فری فار آل- روف کلاسرا

لگتا ہے ایک دفعہ پھر حکومت فری فار آل موڈ میں چلی گئی ہے۔ جس کا جو جی چاہے وہ اہم حکومتی متوقع فیصلوں بارے بریکنگ نیوز چلاتا رہے۔ حکومت تردید کرے گی نہ ہی تصدیق۔ یہ پہلی دفعہ نہیں ہو رہا جب حکمران اور بیوروکریسی ایسے ایکٹ کر رہے ہیں جیسے انہیں کچھ پتہ نہیں ہے کہ یہ ملک کون چلا رہا ہے۔
میں نے کسی حکومتی سینئر عہدے دار سے پوچھا: یہ کیا ہو رہا ہے؟ لگتا ہے کسی کو دلچسپی نہیں ہے۔ وہ بولے: کیا فرق پڑتا ہے؟ جس کے منہ میں جو کچھ آتا ہے وہ کہہ دے۔ یہ فری ملک ہے اور جمہوریت ہے۔
مجھے یاد آیا ایک دفعہ سابق وزیر اعظم گیلانی کے خلاف انگریزی اخبار میں سکینڈل چھپا اور میں نے ان سے پوچھا تو وہ بولے: یہ غلط ہے۔ میں نے کہا: تو پھر آپ نے اس کی تردید یا وضاحت کیوں نہیں کی؟ وہ بولے: کیا ضرورت ہے‘ کیا فرق پڑتا ہے۔ میں نے انہیں کہا تھا: سر جی فرق پڑتا ہے‘ اگر آپ نے غلط کام نہیں کیا تو ضرور وضاحت دیا کریں‘ آپ حکومت چلا رہے ہیں اور ایک دن یہ سب خبریں آپ کا پیچھا کریں گی۔ عوام میں تاثر بنتا جائے گا۔ اور وہی ہوا‘ وہ اب تک مقدمے بھگت رہے ہیں۔

میں چند لمحے سینئر عہدے دار کو دیکھتا رہا اور پھر بولا: میں کسی کی رائے کی بات نہیں کر رہا کہ اس سے فرق نہیں پڑتا‘ میں ایسی باتوں کی طرف اشارہ کر رہا ہوں جو اس ملک کے لیے بہت نقصان دہ ہیں۔ وہ بولے: کون سی ایسی بات ہے؟ میں نے کہا: یہی دیکھ لیں‘ جب سے آئی ایم ایف کی ٹیم نے پاکستان کا معاشی کنٹرول سنبھالا ہے‘ اس وقت کے بعد مسلسل ہر طرح کی خبریں ٹی وی چینلز پر چل رہی ہیں۔ مجھے لگا وہ مکمل بیزاری کی کیفیت میں ہیں اور بات کرنے کو ان کا جی نہیں چاہ رہا۔ دل کڑا کرکے کہا: میرا اشارہ اس طرف ہے‘ روز خبریں چل رہی ہیں کہ آئی ایم ایف کی ٹیم کی جو شرائط مان لی گئی ہیں وہ بہت سخت ہیں اور پاکستانیوں کی چیخیں نکل جائیں گی۔ بجلی، گیس اور پٹرول نے ابھی مزید مہنگا ہونا ہے۔ سات سو ارب روپے کے مزید ٹیکس لگنے والے ہیں۔ درجنوں ادارے اب نج کاری میں شامل ہو رہے ہیں‘ جس سے بیروزگاری کا طوفان آئے گا اور مہنگائی جو پہلے ہی کنٹرول سے باہر ہے‘ وہ لوگوں کا جینا حرام کر دے گی۔ ڈالر کا ریٹ بھی اپنی مرضی سے چینلز چلا رہے ہیں اور جو فگر دیا جا رہا ہے اسے سن اور پڑھ کر دورہ پڑنے لگتا ہے کہ اس ملک کے ساتھ کیا ہونے والا ہے۔

موصوف بولے: آپ کا کیا خیال ہے‘ ہمارا رویہ ایسا کیوں ہے کہ زمین جنبد نہ جنبد گل محمد؟
میں نے کچھ سوچ کر کہا: دو تین باتیں میرے ذہن میں آتی ہیں۔ پہلی بات یہ ہو سکتی ہے کہ حکومت خود چاہتی ہے‘ یہ سب خطرناک باتیں وہ اپنے وزیر سے نہ کہلوائیں بلکہ سارا میڈیا عوام کو خود ہی ذہنی طور پر تیار کرے کہ ان کا کیا حشر ہونے والا ہے‘ اور جان بوجھ کر میڈیا کو خبریں لیک کی جا رہی ہیں۔ اگر اس کا ردعمل سخت آیا تو حکومت کہے گی: جناب ہم نے کب کہا ہے کہ ڈالر اتنا اوپر جائے گا یا قیمتیں بڑھیں گی۔ یہ تو میڈیا بڑھکیں مار رہا تھا آپ انہی چینلز سے پوچھیں۔ ہاں اگر کوئی حسب معمول ردعمل نہ آیا تو حکومت آگے بڑھ کر یہ سب کام کرے گی۔
میں نے کہا: تیسری بات یہ ہو سکتی ہے کہ حکومت بھی انہی عوام سے آئی ہے اور جتنا عوام کو آئی ایم ایف کے پلان کا پتہ ہے اتنا ہی حکومت کو علم ہے۔ شاید عوام اور حکومت‘ دونوں کو ٹی وی چینلز اور اخبارات سے ہی معلوم ہو رہا ہے کہ آئی ایم ایف ان کے ساتھ کیا کرنے والا ہے۔ اس لیے وہ بھی ٹی وی پر بریکنگ نیوز دیکھنے کے لیے بیٹھے ہوئے ہیں۔
وہ مسکرائے اور بولے: اب آپ نے کام کی بات کی ہے۔ ہمیں بھی اتنا ہی علم ہے جتنا چینل کے ذریعے لوگوں کو پتہ چل رہا ہے۔ میں نے کہا: لیکن آپ کو اندازہ ہے کہ اس کے کیا خطرناک نتائج پیدا ہوں گے۔ باقی چھوڑیں اگر آپ نے ڈالر ریٹ پر یہ افواہیں چلنے دیں اور سب خاموش رہے تو مارکیٹ سے ڈالرز غائب ہو جائیں گے اور ڈالر کا ریٹ‘ جو آپ لوگوں نے اس سال کے اختتام تک طے کر رکھا ہے‘ ابھی سے وہی ہو جائے گا۔

یہ بات طے ہے کہ حکومت کے ہاتھ یا تو باندھ دیے گئے ہیں یا پھر انہیں بتا دیا گیا ہے کہ نو ماہ ہم نے انتظار کر کے دیکھ لیا‘ آپ کے بس کی بات نہیں۔ آپ لوگوں کی ٹیم کچھ نہ کر سکی ماسوائے دو تین وزرا کے اس لیے ہر طرف آپ کو قبرستان کی سی خاموشی لگتی ہے۔
اگر پارلیمنٹ کا اجلاس نہ چل رہا ہوتا تو شاید یوں لگتا‘ اس ملک میں بائیس کروڑ عوام نہیں رہتے۔ پارلیمنٹ کے اندر بھی حکومت کی طرف سے کوئی نظر آ رہا ہے تو وہ وزیر مواصلات مراد سعید ہیں۔ پارلیمنٹ میں اگر اپوزیشن کو میں نے کسی سے ڈرتے دیکھا ہے تو وہ مراد سعید ہیں۔ کوشش کی جاتی ہے کہ سپیکر کو تنگ کیا جائے اور شور شرابا کیا جائے تاکہ مراد سعید بات نہ کر سکیں۔ مراد سعید کی باتوں میں بہت وزن ہے جس کی وجہ سے اپوزیشن حملے نہیں کر پاتی بلکہ مزے کی بات یہ ہے کہ اپوزیشن ارکان کی کوشش ہوتی ہے‘ کسی طرح وہ مراد سعید سے پہلے ہی تقریر کر لیں اور ان کے جواب دینے سے پہلے وہ پارلیمنٹ سے باہر نکل جائیں۔ یہ حربہ کئی دفعہ آزمایا جاچکا ہے۔ سپیکر قومی اسمبلی کئی دفعہ اچھے تعلقات کے چکر میں اپوزیشن کو پہلے تقریروں کا موقع دے کر دیکھ چکے ہیں۔ اپوزیشن تقریریں کرکے واک آوٹ کر جاتی ہے اور حکومتی بینچز جب تقریریں کرنے لگتے ہیں تو اپوزیشن سائیڈ خالی ہوتی ہے۔ اس کا حل یہ نکالا گیا تھا کہ آئندہ ایک ایم این اے اپوزیشن اور ایک حکومت کی طرف سے تقریر کرے گا۔ لیکن یہ انتظامات بھی زیادہ دیر تک نہ چل سکے۔

اب حالت یہ ہو چکی ہے کہ سخت قسم کا جمود چل رہا ہے۔ حکومت اور اپوزیشن پوائنٹ آف نو ریٹرن تک جا پہنچے ہیں۔ دونوں اطراف سے فائر ورک دیکھنے میں آ رہا ہے۔ اپوزیشن کی کوشش ہے ہائوس نہ چلے کیونکہ زرداری، شہباز شریف اور بلاول کو یہ بات سوٹ کرتی ہے کہ سارا سسٹم اسی طرح روک دیا جائے جیسے کبھی عمران خان نے روک دیا تھا۔ آپ یہ بھی کہہ سکتے ہیں‘ یہ سب کرما ہے۔ آپ جو کچھ کرتے ہیں وہ لوٹ کر آپ کے پاس واپس آتا ہے۔ عمران خان صاحب نے جو کچھ اس پارلیمنٹ کے ساتھ کیا تھا‘ اب اس کا نشانہ وہ خود بن گئے ہیں۔ ایک وقت تھا‘ عمران خان پارلیمنٹ کو سیریس نہیں لیتے تھے‘ اب عمران خان کی پارلیمنٹ کو اپوزیشن سیریس نہیں لے رہی اور یوں حالات تیزی سے اس طرف جا رہے ہیں جہاں لگتا ہے کچھ عرصے بعد جمہوریت کو سخت خطرات کا سامنا کرنا ہو گا۔ شاید اپوزیشن کی یہی کوشش ہو گی کیونکہ انہیں لگتا ہے‘ عمران خان کے ساتھ ان کی لڑائی اتنی آگے جاچکی ہے کہ اب وہ دونوں ایک میز پر بیٹھ کر مسائل کا حل نہیں کر سکتے۔

عمران خان بار بار ایک ہی بات کہتے ہیں‘ اپوزیشن سے صلح سے مراد ہے کہ ان پر قائم کیے گئے مقدمے اور اربوں روپوں کی کرپشن کو بھول جائیں۔ اب عمران خان یہ قیمت دینے کو تیار نہیں تو اپوزیشن اس سے کم ڈیل پر راضی نہیں ہو رہی اور یوں ملک پس کر رہ گیا ہے۔ اپوزیشن حکومت کی بہت اہم ایشوز پر پٹائی کر سکتی تھی‘ لیکن وہ محض نواز شریف، زرداری کے مقدمات میں پھنس کر رہ گئی ہے۔ اگر عمران خان نے چار سال نواز شریف کو نہیں چلنے دیا تھا تو چلنے عمران خان کو بھی نہیں دیا جا رہا‘ لہٰذا عمران خان کو ان اہم ایشوز میں کوئی دلچسپی نہیں کہ ڈالر کے ریٹ بارے کیا پیش گوئی کی جا رہی ہے اور کوئی وزیر بھی پریس کانفرنس میں کوئی بات کرنے کو تیار نہیں۔
تو کیا عمران خان صاحب کو اسی دن کے لیے لایا گیا تھا کہ سب کچھ فری فار آل ہوگا؟ جس کا جی چاہے وہ ڈالر کر ریٹ اوپر لے جائے یا پھر سات سو ارب روپوں کے نئے ٹیکس لگانے کی خبریں بریک کرے اور حکومت چپ رہے۔
حکومت کی آئی ایم ایف سے خوفزدہ کر دینے والی شرائط کی خبروں پر حیران کن خاموشی سے دو باتیں ذہن میں آتی ہیں: یا تو حکومت نااہل ہے یا پھر انہی کے ساتھ ملی ہوئی ہے!