یار کی مرجی بسم اللہ - رابعہ خرم درانی

آپ بڑے لوکاں ہیں خواجہ جی ۔ تارے سے جگ راجی ہے ۔ جس سے جگ راجی ہووے اس سے بھلا رب کیوں نہ راجی ہووے جی ۔ ایک ہمی لوکاں ہیں۔ نہ جگ راجی نہ رب ۔ سب کو راجی کرتے سمے خود کو بھول جائے رہے ہم لوکاں ۔ لو بھلا آپ کہو ہو وس کی تو مت ماری گئی ہووے بہکی بہکی باتاں کرے ۔

خواجہ جی میں پگلی ناہیں بس سدھم سدھاڑ ہوں جو من ماں ہووے وہی جبان پر آوے ۔ آپ میرے میت ہو جی پریت ہو من متوا ہو دلدار ہو صنم ہو ۔ تو صنم تو رب کو پسند نہ ہووے ۔ بس اسی مارے توڑ دیوے مارا دل صنم سے جدا ہونے پہ راجی نہ ہووے بس اسی واسطے صنم کے ساتھ ساتھ دل بھی ٹوٹ جاوے ۔
اچھا ہے ناں جی نہ دل ہووے گا نہ صنم بنائے گا ۔نہ ٹوٹنا پڑے نہ بکھر بکھر کر سمٹنا پڑے ۔ ایک باری ای قصہ مکاوے رب ۔ایسا دل توڑے ایسا توڑے کہ دل چھلنی ہو جاوے ۔ پیار آوے نکل جاوے ، نفرت آوے بہہ جاوے ، رنج غصہ ملال حسرت آرزو سب نکل جاویں ۔ باقی رہ جاوے بس رب کا ناوں ۔ جدھر کچھ نہ باقی رہوے ادھر ہی تو باقی کا ڈیرہ ہووے ۔ فانی سے منہ موڑوں تو باقی کو پاوں ناں خواجہ جی ۔ دعا دے دیو میرے کو ، توہے رب رسول قرآن کا واسطہ توہے اپنے پیاراں کا واسطہ منے آزادی کی دعا دے دیو میرے پیارے غریب نواز ۔ مجھ غریب کو رب اپنے در کا فقیر بنا لیوے ۔ تیرے میرے جیسے فانی لوکاں سے بےنیاز کر دیوے ۔

سنتے ہو خواجہ پیا توری نگریا میں صدا لگات رہے دیکھو تورے در سے کوئی خالی تو نہ جاوے ہے ۔ سارا جگ ایہو ای کہوے کہ تمرے در سے سبھی لوکاں جھولی بھر کے لوٹتے ہیں اور پھر جھولی بھر بھر کے دعاواں لٹاتے ہیں ۔ توہے ان دعاواں کا واسطہ پیا مورے غریب نواز ،پیا مورے جگ نواز، پیا مورے خواجہ رح میرے حق میں دنیا سے آذادی اور رب کی فقیری کی دعا کر دیو ۔ منے رب اپنا محتاج رکھے بس جی بس ساری خیر، ساری کی ساری خیر اسی مالک کی ہووے ۔عزتاں بھی اسی کی ہوویں ۔ ذلتاں بھی وہی دیوے ۔ رازق بھی وہی اور آزمائش بھی وس کی ۔ شکر ہے مالک کا جب وہ خوشی دیوے اور شکر ہے مالک کا جب وہ غم دیوے ۔ وہ جو بھی دیوے ۔۔منے ہی نواجے ناں ۔ تو دیا تو اپنیاں کو ای جاتا ہے ناں سرکاراں ۔

یہ بھی پڑھیں:   میں نے صبر کرنا ایک چھوٹے بچے سے سیکھا - محمد سلیم

خوشی دیوے تو میں راجی۔ غم دیوے تو میں واری ۔ میرا سوہنا مجھے جس حال میں رکھے میرے مالک میں راجی ۔۔۔ موہے اپنے ہی رنگ میں رنگ لے پیا۔۔۔ سدا آباد تیری نگریا رہے ۔۔۔

Comments

ڈاکٹر رابعہ خرم درانی

ڈاکٹر رابعہ خرم درانی

دل میں جملوں کی صورت مجسم ہونے والے خیالات کو قرطاس پر اتارنا اگر شاعری ہے تو رابعہ خرم شاعرہ ہیں، اگر زندگی میں رنگ بھرنا آرٹ ہے تو آرٹسٹ ہیں۔ سلسلہ روزگار مسیحائی ہے. ڈاکٹر ہونے کے باوجود فطرت کا مشاہدہ تیز ہے، قلم شعر و نثر سے پورا پورا انصاف کرتا ہے-

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.