ٹریپلیٹس - فرح رضوان

یوں تو وہ بہت کھاتے پیتےپڑھے لکھے طبقے سےتھےمگر بھلا ہو سائنس کا تب الٹراساؤنڈ کازمانہ ہی نہ تھا- پہلونٹی کی اولاد تجربہ بھی سرے سےنہ تھا دھان پان سی شینا کوپتہ ہی نہ چلا کہ وہ اورفہیم صاحب بیک وقت ٹرپلیٹس بچوں کے والدین بننے والے ہیں - البتہ ایک عدد متوقع کے لیۓ جوبھی تیاریاں تھیں بے حد جاندار اور شاندار تھیں، نہ صرف کپڑے جھولے بلکہ بہترین عقیقے تک کی مکمل اورجامع تھیں-

نام صرف بچے کا نہیں سوچا تھا بلکہ سکول کالج یونیورسٹی سب کے نام ذہن اور ارمان کی تجوری میں محفوظ تھے،تجوری میں ہی کچھ رقم پڑھائی اور شادی کے اخراجات تک کی جمع کرنی شروع کر دی تھی - شینا اگر بہت منظم اور دور اندیش خاتون کےطور پرمشھور تھی تو فہیم صاحب بھی ہر طرح سے اسے سپورٹ کرنے میں کوتاہی نہ کرتے تھے ، انہیں علم تھا کہ قوام کا مطلب گھر کا مکمل خرچہ اٹھانا ہوتا ہے - جس روز تینوں بچوں کی ولادت ہوئی وہ حیران ہی رہ گۓ-خوش بھی تھے -مگر مشکل یہ تھی کہ مزید دو بچوں کی آمد سرے سے متوقع نہ ہونے پر بہترین انتظام بھی بد نظمی میں بدل سا گیا،کب کیوں کیسے کس کس کو وقت دیں اور سنبھالیں ----فہیم صاحب کی چھٹیاں ختم ہوئیں تو وہ تو کام کو پیارے ہو گۓ ، پیچھے مسلہ یہ ہوا کہ ان تینوں کی شکلیں اسقدر ملتی تھیں کہ شینا کو سمجھ ہی نہیں آتی کہ کس کی ضروریات پوری کر دی گئ ہیں،کون تشنہ رہ گیا ، کس نے آگے بڑھ کر حق سے زیادہ لے لیا ، کون محرومی کا شکار ہوگیا - یوں گھر کے پانچ افراد کوپانچ باتوں کی عادت سی ہوگئی - شینا کو اپنی کوتاہیوں کو سہل انداز سے مجبوریوں کا لیبل لگانے کی کیونکہ بہرحال وہ بچوں کی پرورش پر انتھک محنت کر تو رہی تھی نا! فہیم کو ایک کان سے سب سن کر دوسرے سے نکالنے اور ایک آنکھ سے سب کو دیکھنے،ایک ہی لاٹھی سے ہانکنے کی عادت، کہ دن بھر رزق حلال کمانا آسان نہیں وہ بھی انسان ہیں آخر کو، کچھ سکون اور تفریح انکو بھی تو درکار ہے!-

وہ بچہ جو پہلے دن سے اپنی ضروریات حق سےلینے کاعادی تھا وہ بڑا ہوتے کب حق سےتجاوز کرنے لگا،دوسرا نہ جانے کب اسکا سپورٹر اور رازدار بن گیا کہ دونوں میں گاڑھی چھننے لگی،جبکہ تیسرا جو محرومی کا شکار تھا مزید گھٹنے لگا وہ گھٹ کے روتا چھپ کےروتا زورسےروتا یا سامنے روتا اسے انصاف اسکے بھائیوں سے ملتا نہ ہی والدین سے؛ بلکہ ہر ایک سے سننے کویہی ملتا کہ پتہ نہیں یہ کیوں ہروقت روتا ہی رہتا ہے نہ بہلتا ہے نہ کھاتا ہے نہ سوتا ہے نہ سونے دیتا ہے جینا دشوار کررکھا ہےسب کا ---پتہ نہیں کوئی الرجی ہے ایگزیمہ ہے نظر تو کچھ نہیں آتا - پتہ نہیں جلتا ہے شاید باقیوں سے !کہ کیا وجہ ہے!خوش نہیں ہوتا اداس رہتا ہے پتہ نہیں کوئی نظر ،اثر نہ ہو !
وقت گزرتا گیا دونوں صحت مند بچے تو ہر میدان میں ترقی کرتے گۓ ،لوگ بھی جی بھر کر ان کی صحت، شکل و صورت،لطافت،ملنساری، ذھانت و کامیابیوں کی تعریف کرتے نہ تھکتے جس سے والدین اپنی قربانیوں کے ثمرات پر،پھولے نہ سماتے ،البتہ تین میں کا تیسرا بھائی وقت کے ساتھ ساتھ بگڑتا ہی چلا گیا اسکی صحت تو کبھی بنی ہی نہ تھی احساس محرومی کی بدولت صحبت بری ہونے لگی تو والدین کے کان کھڑے ہوئے ،قریب کے مدرسے میں ڈال دیا کہ کچھ تو پڑھ لے ----ادھر جاکر یہ ہیر پھیر سے تو پھر بھی کچھ کچھ بچ گیا مگر غصه ،بدزبانی عروج پر پہنچ گئی ---

عروج پر تو باقی دو بچے بھی پہنچ چکے تھے،جنھیں اب بوڑھے والدین بوجھ لگنے لگے تو، احسان کیا کہ انکی زندگی سرے سے ختم نہ کی بلکہ اچھے والے اولڈ ہوم میں ویسے ہی داخلہ کروا دیا جیسے والدین نے بہترین سکول میں داخل کروایا تھا - تب وہ جتنا خوش تھے آج یہ بھی اتنا ہی خوش اور انکے "روشن "مستقبل سے پرامید تھے- تین میں کا تیسرا بیٹا اس عرصے میں اس قابل نہ ہو سکا تھا کہ کماتا اور انکو سنبھالتا جنہوں نے تمام عمر اسے محرومیاں ہی عطا کی تھیں کبھی اسکی کوئی فرمائش نہ مانی،جائز تقاضہ تک بھی پورا نہ کیا ،فیملی کو کہیں جانا ہوتا اسکے کمزور سوکھے بدن، حال حلیے کی وجہ سے اسے گھر ہی چھوڑ جاتے،ماں کی آغوش باپ کی شفقت کے ٹوٹے پھوٹے لمحات اسکے نصیب میں فقط اس وقت لکھے گۓ تھے جب ایک بار وہ شدید بیمار،بلکہ قریب المرگ ہوچکا تھا تب کسی بزرگ اور آس پاس کے افراد کی بہت زیادہ تنبیہ پر ذرا دھیان دیا ،مگر افسوس کہ سگے والدین تب بھی ڈاکٹر کے پاس نہ گۓ گھر سے کسی کتاب سے کچھ علاج دیکھ لیا دوستوں سے پوچھ لیا،زندگی تقدیر میں لکھی تھی تو تب بھی بچ گیا ورنہ تو کب کا مرکھپ گیا ہوتا - گر دل کر رہا ہے اس قدر لا پرواہ اور بدنصیب والدین کو دیکھنے کا تو فون نکالیں، سیلفی لیں اور اس پرغور فرمائیں کہ ہم میں،اور ان حالات میں کس قدر مماثلت ہے!

کتنے ہی عرصے تک ہمیں خبر ہی نہیں ہوتی کہ ہم جسم ، نفس اور روح تین ٹریپلیٹس کے بیک وقت ذمہ دار ہیں، ہماری سگی روح ہماری شدید بے اعتنائی کا شکار ہو کر گھٹتی روتی ، رلتی کمزور لاغر ہوتی قریب المرگ ہو جاتی ہے، تب کہیں ہم ہوش میں آتے ہیں مگر افسوس کہ ہمارا لاڈلا نفس ہمیں ہر کتاب پڑھنے دیتا ہر وظیفہ و تسبیح کرنے دیتا ہے جسم بھی جیسی تیسی نماز کی اجازت بھی دیتا ہے، مالی جانی ہر قسم کی بڑی بڑی فرض و نفل نیکیاں ، کرنے دیتا ہے مگر قرآن جو اس زخموں سے بے حال ، بد حال بوکھلائی روح کا واحد اور معجزاتی علاج ہے اس تک نہ جسم جانے دیتا ہے نہ نفس امارہ ، دونوں گٹھ جوڑ کر کے اڑے بیٹھے ہوتے ہیں، اس خود غرض رشتہ دار کی طرح جس کی نگاہ صرف وراثت کے مال مفت پر ہوتی ہے کہ آج مرے کل ہم قبضہ کر لیں----دوست کون سے فرشتے ہوتے ہیں ایسی نیتوں پر ؟ تو شیطان جو نفس کی کوٹھڑی بلکہ کوٹھی میں براجمان ہوتا ہے یہی سجھاتا ہے کہ ، قرآن پڑھنے یا سننے ہم کو کہنا نہیں ہمیں بھی سب پتہ ہے، یہ ہم کریں گے نہیں کہ ہم آج کے دور میں جیتے ہیں ہم احمق نہیں اورعمل کی تو بات ہی نہ کرنا ورنہ ہم برا مان کر ضد میں آکر اور بھی نہیں کریں گے،بلکہ جو کر رہے ہیں وہ بھی نہ کریں گے - کیا لوگ ہیں ہم کہ اپنی ہی ذات میں موجود روح اور جسم و نفس کے رشتوں کی اہمیت اور قطع رحمی کے شدید نقصان کو جان ہی نہیں پاتے ، تو بھلا اپنی شخصیت کے باہر کسطرح رشتے استوار کر سکتے ہیں ؟

ہم جان ہی نہیں پاتے کہ روح پر سکون ہو ہی نہیں سکتی قرآن کے فہم سے اپنی غذا لیۓ بغیر نہ یہ پڑھی لکھی ہو سکتی ہے نہ ہی خود کفیل تو بھلا امیر اور مخیر کب ہوگی ؟ اور اسے رہنا جسم میں ہے جو اتنا نادان ہے کہ نفس امارہ کو دوست اور روح کو دشمن سمجھتا ہے ، جبکہ آج کے آج دوست دشمن کی پہچان ہو جاۓ تو ضدی نفس امارہ کی تربیت کی جاسکتی ہے ،جو درجے طے کرتا ایک دن نفس مطمئنہ کا لقب پا سکتا ہے - اسی دنیا میں اللہ تعالیٰ کے وعدے کے مطابق زمین اور آسمان سے رزق و برکت اور خشیوں کے خزانے برسنے لگیں - جس سے جسم بھی تسکین پاۓ مگر کان نہ دھرنے پر ہوگا کیا ؟ برزخ اور آخرت میں روح اور جسم دونوں شدید ترین اذیت و رسوائی میں مبتلا ہو سکتے ہیں - جبکہ اس حال میں رہ گئی عارضی دنیا تو نہ مان کر ہماری شخصیت کا حشر بھی بالکل وہی ہوتا ہے ، جو اولڈ ہوم میں حیران و پریشان ہر طرح کی بھوک ، افلاس و غربت کا شکار، پڑھے لکھے کسی وقت کے رئیس ترین والدین کا ہوتا ہے ، وہ سخت اضطراب میں ہوتے ہیں ، حیرت میں جیتے ہیں غصہ غم اور غم آنسوؤں میں ڈھل ڈھل کر پگھل چکے ہوتے ہیں ، اور مجسم سوال بنے ہوتے ہیں خبر نہیں کیا خطا ہوئی تھی !
-------------

Comments

فرح رضوان

فرح رضوان

فرح رضوان کینیڈا میں مقیم ہیں۔ خالق کی رضا کی خاطر اس کی مخلوق سے لگاؤ کے سبب کینیڈا سے شائع ہونے والے ماہنامے میں قریباً دس برس قبل عائلی مسائل پرلکھنا شروع کیا تھا، اللہ کے فضل و کرم سے سلسلہ جاری ہے۔ دلیل کی مستقل لکھاری ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.