پولیو ویکسین کا لیبارٹری ٹیسٹ - ڈاکٹر رضوان اسد خان

ویسے سب سے پہلے تو میں اپنی نالائقی کا اعتراف کرتا ہوں کہ 14 جنوری، 2015 کو ڈان اخبار میں چھپا یہ آرٹیکل پہلے میری نظر سے کیوں نہیں گزرا.
اس کے مطابق ان تمام اعتراضات کے تسلی بخش جوابات مل جاتے ہیں جو پولیو ویکسین پر کئیے جاتے ہیں.
1. پولیو ویکسین کو قانون کے مطابق دیگر ادویات کی طرح پاکستان میں ٹیسٹ کرنے کے بعد کیوں رجسٹر نہیں کیا جاتا؟
جواب: ایسا نہیں ہے. اس ویکسین کو بھی ڈریپ کے ڈرگ رجسٹری بورڈ نے ٹیسٹ کرنے کے بعد رجسٹر کیا. اگرچہ اسکو ٹیسٹ کرنا لازم نہیں کیوں کہ قانونی شق کے مطابق عالمی ادارہ صحت سے تصدیق شدہ ادویات اور ویکسینز کو ٹیسٹ کرنا ضروری نہیں.

اسکے باوجود ہم نے غلط فہمیاں دور کرنے کیلئے اس ویکسین کے تین مختلف بیچز کو دوبارہ ٹیسٹنگ کیلئے اسلام آباد کی "نیشنل کنٹرول لیبارٹری فار بائیولوجیکلز" میں بھیجا. ان میں سے ایک نووارٹس کمپنی کا اٹلی سے درآمد شدہ اور دو جی ایس کے کمپنی کے بیلجیئم سے درآمد شدہ بیچز تھے.
2. کیا اس میں بانجھ پن پیدا کرنے والے کیمیکل موجود ہیں؟
جواب: ہم نے 6 مختلف ہارمونز کی موجودگی کیلئے اس ویکسین کو ٹیسٹ کیا. یہ وہ ہارمون ہیں جنہیں بانجھ پن کی وجہ قرار دیا جاتا ہے. لیکن ہمیں ان میں سے کسی کا کوئی سراغ نہیں ملا. حتی کہ 0.0005 ملی گرام کی مقدار میں بھی نہیں.
3. کیا یہ بندر کے گردوں میں بنائی جاتی ہے؟ جواب: جی نہیں. یہ وائرس کے ڈی این اے کو لیبارٹری میں مصنوعی طریقے سے جینیٹک انجنئیرنگ کے ذریعے نشوونما دے کر بنائی جاتی ہے.
4. کیا اس میں دوسرے ایسے وائرسز ہیں جو کینسر، ایڈز یا دیگر بیماریاں پھیلا سکتے ہوں؟
جواب: عالمی ادارہ صحت نے اس ویکسین کو ایسے تمام وائرسز کی موجودگی کیلئے انتہائی جدید طریقوں سے ٹیسٹ کیا ہوا ہے اور اس میں ایسے کسی وائرس کی موجودگی نہیں پائی گئی.

5. یہ ویکسین پاکستان میں کیوں نہیں تیار کی جاتی؟
جواب: 1980 سے 2003 تک باہر سے خام مال درآمد کر کے یہ ویکسین پاکستان میں ہی تیار ہوتی رہی ہے. لیکن وہ پرانا فارمولا تھا جس کے 6 قطرے پلانے پڑتے تھے. بدذائقہ ہونے کی وجہ سے اکثر بچے قے کر دیتے تھے. اب یہ نیا فارمولا ہے جو 2 قطروں پر مشتمل ہے. اسے بھی مقامی سطح پر بنایا جا سکتا ہے لیکن اسے بنانے کی ٹیکنالوجی اسلیے درآمد نہیں کی گئی کیونکہ اسوقت اندازہ یہی تھا کہ دو چار سال میں جب پاکستان سے پولیو کا خاتمہ ہو جائے گا تو اس ویکسین کا استعمال ویسے ہی ختم ہو جائے گا اور اسکی جگہ انجکشن والی ویکسین لے لے گی. لہٰذا اس سرمایہ کاری کا کوئی خاص فائدہ نہیں تھا.
امید ہے اس سے بہت سے لوگوں کے بہت سے خدشات دور ہونگے. باقی جس کا فارمولا "میں نہ مانوں" ہے، وہ ہمارا مخاطب ہے ہی نہیں.

Comments

رضوان اسد خان

رضوان اسد خان

ڈاکٹر رضوان اسد خان پیشے کے لحاظ سے چائلڈ سپیشلسٹ ہیں لیکن مذہب، سیاست، معیشت، معاشرت، سائنس و ٹیکنالوجی، ادب، مزاح میں دلچسپی رکھتے ہیں، اور ان موضوعات کے حوالے سے سوالات اٹھاتے رہتے ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.