حسد اور رشک میں فرق - محمد فیضان

لڑکپن میں ایک دن کلاس کے ساتھی (لائسنس یافتہ) کو دیکھا کہ موٹرسائیکل پر کالج آیا ہوا ہے- دل میں اس بھائی کے لیے انتہائی خوشی محسوس ہوئی اور رشک آیا کہ کیسی اچھی نعمت ہے کہ بسوں کے سفر میں ضائع ہونے والا بے تہاشا وقت بچاتی ہے-

اللہ کی شان، اگلے دو ماہ بعد میرے پاس بھی موٹر سائیکل کی نعمت میسر آگئی - اللہ تعالٰی کا شکر ادا کیا کہ ابھی تو خواہش کی کلی مکمل طور پر پھوٹی بھی نہ تھی کہ آپ نے دستگیری فرمائی - اس حوالے سے کچھ خیالات عرض کرنا مقصود ہے- رشک کیا ہے؟ کسی بھائی کی نعمتوں پر نظر پڑے تو دل میں ان خیالات کو اپنایا جائے.. - میرا بھائی خوش نصیب ہے ماشاءاللہ - اے اللہ اس کی اس نعمت کو اور بڑھا دیں - اے اللہ اس بھائی کی نعمت کو اپنے دین کی سربلندی کے لئے قبول فرما لے .. - اے اللہ آپ سے کوئی سوال کرنے کا حق نہیں رکھتا .. - اے اللہ آپ کی تقسیم سب سے اچھی ہے ... - اے اللہ آپ کے خزانے لامحدود ہیں ، سو اپنے ان خزانوں میں سے مجھے بھی ایسی نعمتیں عطا فرمائیں . - اے اللہ مجھے اپنے شکرگزار بندوں میں سے شمار فرما ..
حسد کیا ہے؟ کہ جب کسی بھائی کی نعمتوں کو دیکھے تو ان خیالات کا آنا.. - آخر اس کو یہ نعمت کس وجہ سے ملی ہے؟ - آخر یہ اتنا مشہور کیوں ہے؟ - اس سے بہتر تو میں ہوں؟ - اس نے ایسا کونسا تیر مارا ہے جو اتراتا پھر رہا ہے؟

یہ اس مال، شہرت یا کامیابی کا اصل حقدار لگتا تو نہیں لیکن چلو اب قسمت اچھی ہے تو کیا کر سکتے ہیں.. - میرا اس سے ایسا کونسا تعلق ہے جو میں اس سے جلوں گا؟ حسد کے لئے دل میں اُٹھنے والے جذبات فطری ہوتے ہیں لیکن انہیں اپنی شعوری کوشش سے رفع کرنے، جھڑکنے اور اوپر بیان کردہ رشک کے خیالات سے تبدیل کر دینے کا اختیار ہمارے پاس ہمیشہ موجود ہوتا ہے - خیالات اور جذبات کا مسکن دِل ہے ، لہٰذا حسد جیسی بیماری کا علاج دراصل دل کی درست تربیت میں مضمر ہے-

ایک عجیب صورت حسد کی یہ بھی ہے کہ آپ کسی ایسے شخص سے حسد میں مبتلا ہوجائیں جس سے آپ کا بظاہر زندگی میں کوئی واسطہ نہیں مثلاً کوئی قومی یا عالمی اسپیکر ، کرکٹر یا کوئی دیگر اسٹار.. نیز حسد کی پہچان کے لیے یہ لازم نہیں کہ انسانوں میں قربت ہو، بلکہ اس کی کلیدی نشانی یہ ہے کہ حاسد کا اپنی اور دوسرے شخص کی تقدیر پر راضی نہ ہو - کوئی بعید نہیں کہ ہم عام عوام حکمران طبقے اور بالخصوص ممتاز سیاسی شخصیات سے بھی حاسد ہوں- اس کی تشخیص اور علاج کرنا ہم میں سے ہر فرد کی ذمہ داری ہے-

Comments

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

  • سبحان الله
    بہت خوبی سے رشک و حسد کو واضح کیا ۔ حسد ایک ایسی بیماری ہے جو معاشرے میں عام ہوچکی ہے اور اس کی تشخیص و علاج پر کوئی توجہ نہیں ۔ گھروں ، دفتروں ، کام کی جگہوں اور تعلیمی اداروں میں حسد کے اثرات اور اس کا وبال صاف محسوس کیا جا سکتا ہے لیکن اس کی اصلاح و علاج کی طرف کوئی توجہ نہیں ۔
    معاشرتی ترقی و اصلاح کے لیے اس قسم کی اخلاقی بیماریوں کی تشخیص و علاج کی طرف توجہ دلانے کی اشد ضرورت ہے ۔
    جزاک الله خیرا کثیرا