ختم ہو گیا سب کا ویٹ، کیونکہ اب آ رہی ہیں۔۔۔بلی! - عذیر سوریا

“دوستو، گھبرانا نہیں، یہاں نہیں پڑ سکتی کوئی ریڈ، ختم ہو گیا سب کا ویٹ، کیونکہ اب آ رہی ہیں۔۔۔بلی!”
ایک ویڈیو دیکھ رہا تھا جس میں مادر علمی (PMC) کے طلبا مہوش حیات کے اس مشہور آئٹم نمبر پے “پرفارم” کر رہے تھے، شاید اسپورٹس کا کوئی فنکشن تھا۔ کافی حیرت ہوئی کہ آخر اسپورٹس کے فنکشن پر مہوش حیات (تمغہ امتیاز) کے آئٹم سانگ کی پرفارمنس کا کیا کام؟ پھر خیال آیا کہ باقی اداروں میں بھی یہی چل رہا ہے۔ کل ایک دانشوڑ کو اس کا دفاع کرتے پڑھا تو رہا نہیں گیا۔

زوال زدہ قوموں کا خاصہ ہے کہ ان کے افراد میں تعلیم سے لے کر تفریح تک (ہر چیز کا) معیار بتدریج گرتا جاتا ہے ۔ ہم مذکورہ تعلیمی ادارے کی بات کریں تو عام سی تعلیم ہے، لوگ ڈاکٹر بنتے ہیں اور مریضوں کا علاج کرتے ہیں ۔ کوئی تحقیق یا ریسرچ کا رواج نہیں ۔ بس لکیر پیٹ کر جیسے باقی کالجوں میں کام چلتا ہے ویسا چل رہا ہے۔ چلو وہ تو جیسے تیسے چلتا رہے، موضوع غیر نصابی سرگرمیوں کو بناتے ہیں۔ آپ دیکھیں طلباء کا انٹرٹینمنٹ کیا ہے: آئٹم سانگ بلی کے گھٹیا سے لیریکس اور میوزک پر چار پانچ لڑکوں کا اسٹیج پر ناچنا اور اپنے میں سے ایک کو دوپٹا پہنا کر خوش ہو لینا ۔ اس پر پورا کراؤڈ (طلبا و طالبات کا) چیئر کرتا ہے۔ اخے یہ کریم آف دا نیشن ہونے کے دعویدار ہیں! پھر آپ انتظامیہ کا معیار دیکھیں۔ یہ وہ ہیں جنہیں والدین والا منصب ملا ہوتا ہے۔ اگر پانچ سال کا بچہ صبح شام آئیسکریم مانگے تو ذمہ دار والدین بات نہ مانتے ہوئے اسے صحت مند غذا کی طرف مائل کریں گے اور ہفتے میں ایک آدھ بار شاید فرمائش پوری کر دیں گے۔ چلو طلبا تو ٹھہرے ذہنی نابالغ، ان کا تو ہارمونز کی وجہ سے لچر گانوں سے مخلوط محفل میں لطف لینے کا جی چاہتا ہے۔ بات سمجھ آتی ہے۔ مگر اس کی اجازت دینے والوں کا کیا کہیں؟ بنیادی طور پے یہی ذہنی نابالغ طلبا بیس سال بعد “انتظامیہ” ہوں گے۔ اگے تسیں آپ سمجھدار او۔

ہارمونز بھی شاید ان کے ساری عمر کنٹرول نہیں ہوتے! (زوال زدہ قوموں کا ایک خاصہ حد سے بڑھی ہوئی جنسی فرسٹریشن بھی ہے)
آپ کسی بھی تعلیمی ادارے پے نظر دوڑا لیں، طلبا سب سے زیادہ انجوائے کرتے ہیں جب گھٹیا گانے اونچے والیم پے چلتے ہیں اور چند بھانڈ اندر سے اٹھ کر ان کی لے پے ٹُھمکے لگاتے ہیں۔ انسان کا سب سے بنیادی انسٹینکٹ (instinct) سیکس ہے۔ جو چیز اس کو اپیل کرے گی یہ اس کی طرف راغب ہو گا۔ پچانوے فیصد گانے گھوم پھر کے اسی طرف آتے ہیں۔ چلیں میں مفتی بن کر یہ نہیں کہتا کہ گانے مت سنو یا مخلوط محفلیں مت ارینج کرو (کیونکہ کچھ روشن خیال بھائی پھر کہیں گے کہ مخلوط تعلیم ہو سکتی ہے تو مخلوط محفلیں کیوں نہیں)، میں بس اتنا پوچھتا ہوں کہ مخلوط محفل میں ہارمونز کے سیلاب میں بہے جانے کو تیار ٹین ایجروں کو اکٹھا بٹھا کر آئٹم سانگ چلانے کی کیا تُک ہے؟ کوئی فنکشن بھی ہو، یہاں کریم آف دی نیشن کا بھی ذوق اور معیار یہی ہے کہ سوائے لچر گانوں کے یہ اینجوائے نہیں کر سکتے۔ کوئی creative یا تعمیری آرٹ فارم اگر غلطی سے پیش کر بھی دی جائے تو حاضرین بڑے بڑے مونہہ کھول کے جماہیاں لینے لگتے ہیں۔ خون میں گرمی بس تیز بیٹ والے لچر گانوں سے پیدا ہوتی ہے۔ ذہن بند مزدور تیار کرنے والا تعلیمی نظام، پھر مستزاد لکیر کے فقیر اساتذہ و طلبا۔ یہ لوگ زیادہ تر وقت rat race میں بھاگنے کے بعد اپنے دماغ کو کسی تعمیری سرگرمی میں لگانا افورڈ نہیں کر پاتے۔

تو آخر کو وہی سرگرمی اچھی لگتی ہے جو دماغ کو چھوڑ کر جسم کے باقی اعضاء میں خون کی گردش تیز کروائے۔ جیسے نشئی کو سُوٹے کی ضرورت پڑتی ہے، ان بے ہوشوں کو بے ہوشی مزید گہری کرنے کے لیے یہ سستے انٹرٹینمنٹ درکار ہوتے ہیں۔ “ناچ گانا اب ہر جگہ عام ہے”، “یہ بچے تو نہیں ہیں”، “تھوڑا مارجن دینا چاہیے انجوائی منٹ کا”، “دقیانوسی سوچ ترک کر دیں، گوروں نے سب کچھ کھول کھال کے ہی ترقی کی ہے”۔۔۔دانشوروں سے عرض ہے: گورا پڑھنے کی جگہ پر پڑھائی کرتا ہے، تحقیق میں ہم سے آگے ہے، کام کی جگہ پر ڈٹ کے کام کرتا ہے، فارغ ٹائم میں دل کھول کر انجوائے کرنے سے پہلے وہ جو کام کرنے کے ہوتے ہیں ان سے انصاف کر چکا ہوتا ہے۔ اور اسی لیے آگے ہے۔ آپ مغرب کی ساری اچھی باتیں (جن پر عمل کرنے پے محنت صرف ہوتی ہے) کو چھوڑ کر ان کا سارا گند اپنے سر پے اٹھا کر ترقی کرنے کے خواہشمند ہیں۔آپ پڑھنے کی جگہوں کو کلب بنانے پر تُلے ہیں، کام کی جگہوں پے کام چور ہیں۔ کلبوں اور قحبہ خانوں میں گورے اپنی جنسی توانائی نکال لیتے ہیں مگر آپ ورک پلیس اور پبلک پلیسز پے اپنا اندر کا گند باہر انڈیلتے پھرتے ہیں۔ نہ آپ گورے کی ترقی کے اسباب کو سمجھ سکے نہ اپنے زوال کے اسباب کو۔ نہ آپ کا ورک/اسٹڈی ایتھک کسی جوگا اور نہ آپ کا ذوق/حسِ لطافت/انٹرٹینمنٹ کا معیار کسی کام کا!
؏ “نہ خدا ہی ملا نہ وصالِ صنم۔۔۔”