چیئرمین نیب سے ایک شکایت اور گزارش- ڈاکٹر محمد اجمل نیازی

ایک اہم آدمی سابق صوبائی وزیر علیم خان کو نیب نے صرف ایک مفروضے پر گرفتار کیا تھا۔ آج عدالت نے انہیں ضمانت پر رہا کر دیا۔ ضمانت پر رہائی بھی رہائی کی طرف پہلا قدم ہوتا ہے۔ ہم انہیں مبارکباد پیش کرتے ہیں۔
سرگودھا یونیورسٹی کے ایک نیک نام وائس چانسلر کے خلاف نیب نے اختیارات کے ناجائز استعمال کا مقدمہ بنایا۔ انہیں گرفتار کر لیا گیا۔ اس سے پہلے پنجاب یونیورسٹی کے نامور وائس چانسلر ڈاکٹر پروفیسر مجاہد کامران کو اختیارات کے ناجائز استعمال کے لیے گرفتار کیا گیا۔ ایک معزز اور بڑے پروفیسر کی گرفتاری قابلِ مذمت ہے۔ تب ملک کے اہم ترین حلقوں کی طرف سے مذمت کی گئی۔ یہ اساتذہ کے خلاف ایک سازش ہے۔ ان معاملات کی پریس وغیرہ میں تشہیر کرنا بھی مزید قابل مذمت ہے۔ اس کا کیا تاثر دنیا والوں کے سامنے پاکستان کے لیے جائے گا۔

پنجاب یونیورسٹی کے وائس چانسلر بالعموم بہتر لوگ ہوتے ہیں۔ سب سے بڑی مثال پروفیسر حمید احمد خان ہیں۔ پنجاب یونیورسٹی کے موجودہ وائس چانسلر پروفیسر نیاز احمد ایک مرتبے کے آدمی ہیں۔ انہوں نے یونیورسٹی میں بڑی اصلاحات کیں۔ تعمیری اور تعلیمی ترقی کے لیے ان کی خدمات یاد رکھی جائیں گی۔ پنجاب یونیورسٹی کے وائس چانسلر کے بعد سرگودھا یونیورسٹی کے وائس چانسلر کے خلاف نیب کی کارروائی ایک نامناسب اقدام ہے۔ ایک آمر جنرل مشرف نے سیاسی لوگوں کے خلاف کارروائیوں کو بڑھانے کے لیے نیب بنائی ۔ نیب والوں نے پھر غیرسیاسی لوگوں کو بھی اپنے شکار میں شامل کر لیا۔ اس کے بعد عام لوگوں کو بھی اپنا ہدف بنا لیا گیا۔

ڈاکٹر پروفیسر اکرم چودھری ستارۂ امتیاز ہیں۔ نامور محقق ایک محترم استاد کئی کتابوں کے مصنف ہیں۔ انہیں خادم قران بھی کہتے ہیں۔ انہیں گرفتار کر کے جیل میں نیب والوں نے ڈال دیا۔ میرے بیٹے کو نیب والوں نے جیل میں ڈال دیا۔ گھر میں میری موجودگی کے باوجود دندناتے ہوئے گھر میں گھس آئے۔ میری بیوی ، بہو ، بیٹی دہشت زدہ ہو گئیں۔ ستارۂ امتیاز مجھے بھی ملا ہوا ہے۔ کئی کتابوں کا مصنف میں بھی ہوں۔ ایک استاد بھی ہوں۔

روزانہ کالم لکھتا ہوں۔ اس کے باوجود مجھے اس ذلت اور اذیت کا نشانہ بنایا گیا۔ پولیس والے بھی میرے ساتھ یہ شرمناک سلوک نہ کرتے۔ ابھی تک میں بیٹے کے ساتھ عدالتی پیشیاں بھگت رہا ہوں۔
میری شکایت اور گزارش چیئرمین نیب عزت مآب جسٹس (ر) جاوید اقبال سے یہ ہے کہ وہ شریف لوگوں کو تو بچائیں اور اپنے محکمے کے بدمعاش لوگوں کو لگام ڈالیں۔ وہ نہ صرف کرپٹ لوگوں کو انجام تک پہنچانے کے ذمہ دار ہیں بلکہ شریف لوگوں کو مکمل عزت دینے کے بھی منصف اعلیٰ ہیں۔ میرا بیٹا اب بھی میرے پاس رہتا ہے اور میں دس مرلے کے کوارٹرمیں رہتا ہوں جو میرے دوسرے بیٹے کے نام ہے اور وہ چیف منسٹر سیکرٹریٹ میں 18 گریڈ کا افسر ہے۔

دنیا میں ا یک سچا رشتہ ہے اور وہ ماں کا ہے ۔ ممتا سے سچا جذبہ کسی رشتے میں نہیں۔ ماں کا دن دنیا بھر میں منایا جاتا ہے۔ یہ ماں کو خراج تحسین ہے ماں کی خدمت کے لئے زندگی بھی تھوڑی ہے۔ یہ عمر بھر کا ناطہ ہے جو ٹوٹتا نہیں۔ بیٹا اگر بوڑھا ہو جائے تو وہ ماں کے لیے بچہ ہی ہے۔
ماں بہت غصے میں آئے تو بھی صرف رو دیتی ہے۔ میری ماں کو کوئی تکلیف یا کوئی ضرورت ہوتی وہ بہت سے بچوں کی موجودگی میں کہتی کہ اجمل کو بلائو…وہ باہر نکلنے سے پہلے ایک بڑے کمرے میں بیٹھی ہوتی۔ میں باہر نکلتا اور انہیں سلام کرتا۔ جب مجھ سے کوتاہی ہوجاتی تو وہ رونے لگتی۔ جب گھر سے سب لوگ کھانا کھانے لگتے تو وہ کہتی اجمل بیٹے کے لیے رکھاہے ۔

ایک اور عظیم خاتون ادیبہ اور ناول نگار تھیں۔ بانو قدسیہ۔ ہم انہیں بانو آپا کہتے تھے۔ اشفاق احمد بھی بڑے انساں اور ادیب تھے وہ مجھ سے ایک دن کہنے لگے مجھ میں ایک کمی ہے کہ میں بانو قدسیہ کو ’’بانو آپا‘‘ نہیں کہہ سکتا۔ تکلیف کے زمانے اور مصیبت کے وقت خدا یاد آتا اور ماں یاد آتی ہے۔ بس…اماں ان پڑھ تھیں مگر انہیں جاہل کہنا گستاخی ہے۔ اُن سے نام پوچھا جاتا تو وہ اپنا نام بھول گئی ہوتیں۔ وہ کہتیں…والدۂ اجمل نیازی۔ برادرم افتخار عارف نے کہا۔

دعا کو ہاتھ اٹھاتے ہوئے لرزتا ہوں

کبھی دعا نہیں مانگی تھی ماں کے ہوتے ہوئے

میرا بھائی بہت تخلیقی آدمی عباس تابش کہتا ہے۔

ایک مدت سے میری ماں نہیں سوئی تابش

میں نے اک روز کہا تھا مجھے ڈر لگتا ہے

مجھے شاعر کا نام معلوم نہیں۔ یہ شعر اتنا اچھا ہے کہ کوئی بھی اپنا حق جتا سکتا ہے۔

کسی کو گھر ملا حصے میں یا دکاں آئی

میں گھرمیں سب سے چھوٹا تھا میرے حصے میں ماں آئی

عظمت صاحب مرے دوست ہیں۔ تاجر برادری سے تعلق ہے۔ وہ اپنی برادری کی رہنمائی بھی کرتے ہیں۔ وہ لیڈر قسم کے لوگ ہیں۔ ان کا ایک جملہ سنیں، جس طرح کاسوداسامان بک جاتا ہے وہ ریڑھی پررکھا ہو۔ فٹ پاتھ پر ہو۔ یا کسی شاندار دکان میں ہو اور پھر انہوں نے ایک انوکھی بات کہی۔
آجکل این آر او کی بات ہوتی ہے۔ عمران خان کہتا ہے میں نہیں دوں گا۔ سب سے بڑا این آر او دینے والا تو خدا ہے۔ اللہ ہر کسی کو بخش دیتا ہے اور بے حساب دیتا ہے۔ اس نے گفتگو میں یہ بھی کہا کہ میں نواز شریف کا مخالف ہوں مگر اس کے والد مرحوم کے لیے دعاکرتا ہوں۔ میرے دل میں ا س حوالے سے ایک جنگ رہی مگر اب وہ مرے خیالوں اور خوابوں میں رہتے ہیں۔
میرے قریبی لوگ جن کے لیے میں ہر وقت دعا کرتا ہوں ۔ اس طرح مرے دل میں نہیں رہتے۔ ایک دفعہ خواب میں بڑے میاں صاحب نے مجھے کچھ دیا اور کہا کہ لوگوں میں تقسیم کر دو۔