ثبات ایک تغیر کو ہے زمانے میں- نصرت جاوید

کسی بھی صحافی کا حقیقی اثاثہ اور روح کو شانت رکھنے والا حتمی سہارا وہ لوگ ہوتے ہیں جن سے کبھی سرسری ملاقات بھی نہیں ہوئی ہوتی۔ صرف صحافتی کام ہی تعارف اور تعلق کا با عث ہوتا ہے۔ میں خود کو حقیقی معنوں میں بہت خوش نصیب شمار کرتا ہوں کہ چاہنے والوں کی ایک خاطر خواہ تعداد مجھے بھی اپنے صحافیانہ کام کی بدولت نصیب ہوئی ہے۔ نفرت کرنے والوں کی تعد اد ان کے مقابلے میں نظرانداز کردینے کے قابل ہے۔

کچھ دنوں سے میرے چاہنے والوں کی ایک مؤثر تعداد مگر میرے صرف اخباری کالموں تک محدود ہوجانے سے بہت ناراض ہے۔تواتر کے ساتھ اصرار ہورہا ہے کہ میں یوٹیوب کے ذریعے ان سے مزید رابطے کی راہ نکالوں۔ مجھے یہ سمجھانے میں بہت دِقت ہورہی ہے کہ عمر کے اس حصے میں داخل ہوچکا ہوں جہاں جدید ٹیکنالوجی کے استعمال سے ابلاغ کے نئے راستے بنانے کی صلاحیت وہمت موجود نہیں رہتی۔ اسی میڈیم پر تکیہ کرنا پڑتا ہے جس کے بارے میں برسوں کے تعلق کی وجہ سے اپنی بات کہنے کا اعتماد میسر ہو۔ پاکستان ہی نہیں بلکہ دُنیا بھر میں یہ خوف پھیل چکا ہے کہ ٹی وی صحافت اور خاص کر سوشل میڈیا کے متعارف ہوجانے کے بعد روایتی اخبارات معدومیت کا شکار ہوجائیں گے۔شاید چند برس بعد ایسی نسل اُبھرکے سامنے آئے گی جو ’’اخبار‘‘ کے تصور ہی سے آگاہ نہ ہوگی۔اسے ’’کسی زمانے‘‘ کی متروک شدہ شے شمار کیا جائے گا۔مجھ ایسے شخص کے لئے جس نے ساری عمر کل وقتی صحافت کے ذریعے رزق کمایا ہے’’اخبار کی موت‘‘ کی اطلاع دل دہلادینے والی خبر ہے۔ایسے میں باقی رہ گئی زندگی کو بسر کرنے کے لئے روزمرہّ آمدنی کے دیگر ذرا ئع ڈھونڈنے کی مجبوری لاحق ہوجاتی ہے۔ہرتلاش کے بعد مگر نتیجہ یہی نکلتا ہے کہ اپنے بس کی بات نہیں۔ جو ہے۔جب تک چل سکتا ہے اسی پر گزارہ کرو۔’’ثبات ایک تغیر کو ہے زمانے میں‘‘والی حقیقت کے آگے سرجھکادو۔

چند ہفتوں سے بہت تحقیق کے بعدلکھی تحریروں کو مگر غور سے پڑھا تو تھوڑا اطمینان نصیب ہوا۔’’اجے قیامت نئیں آئی‘‘والا پیغام دیتی یہ تحریریں بتاتی ہیں کہ ’’اخبار‘‘ کا مطلب محض کاغذوں کا وہ پلندہ نہیں جو ہاکر کے ذریعے آپ کو صبح اُٹھتے ہی گھر کے باہر پڑا نظر آتا ہے۔ ’’اخبار‘‘ درحقیقت ایک طرزِ تحریر کا نام بھی ہے۔ انگریزی زبان میں اسے Long Form Journalism کہا جا رہا ہے۔ محسوس یہ ہورہا ہے کہ فیس بک اور ٹویٹر کے ذریعے ’’خبروں‘‘ کے عادی اذہان ابLong Form صحافت کے بہت شدت سے طلب گار ہیں۔ زندگی کے پیچیدہ ترین مسائل کو صرف ایک رُخ سے دیکھتے ہوئے اپنے دلوں میں جاگزیں تعصبات کو تسکین پہنچاتی وڈیوکلپس وائرل ہوکر لوگوں میں فوری اشتعال پیدا کرتی ہیں۔یہ ا شتعال ہیجان کی طرف لے جاتا ہے۔ خواہش اب یہ اُجاگر ہورہی ہے کہ معاشرے کو درپیش مسائل کو مختلف زاویوں سے دیکھنے کی عا دت واپس آئے۔حقائق کو وسیع تر تناظر میں دیکھنے کی کوشش لوٹ آ ئے۔کئی معتبر یونیورسٹیوں نے مہینوں تک پھیلی تحقیق کے بعد نتیجہ یہ اخذ کیا ہے کہ لوگوں کے ذہنوں میں اپنے معاشرے کے بارے میں مسلسل ابھرتے پریشان کن سوالات کو صرفLong Formصحافت ہی کماحقہ انداز میں پیش کرسکتی ہے۔

یہ طرز صحافت روایتی ’’اخبار‘‘ کی صورت میسر نہ ہوتو سوشل میڈیا کو بھی بالآخر اس سے رجوع کرنا ہوگا۔ ’’صرف دومنٹ‘‘ والی وڈیوز کام نہیں آئیں گی۔Long Formصحافت کی اہمیت کو اجاگر کرنے کے لئے ٹھوس اعدادوشمار کے ذریعے امریکہ کے چند قصبات کا بھی ذکر ہوا۔ ان قصبات کے رہائشی گزشتہ کئی برسوں سے ’’معلومات‘‘ کے حصول کے لئے اخبارات کے بجائے فقط سوشل میڈیا سے رجوع کررہے تھے۔ ان قصبات میں جرائم کی شرح ان علاقوں سے زیادہ نظر آئی جہاں اب بھی لانگ فارم صحافت کسی نہ کسی صورت زندہ ہے۔ محض سوشل میڈیا کے ذریعے ’’معلومات‘‘ حاصل کرنے والے علاقوں میں نسلی تعصب بھی شدید تر نظر آیا۔ بڑے شہروں کی خوشحال مڈل کلاس اور وسیع تر معنوں میں ریاستی نظام کے خلاف اندھی نفرت بھی ایسے ہی علاقوں میں دیکھنے کو ملی۔ٹھوس اعدادوشمار پر مبنی اس تحقیق کو ذہن میں رکھتے ہوئے برطانوی حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ ٹی وی لائسنس کی صورت میں جو رقم وہ سالانہ جمع کرتی ہے اس کا 25 فیصد حصہ ہر صورت چھوٹے شہروں میں مقامی اخبارات کو زندہ رکھنے کے لئے خرچ کیا جائے۔ بڑے نام والے کئی بے روزگار ہوئے صحافیوں کو ترغیب دی گئی کہ وہ لندن اور مانچسٹر جیسے شہروں کو چھوڑ کر چھوٹے قصبات میں رہائش پذیر ہوں اور وہاں کے مقامی مسائل کو اخبارات کے لئے ضروری تصور کئے ہنر کے ساتھ استعمال کرتے ہوئے مختلف النوع زاویوں سے دیکھتے ہوئے وسیع تر تناظر میں رکھ کر پیش کریں۔

تحقیق یہ بھی بتارہی ہے کہ برطانوی حکومت کی جانب سے مقامی اخبارات کی سرپرستی نے قصباتی لوگوں کو ذرا اطمینان بخشا ہے۔ وہ Brexitکی وجہ سے پھیلے خوف سے نبردآزما ہونے میں آسانی محسوس کررہے ہیں۔لانگ فارم صحافت کی اہمیت کو عالمی میڈیا میں چھپے مضامین کی بدولت گویا ازسرنودریافت کرنے کے بعد مجھے وطنِ عزیزکا خیال آیا۔ہمارے ہاں گزشتہ چند برسوں سے بہت ہیجان پھیلا ہوا ہے۔تحریک انصاف نے 2011 سے بہت شدت کے ساتھ اس ہیجان کا بنیادی سبب کرپشن کو ٹھہرایا۔لوگوں کو قائل کردیا کہ اگر کرپشن پر قابو پالیا جائے تو ہمارے تمام مسائل خودبخود حل ہونا شروع ہوجا ئیں گے۔ معاشرے میں ٹھہرائو آجائے گا۔ زندگی میں راحتیں بڑھنا شروع ہوجائیں گی۔کرپشن کو ہماری مشکلات کا واحد سبب ٹھہراتے ہوئے تحریک انصاف گزشتہ پانچ مہینوں سے حکومت میں ہے۔معاشی میدان میں لیکن رونق دیکھنے کو نہیں مل رہی۔ماضی کے ’’چور اور لٹیرے‘‘ تحریک انصاف کے وزراء کی نظر میں قومی خزانہ خالی کرگئے ہیں۔شاید وہ درست کہہ رہے ہوں گے۔خلقِ خدا نے مگر اس حکومت کو ’’چوروں اور لٹیروں‘‘ کو گرفت میں لانے سے نہیں روکا۔عام شہری کے گیس کے بلوں میں اس کے باوجود تین سے چار گنا اضافہ ہوگیا۔اس اضافے کو برداشت کرنے کی لوگوں میں سکت ہی موجودنہیں۔ وہ بلبلااُٹھے ہیں۔ ان کی پریشانیوں کو لیکن ہمارے میڈیا نے وسیع ترتناظر میں بیان کرنے کا حقیقی معنوں میں تردد نہیں کیا۔

گیس کے وزیر غلام سرور خان بھی گیزر کو ’’لگژری‘‘ ٹھہراتے ہوئے ’’باجوکی گلی‘‘ سے کھسک لئے۔مسئلہ فقط گیس کے بلوں میں ہوشربا اضافہ تک محدود نہیں۔پاکستان کو ہم برسوں سے ایک ’’زرعی ملک‘‘ کے طورپر پیش کرتے چلے آئے ہیں۔کاشت کار کی زندگی جس انداز میں ان دنوں اجیرن ہوئی نظر آرہی ہے اس کا تذکرہ پاپولر میڈیا میں شاذہی دیکھنے کو ملتا ہے۔Ratingکی تڑپ نے ٹی وی صحافت کو بڑے شہروں کے متوسط طبقے کوEngage کرنے تک محدودکررکھا ہے۔ اس تناظر میںLong Formصحافت کی ’’اخباری‘‘ طرز تحریر اور کاوشوں کی بے پناہ گنجائش موجود تھی۔ پرنٹ میڈیا نے مگر اس کا خاطر خواہ فائدہ نہیں اٹھایا۔مثال کے طور پر اس بار ہمارے ہاں ضرورت سے بے تحاشہ زیادہ آلو پیدا ہوا ہے۔ ہزاروں افراد نے اسے کاشت کیا مگر فصل پک جانے کے بعد انہیں آلو کی وہ قیمت بھی بازار سے نہیں مل پارہی جو اسے پیدا کرنے میں صرف ہوئی تھی۔ آلو کے بحران نے لہذا ہزاروں گھرانوں کو فکر میں مبتلا کردیا۔ہم لانگ فارم والے صحافیوں نے میرے سمیت اس کا ذکر تک نہیں کیا ۔یہ بات بھول گئے کہ آلو اُگانے والوں کی کثیر تعداد بھی میڈیا کی صارف ہے۔ان کی کثیر تعداد کو خود پر نازل ہوئی مصیبت کے تذکرے اور تجزیے کی ضرورت ہے۔مجھ ایسے لوگوں کو یوٹیوب کے ذریعے خود کو ’’جدید‘‘ ثابت کرنے کے بجائے اپنے قدیمی ہنر کو خلقِ خدا کے حقیقی مسائل کو اجاگر کرنے پر توجہ دینے کی ضرورت ہے تاکہ ’’اخبار‘‘ کی ضرورت زندہ رہے۔