دستک - فرح رضوان

کوڈ ورڈ تھا کھل جا سم سم، جو علی بابا کے بھائی قاسم کو یاد نہ رہا، اور بار بار ری ٹرائے کے چکر میں زندگانی کا آپشن فریز ہوگیا ، ڈاکؤں کے ہاتھوں مارا گیا۔۔۔
قاسم ہیرو نہیں تھا کہانی کا، اس لئے قابل توجہ بھی نہیں، جئے مرے سانو کی ، ہم تو ہر میدان میں صرف دو لوگوں پر فوکس کرتے ہیں ہیرو کی ہر ادا نیکی ، ولن کی ہر کارگذاری صرف برائی۔

باقی کون کیا کرتا ہے انکا حساب فرشتے لکھ رہے ہوتے ہیں اس پر بھروسہ ہے، تو دھیان نہیں دیتے ۔ سچ میں کبھی کبھی دل بہت دکھتا ہے آبرا کا ڈابرا ، آوے کا آوا جانتا ہے انتر منتر چھو اور نہ جانے کیا کچھ الم غلم کہانیوں کے ذریعے ہمارے اندر سالوں سے جاتا رہتا ہے، ہم نوٹس بھی نہیں کرتے کہ اسطرح ہمارے عقیدے کے اکاؤنٹ سے کیا کچھ کٹوتی ہوتی ہی چلی جاتی ہے، تو جب کبھی زندگی کی کسوٹی پر ہمارے پرکھنے کا وقت آتا ہے توہم اتنے ہی اتاولے اور جلد باز ہو جاتے ہیں کہ بس کوئ کوڈورڈ مونہہ سے نکلے اور قسمت کا در کھل جائے ابھی تو شروعات ہی ہوتی ہے کہ دل ناداں ناتواں پر آزمائش کا بوجھ بھاری پتھر بن کر صبر کے پیمانے میں گرتا آناً فاناً ہی اسے لبریز کر ڈالتا ہے، اور ہم بن بیٹھتے ہیں سراپا مظلوم کہ بس بہت ہوگیا اب برداشت نہیں ہوتا۔.
من گھڑت کرشماتی قصے،اور جدی پشتی لوگ کہانیاں سنتے پڑھتے دیکھتے ہمیں پتہ ہوتا ہے اب یہ لفظ کہا جائے گا تو بات بن جائے گی پھر سب ہنسی خوشی رہنے لگیں گے۔ ارے جنت ہے کیا ؟ نہیں نا ! تو پھر دے لیو ٹوگیدر ہیپیلی فار ایور کیسے ممکن ہے بھلا ؟ بہتر ہے نا کہ سب بھلا کر ہم اللہ تعالیٰ سے بنا کر رکھیں، ڈھونڈیں قرآن میں جہاں کہیں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے "لا خوف علیہم ولا هم يحزنون" ؛ نہیں ہوگا انکو کوئ بھی کسی بھی قسم کا خوف اور پریشانی اینگزائیٹی پینک اٹیک، ہول ، کب ؟ کیوں ؟ کیسے ؟ کہاں جاننا ہو تو ، انڈرلائن کریں پورے قرآن میں جہاں یہ جملہ درج ہے اور تدبر کریں اس پر کہ اس سے قبل کیا بات بتائی ہے ہمارے رب نے،اس خالق مالک مدبر نے جس کی شان ہے، علی کل شئی قدیر اور جو کہہ دے کن تو لمحہ نہیں لگتا فیکون ہوتے۔

آج ایک پرانی بات شدت سے یاد آگئ جب استاذہ نے کہا نا کہ ،زندگی میں کوئ دروازہ بند ہوگیا ہو، تو سوائے اللہ کی رحمت اور اذن کے وہ کھل ہی نہیں سکتا؛دعا کا بہترین انداز اللہ تعالیٰ کے ناموں کے ساتھ اسے پکارنا ہے، اللہ کو اسکی رحمت کے ساتھ پکارنے کے لئے یا حي يا قيوم برحمتك استغيث، چلتے پھرتے اٹھتے بیٹھتے، رکوع سجود کی تسبیحات کے بعد رکوع سجود میں پڑھتے رہیں۔ علم کہتے ہیں جاننے کو،اور ایسی جانکاری یا پختہ علم جس کی سچائی پر مکمل اعتماد ہو اسے یقین کہتے ہیں- صفا، میری ڈیڑھ سالہ ٹیچر نے الحمد للہ اپنی نانوکو ایک اور سبق سکھایا اسے باہر جانا تھا ، اور دروازہ کھولنا ابھی آتا نہیں تھا ،بس اتنا علم موجود تھا ننھے سے وجود میں کہ دروازے پر جب بھی دستک دو تو وہ کھل جاتا ہے ۔ سو اس بات سے بےنیاز کہ باہر سے دستک دینے پر اندر والا در کو کھولتا ہے، وہ صرف ننھی منی سی انگلی کی پشت سے موہم سی دستک دیتی رہی، دل رکھنے ہم میں سے ہی کوئی اٹھ کر دروازہ کھول دیتا ، وہ خوش ہو جاتی۔۔۔۔ وہ انجانے میں ہمیں سکھاتی رہی کہ آپ کا کام صرف خلوص نیت سے اللہ کے در پر دستک دے کر کامل یقین اور صبر جمیل کے ساتھ اسکی رحمت کا منتظر رہنا ہے، کوشش کرنا ہے، اسباب سے بے نیاز مسبب الأسباب کا در کھٹکھٹاتے رہنا ہے، راسخ ایمان کے ساتھ پر یقین دستک دیتے رہنا ہے ۔

Comments

فرح رضوان

فرح رضوان

فرح رضوان کینیڈا میں مقیم ہیں۔ خالق کی رضا کی خاطر اس کی مخلوق سے لگاؤ کے سبب کینیڈا سے شائع ہونے والے ماہنامے میں قریباً دس برس قبل عائلی مسائل پرلکھنا شروع کیا تھا، اللہ کے فضل و کرم سے سلسلہ جاری ہے۔ دلیل کی مستقل لکھاری ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.