کیا مذہب سائنسی ترقی میں رکاوٹ ؟ - عبد الغنی محمدی

ہمارے معاشروں یعنی اسلامی دنیا کے ممالک میں سائنس ، فلسفہ اور علوم عقلیہ کے ترقی نہ کرنے کی وجوہات اور اسباب پر جب کبھی بات کی جائے تو اس کے جواب میں ایک چیز بہت کامن ملتی ہے کہ مذہب ، مذہبی طبقہ اور ایسی ذہنیت ہمارے معاشروں میں ان علوم کو پھلنے پھولنے نہیں دیتی ہے ۔ سائنس اور فلسفہ جن اداروں میں پڑھایاجاتاہے اور جو لوگ اس کو پڑھاتے ہیں ان کو اپنی ساری کمیوں کا مداوا اس آسان جواب میں مل جاتاہے اس لئے آسان حل جانتے ہوئے حقیقت پسندانہ تجزیہ کرنے کی بجائے اس آسان جواب میں ہی امان تلاش کی جاتی ہے ، لیکن کیا حقیقت میں بھی ایسا ہے ؟

ہمارے تعلیمی اداروں میں سائنس ، ٹیکنالوجی اور علوم عقلیہ پر قوم کی خطیر رقم کی لاگت کے باوجود دیگر ترقی یافتہ ممالک کے مقابلے میں ان علوم کی حالت کیا ہے ؟ اس کا تقابل اگر سامنے لایا جائے تو خاصی شرمناک صورتحال سامنے آئے گی ۔ ان تعلیمی اداروں میں کونسا مولوی اور کونسی مذہبی سوچ سائنس کو پروان نہیں چڑھنے دیتی ؟ ان اداروں کے طلباء کو سائنس و فلسفہ کے میدان میں باقی دنیا سے کونسا مولوی پیچھے رکھے ہوئے ہے ؟ ان کی قابلیتوں اور صلاحیتوں کو کند کرنے والے اساتذہ پر اگر الزام جرم بھی نہ آئے بلکہ ان کی جگہ مذہب کو آسا ن ہدف بناکر بات دبادی جائے تو ان علوم کے پروان چڑھنے کی سوچ خواب اور سراب ہی ہوسکتی ہے ۔ اگر مولوی اور مذہب کی سوچ سائنس وفلسفہ کی فیلڈ میں بھی اثر دکھاتی ہے تو حقیقت یہ ہے کہ یہ سائنس و فلسفہ نہیں ہے بلکہ اس کے نام پر کچھ اور ہی پڑھایاجارہا ہے ۔ سائنس و فلسفہ نے تو عہد وسطیٰ میں عیسائی علماء کو تمام تر طاقت ، قوت اور اقتدار کے باوجود از سر نو سوچنے اور بہت سےمعاملات میں اپنی رائے بدلنے پر مجبور کردیا تھا بلکہ شکست سے دو چار کردیا تھا ۔ کیا وجہ ہے کہ آج نہ تو مذہبی لوگوں کی حکومت ہے اور نہ ہی ان کے پاس کوئی اقتدار اور اختیار ہے اس کے باوجود سائنس و فلسفہ ہمارے معاشروں میں مذہبی طاقت کی اثر انگیزی کا شکار ہو کر شکست سے دو چارہے ؟ ہمارے معاشروں میں کوئی ایسا سائنسدا ن یا فلسفی گزرا ہے جس نے کوئی ایجاد ، تھیوری ، کوئی تجربہ اور مشاہدہ پیش کیا ہو اور مذہبی لوگوں نے اس پر پابندی عائد کرنے کا مطالبہ کیا ہو ؟

یہ بھی پڑھیں:   آئی ایم ایف کے قرضوں کا بڑھتا بوجھ ۔ شبیر بونیری

حقیقت تو یہ ہے کہ کسی مقصد کو سامنے رکھ کر افراد سازی کی بجائے کلرک اور تلاش معاش میں سرگرداں افراد پیدا کرنے والی بانجھ یونیورسٹیوں سے تخلیقی صلاحیت کی بجائے جامد اور مقلد ذہنیت کے فضلاء تیار ہوتے ہیں جن کی آخری پناہ گاہ تقلید مغرب ہوتی ہے اس سے آگے ان کو کچھ سجھائی نہیں دیتاہے ۔ اگر سائنس کوئی نئی چیز ایجاد کرتی ہے ، تجربہ اور مشاہد ہ کی بنیاد پر کوئی تھیوری پیش کرتی ہے تو مذہبی لوگ اس کا لاکھ انکار کرتے رہیں بالآخر اس کو ماننا ہر کسی کی مجبوری بن جاتی ہے ، اس کو مانے بغیر چارہ نہیں ہوتاہے ۔ عہد وسطیٰ کے عیسائی معاشروں میں تمام تر مذہبی جبر کے باوجود ایسا ہی نظر آتاہے ۔ اس لئے آج بھی کوئی ایسی چیز پیش کی جائے تو لوگ اس کو ماننے پر مجبور ہوجائیں گے ۔ مذہبی سوچ و فکر اس کے سامنے شکست کھانے پر مجبور ہوجائے گی لیکن ہمارے ہاں ایسا نہیں ہے ۔ بجائے کوئی چیز ایجاد کرنے ، کوئی نیا نظریہ پیش کرنے ، کوئی نئی تھیوری لانے کے ، صرف مغرب کے افکار و نظریات کو ہی سائنس و فلسفہ کی صورت میں ہضم کروانے کی کوشش کی گئی اور کی جارہی ہے حالانکہ سائنس و ٹیکنالوجی کی فیلڈ کچھ نیا کر دکھانے کا نام ہے اور اس میں کچھ نیا مغربی افکار میں لت پت سائنس و فلسفہ سے ہٹ کر بھی ہوسکتاہے یا ان کی تقلید ضروری ہے ؟ ہمارے سائنسدان و فلاسفہ اس میدان میں ہتھیار ڈالے دکھائی دیتے ہیں کہ ان سے ہٹ کر کچھ نئے کی سوچ محال ہے ۔

عہد وسطیٰ کے عیسائی معاشروں میں سائنس اور ٹیکنالوجی کو جس طرح مذہبی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑا ، موجودہ مسلم معاشروں کا مطالعہ کیاجائے تو کہیں بھی وہ والی صورتحال نظر نہیں آتی ہے لیکن اگر بالفرض ایسا ہو بھی تو عہدوسطیٰ کے عیسائی سائنسدانوں نے سائنس و فلسفہ میں اپنی صلاحیتوں کو صرف کرتے ہوئے عملی طور پر کچھ کرکے دکھایا ۔ سائنس و ٹیکنالوجی کی راہ میں ان کو قربانی بھی دینی پڑی انہوں نے اس سے دریغ نہیں کیا لیکن اپنی جدو جہد کی افادیت کو معاشرے میں ثابت کیا ۔ ہمارے سائنسدانوں اور فلاسفہ کو بھی اپنی فیلڈ کی عملی طور پر افادیت ثابت کرنی چاہیے چاہے ان کو قربانی دینی پڑے ۔ لیکن کسی فلسفی و سائنسدا ن کی اس راہ میں کوئی قربانی ہمیں دکھائی نہیں دیتی ہے ۔ بلکہ سائنس و فلسفہ کی فیلڈ میں بھی مذہبی پیشواؤ ں کی مانند نسل نو کو چند مغربی افکار تھما کر معاشرے میں مزاحمت کی راہ میں جھونکا جاتاہے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ لبرلز و ملا کی اس تمام لڑائی میں قوم کا عملی مفاد کچھ نہیں ہے ۔ اس لئے ان میں سے ہر دو سے یہ مطالبہ ہونا چاہیے کہ معاشرے کی بھلائی اور عملی فائدے کے لئے اگر کچھ کر دکھاؤ تو ہم تمہارے ساتھ ہیں ورنہ تمہاری لڑائی میں سائیڈ پر کھڑے تماشائی سے بڑھ کر کوئی کردار اداء کرنے کو تیار نہیں ۔