دس رمضان کا عظیم واقعہ - رضوان اللہ خان

مسلمان مضبوط ہوچکے تھے۔۔۔ اور اس مضبوطی کی وجہ۔۔۔ اپنے اصولوں سے پیچھے نہ ہٹنا تھا۔۔۔ وہ کافروں کے دباؤ میں نہ آتے تھے۔۔۔ ہجرت سے پہلے کی مشقت۔۔۔ اور ہجرت کے بعد کی جہادی تیاری نے۔۔۔ جرنیلِ امت جناب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو۔۔۔ دس ہزار مضبوط ایمان والے مجاہد عطاء کردئیے تھے۔۔۔

اب کفار اپنا معاہدہ توڑ چکے تھے۔۔۔ اور وہ اس زعم میں تھے۔۔۔ بھلا مسلمانوں کی اتنی جرآت کہاں۔۔۔ کہ وہ ہم سے سوال بھی کرسکیں۔۔۔ لیکن مسلمانوں کا نبی غیرت مند تھا۔۔۔ آقا صلی اللہ علیہ وسلم کے مجاہد ''جانثار'' تھے۔۔۔ اعلان ہوا۔۔۔ چلو آج ایک معرکے کے لیے نکلتے ہیں۔۔۔ دل میں تھا۔۔۔ اب اہل مکہ کو ایمان کی قوت دکھاتے ہیں۔۔۔ چلو اپنے جھنڈے سنبھالو۔۔۔ آج کفار دبک کر اپنے بلوں میں چھپ جائیں گے۔۔۔ وہ ایمان والوں کے لشکر کا مقابلہ نہ کر پائیں گے۔۔۔
دس ہزار کا لشکر۔۔۔ اپنے بہادر اور غیرت مند جرنیل صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے چل پڑا۔۔۔ سرفروشی سب کا ایمان تھا۔۔۔ جان وارنا سب کی خواہش۔۔۔ خون میں نہانا ہر ایک کی تمنا۔۔۔ ادھر دنیا کے سب سے بہادر جرنیل نے آج مکہ لینے کا ارادہ کیا۔۔۔ سچے یقین نے عجیب نتیجہ دکھایا۔۔۔ کفار جانتے تھے۔۔۔ جو جرنیل آرہا ہے۔۔۔ یہ کوئی عام شخصیت نہیں۔۔۔ ان کا ایک نام نبی السیف (تلوار والے نبی) ہے۔۔۔ ایک نام ذوالجہاد ﷺ(جہادی نبی) ہے۔۔۔ایک نام صَاحِبُ الجہاد ﷺ(جہاد والے نبی) ہے۔۔۔۔ایک نام المجاہد ﷺ(مجاہد نبی)۔۔۔ایک نام المقاتل فی سبیل اﷲ ( اﷲ تعالیٰ کے راستے میں قتال فرمانے والے نبی)۔۔۔ایک نام نبی الملاحم (گھمسان کی جنگ لڑنے والے نبی) ہے۔۔۔یہ سب جاننے والے۔۔۔ لشکر کی خبر۔۔۔ لشکر کے پڑاؤ کی خبر۔۔۔ جلتے ہوئے الاؤ کی خبر سنتے ہی۔۔۔ پناہ گاہوں کی تلاش میں نکلے۔۔۔ اہل مکہ نے ہتھیار پھینک دئیے۔۔۔ (Surrender) ہوگئے۔۔۔ مجاہدوں کا ایسا رعب تھا کہ۔۔۔ بنا جنگ کے مکہ فتح ہوچکا تھا۔۔۔ صرف ایک جگہ۔۔۔ عکرمہ بن ابی جہل نے حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کی ٹولی پر حملہ کیا۔۔۔ جواب میں اپنے بارہ لشکری مروا بیٹھے۔۔۔

ادھر جرنیل ِ امت امام المجاہدین جناب محمد صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں داخل ہوئے۔۔۔ آپ کعبہ کے پاس تشریف لائے۔۔۔ طواف کیا۔۔۔ دورانِ طواف کعبہ کے گرد موجود بتوں کو۔۔۔ اپنے تیر سے گراتے جاتے اور فرماتے: جَاءَ الْحَقُّ وَزَهَقَ الْبَاطِلُ إِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوقًا : حق آن پہنچا اور باطل مٹ گیا اور یقیناً باطل ایسی ہی چیز ہے جو مٹنے والی ہے۔۔۔

تو کبھی پڑھتے: وجَاءَ الْحَقُّ وَمَا يُبْدِئُ الْبَاطِلُ وَمَا يُعِيدُ : حق آچکا ہے اور باطل میں نہ کچھ شروع کرنے کا دم ہے، نہ دوبارہ کرنے کا۔۔۔
فتح کے بعد۔۔۔ جبکہ جرنیل مکہ ہی میں موجود تھے۔۔۔ کسی نے خبر دی۔۔۔ آقا صلی اللہ علیہ وسلم۔۔۔ ایک گستاخ جو آپ کی شان میں گستاخی کیا کرتا تھا۔۔۔ اس نے دو لونڈیاں بھی اس مقصد سے رکھی تھیں۔۔۔ کہ یہ سب مل کر۔۔۔ آپ کی شان میں گستاخانہ اشعار پڑھتے ہیں۔۔۔ لیکن آج وہ معافی اور بچ جانے کی غرض سے۔۔۔ کعبہ کے غلاف میں لپٹا ہوا ہے۔۔۔ فرمائیے کیا حکم ہے؟؟؟ جواب ملا: ان کی سزا قتل ہے۔۔۔
تب اس گستاخ کو۔۔۔ غلافِ کعبہ سے نکالا گیا۔۔۔ اور پھر باندھ دیا گیا۔۔۔ یہ مقام مسجد حرام میں مقامِ ابراہیم اور زم زم کے درمیان تھا۔۔۔ یہیں پر اس کی گردن اڑا دی گئی۔۔۔ (بخاری)
اب جب کہ مکہ فتح ہوچکا تھا۔۔۔ مسلمان اپنا کنٹرول سنبھال چکے تھے۔۔۔ تو ایک بڑی تعداد نے امن کے ساتھ اسلام قبول کرلیا۔۔۔ ان میں بڑے سردار بھی شامل تھے۔۔۔ سرفہرست: حضرت ابوسفیان سمیت۔۔۔ ان کی بیوی ہندہ۔۔۔ عکرمہ بن ابو جہل۔۔۔ سہیل بن عمرو۔۔۔ صفوان بن امیہ اور۔۔۔ حضرت ابوبکر صدیق کے والد ابو قحافہ تھے۔۔۔ رضی اللہ عنھم اجمعین۔۔۔
یہ سفر دس رمضان کی بابرکت ساعتوں میں شروع ہوا تھا۔۔۔ عظیم سفر کی عظیم برکات تھیں۔۔۔ بتا دیا گیا۔۔۔ اخلاق اور تلوار دو الگ چیزیں نہیں ہیں۔۔۔ بلکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ہر عمل اعلی اخلاق ہے۔۔۔ یہی وجہ ہے کہ محض اخلاق نہیں۔۔۔ بلکہ بااخلاق تلوار نے اسلام کے پھیلاؤ میں۔۔۔ اپنا بھرپور کردار ادا کیا۔۔۔