ترکی میں عثمانیوں کے رمضان کی روایات - عالم خان

سیکولر ترکی میں اب بھی عثمانیوں کی اولاد زندہ ہے اور اپنے آباء و اجداد کے نقش وقدم پر رواں دواں ہیں اور اپنی روایات کو فرض سمجھ کر برقرار رکھتے ہیں موسم سرما آتے ہی پرندوں کے لیے تیار گھونسلے لگانے ہوں یا برف باری میں پہاڑوں کے چوٹیوں پر پرندوں کے لیے دانے پھیلانا ہو اس قوم کو ورثے میں ملی اقدار ہیں۔

ترک قوم کی ایک بہترین روایت یہ بھی تھی کہ جہاں بھی تندور ہو وہاں صاحب ثروت لوگ پیسے جمع کرتے تھے اور تنگ دست لوگ وہاں سے اپنے بچوں کے لیے کسی کے آگے ہاتھ پھیلانے یا احسان مند ہوئے بغیر مفت روٹیاں لے جاتے تھے الحمد للّٰہ یہ روایت آج بھی برقرار ہے رمضان آتے ہی تندوروں پہ لوگ جاتے ہیں اور پیسے جمع کرتے ہیں اور مستحقین عزت کے ساتھ شام کو افطاری سے پہلے بچوں کے لیے روٹیاں لے جاتے ہیں لیکن ایمانداری کا حال یہ ہے کہ تندور کا مالک جہاں ایک ایک روپے کا حساب رکھتا ہے وہاں جس کے پاس ایک روٹی خریدنے کے لیے پیسے ہیں تو وہ مفت میں لینے سے نہ صرف انکار کرتا ہے بلکہ اسکو اپنے تنگ دست مسلمان بھائی کے حق پہ ڈاکہ ڈالنا تصور کرتا ہے۔

پچھلے رمضان کی بات ہے کہ میں ایک کولیگ کے ہاں افطاری کرنے جا رہا تھا وہ مصروف تھا اس لیے مجھے روٹی لانے کی زمہ داری دی تندور سے ترکش بریڈ (افغانی نان طرز کی روٹی ) لینے کے لیے مجھ سے پہلے ایک سفید ریش بابا جی کھڑے تھے تندور کے مالک نے تین روٹیاں دی باباجی نے ایک روٹی واپس کردی اور کہا میرے پاس صرف دو روٹیوں کے پیسے ہیں کاؤنٹر پہ بیٹھے نوجوان نے کہا اس کے پیسے میں نہیں لیتا ہوں لیکن اس نے یہ کہہ کر انکار کیا کہ ہمارے لیے دو روٹیاں کافی ہیں جس کے پیسے میرے پاس ہیں اس لیے کسی اور کا حق نہیں لے سکتا ہوں، میں یہ پورا مکالمہ سن رہا تھا اور دل ہی دل میں سوچ رہا تھا اے کاش ! یہی احساس اور شعور ہمارے ہاں بھی پیدا ہوجائے تو کسی کی کے گھر میں بچے افطاری کے وقت خالی دستر خواں پہ نہیں بیٹھیں گے۔

یہ بھی پڑھیں:   ترکی کو F-35 طیاروں کی فروخت رکوانے میں اسرائیل کا ہاتھ ہے

بے شک رمضان نعمتوں کا مہینہ ہے لیکن اپنے ارد گرد موجود تنگ دستوں کا خیال رکھیں آپکے بچوں کے سامنے دسترخواں پہ موجود فروٹ اور رنگ برنگ کھانوں میں نادار ہمسائیہ کے بچوں کو بھی یاد کریں ایسا نہ ہو کہ آپکے گھر کے کھانے کی خوشبو یا پلیٹوں کی اواز کسی بچے کو اپنے والدین سے کہنے پہ مجبور نہ کرے کہ ان کے گھر میں کتنا زیادہ اور اچھا کھانا بنتا ہے نا، ہم کب بنائیں گے ماں؟؟
یقین کرے آپکی پلیٹوں اور چمچوں کی اواز موسیقی کی وہ قسم ہے جس کے بارے کسی دانا نے فرمایا تھا جب اس سے پوچھا گیا! کس قسم کی موسیقی حرام ہے؟
اس نے کہا! کہ مالداروں کے برتنوں میں چمچوں کی وہ آواز جب اس کو نادار سنتے ہوں۔

Comments

عالم خان

عالم خان

عالم خان گوموشان یونیورسٹی ترکی، میں فیکلٹی ممبر اور پی ایچ ڈی کے طالب علم ہیں۔ اسلام اور استشراقیت ان کی دلچسپی کا موضوع ہے۔ دلیل کے مستقل لکھاری ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.