جامعہ کراچی کے اساتذہ کے خلاف مہم کے پیچھے کون؟ وجوہات کیا ہیں؟ ابوسعد

جامعہ کراچی کی چھوٹی مسجد میں رات دیر گئے داخل ہوئے تو سارے دن کی دھوڑ دھوپ کے بعد تھکن سے بری حالت تھی ۔ اچھی طرح اندازہ تھا کہ نماز فجر سے قبل ہی بیدار کردئے جائیں گے اس لیے فوری طور پر جائے نماز کے طور پر استعمال کی جانے والی دریاں اٹھا کر اپنے اوپر اوڑھ لیں اور سوگئے تاکہ دو گھنٹے کی نیند تو ہوسکے ۔

اصل میں جامعہ کراچی میں ہمارا ٹولہ ایسے نوجوانوں پر مشتمل تھا جن کے بارے میں عمومی رائے یہ تھی کہ یہ تھی کہ ’’سدھر نہیں سکتے‘‘۔ رات کا جانے کون سا پہر تھا جب دیکھا کہ ناظم اسلامی جمعیت طلبہ اسامہ شفیق اپنے ان بگڑے ہوئے کارکنوں کے سرہانے کھڑے ان پر لحاف کے طور پر استعمال کی جانے والی دریاں درست کررہے تھے۔ اور پھر رات کا کچھ حصہ مزید گزرا تو نماز کا وقت ہونے پر بیدار کرنے کے لیے ان کی قدرے بلند آواز آنا شروع ہوگئی۔ اسلامی جمعیت طلبہ کے ناظم کے طور پر اسامہ شفیق بھائی کے دور میں ملک گیر سطح پر کئی مہمات چلیں، مشرف کے طلبہ دشمن دور میں کسی بھی تنظیم کے ذمہ دار کے لیے لمحہ لمحہ بدلتے حالات کے تناظر میں فیصلے کرنے آسان نہ تھے ۔ اسامہ شفیق کی شخصیت بطور طالبعلم رہنما بھی ایسی تھی کہ جس نے پرویزی دور طلباء دشمن پالیسیوں کے خلاف تمام طلبہ تنظیموں کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کیا اور جدوجہد شروع کردی ۔ اس دوران رینجرز کے وحشیانہ تشددکا نشانہ درجنوں طلباء کے ساتھ ساتھ اسامہ شفیق بھی بنے۔ انھوں نے بطور رہنما طلباء کے دلوں کو مسخر کیا۔ دلچسپ بات یہ کہ اس تحریک کے دوران پنجابی اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن کا کارکن ظفر باجوہ جو بعد میں پی ایس ایف جامعہ کراچی کا صدر بھی منتخب ہوا ، نے اسامہ شفیق کے بارے میں کہا کہ ’’اس شخص کی وقت فیصلہ کمال کی اور وقت ارادی انتہائی مضبوط ہے، انتظامیہ کے لیے اسے توڑنا آسان نہیں ہوگا‘‘ ۔

اس تحریک کے اختتام پر تمام طلباء تنظیمیں اس شخص کا احترام ایسے ہی کرتی تھیں جیسے اپنے کسی ذمہ دار کا کرتی ہوں۔ آج وہ اسامہ شفیق جامعہ کراچی میں استاد کے فرائض انجام دے رہے ہیں اور ڈاکٹر اسامہ شفیق بن چکے ہیں ۔
ان سے تعلق کو دو دہائیوں سے زائد عرصہ بیت گیا ہے اور آج بھی ان سے کہیں سامنے ہوجائے تو احترام میں نگاہیں جھک جاتی ہیں۔حال ہی میں جیو نیوز پر ایک خبر سامنے آئی جس میں ڈاکٹر اسامہ شفیق پر الزام عائد کیا گیا تھا کہ وہ طالبات کو ہراساں کرنے میں ملوث ہیں ۔ یہ خبر سنتے ہی دماغ بھک سے اڑ گیاکہ عمر کا وہ حصہ کہ جہاں بہکنے کے مواقع زیادہ ہوتے ہیں، جہاں رنگینیوں قدموں میں لڑکھڑاہت پیدا کردیتی ہیں۔ یہ شخص جدیدیت کے نام پر مادر پدر آزاد ماحول کے خلاف لڑتا رہا اور طلبہ کو ’’اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے بتائے ہوئے اصولوں کے مطابق انسانی زندگی کی تعمیر کے ذریعے رضائے الٰہی کے حصول‘‘ کا نصب العین پڑھاتے رہا ، اس پر یہ بہتان کیسے باندھے جاسکتا ہے۔
پھر خبر کے ساتھ ہی رپورٹ کے نام پر نظر پڑی ’’عسکری‘‘، تو سارا منظر ایک دم سے صاف ہوگیا۔ بغض تعصب ، فرقہ واریت سے آلودہ زہن، مال وزر کی ہوس میں مبتلا زہنی مریض شخص کہ جس کا ماضی اس کا آج دکھانے کے لیے کافی ہے۔ جامعہ کراچی کے کلینک پر جب ڈاکٹر کی بھرتی کا معاملہ اٹھا تو معروف روزنامے کے اسی رپورٹر نے جامعہ کے سارے قواعد کو پامال کرتے ہوئے اپنی بیوی کو بھرتی کروالیا۔ قواعد کے مطابق ڈاکٹر کی اس اسامی کے لیے سندھ کے ڈومیسائل کے حامل امیدوار کو فوقیت دی جانی تھی مگرسندھ کے 17 امیدواروں کی موجودگی میں اس نے بلوچستان کا ڈومیسائل رکھنے اور اوسط نمبروں سے سند حاصل کرنے والی اپنی اہلیہ کو بھرتی کروا لیا۔

یہ بھی پڑھیں:   تربت کے متاثر اساتذہ اور نمائندوں کی خاموشی - گہرام اسلم بلوچ

ماضی آئینہ دکھانے کو کافی ہوتا ہے بات صرف اہلیہ کی ہی نہیں جامعہ کراچی کے ہی ایک شعبے میں اپنے بھائی کو اسٹاف کے طور پر بھرتی کرایا۔ پھر بطور ایجوکیشن رپورٹر نقل مافیا کے ساتھ اس کے تانے بانوں کی کہانیاں بھی کراچی پریس کلب کے تعلیمی رپورٹروں کے زبان پر عام ہیں۔ اس ماضی کے ساتھ ساتھ اگر ڈاکٹر اسامہ شفیق کے معاملے میں اس شخص کو دیکھا جائے تو اس کا آج اس کے غلیظ ماضی سے علیحدہ نہیں ہے۔ اس معاملے کی تفصیل اس کے بھیانک ماضی سے زیادہ غلاظت سے لتھڑی ہے۔ معروف روزنامے کے اس رپورٹر نے جامعہ کی انتظامیہ پر دبائو ڈال کر ستمبر 2017 میں وزیٹنگ فکیلٹی ممبر کے طور پر ہزار روپے معاوضہ کے عوض جامعہ کراچی میں لیکچرر شپ حاصل کرلی۔ نااہلی کی بنیاد پر رواں سال اس کے کنٹریکٹ میں انتظامیہ نے توسیع سے انکار کردیا۔ دوسری جانب سلیکشن بورڈ میں پیش ہونے سے قبل ہونے والی اسکروٹنی کے عمل کو ہی یہ نااہل شخص کلیئر نہیں کرسکا۔ اپنی ناکامیوں کا بدلہ ماس کمیونی کیشن کے اساتذہ سے لینے کی ٹھانی اور مدد کے لیے بھی اپنے ہی جیسے خبیث کو چنا۔ تہہمیص مہدی نامی طالبعلم جو ڈیپارٹمنٹ میں تین پرچوں میں فیل ہونے کے باوجود ایم فل میں داخلہ چاہتا تھا اور دھونس دھمکیوں کے ذریعے پرچوں میں کامیاب ہونا چاہتا تھا۔ اس شخص نے ڈاکٹر اسامہ شفیق کو دھمکانے کی کوشش کی تو انھوں نے انتظامیہ کو اس سارے معاملے سے آگاہ کردیا ۔

اپنے اجداد کی طرح سازشوں کی ایک طویل تاریخ رکھنے والے شعبہ صحافت پر کلنک عسکری نے ڈاکٹر اسامہ شفیق اور نعمان انصاری پر طالبات کو ہراساں کیے جانے کا الزام عائد کردیا۔ اور حق کی آواز ہونے کے دعویدار اپنے اخبار روزنامہ جنگ اور ٹی وی چینل جیو پر خبروں کی بھرمار شروع کردی۔ مگر رپورٹر کا لبادہ اوڑھے شیطان صفت شخص یہ بھول گیا کہ اس کا ماضی بھی لوگوں کے سامنے ہے اور ڈاکٹر اسامہ شفیق اور نعمان انصاری کا بھی۔ ڈاکٹر اسامہ شفیق کو دھمکا کر یا بلیک میل کرکے راہ بدلنے پر مجبور کردینا مشکل ہی نہیں ناممکن ہے۔ جامعہ کراچی اپنی جانب سے موقف جاری کرچکی ہے کہ طالبات کی جانب سے ہراساں کیے جانے کی کوئی درخواست موصول نہیں ہوئی۔ دوسری جانب جامعہ کے شعبہ تعلقات عامہ کی جانب سے ملک کی معروف جامعہ کے خلاف بے بنیاد خبروں کی مذمت کے حوالے سے بھی اعلامیہ جاری کردیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ انصاف اسٹوڈنٹس فیڈریشن کا نام استعمال کرکے بہتان باندھنے والے طالبعلم مہدی کے خلاف انصاف اسٹوڈنٹس فیڈریشن کے مقامی صدر نے اپنی مرکزی باڈی کو بھی اس سازش سے آگاہ کردیا ہے (تمام دستاویزات موجود ہیں)۔ سب سے بڑی بات یہ کہ اسی بہتان کا سامنا کرنے والے دونوں اساتذہ نے انصاف کے لیے عدالت سے رجوع کرلیا ہے۔ اور ایسے رپورٹرز اور اس سازش میں شریک افراد کو عدالت میں لے جانے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ دونوں اساتذہ پیمرا میں بھی جاچکے ہیں۔ اب عدالت اور پیمرا ان اساتذہ کے موقف پر کیا جواب دیتے ہیں یہ آنے والے دنوں میں سامنے آ جائے گا۔ ان شاء اللہ

Comments

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

  • Apparently, this conspiracy against Dr Usama and Ansari is not limited to a single reporter or a few students. There are ample proofs that a visiting faculty within Karachi University Mass Communication Department with links with an NGO Bolo Bhi and Bolo Sub is also involved in running this malicious campaign. The said person, Tahira Tariq, has already destroyed life an .
    Assistant Professor of the same university and is hand in gloves reporter Askari.