوت دینے والے ) ﴿الأحزاب: ٤٥-٤٦﴾
40۔رحمۃ للعالمین صلی اللہ علیہ والہ وسلم(تمام جہانوں کے لئے رحمت) ﴿الأنبياء: ١٠٧﴾
41۔رسول مبین صلی اللہ علیہ والہ وسلم(واضح بیان فرمانے والے رسول ) ﴿الدخان: ١٣﴾
42۔حریص علیکم صلی اللہ علیہ والہ وسلم(تمہارے لیے (بھلائی وہدایت کے) بڑے طالب و آرزو مند) ﴿التوبة: ١٢٨﴾
۴۳۔مذکر صلی اللہ علیہ والہ وسلم(نصیحت ہی فرمانے والے)﴿الغاشية : ٢١﴾

ابن العربی نے شرح ترمذی میں ذکر کیا ہے کہ اللہ رب العزت کے ایک ہزار اسماء مبارکہ ہیں اور اس کے رسول ﷺ کے بھی ایک ہزار اسماء مبارکہ ہیں ۔( )ابن ملقن نے بھی یہی ذکر کیا ہے کہ ہمارے نبی مکرم ﷺ کے ایک ہزار اسماء ہیں اور ظاہر یہی ہے کہ ان میں سے اکثر صفات ہیں ۔()قاضی عیاض مالکی علیہ الرحمۃ نے نبی کریم ﷺ کے اسماء صفاتی پر ایک باب ذکر کیا ہے جس میں صحف سماویہ میں موجوداسماء مبارکہ بھی ذکر کیے ہیں جبکہ امام سخاوی نے وہ تمام اسماء جو قاضی عیاض ،ابن العربی،ابن سید الناس ،ابو الربیع بن سبع مغلطای،شرف بارزی،برہان حلبی اور دیگر علماء نے ذکر کیے ہیں حروف تہجی کی ترتیب پر اپنی کتاب القول البدیع میں جمع کیا ہے۔ ان اسماء کی تعداد 450 ہے۔( )حافظ ابن حجر عسقلانی نے ابن دحیہ کے حوالے سے ذکر کیا ہے کہ انہوں نے اپنی کتاب میں نبی کریم ﷺ کے 99 اسماء ذکر کیے ہیں اور آپ نے فرمایا ہے کہ اگر تم مزید تحقیق سے کام لوگے معلوم ہو گا کہ ان اسماء کی تعداد 300 سے زیادہ ہے ۔() حضرت مخدوم سید محمد ہاشم ٹھٹھوی سندھی نقشبندی نے ’’حدیقۃ الصفاء فی اسماء النبی المصطفیٰ ﷺ‘‘کے نام سے ایک خوبصورت رسالہ ترتیب دیا ہے ۔اس رسالہ میں آپ علیہ الرحمۃ نے نبی کریم محمد رسول اللہ ﷺ کے (1177) اسمائے گرامی ذکر فرمائے ہیں۔ اس کتاب میں آپ فرماتے ہیں :

’’شرح انموذج اللبیب‘‘ جو کہ شیخ عبد الرؤف مناوی کی تصنیف ہے ’میں امام ابن فارس کا رحمۃ اللہ علیہ کا قول منقول ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ کے دو ہزار بیس اسمائے گرامی ہیں۔لیکن ان اسماء کی تفصیل و تعیین کسی کتاب میں نہیں ملی۔پس اس بندہ ضعیف کو یہ داعیہ پیدا ہوا کہ رسول اللہ ﷺ کے اسمائے شریفہ کو ایک ہی لڑی میں پرو کر جمع کیا جائے تا کہ حضرت محمد ﷺ کے عشاق اس کو بطور ورد پڑھ سکیں ۔‘‘()حضرت علامہ محمد تاودی مالکی اپنے حاشیہ میں فرماتے ہیں :
و لابن دحیۃ تصنیف فیھا،قال عن بعضھم عدتھا تسعۃ و تسعون کاسماء اللہ تعالیٰ ،ثم قال: و لو بحث عنھا لبلغت ثلاثمائۃ و ذکر اماکنھا من القرآن و الاخبار و ضبطھا و شرح معانیھا و فی دلائل الخیرات للامام الجزولی نفعنا اللہ بہ انھا مائتان و واحد ۔۔۔و ذکر ابن فارس انھا الفان و عشرون و کثرۃ الاسماء تدل علی شرف المسمی()

ابن دحیہ کی اس موضﷺع پر ایک تصنیف ہے ۔اس میں انہوں نے بعض علماء سے یہ روایت کیا ہے کہ جس طرح اللہ تعالیٰ کے نناوے اسماء ہیں اسی طرح نبی کریم ﷺ کے بھی اسماء کی تعداد ہے ۔پھر فرمایا : اور اگر اس بارے میں تلاش کی جائے تو اس اسماء مبارکہ کی تعداد تین سو تک پہنچے گی ۔آپ نے قرآن مجید اور روایات میں ان کا ذکر کیا ہے ان کے معانی کی شرح کی ہے ۔ امام جزولی کی دلائل الخیرات (اللہ تعالیٰ ان کی کتاب سے نفع دے)میں ہے کہ آپ ﷺ کے اسماء دو سو ایک ہیں۔۔۔ابن فارس نے ذکر کیا ہے کہ یہ اسماء دو ہزار بیس ہیں اور آپ ﷺ کے اسماء کا کثیر ہونا آپ ﷺ کے شرف پر دلیل ہے ۔

خلاصہ و نتیجہ : اس تحقیق سے یہ بات ثابت ہوئی کہ مسیحی مستشرق ماریو جوزف کا یہ کہنا کہ نبی کریم ﷺ کا نام مبارک صرف پانچ بار قرآن مجید میں ذکر ہوا ہے اور آپ ﷺ کے اسماء کا قلیل ہونا اس بات کی دلیل ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام زیادہ افضل ہیں لہذا محمد رسو ل اللہ ﷺ پر ایمان نہ لایا جائے کسی طور پر بھی درست نہیں ۔اگر چہ کسی نبی کے اسماء کا قرآن مجید یا کسی الہامی کتاب میں ذکر نہ ہونا یا کم تعداد میں ذکر ہونا اس بات کے لیے ہر دلیل نہیں بن سکتی کہ ان کی نبوت کا انکار کیا جائے تا ہم یہ بات ذہن نشین رہے کہ قرآن و حدیث میں نبی کریم ﷺ کے اسماء مبارکہ کی کثیر تعداد ذکر ہوئی ہے جو یقینا آپ ﷺ کی افضلیت کی ایک دلیل ہے ۔
حواشی و حوالہ جات