کوپن ہیگن- امجد اسلام امجد

کوئی تیس برس قبل جب پہلی بار ناروے جانے کا موقع ملا تو اوسلو کا ہر دوسرا پاکستانی کھاریاں کا رہائشی نکلا ، سو یہ تجویز بھی پیش کی گئی کہ کیوں نہ ناروے کا نام ’’کھاروے‘‘ رکھ دیا جائے، یہ تو خیر ایک ہلکی پھلکی بات تھی لیکن ڈنمارک کا معاملہ زیادہ سنجیدہ اور غور طلب ہے کہ وہاں کا ہر دوسرا نہیں بلکہ بلا مبالغہ ہر شاعر ہی عزیزی حسن عباسی کا شاگرد ہے اور یہ سب کچھ گزشتہ دس برسوں میں ہوا ہے، وقت کی کمی کی وجہ سے اس ٹریڈ سیکریٹ سے مکمل پردہ نہیں اُٹھ سکا لیکن یہ دیکھ کر خوشی ہوئی کہ وہاں ادب سے دلچسپی رکھنے والوں کی نہ صرف تعداد زیادہ ہے بلکہ وہ شعری مجموعے چھپوانے میں بھی پہلے نمبر پر ہیں ۔

حسن عباسی کی فرمائش پر گزشتہ برس مجھے عدیل احمد آسی اور طاہر عدیل کے شعری مجموعوں کے فلیپ لکھنے کا موقع ملا تو یہ جان کر مزید خوشی ہوئی کہ وہاں کے شاعر مسلسل سیکھنے کے عمل میں رہتے ہیں اور اُس کے لیے انھوں نے ’’بیلی ‘‘ کے نام کی ایک ادبی اور ثقافتی تنظیم بھی بنا رکھی ہے جس کے اجلاس بہت باقاعدگی سے ہوتے ہیں، اتفاق سے غزالی والوں کی تقریب کا اہتمام بھی اس بار یہی لوگ کر رہے تھے چنانچہ ان سے خوب ملاقات رہی۔

جیسا کہ گزشتہ کالم میں بیان کیا جاچکا ہے کہ SAS والوں کی ہڑتال کی وجہ سے ہماری متبادل فلائٹ وہاں اُس وقت پہنچی جب تقریب کا وقت تقریباً ہوچکا تھا، سو اگرچہ بقول روحی کنجاہی ’’ حالانکہ اس سے فرق توپڑتا نہیں کوئی‘‘ مگر منہ ہاتھ دھونے اور کپڑے بدلنے کی مہلت بھی نہیں مل سکی، جلسہ گاہ خوبصورت، حاضرین کی تعداد معقول اور انتظامات معقول سے بھی کچھ زیادہ اچھے تھے سو تھکن اور بوریت کا احساس چند منٹوں میں ہوا ہو گیا۔
بیرونِ وطن اس طرح کی تقریبات میں اب ڈنر کا اہتمام بوجوہ لازمی ہوگیا ہے کہ اس کے بغیر وہاں کے لوگوں کا کسی جگہ پر جمع ہونا تقریباً ناممکن ہے، اب یہ بات دوسری ہے کہ سب لوگ اس کے لیے ٹکٹ کی صورت میں پیشگی ادائیگی کرکے آتے ہیں البتہ یہاں اتنا فرق ضرور تھا کہ زیادہ مہنگی ٹکٹ خریدنے والوں کو جہاز کی بزنس کلاس کی طرح اسٹیج سے قریب تر سیٹوں پر بٹھایا گیا تھا۔

حاضرین نے ہماری شاعری اور عامر محمود جعفری کی تقریر یکساں انہماک سے سنی، وہاں پرانے چہروں میں سے اقبال اختر اور سلطان محمود گوندل سے تو ملاقات ہوئی مگر نصر ملک ، عمیر ڈار اور شاہدہ صدف الگ الگ وجوہات کی بنا پر شریک نہ ہوسکے البتہ اُن کے سلام مختلف احباب کی معرفت ہم تک پہنچتے رہے۔ کینسر اسپیشلسٹ اور انتظامیہ کی رکن ڈاکٹرہما کی وجہ سے خواتین کی خاصی کثیر تعداد نہ صرف تقریب میں آئی بلکہ انھوں نے یتیم اور خصوصی بچوں کی اسپانسر شپ میں بھی بہت بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔

طے پایا کہ اگلے دن صبح ناشتہ ہوٹل کے بجائے عدیل آسی کے گھر پر کیا جائے اور اس کے اور جل پری کی زیارت اور فیری کے ذریعے شہر کے گردا گرد جلدی سے ایک چکر لگا لیا جائے کہ اتنے کم وقفے میں اس سے زیادہ کچھ ممکن نہ تھا۔ وصی شاہ اور سلمان گیلانی کی جل پری سے یہ پہلی ملاقات تھی سو اُن کا شوق باقیوں سے کہیں زیادہ تھا۔ حاصل کردہ معلومات کے مطابق اس جل پری کا چہرہ اپنے زمانے کی مشہور تھیٹر اداکارہ اور بالائی جسم مجسمہ سازکی بیگم کا عطا کردہ تھا کہ متعلقہ ایکٹریس اپنے برہنہ جسم کے ساتھ ماڈلنگ کے لیے رضامند نہیں ہوئی تھی البتہ اس کے بعد جو کچھ تھا وہ مجسمہ ساز کے تصور کا ہی شاخسانہ تھا البتہ اس کی اس غیر معمولی شہرت کی وجہ نہ پہلے سمجھ میں آئی تھی اور نہ یہ معمہ حل ہوسکا۔

فیری کے سفر کی سب سے دلچسپ بات یہ تھی کہ جو خاتون اور مرد اُس کی ٹکٹیں فروخت کر رہے تھے نہ صرف یہ کہ وہی انھیں چیک کرکے مسافروں کو فیری پر سوار کرا رہے تھے بلکہ انھی میں سے ایک آگے چل کر فیری کا کپتان اور دوسری وہ ٹورسٹ گائیڈ نکلی جس کے ذمے اردگرد کی عمارتوں اور خاص مقامات کے بارے میں معلومات کی فراہمی تھی، ایک دوست کے مطابق اس بی بی کا کوئی نہ کوئی تعلق فیصل آباد سے ضروررہا ہوگا کیونکہ وہ ہر تین چار جملوں کے بعد کوئی مزیدار سی جگت نما بات ضرور کرتی تھی۔

ڈنمارک ڈیری مصنوعات، چاکلیٹ انڈسٹری اور سائیکل سواری کے لیے تو پہلے سے مشہور تھا البتہ چند برس قبل یہاں کے کچھ شرپسندوں نے آزادی اظہار کی آڑ میں کچھ ایسی حرکات کیں جنھیں اسلامی دنیا اور بالخصوص پاکستان میں بہت نا پسند کیا گیا مگر امر واقعہ یہ ہے کہ عمومی طور پر ڈینس لوگ بہت اچھے ، محنتی اور محبت کرنے والے ہیں اور یہاں پر مقیم پاکستانی تارکین وطن بہت سے ملکوں کی نسبت زیادہ محفوظ اورخوش حال ہیں۔

دوپہر کا کھانا ’’بیلی‘‘کے ہی ایک دوست کے ریستوران پر تھا جس نے ابھی نیا نیا یہ کاروبار شروع کیا تھا البتہ جو فیصلہ کرنا قدرے مشکل تھا کہ اُس کے ادبی ذوق اور کھانوں کی کوالٹی میں کون زیادہ بہتر تھا۔ وہاں ڈاکٹر ہما نے کسی ریڈیو چینل کے لیے ایک مختصر سا انٹرویو بھی کیا جو اپنی نوعیت کے اعتبار سے بہت دلچسپ تھا، ایک سرِراہ قسم کی شعری محفل بھی ہوئی جس میں مقامی شعراء نے کلام کے ساتھ ساتھ اپنے شعری مجموعے بھی مہمانوں کی نذر کیے، ہر محفل کی طرح یہاں بھی آصف بٹ کی خوش طبعی سب سے نمایاں رہی۔

وصی شاہ کو یہاں سے جدا ہوجانا تھا کہ اُس کی ایکسپریس ٹی وی کی کچھ بہت اہم ریکارڈنگز ایک مسئلہ بنی ہوئی تھیں جس کا نقصان اُس کو یوں ہوا کہ اُسے ہم سب کو ملنے والی وہ کتابیں بھی اپنے سامان میں رکھ کر لے جانا پڑیں کہ ہم سب کے دستی سامانوں میں ان کی گنجائش نہیں تھی، تفصیل اس اجمال کی یہ ہے کہ اصل فلائٹ میں ایئر لائن کی تبدیلی کی وجہ سے ہماری نئی ٹکٹوں میں باقی سامان لانے کی گنجائش نہیں تھی ۔

ہمیں اُسی شام کو اوسلو کے لیے نکلنا تھا جب کہ وصی شاہ کی فلائٹ اگلے دن دوپہر کی تھی ۔ہاں یہ تو میں بتانا بھول ہی گیا کہ میری ساتھ لائی ہوئی انسولین میرے اندازے سے قبل قریب الختم تھی سو اُس کے حصول کے لیے ایک پوری مشق سے گزرنا پڑا کہ تقریباً تمام ترقی یافتہ ممالک میں آپ کو فارمیسی سے چند ایک عام سی ادویہ سے قطع نظر ہر دوائی کے لیے ڈاکٹر کا نسخہ پیش کرنا پڑتا ہے، اتفاق سے میری سفری انشورنس کے کاغذات بھی اوسلومیں چھوڑے ہوئے بکسے میں تھے سو طے پایا کہ سوائے ’’جگاڑ‘‘ لگانے کے کوئی راستہ نہیں لیکن جس تیزی اور مہارت سے یہ جگاڑ لگایا گیا اس کے کاریگروں کی ذہانت کی داد نہ دینا ناانصافی ہوگی، البتہ اُن کے نام صیغہ راز میں رکھنا ضروری ہے کہ ایک پنجابی محاورے کے مطابق جہاں عام سے سجّن ہوں وہاں ایک آدھ کچھ بہت زیادہ سجّن بھی ہوتا ہے۔