ملحدین کے سطحی سوالات اور ہمارے نوجوان - عاطف الیاس

عموما ملحدین جب نوجوانوں کا ذہن خراب کرنے کی کوشش کرتے ہیں ، تو سب سے پہلے ان کے ذہن میں بنیادی عقائد بارے تشکیک یعنی شکوک و شبہات پیدا کرتے ہیں . جو ذہن ان شکوک و شبہات کو قبول کرلیتا ہے، پھر اسے اپنی راہ پر چلانا مشکل نہیں رہتا. عموما یہ تشکیکی سوالات بہت سطحی اور غیر منطقی ہوتے ہیں. یعنی جنھیں ذرا سا غور و فکر سے یا پڑھ لکھ کر یا کسی صاحبِ علم سے پوچھ کر سمجھا جاسکتا ہے اور اپنے ذہن کو یقین و ایمان کے نور سے منور رکھاسکتا ہے.
عموما سوالات اس قسم کے ہوتے ہیں .

مثلا : اگر اللہ نے سب کو پیدا کیا ہے تو اسے کس نے پیدا کیا ہے؟ اگر اللہ محبت کرتا ہے تو زلزلے سیلاب کیوں آتے ہیں؟ جو نیک ہے، وہ مشکلات سے کیوں دوچار رہتا ہے؟ وغیرہ وغیرہ
ایک سلیم فطرت انسان ان سوالوں پر ذرا سا غور و فکر کر کے ان کا سطحی اور غیر منطقی ہونا فورا جان لیتا ہے. لیکن بدقسمتی یہ ہے کہ اس سیکولر اور لبرل ماحول میں، ایک نوجوان جسے دین کی بنیادی تعلیم کے الف ب کا علم نہیں، یا وہ مدرسے اور اہل مذہب کی چیرہ دستیوں کا شکار رہا ہے، یا وہ گناہوں کی طرف مائل ہے، یا وہ زندگی میں پابندیوں سے آزادی کا طلب گار ہے، یا وہ میڈیا پر آنے والے ہر شخص کو عالم سمجھ کر حرفِ آخر مانتا ہے، ایسا نوجوان ان غیر عقلی شکوک و شبہات کا شکار ہو کر اپنی دنیا و آخرت برباد کرنے نکل پڑتا ہے. وہ ان پر غوروفکر کا تردد ہی نہیں کرتا. گویا وہ پہلے ہی سے کھائی میں گرنے کے لیے تیار بیٹھا ہوتا ہے کہ کوئی آئے اور اسے دھکا دے. میں سمجھتا ہوں کہ اس سارے معاملے میں ریاست سب سے زیادہ قصور وار ہے جو آج سیکولر اور لبرل بنیادوں پر کھڑی ہے اور جان بوجھ کر لوگوں کو سیکولر، لبرل اور پھر ملحد بننے کی سہولت دے رہی ہے. میں ایسے بہت سے لوگوں کو ذاتی طور پر جانتا ہوں جنھیں ماحول نے، اہل مذہب کے غلط رویے نے یا ان کے ذاتی رجحان نے بغاوت پر اکسایا اور وہ بغیر سوچے سمجھے حزب الشیاطین سے جاملے. اسی لیے یہ بالکل ٹھیک بات ہے کہ آج جسے اہل مغرب "علم کا دور" کہتے ہیں، وہ دراصل "فتنوں کا دور" ہے.

ابھی کل ہی ایسے چند سوالات ایک طالب علم کی طرف سے ان باکس کیے گئے. یہ سوالات پڑھ کر جان لینا مشکل نہیں کہ صرف شکوک و شبہات پیدا کرنے کے لیے، انسانوں کی نالائقی اور نافرمانی کا نتیجہ بھی اللہ کے کھاتے میں ڈال دیا گیا ہے.
سوالات یہ ہیں: "اگر اللہ بہترین رزق دینے والا ہے تو لوگ بھوک سے کیوں مرتے ہیں ؟ اللہ تعالی رازق ہے، رزق دینے والا ہے تو پھر زکوت کا مطالبہ کیوں کرتا ہے ؟
امیروں کو زیادہ کیوں دیتا ہے اور غریبوں کو کم کیوں؟"
اب ذرا غور کیجیے کہ ان تمام سطحی سوالات کا صرف ایک ہی سادہ سا جواب ہے. صرف تھوڑا سا غور کرنے کی ضرورت ہے.
جواب: اللہ رازق ہے یا بہترین رزق دینے والا ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اس نے زمین پر، اس کے اندر، اس کے باہر، تمام انسانوں کے لیے مختلف شکلوں میں وافر اور بہترین رزق پیدا کیا ہے. آج زمین کا کل رزق یعنی کل پیدوار ایک اندازے کے مطابق ایک سو ٹریلین ڈالر سے زیادہ ہے. اب اللہ خود تو ہر انسان کو گھر میں رزق دینے نہیں آئے گا بلکہ اس نے اس رزق کی تقسیم کی ذمہ داری اپنے نائب انسان پر ڈال دی ہے. اس کے ساتھ ، تقسیم کے لیے ضروری قوانین بھی نازل فرما دیے تاکہ اسے مشکل پیش نہ آئے یا وہ غلطی نہ کرے. ان قوانین کو اسلام کا معاشی نظام یا معاشی قوانین کہا جاتا ہے.

ان قوانین کی خوبی یہ ہے کہ ان کے ذریعے یہ رزق پورے معاشرے میں اس طرح گردش کرتا ہے کہ باوجود امیر غریب کے فرق کے لوگ اپنی ضروریات بہ خوبی اور بہ عزت پوری کرسکتے ہیں. کوئی بھوک سے نہیں مرتا، کوئی غربت سے خود کشی نہیں کرتا. کوئی ساہوکاروں یا بینکوں کے پھندے میں نہیں پھنستا بلکہ رزق کمانے کے سب کو یکساں اور برابر مواقع میسر آتے ہیں. گویا یہ نظام "دولت کی گردش" پر توجہ دیتا ہے. ضروری بات یہ ہے کہ یہ سب ہوائی باتیں نہیں بلکہ تیرہ سو سال کی تاریخ ہے. مدینہ کی اسلامی ریاست سے لے کر خلافتِ عثمانیہ کے سقوط تک، یہ سب کچھ عملی طور پر موجود رہا ہے. ہاں کہیں انسانوں کی ذاتی کوتاہی سے کوئی مسئلہ ہوا ہو تو علیحدہ بات ہے. اب ہوا کچھ یوں کہ پچھلی دو صدیوں میں انسان کے نظم اجتماعی نے اللہ کے دیے ہوئے قانون یا نظام سے بغاوت کی اور رزق تقسیم کرنے کے نئے قوانین خود بنائے، جنھیں آج ہم سرمایہ دارانہ نظام کہتے ہیں. جو قریبا پچھلی ایک صدی سے پوری دنیا پر جبرا غالب آچکا ہے، بشمول مسلم ممالک کے بھی. اس نظام کی خوبی یہ ہے کہ یہ "دولت کی گردش" سے زیادہ "دولت کے ارتکاز" پر توجہ دیتا ہے. یعنی اس میں دولت اوپر کی طرف منتقل ہوکر چند ہاتھوں میں اکٹھی ہوتی رہتی ہے، یہی وجہ ہے کہ اس نظام یا قوانین کی بدولت دنیا کے صرف ساٹھ لوگ آدھی دنیا سے زیادہ امیر ہوچکے ہیں. یعنی ان کی دولت پانچ ارب لوگوں کی دولت سے زیادہ ہے.

ایک فیصد آبادی کے ہاتھوں میں ننانوے فیصد آبادی سے زیادہ دولت اکٹھی ہوچکی ہے. دوسری طرف دنیا کی آدھی آبادی غربت میں پس رہی ہے، بنیادی ضروریات سے محروم، روزی روٹی سے محروم، جانوروں کی طرح زندگی گزار رہی ہے. دنیا کے ہر خطے میں امیر غریب کا فرق بڑھ چکا ہے. اس تمام صورتِ حال کو بہ نظر غور دیکھنے کے بعد اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ قصور وار کسے ٹھہرایا جائے؟ خدا کو یا انسانوں کے بنائے ہوئے سرمایہ دارانہ نظام کو؟
اللہ تو بہترین رزق دینے والا ہے، سو ٹریلین ڈالر کا رزق! کیا یہ ہماری نالائقی اور نافرمانی نہیں کہ سرمایہ دارانہ نظام نے سارا کا سارا رزق "ایک فیصد" لوگوں کی جھولی میں ڈال دیا ہے. اگر اس سو ٹریلین ڈالر کو برابر برابر بھی تقسیم کیا جائے(اگرچہ یہ اسلام کا مدعا نہیں) تو بھی ہر شخص کے حصے میں قریبا دس ہزار ڈالر آتے ہیں یعنی قریبا پندرہ لاکھ روپے سالانہ. ذرا سوچیے میرے گھر کے دس افراد کے حصے میں ڈیڑھ کروڑ روپیا سالانہ آتا ہے. کیا یہ بہترین رزق نہیں؟ کیا اللہ ہی بہترین رازق نہیں؟ کیا ہم پھر بھی ناشکرے اور نافرمان نہیں؟ بےشک وہی بہترین رازق ہے. بے شک وہی بہترین پروردگار ہے. بے شک وہی بہترین رب ہے.
بس وہ یہ چاہتا ہے کہ اس کے دیے ہوئے رزق میں سے، اس کے بتائے ہوئے طریقے اور الہامی ہدایت کے ذریعے، ہر شخص بہ قدرِ ہمت اور حلال طریقے سے اپنا نصیب حاصل کرے.

Comments

عاطف الیاس

عاطف الیاس

عاطف الیاس ایک نجی کالج میں پڑھاتے ہیں. لکھنے پڑھنے، پھرنے پھرانے اور ٹریکنگ کے شوقین ہیں. عالم، فاضل یا دانشور جیسے الفاظ انھیں زیب نہیں دیتے اس لیے محض اپنی طالب علمانہ رائے کا اظہار کرتے ہیں، لیکن بالیقین نظریاتی طور پر عالم اسلام اور تمام انسانیت کے مسائل کا حل اسلام کے عملی نفاز میں دیکھتے ہیں.

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.