ہم ہوئے کافر تو وہ کافر مسلماں ہوگیا - صغیر قمر

” میں اسد بول رہا ہوں ‘ ملاقات کرنا چاہتا ہوں ۔ “ میں نے بات کرنے والے کو نہیں پہچانا تھا۔ وہ تکلف کر رہا تھا۔ میں نے بھی کوئی خاص توجہ نہیں دی ۔” کل تشریف لائیں“۔ میں نے اسے دفتر کا ایڈریس سمجھایااور پھر بھول گیا۔ دوسرے دن اس کا فون آ گیا ۔ وہ معذرت کر رہاتھا ۔” میں دراصل اسلامی یونیورسٹی میں ” ایک میٹنگ کے لیے جا رہا ہوں ۔ آپ محسوس نہ کریں تو ایک دو روز بعد آجاﺅں گا ۔“ مجھے کیا اعتراض تھا ؟پھر کئی دن گزر گئے ۔

کل صبح بھی عام صبحوں جیسی تھی ۔ بعض لمحے انسان کو ماضی میں ایسے لے جاتے ہیں جیسے چپکے سے ویرانے میں بہار آئے ۔ ایک لمباتڑنگا شخص سامنے کھڑا تھا۔ لمبی ڈاڑھی ‘ سر پر پگڑی اور ” جنید جمشید کرتا “ شلوار ٹخنوں سے اوپر ‘چہرے پر سنجیدگی ” میں اسد ہوں “ وہ مسکرایا اور بے تاب گلے لگ گیا ۔” اسد راجہ “ میرے منہ سے بے اختیار نکلا ۔ ” جھوٹے “ نہیں یقین کریں میں اسد ہوں ۔“ ....”اسد تم اتنے بدل گئے ۔“میں نے حیرت سے اسے دیکھا ۔ یادوں کی طویل فلم ذہن میں گھوم گئی۔ یہ تیس برس ادھر کی بات ہے ۔ مجھے یاد آیا شدید گرمیوں کے دن آ لگے تھے۔ بی اے کے سالانہ امتحانات سرپر تھے۔ حمید ہاسٹل کوٹلی کی چھت تپ جاتی تو ہم کتابیں لے کر باہر نکل جاتے ۔ بارہا کالج کی خوب صورت مسجد میں جا بیٹھتے ۔ نماز کا وقت ہوتا توبہت سارے دوست اٹھ کر چلے جاتے اور ان سب کی قیادت اسد کرتا ۔یہ بات ہمارے لیے رنج کا باعث ہوتی ۔ یہی ہماری بحث و تکرار کا بنیادی سبب بھی ہوتا۔ ایک روز میں نے اسد سے الجھتے ہوئے کہا سارا دن تو مسجد میں لیٹے امتحان کی تیاری کر تے رہتے ہو اور اذان کے ہوتے ہی بھاگ جاتے ہو یا تو مسجد نہ جایا کرو یا نماز بھی پڑھ لیا کرو۔ زمانہ رواداری کا تھا۔ اسد راجہ نے ہنس کر بس اتنا کہا....”میرا دل نہیں کرتا ۔مجھے تنگ نہ کرو مولوی۔“

ہماری دوستی کئی برس پرانی تھی ۔میں نے اسے ایک دو مرتبہ عید کے موقعے پر مسجد کے باہر دیکھا تھا۔ خدا رسول ﷺ کا ذکر اس کے منہ سے کم ہی سنا تھا۔ ڈاڑھی کی وجہ سے وہ طنزاً ” مولوی “ کہتا تھا اور ذرا لمبی ڈاڑھی والا اسے نظر آتا تو ” ڈاڑھی میجر “ کا لقب عطا کرتا ۔ رمضان کے مہینے کی بے حرمتی کرنا ضروری سمجھتا تھا۔جون کا مہینہ تھا جب رمضان المبارک شروع ہو گیا لمبے ‘ تپتے دن ‘ بھوک پیاس کی شدت ‘ایسے میں روزہ رکھنا جوئے شیر لانے کے مترادف تو تھا ہی لیکن روزہ داروں کے سامنے کوئی فرد آم ٹھنڈے کر کے کھا رہا ہو‘ برف کی ڈلی پر روح افزا ڈال کر چاٹ رہا ہو‘چائے بنا کر پی رہا ہو ‘ تو طبیعت پر کیا گزرتی ہے؟ ایسے بے شمار لمحے اور واقعات آج بھی آنکھوں کے سامنے ہیں جب اسد راجہ سب کچھ پامال کر کے اسلامی شعائر کا مذاق اڑاتے نظر آتا ہے۔ جیسا وہ خوب صورت تھا‘ اس کا کردار اتنا ہی بد صورت تھا ۔اس کی زندگی میں کچھ خوبیاں بھی تھیں ۔ پڑھنے میں بہت محنتی تھا۔ہمیشہ اچھے نمبر لے کر پاس ہوتا ۔ چند استادوں کے علاوہ سب کا احترام کرتا تھا۔ والدین مدت سے برطانیہ میں مقیم تھے۔ پھر امریکہ چلے گئے ‘ پیسے کی کمی نہیں تھی خرچ میں بھی کبھی کنجوسی نہیں کی ۔ دوستوں پر جی بھر کر خرچ کرتا لیکن اسلام ‘مولوی ‘ مسجد ‘ نماز اس کی چڑ بن گئے تھے۔

ایک بار ان کے والد محترم پاکستان تشریف لائے تو بچے کی حالت دیکھنے ہاسٹل بھی آ گئے ۔ اس کا حلیہ اور نظریات انہیں پسند نہ آئے ۔ کہنے لگے اسد کو یہاں اس لیے چھوڑا تھا کہ وہ مسلمانوں کے درمیان رہ کر مسلمان رہے گا ۔ یہاں تو اس نے مسلمانوں کو کافر بنانا شروع کیا ہوا ہے ۔ پھر انہوں نے ہمیں ڈانٹا کہ تم نے اسد کو نماز روز ے سے دور کر دیا ۔ اگلے روز میں نے اسد کو اس بات کے لیے تیار کر لیا کہ کم از کم وہ ایک نماز تو پڑھے ۔ اذان فجر میں ابھی کافی وقت تھا کمرے میں کھڑکھڑاہٹ کی آواز سن کر میں ہڑ بڑا کر اٹھا تودیکھا اسد مغرب کی طرف پیٹھ اور مشرق کی طرف منہ کر کے نماز فجر ”ادا“کر رہا ہے۔میں نے لقمہ بھی دیا لیکن جیسے تیسے نماز ” پڑھ “کر فارغ ہوتے ہی بولا میں آئندہ ادھر ہی منہ کر کے نماز پڑھوں گا۔اگر منظور نہیں تو پھر میری توبہ ۔“ یہ توبہ اس نے بر قرار رکھی ۔ اپنی ہٹ کا پکا تھا ۔ کئی مرتبہ دوستوں کے اقارب کی وفات پر ساتھ گیا لیکن کبھی وضو کر کے نماز جنازہ نہیں پڑھی ۔ کہتا تھا بغیر وضو کے نماز ہو جاتی ہے ۔ ہمیں بھی اپنے مذہبی یا متقی ہونے کا کوئی گمان نہیں تھا ‘ لیکن دھقانی زندگی نے اسلام سے محبت اور اجداد کی روایات سے جوڑ رکھا تھا ۔اسد شاید یورپ و امریکہ کے سٹائل کا آدمی تھا۔ اسے اپنی روایات راس نہ آئیں اور وہ ” منگیتر “ بن کر برطانیہ چلا گیا ۔جہاں آزاد کشمیر کی زیادہ تر مخلوق ” منگیتر “ بن کر گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   کبھی اے نوجواں مسلم - سید مصعب غزنوی

”پہنچی وہاں پہ خاک ‘ جہاں کا خمیر تھا۔“ یہ سوچ کر اسے ہمیشہ کے لیے بھول گیا۔ یاد بھی رکھتا تو میرے کس کام کا؟ آج تین عشروں کے بعد اسے دیکھ کر سینے کے اندر ایک ہوک سی اٹھی ۔سارا منظر لمحوں میں آنکھوں کے سامنے آ گیا اور آنکھوں کے سامنے قطار در قطار موتی اترنے لگے۔ اس نے بے تابی سے پھر گلے لگا لیا اس کی آنکھیں برس رہی تھیں ۔”اسد تم اتنے بدل گئے ‘ تم مجھے مولوی کہتے تھے ‘خود ملاں بن گئے ۔“ ” میں بتاﺅں کیا ہوا ؟“ اس نے مسکرا کر پوچھا۔ ”تمہارا حلیہ نائن الیون نے بدلا ہوگا ؟“....” بالکل ایسا ہی ہوا۔ میں برطانیہ گیا تھا وہاں کزن سے شادی ہو گئی ۔ وہ بھی میری طرح طبع آزاد لے کرپیدا ہو ئی تھی ۔آزاد ماحول نے ہم دونوں کو بہت زیادہ آزادکر دیا ۔ وہ کیمبرج میں پڑھتی تھی میں نے بھی وہاں داخلہ لے لیا ۔ ایم بی اے کرنے کے بعد اپنا کاروبار شروع کیا ۔ برطانیہ کی شہریت مل گئی تھی ۔اس لیے کوئی پرابلم زندگی میں نہیں تھی۔ 1995ءمیں والدین کے ساتھ امریکہ منتقل ہو گیا ۔ وہاں میں نے موبائل فون کارڈ کا ایک نیٹ ورک خرید لیا ۔ میںنے سارا سرمایہ اس میں لگا دیا ۔ پچاس سے زائد افراد میری فرم میں کام کرتے تھے جن میں سے زیادہ تر امریکن ہیں ۔ میری فرم کا اکاﺅنٹس ڈائریکٹر ایک بوڑھا امریکن تھا ‘ وہ اسلام کا مطالعہ کر رہا تھا ۔ایک روز وہ میرے کمرے میں آ گیا ۔ اس نے مجھ سے اسلام کے بارے میں چند سوال کیے ۔

میں نے بھی بی اے تک اسلامیات پڑھی تھی ۔جو یاد تھا اسے بتا دیا ۔ باقی سوالوں کے جواب گول کر گیا۔ میری حیرت اس وقت بڑھی جب اس نے مجھ سے مطالبہ کیا کہ میں اسے قرآن پاک سکھا دوں ۔ آپ کو معلوم ہی ہے میں نے کبھی قرآن بھولے سے بھی نہیں پڑھا تھا۔ البتہ سورہ فاتحہ یاد تھی ۔ میں نے بہت غور کیا کہ یہ سورة میں نے کیوں یاد کی تھی تو یاد آیا ۔ لڑکپن میں مجھے گلہڑ نکل آیا تھا جس کے لیے میں بہت پریشان رہتا تھا ۔ ایک روز محلے کی خالہ زیتون نے مجھ سے کہا تم سو بار یہ سورة پڑھ کر اپنے ہاتھ پر پھونک کر گلے پر مل لیا کرو ۔ بوڑھے اکاﺅنٹنٹ سے میں نے کہا تم فی الحال یہ چار الفاظ یاد کرو ۔ الحمد اﷲ رب العالمین ۔ وہ پڑھتا رہا دھراتا رہا ۔ میں ہنستا رہا ۔ کچھ اپنی جہالت پر کچھ اس کی بے وقوفی پر ۔آخر اسے میں ہی مولوی کیوں ملا ؟ پندرہ منٹ کے بعد وہ اٹھا اور بولا ....”مسٹر اسد! میں عربی زبان نہیں جانتا لیکن مجھے یقین ہے جو تم نے کہا ‘ یہ اﷲ کے ہی لفظ ہو سکتے ہیں ۔“ یہ یقین تو مجھے بھی تھا لیکن اس کا اعتقاد بڑھ رہا تھا۔ وہ روز میرے پاس آتا ‘ پہلے تو مجھے فکر نہیں تھی اب پریشان ہونے لگا ۔ اس کی پیاس بڑھتی جا رہی تھی اور میری جہالت آشکار ہوئی جاتی تھی ۔ شرمندگی کے مارے ایک روز میں نے اس کی ” پیاس “ بجھانے کا فیصلہ کر لیا ۔میں نے ”پاکستانی“ حربہ استعمال کیا اور اسے خوب ڈانٹا ۔

یہ کوئی تبلیغی مرکز نہیں کہ تم مذہب سیکھ رہے ہو۔ جس کے بعد وہ میری کمپنی سے فارغ ہو کر پتہ نہیں کہاں چلا گیا ۔ میں مطمئن تھا کہ اب مجھ سے اسلام کے بارے میں کوئی نہیں پوچھے گا ۔ کچھ ہی عرصے بعد میں امریکن شہری ہو گیا اور پھر اسلام سے مزید دور ۔ نائن الیون کا واقعہ ہوا تو میں ڈر گیا۔ میں نے اپنے اکاﺅنٹنٹ کو ”الحمدﷲ “سکھائی تھی‘ اب میرے گلے پڑنے والی تھی ۔ یہ سوچ کر ہی میرا خون خشک ہونے لگا ۔ منظر بدلنے لگا ۔ امریکہ میں وہ دن میرے لیے عجیب تھے میرا اپنا دفتر تھا ‘ سرمایہ میرا لگا تھا ۔میں بھی امریکن شہری تھا ‘ لیکن میرا عملہ جیسے مجھے کاٹنے کو دوڑتا تھا ۔ ہر امریکی کے منہ پر ایک ہی لفظ تھا ”مسلمان دہشت گرد “ہیں ۔ زندگی کا ایک بڑا حصہ ان کے درمیان گزرا تھا۔ ان کے رسم و رواج ‘ رہن سہن ‘ کھانا پینا ‘ بلکہ ان سے زیادہ پینا ‘سب اپنایا تھا لیکن وہ ہمیں قبول نہیں کرتے تھے۔ میں نے واپس برطانیہ جانے کا فیصلہ کیا ۔وہاں جا کر دیکھا تو یہاں بھی زندگی کے رنگ بدل گئے تھے۔ مجھے درو دیوار اجنبی لگنے لگے ۔ جہاں جاتا ایک ہی سوال سامنے ہوتا اسلام کیا ہے ؟ اسلام دہشت گردی کو فروغ دیتا ہے ؟ جو مجھے جانتے تھے وہ سب سے زیادہ اجنبی نکلے ۔ ان کی زندگی کا ہر پہلو میں نے دیکھا تھا ۔اس معاملے میں میرے اندر کی حیرت ختم نہیں ہوتی تھی ۔ کیا مسلمان واقعی دہشت گرد ہیں؟میرے پاس جواب نہیں تھا۔

یہ بھی پڑھیں:   22 ۔ جولائی کی عمران، ٹرمپ ملاقات - نصرت جاوید

ادھر سے مسلسل گولے داغے جا رہے تھے اور میں نہتا تھا۔ تب مجھے اپنا گھریاد آیا ۔ خالہ زیتون یاد آئی۔ مولانا فضل حسین یاد آئے ‘ حمید ہاسٹل کوٹلی کے دوست یاد آئے‘ اسلامیات کے پروفیسر باغ حسین یاد آئے ۔ عربی والے پروفیسر شریف راجوروی یاد آئے ‘ پھر تیلے ہر دلعزیز پرنسپل اکرم طاہر یاد آئے ۔میں نے اپنے بخت کو کوسا۔ بد نصیبی پر رویا ۔میں بھی کیا مسلمان ہوں ؟ جسے اسلام کے بارے میں معلوم نہیں ۔میں علم کے سمندروں میں رہا لیکن ایک قطرہ بھی میرے نصیب میں نہ تھا ۔میری پہنچ میں سب کچھ تھا میں نے توجہ ہی نہیں دی ۔ سید ابو الاعلیٰ مودودیؒ کا لٹریچر میں تکیے کے طو رپر استعمال کرتا رہا ۔ میری آنکھوں نے ورق الٹ کر نہ دیکھے‘ میرا دماغ یورپ اور امریکہ کی چکا چوند کی طرف مائل رہا۔ میں نے ساری کیفیت اپنی بیوی کو بتائی اس نے مجھے حیرت زدہ کر دیا ۔کہنے لگی میں خود پریشان ہوں ‘ مجھے بھی ان ہی سوالوں کا سامنا ہے ۔ہم دونوں نے مل کر فیصلہ کیا ہمارا ضمیر زندہ ہو چکا تھا۔ ہم نے جامعہ الازھر کا رخ کیا وہاں بہت کچھ سیکھا اور اب میں پوری طرح مسلح ہوں ۔ میں اسلام کے خلاف اٹھنے والے طوفان کے سامنے کھڑا ہونے کو تیار ہوں ۔ میرا پورا خاندان بھی علم کے اسلحے سے مسلح ہے ۔ ہم نے عربی زبان سیکھی ۔ قرآن ترجمے کے ساتھ پڑھا ‘ تفسیر پڑھی کبائر سے اجتناب کیا ‘ اﷲ اور اس کے رسول ﷺؓ کی غلامی کا عہد کیا ۔وہ رکا اور بولا۔
امریکہ میں اس وقت سات ملین مسلمان ہیں۔سب کو اس سوال کا سامنا ہے ۔نائن الیون سے پہلے ایک سروے کے مطابق امریکا میں پچاس ہزار مسلمان روزانہ مسجد جاتے تھے۔

نائن الیون کے بعد تین ملین مساجد کا رخ کر رہے ہیں ۔ یہ اضافہ چار سو فیصد ہے۔ ان میں اکثریت نو مسلموں کی ہے۔ نائن الیون کے بعد امریکہ میں چار ہزارسو نو مساجد کا اضافہ ہوا ۔ اسی واقعے کے فوراً بعد چونتیس ہزار لوگوں نے ایک وقت میں اسلام قبول کیا ۔جب کہ بائیس ہزار امریکن ہر سال اسلام کی آغوش میں آ رہے ہیں ۔1990ءمیں دو ہزار پانچ سو مسلمان امریکن آرمی میں تھے ۔نائن الیون کے بعد یہ تعداد پندرہ ہزارسے تجاوز کر چکی ہے ۔ اس میں زیادہ وہ ہیں جو مسلمان ممالک میں تعیناتی کے دوران مسلمان ہوئے ۔“ اسد بتا رہا تھا‘ اس کے باریش چہر ے پر اطمینان کے زاویے بن رہے تھے ۔ میری نظروں کے سامنے تیس برس پہلے والا اسد تھا جو قبلے کی طرف پیٹھ کر کے نماز پڑھنے پر بضد تھا ‘ حالات کے جبر نے اس کا قبلہ درست کر دیا ۔ اب اس کی سمت درست ہے ۔ لیکن حیرت اس بات پر ہے کہ اسد جیسے نوجوان تو روشن خیالی سے تنگ آ کر بنیاد پرست بن رہے ہیں اور ہم ہیں کہ روشن خیال بننے کے لیے بے تاب ۔ اسد واپس چلا گیا ہے اپنی لمبی ڈاڑھی اور ارفع عزم کے ساتھ ۔ وہ امریکہ میں رہے گا اسی بنیاد پرستی کے ساتھ ، اس لیے کہ اب وہ اسلام کے بنیادی علم کے ساتھ وہاں گیا ۔ اسے دنیا کی کون سی طاقت ایسا کرنے سے روک سکتی ہے ؟ اسد کو ایئر پورٹ پر چھوڑنے گیا تو اس نے گلے ملتے ہوئے کہا مولوی تم نے مجھے کیوں نہیں کہا ‘
” ہم ہوئے کا فر وہ کافر مسلماں ہوگیا“ میرے پاس جواب نہ تھا۔