کامیابی کا فارمولا - محمد عارف خلجی

برازیل کا مشہور ادیب پاولو کوہلو اب تک اپنے کتابوں کی سو ملین کاپیاں فروخت کرچکا ہے۔ اس کی ہر کتاب لاکھوں کی تعداد میں فروخت ہوتی ہے مگر کیا آپ جانتے ہیں کہ جب اس نے اپنے والدین سے قلم کا ر بننے کی خواہش کا اظہار کیا تھا تو ان کا ردعمل کیا تھا؟ وہ اسے پاگل خانے میں داخل کرنے کا سوچ رہے تھے کیونکہ ان کا خیال تھا کہ پاولو حقیقت میں پاگل ہوچکا ہے۔

اس کی ابتدائی دو کتابیں زیادہ معروف نہیں ہوئیں مگر اس کی تیسری کتاب ”الکیمسٹ“ نے اسے بے تحاشا دولت سے مالا مال کردیا۔ اس کا نام پوری دنیا میں ایک بہترین لکھاری کے طور پر مشہور ہوا۔ الکیمسٹ کی 60 ملین کاپیاں فروخت ہوئی اور اس کتاب کو 71 زبانوں میں ترجمہ ہونے کا شرف بھی حاصل ہوا۔
عجیب بات یہ ہے کہ پاولو اپنے والدین کی ہٹ دھرمی کی وجہ سے جوانی میں اپنے شوق کی تکمیل نہ کرسکا مگر اپنے شوق کے ہاتھوں مجبور ہوکر اس نے ادھیڑ عمر میں بطور ناول نگار اپنے کیرئیر کا آغاز کردیا اور اپنے بہترین کتابوں سے دنیائے ادب میں نام کمایا۔ اگر آپ کو عالمی مزاحیہ ادب سے دلچسپی ہے تو آپ نے سٹیفن لی کاک کا نام ضرو ر سنا ہوگا۔ سٹیفن کا شمار کینیڈا کے چوٹی کے مزاح نگاروں میں ہوتا ہے۔ اس کی قابلیت اور صلاحیتوں کا اصل میدان سیاست اور معاشیات تھا۔ مگر وہ لکھنے کے فن سے بھی وابستہ رہا۔ اس نے مختلف میگزینز کے لیے کہانیاں لکھنے کا آغاز کیا۔ وہ ایک فطری مزاح نگار تھا۔ مزاح کی دنیا میں اس نے ایک منفرد مقام حاصل کیا۔ چناچہ آج بھی کینیڈا میں ہر سال اُس کے نام پر ”سٹیفن لی کاک “ ایوارڈ بہترین مزاح نگاروں کو دیا جاتا ہے ۔ عجیب بات ہے کہ اس کی عملی زندگی تلخیوں ، دکھوں ، پریشانیوں اور مصیبتوں کا مجموعہ تھی ۔ اس نے ایک نہایت دولت مند عورت سے شادی کی۔ شادی کے 15 سال بعد اس کے ہاں ایک بچہ پیدا ہوا اور وہ بھی معذور ۔

10 سال بعد اس کی بیوی بھی مرگئی لیکن پھر بھی سٹیفن کے حس مزاح میں فرق نہ آیا ۔ وہ اپنی شگفتہ تحریروں سے ہزاروں لوگوں کے لبوں پر قہقہے بکھیرتا رہا ۔ پلٹزر پرائز کا شمار نوبل پرائزکے بعد چند بہترین ایوارڈوں میں شمار ہوتا ہے مگر کیا آپ جانتے ہیں کہ خود جوزف پلٹزر کیسے اس مقام تک پہنچا کہ اس کے نام پر لوگوں کو مستقبل میں انعامات سے نوازا جاسکیں۔ 1880ء میں جب جوزف ہنگری میں تھا تو اس نے سپاہی بننے کا فیصلہ کیا لیکن اس کی بصارت اتنی کمزور تھی کہ کوئی بھی اسے فوج میں بھرتی نہیں کرتا تھا ۔ آخرکار امریکا کے ایک شخص نے اُسے امریکا خانہ جنگی میں حصہ لینے کے لیے بھرتی کرلیا ۔ وہ ایک سال تک بطور سپاہی لڑتا رہا ۔ اس کے بعد اس نے انگریزی سیکھنے کی طرف توجہ دی۔ پھر اچانک ایک اتفاقی واقعے نے اس کی زندگی کے ساتھ ساتھ صحافت کی دنیا کو بھی بدل کر رکھ دیا ۔ جب وہ سینٹ لوئس لائبریری میں مطالعہ میں مشغول تھا تو اُس نے دو آدمیوں کو دیکھا جو شطرنج کھیل رہے تھے ۔ اُس نے ان میں سے ایک کو شطرنج کا ایک بہترین چال چلنے کا مشورہ دیا۔ دونوں آدمی اخبارات کے پبلشر تھے۔ انہوں نے جوزف کو ایک نوکری کی پیشکش کردی ۔پلٹزر ایک بہترین رپورٹر ثابت ہوا ۔ کچھ سالوں بعد وہ خود اخبار کا پبلشر بنا۔ آگے چل کر وہ شہر کے سب سے بڑے اخبار کا مالک بنا ، جس کا نام تھا ،”سینٹ لوئس پوسٹ ڈسپیچ ۔“اُ س نے اپنے اخبار کو عوام کی آواز بنایا۔ رشوت خوروں، ٹیکس چوروںاور کرپٹ سیاسی عناصر کا پردہ پاش کیا ۔

لوگوں کو صحافت کا یہ رنگ بے حد پسند آیا اور اخبارات کی سرکولیش بلند ترین سطح تک پہنچ گئی۔ آپ بھی اپنے اندر کی مخفی صلاحیت کا کھوج لگائیں ۔ شاید آپ کے اندر پاولو کوہلو جیسا ادیب ، سٹیفن لی کاک جیسا مزاح نگار یا پھر جوزف پلٹزر جیسا صحافی چھپا ہو۔ ابتدا میں کئی مشہور ادیبوں کو بھی ناکامی کا سامنا ہوا۔ ان کی تحریروں کو بار بار ردی کی ٹھوکری کی نظر کیا گیا ۔ اگر وہ اپنی ناکامیوں سے گھبرا کر پیچھے ہٹتے تو شاید آج دنیا اُن کے ناموں سے بھی ناواقف ہوتی۔ سٹیفن کنگ بھی ابتدا میں ناکامی سے دوچار ہوا مگر آج اس کی کتابیں دنیا کی سب سے زیادہ فروخت ہونے والی اور سب سے زیادہ پڑھی جانے والی کتابوں میں شمار ہوتی ہے۔ جیک لنڈن بھی شروع میں مایوس کن حالات سے دوچار ہوا۔ ہیر ی پوٹر کی مصنفہ جے۔کے۔رالنگ بھی انہی حالات سے گزری۔ مگر ان کی مستقل مزاجی، شوق ، لگن اور جذبے نے بالآخر ان کو کامیابی سے ہمکنار کردیا ۔کامیابی کا سب سے آسان فارمولا بھی یہی ہے کہ آپ منفی سوچ کو اپنے پاس نہ پھٹکنے دیں ۔ مستقل مزاجی ، ہمت اور جذبے سے اپنا کام جاری رکھئے ۔ لوگوں کی باتوں اور معاشرے کے تنقیدی رویوں کی پرواہ مت کریں بلکہ اپنے شوق کی تکمیل کے لیے دن رات محنت کریں ۔ اللہ تعالیٰ آپ کی محنت کو ہرگز ضائع نہیں ہونے دے گا۔ آخری اہم بات یہ ہے کہ اپنی سوچ بدلئے ۔ دیکھئے! ایڈیسن بلب بنانے میں ہزار مرتبہ ناکام ہوا مگر اس نے پھر بھی عجیب بات کہی،”میں یہ نہیں کہوں گاکہ میں ایک ہزار مرتبہ ناکام ہوا بلکہ میں یہ کہوں گا کہ مجھے ایک ہزار ایسے طریقے معلوم ہیں جو انسان کو ناکامی سے دوچار کردیتی ہے“۔