انعام کا حقدر کون؟ - سعد فاروق

سوشل میڈیا ویب سائٹ ٹویٹر معمول کے مطابق جیسے ہی کھولی سامنے پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل آصف غفور کا پیغام نظر آیا " ساتھیو تیار ہو جائیں۔ جلد ایک انعام جیتنے والے مقابلے کا اعلان ہوگا" پیغام میں ڈی جی آئی ایس پی آر نے سوال پوچھا کہ کسی کو اندازہ ہے کہ یہ کیسا مقابلہ ہوگا ؟ جواب میں ہزاروں لوگوں کے پیغامات تھے جو سب پڑھنے ممکن نہیں تھے صرف چند پر نظر ڈال سکا۔

پاک فوج سے پاکستانیوں کی والہانہ محبت کا عملی مظاہرہ دیکھنے میں آیا لوگوں نے کسی انعام کی بجائے صرف ایک پیغام / رپلائی کی خواہش کا اظہار کیا، کوئی فالو بیک کی درخواست کر رہا تھا ، کوئی سلیفی کی لیکن یہ پاک فوج کے خلاف بےبنیاد پروپیگنڈہ کرکے نمک حرامی کرنے والوں کے لیے پیغام تھا کہ پاکستانی چاہے وہ سوشل میڈیا پر ہوں ، چاہے روڈ پر ، چاہے گاؤں میں ہوں یا شہر میں ، پاک فوج کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر کھڑے ہیں۔ دشمن ازل سے ناکام رہا ہے اور ابد تک ناکام رہے گا ان شاءاللہ۔ میجر جنرل آصف غفور کی انعام والی بات سے میرا ذہن پاک فوج ہزاروں شہدا کی طرف چلا گیا۔ وطن کے تحفظ کی قسم کھانے والے، مٹی سے وفا نبھانے والے ، ماوں کے ہاتھوں تیار ہوکر مقتل جانے والے عظیم افراد یقینا ہر انعام / ایوارڈ کے مستحق ہیں۔ اپنی دنیا وطن پر قربان کرنے والے شہدا یقینا اللہ کی جنتوں میں خوش وخرم ہوں گے۔ انہیں کسی چیز کا لالچ نہیں تھا۔ منہ میں سونے کا چمچہ لیکر پیدا ہونے والے پاک فوج میں آئے تو کئی کئی وقت بھوکے، پیاسے وطن کی خاطر صبر سے ڈٹے رہے۔ مخملی بستروں پر سونے والے پاک فوج میں آئے تو نوکیلی پتھروں والے پہاڑوں کی چٹان پر سر کو تکیہ بنا کر لیٹے رہے۔ کیپٹن قدیر شہید جو تین سو ایکڑ زمین کے مالک تھے مگر وطن کی مٹی نے پکارا تو چلے آئے، لاڈ اور نازو سے پرورشِ کرنے والے جوان کو وطن کی خاطر سالوں کوڑا کرکٹ اٹھانے پڑا، بلوچستان کے امن کا جب بھی تذکرہ آئے گا کیپٹن قدیر شہید کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔

یہ بھی پڑھیں:   وضاحتیں نہیں شفافیت چاہیے - حبیب الرحمن

شہدا کا تذکرہ لکھنے لگوں تو کئی کتابیں لکھی جائیں لیکن اپنے لہو میں نہانے والے جوان مکمل نہ ہوں۔ نیلم وادی پر شدید سردی میں ڈٹے جوان ہوں یا نکیال سیکٹر پر بھارتی اشتعال انگیزی سے شہید ہونے والی سپاہی ، سیاچن میں برفوں تلے ڈب کر وطن کی محبت میں ابد تک زندہ رہنے والے افیسر ، دشمن کے بزدلانہ وار میں افغان بارڈر پر ڈٹے افسر و جوان سب وطن کی خاطر استقامت کی داستانیں رقم کر رہے ہیں۔ اس موقعے پر ہر شہری اپنی بہادر افواج کے ساتھ کھڑا ہے۔ دشمن کو کوئی بھی جارحانہ قدم اٹھانے سے پہلے ہزار مرتبہ سوچنذ ہوگا۔ میجر جنرل آصف غفور نے بلاشبہ ایک اعلی دماغ کے مالک ہیں انکی بصیرت کے باعث آج دشمن بھی پاک فوج کے اقدامات کی نقل کرنے پر مجبور ہے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر کا منصب سنبھالنے کے بعد سے عام ہریوں میں مسلسل گھل مل کر کام کر رہے ہیں۔ آصف غفور نے دشمن کو اپنی حکمت و دانشمندی سے وہ پیغام دیا جو وہ صدیوں تک یاد رکھے گا۔ جنرل صاحب بلاشبہ اس ففتھ جنریشن وار کے دور میں سوشل میڈیا اہم محاذ ہے۔ آپ اس پلیٹ فارم استعمال کرنے والوں کے لیے انعامات دے رہے ہیں تو سب سے پہلے ان افراد کو انعام دیجیے جنہوں نے ملک میں ٹی ٹی پی کے زور کے وقت بھی دشمن کا سوشل میڈیا پر ڈٹ کر مقابلہ کیا۔ جن کے خلاف دشمن کا میڈیا مسلسل صف آرا رہا۔ جنہیں دشمن ایجنسیوں کی بیرون ملک سے دھمکیاں بھی متزلزل نہ کر سکی۔ جن کے اکاؤنٹس بند کروانے میں دشمن نے زور لگایا ۔ جو دشمن کے وار سہہ کر بھی ڈٹے رہے۔ آج وہ اس چمک دمک والے سوشل میڈیا میں زندگی کی تلخیوں کے باعث کہیں پیچھے رہ گئے ہیں۔ انکو ساتھ ملائیے انکو سپورٹ کیجیے۔ لاکھوں فالورز کی بجائے چند سو والوں کی جانب بھی نظر دوہرائیں۔ وَالسَّابِقُونَ الْأَوَّلُونَ کے تحت سب سے پہلا حق انہی کا ہے اور ہیرے کی قدر جوہری ہی بہتر جانتا ہے۔
پاکستان زندہ باد - پاک فوج پائندہ باد