اسلام میں عورت کا مقام اور مغربی پروپیگنڈا - مفتی محمد مبشر بدر

اہل مغرب کا شروع سے یہ وطیرہ رہا ہے کہ وہ کوئی موقع اسلام کو بدنام کرنے کا ہاتھ سے جانے نہیں دیتے۔وہ اسلام کے محاسن اور خوبیوں کو لوگوں کے سامنے خامیاں بنا کر پیش کرتے اور لوگوں کو اسلام سے متنفر اور بدظن کرنے کی ناپاک کوشش کرتے رہتے ہیں تاکہ اسلام کا دائرہ بجائے پھیلنے کے سکڑ جائے۔

جب کہ وہ اپنی اس جدو جہد میں ناکام اور نامراد ہیں۔ ان سب دسیسہ کاریوں اور سازشوں کے باوجود اسلامی تعلیمات نے مشرق و مغرب، شمال و جنوب غرض چہار دانگ عالم کو اپنی آغوش میں لے لیا ہے۔ ہر رنگ ،نسل، قبیلے اور قوم کا فرد اسلام کو جاننے اور پہچاننے لگا ہے۔ چنانچہ اب مغربی ممالک میں تیزی سے پھیلنے والا مذہب اسلام ہے، اور سب سے زیادہ اسلام کے عادلانہ نظام اور تعلیم سے متاثر ہوکر خواتین دائرہء اسلام میں داخل ہورہی ہیں۔حالانکہ یہ وہ مغربی خواتین ہیں جہاں کے دانشوروں نے عورت سے متعلق اسلام کی بیان کردہ تعلیمات پردہ، چاردیواری اور امور خانہ داری وغیرہ کو عورت کی شخصی آزادی کے منافی اور اس پر ظلم قرار دے رکھا ہے اور مسلسل جھوٹے پراپیگنڈے کرکے عورتوں کو اسلام سے روکنے کی کوشش کررہے ہیں۔ حالانکہ اگر انصاف کی آنکھ سے دیکھا جائے تو پردہ اور چاردیواری عورت پر ظلم اور اس کی شخصی آزادی کے ہرگز منافی نہیں بلکہ اس کی جان اورعزت کے تحفظ کی ضامن ہے ۔ اسلام نے عورت کو ماں، بیٹی، بہن اور بہو کی صورت میں عزت اور وقار بخشا ہے۔لہٰذا ان رشتوں سے محروم معاشرہ ان کی اہمیت اور وقعت کو کہاں سمجھ سکتا ہے۔؟
ماں کا مقام : اسلام نے عورت کو ماں کی صورت میں تقدس عطا کیا کہ جنت ماں کے قدموں کے نیچے رکھ دی اور ہر جائز امور میں اس کی اطاعت و فرمانبرداری لازم کردی چنانچہ حضرت انس سے روایت ہے " الجنۃ تحت اقدام الامہات " (مسند الشہاب) یعنی جنت ماؤں کے قدموں کے نیچے ہے۔

دوسری روایت میں ہے۔ جَاءَ رَجُلٌ إلى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عليه وَسَلَّمَ، فَقالَ: مَن أَحَقُّ النَّاسِ بحُسْنِ صَحَابَتِي؟ قالَ: أُمُّكَ قالَ: ثُمَّ مَنْ؟ قالَ: ثُمَّ أُمُّكَ قالَ: ثُمَّ مَنْ؟ قالَ: ثُمَّ أُمُّكَ قالَ: ثُمَّ مَنْ؟ قالَ: ثُمَّ أَبُوكَ.( بخاری و مسلم) "ایک شخص رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور کہا یارسول اللہ ! مرے حسن سلوک کا سب سے زیادہ مستحق کون ہے؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا تیری ماں۔ اس نے پوچھا پھر کون؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا تیری ماں۔ اس نے پوچھا پھر کون؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا تری ماں۔ اس نے پوچھا پھر کون؟ آپ نے فرمایا تیرا باپ۔"
بہن اور بیٹی کا مقام : اسلام نے عورت کو بہن اور بیٹی کی حیثیت سے بلند مقام اور احترام عطا کیا ۔ ان کی اچھی پرورش اور نگہداشت پر جنت کی بشارت سنائی، یوں اسے خاندان پر بوجھ سمجھے جانے کے تصور کو خس و خاشاک کی طرح بہا دیا۔ نادان انسان کو کیا معلوم کہ وہ جس بیٹی یا بہن کو خود پر بوجھ سمجھ رہا ہے وہ اس کے لیے جنت کا پروانہ ہے۔ ایسی جنت جہاں ہر طرح کی نعمتوں کی بہتات ہوگی، وہ صرف اور صرف ان کو عطا ہوگی جو اللہ کے محبوب ہوں گے۔
چنانچہ حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مَنْ عَالَ ثلاثَ بناتٍ فأدَّبَہُنَّ وَزَوَّجَہُنَّ وأحسنَ الیہِنَّ فلہ الجنة ( ابوداؤد )
" جس نے تین لڑکیوں کی پرورش کی ان کو تعلیم و تربیت دی، ان کی شادی کی اور ان کے ساتھ (بعد میں بھی) حسنِ سلوک کیا تو اس کے لیے جنت ہے۔"

یہ بھی پڑھیں:   عورت کا اونچا مقام - محمد رضی الاسلام ندوی

دوسری روایت میں ہے: عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ كَانَ لَهُ ثَلَاثُ بَنَاتٍ، أَوْ ثَلَاثُ أَخَوَاتٍ، أَوِ ابْنَتَانِ أَوْ أُخْتَانِ، فَأَحْسَنَ صُحْبَتَهُنَّ، وَاتَّقَى اللَّهَ فِيهِنَّ ؛ فَلَهُ الْجَنَّةُ ". ( ترمذی ) حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "جس کی تین بیٹیاں یا تین بہنیں یا دو بیٹیاں یا دو بہنیں ہوں اس نے ان کی اچھی دیکھ بھال کی اور ان کے بارے اللہ سے ڈرتا رہا تو اس کے لیے جنت ہے۔"
بیوی کا مقام : بیوی کی حیثیت میں اسلام نے عورت کا رتبہ بلند کیا۔ اسے گھر کی ملکہ بنایا اور کمانے کی ساری ذمہ داری شوہر کے ذمہ لگا کر اسے گھریلو امور نپٹانے کا حکم دے دیا۔اسلام نے یہ سمجھایا کہ بیوی ہونے کا یہ مطلب نہیں کہ اسے نوکرانی کا درجہ دے کر اسے ذلیل کیا جائے بلکہ اس کے ساتھ حسن معاشرت اور حسن سلوک کا حکم دیا ، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: وَعَاشِرُوہُنَّ بِالْمَعْرُوفِ فَإِن کَرِہْتُمُوہُنَّ فَعَسَی أَن تَکْرَہُواْ شَیْئاً وَیَجْعَلَ اللّہُ فِیْہِ خَیْراً کَثِیْراً(النساء: ۱۹)
" اور ان عورتوں کے ساتھ حسنِ معاشرت کے ساتھ زندگی گزارو۔ اگر وہ تم کو ناپسند ہوں تو ممکن ہے کہ تم کوئی چیز ناپسند کرو اور اللہ اس میں خیر کثیر رکھ دے۔"
یعنی بیویاں ناپسند ہونے کی صورت میں بھی مرد کو اس کے ساتھ حسن معاشرت کا حکم دیا اور خیر کثیر کا وعدہ فرمایا۔ خود نبی اکرم ﷺ خواتین کا بہت خیال فرماتے اور ان کی اچھی دیکھ بھال کا حکم فرماتے۔ حتیٰ کہ آقا علیہ السلام نے عورتوں کو اپنی پسند قرار دیا .

چنانچہ آپ ﷺ نے فرمایا : حُبِّبَ الَیَّ مِنَ الدُّنْیَا النِّسَاءُ والطِّیُبُ وَجُعِلَتْ قُرَّةُ عَیْنِيْ فِی الصَّلوٰةِ ( النسائی ) یعنی " مجھے دنیا کی چیزوں میں سے عورت اور خوشبو پسند ہے اور میری آنکھ کی ٹھنڈک نماز میں رکھ دی گئی ہے۔"
عورت کے پسندیدہ ہونے وجوہات میں محدثین کرام رحمہم اللہ نے لکھا ہے کہ یہ آقا علیہ السلام سے وہ احکام سیکھ کر امت کو بتا گئیں جن کا آپ علیہ السلام کثرتِ حیا کی وجہ سے تلفظ کرنے سے ہچکچاتے تھے۔ چنانچہ سیدہ عائشہ، سیدہ ام سلمہ اور سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہن نے ازدواجی زندگی سے متعلق اہم مسائل سے امت کو روشناس کرایا۔ قرآن نے میاں بیوی کو ایک دوسرے کا لباس قرار دیا ، جیسے لباس اور آدمی کے درمیان کوئی پردہ حائل نہیں ہوسکتا وہ ایک دوسرے سے متصل ہوتے ہیں اسی طرح میاں بیوی کا تعلق بھی اسی اتصال اور کیفیت کا ہے ۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ ہن لباس لکم وانتم لباس لہن (البقرہ: 187) "عورتیں تمہارا لباس ہیں اور تم ان کا لباس ہو" اسلام نے بیوی کے لیے نکاح کرنے پر حق مہر مقرر کیا، مرد کو پابند کیا کہ وہ عورت کو اس کا حق مہر ادا کرے اور اس میں سے کچھ نہ کھائے ہاں اگر بیوی خود خاوند کو خوشی سے دے دے تو کھانا جائز ہے۔ یہ بھی عورت کے لیے بطور اعزاز ہے جس کا بہر صورت اعتراف ناگزیر ہے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

یہ بھی پڑھیں:   اسلام اور حقوق العباد - پروفیسر زید حارث

وَآتُواْ النَّسَاءَ صَدُقَاتِہِنَّ نِحْلَةً فَإِن طِبْنَ لَکُمْ عَن شَیْْءٍ مِّنْہُ نَفْساً فَکُلُوہُ ہَنِیْئاً مَّرِیْئاً(النساء: ۴)
" عورتوں کو ان کا حق مہر خوشی سے ادا کرو اگر وہ اپنی خوشی سے اس میں سے کچھ حصہ تمہیں معاف کردیں تو اس کو خوشی اور مزے سے کھاؤ "
رسول اللہ ﷺ نے بیوی کے ساتھ حسن سلوک ، اور خوش اخلاقی سے رہنے کا حکم دیا ہے۔ چنانچہ آپ نے فرمایا: خیرُکم خیرُکم لاہلہ وأنا خیرُکم لاہلی ( مشکوٰۃ) یعنی "تم میں سے بہترین وہ ہے جو اپنی بیویوں کے لیے بہترین ثابت ہو اور خود میں اپنے اہل و عیال کے لیے تم سب سے بہتر ہوں۔" دوسری روایت میں ہے: انَّ أکْمَلَ الموٴمنینَ ایماناً أحسنُہم خُلقاً وألطفُہم لأہلہ ( مشکوۃ ) ترجمہ: " کامل ترین مؤمن وہ ہے جو اخلاق میں اچھا ہو اور اپنے اہل و عیال کے لیے نرم خُو ہو۔"
شریعت نے عورت کو وراثت میں حصہ عطا کیا جب کہ دورِ جاہلیت میں عورت کو محروم رکھا جاتا تھا اور اسے وراثت میں سے کچھ نہیں دیا جاتا تھا۔ چنانچہ عورت ماں ہونے کی حیثیت سے بھی وراثت کی حقدار ٹہرتی ہے، بیوی اور بیٹی ہونے کی حیثیت سے بھی۔ تمدنی حقوق : اسلام نے عورت کو تمدنی حقوق بھی عطا فرمائے ہیں یہاں تک کہ فرمایا گیا ہے کہ بیوہ عورت کا نکاح اس کی مشاورت کے بغیر نہ کیا جائے اور کنواری کا اس کی اجازت کے بغیر نکاح نہ کیا جائے۔

اس سے بڑھ کر اور حق کی ادائیگی کیا ہوسکتی ہے جو اسلام نے کی ہے جب کہ مغربی افکار کا شکار لوگ دن رات کوستے رہتے ہیں کہ اسلام نے عورت کی آزادی سلب کی ہے اور اسے اس کے حقوق سے محروم کیا ہے۔ چنانچہ حدیث شریف میں آیا ہے۔ لَایُنْکَحُ الْاَیْمُ حَتّٰی تُسْتَأمَرُ وَلاَ تُنْکَحُ الْبِکْرُ حتی تُسْتأذن ( مشکوۃ ) " بیوہ عورت کا نکاح تب تک نہ کیا جائے جب تک اس سے مشاورت نہ کرلی جائے اور کنواری لڑکی کا نکاح تب تک نہ کیا جائے جب تک اس سے اجازت نہ لے لی جائے۔" یہاں تک کہ مرد کو گھر کا نگران اور سربراہ بنا کر باقی حقوق میں مرد اور عورت کو برابر قرار دیا۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ولہن مثل الذی علیہن بالمعروف․ (البقرہ: ۲۲۸) "عورتوں کے حقوق مردوں کے ذمہ ایسے ہی واجب ہیں، جیسے مردوں کے حقوق عورتوں کے ذمہ ہیں۔" رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: الا ان لکم علی نسائکم حقا ونسائکم علیکم حقا (جامع الترمذی، ص:۲۲۰، ) یعنی "سنو! بلاشبہ تمہارے اپنی بیویوں پر حقوق ہیں، اور تمہاری بیویوں کے تم پر حقوق ہیں۔" کیا اسے عورت کی آزادی سلب کرنا کہتے ہیں؟ جب کہ شریعت نے عورت کو اس کا حق دیا ہے کہ اس کی رضا مندی کے بغیر اس کا نکاح نہ کیا جائے۔ اس تمام تحریر سے مغرب کے کھوکھلے دعووں کی حقیقت واضح ہوجاتی ہے کہ درحقیقت وہ اسلام کی عادلانہ تعلیم اور پھیلاؤ سے خائف ہیں تبھی آئے روز پروپیگنڈا کرتے رہتے ہیں۔ اسلام ان تمام پروپیگنڈوں سے بے نیاز ہے۔

Comments

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

  • آئیے ﺭﻣﻀﺎﻥ ﮐﯽ ﺗﯿاری کریں
    ﺍﯾﮏ ﺍﯾﺴﺎ ﺳﻮﺍﻝ ﺟﻮ ﮨﻤﺎﺭﮮ ﺫﮨﻨﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﮔﺮﺩﺵ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﮯ،
    ﯾﻘﯿﻦ ﺟﺎﻧﯿﮯ !
    ﯾﮧ ﺍﯾﮏ ﺍﯾﺴﺎ ﻟﻤﺤﮧ ﮨﮯ ﺟﺲ ﮐﯽ ﺗﯿﺎﺭﯼ ﺟﺘﻨﯽ ﻣﻤﮑﻦ ﮨﻮ ﮐﯽ ﺟﺎﻧﯽ ﭼﺎﮨﯿﮯ۔
    ﻣﮕﺮ ﺍﺏ ﺳﻮﺍﻝ ﯾﮧ ﭘﯿﺪﺍ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﮐﯿﺴﮯ؟
    ﮨﻢ ﻧﮯ ﯾﮧ ﺗﯿﺎﺭﯼ ﺟﺴﻤﺎﻧﯽ ﺑﮭﯽ ﮐﺮﻧﯽ ﮨﮯ
    ﺭﻭﺣﺎﻧﯽ ﺑﮭﯽ،
    ﮨﻢ ﭘﻮﺭﮮ ﮔﯿﺎﺭﮦ ﻣﮩﯿﻨﮯ ﺩﻧﯿﺎ ﮐﮯ ﮐﺎﻣﻮﮞ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺗﮓ ﻭﺩﻭ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ،
    ﺩﻧﯿﺎ ﮐﻮ ﺣﺎﺻﻞ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺟﺴﻢ ﮐﻮ ﺗﮭﮑﺎ ﺩﯾﺘﮯ ﮨﯿﮟ،
    ﺗﻮ ﮐﯿﻮﮞ ﻧﺎﮞ،
    ﺍﺏ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﻮ ﻣﻨﺎﻧﮯ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺑﮭﯽ ﺟﺴﻢ ﮐﻮ ﺗﮭﮑﺎ ﺩﯾﮟ۔
    ﺍﺏ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﯽ ﺭﺿﺎ ﮐﻮ ﺣﺎﺻﻞ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺑﮭﯽ ﺗﮓ ﺩﻭ ﮐﺮﯾﮟ،
    ﮨﻢ ﻋﺠﯿﺐ ﺳﮯ ﻣﺴﻠﻤﺎﻥ ﮨﯿﮟ۔
    ﮨﻢ ﺭﻣﻀﺎﻥ ﮐﯽ ﺗﯿﺎﺭﯼ
    ﺭﻣﻀﺎﻥ ﻣﯿﮟ ﮐﺮﻧﺎ ﭼﺎﮨﺘﮯ ﮨﯿﮟ
    ﻣﮕﺮ ﻋﯿﺪ ﮐﯽ ﺗﯿﺎﺭﯼ
    ﺁﺝ ﺳﮯ ﺷﺮﻭﻉ ﮐﺮ ﺩﯾﺘﮯ ﮨﯿﮟ
    ﮨﻢ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﯽ ﺭﺿﺎ،
    ﺍﻟﻠﮧ ﮐﯽ ﺧﺎﻃﺮ ﺑﮭﻮﮐﺎ ﭘﯿﺎﺳﺎ ﺭﮨﻨﺎ
    ﺍﻟﻠﮧ ﮐﯽ ﭼﺎﮨﺖ ﮐﻮ ﺍﭘﻨﺎﻧﮯ ﮐﯽ ﺗﯿﺎﺭﯼ
    ﺭﻣﻀﺎﻥ ﮐﯽ ﺷﺮﻭﻋﺎﺕ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﻣﻨﺴﻠﮏ ﮐﺮ ﺩﯾﺘﮯ ﮨﯿﮟ۔
    ﺁﺝ ﺳﮯ ﮨﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﺭﺏ ﺍﻟﻌﺰﺕ ﮐﺎ ﮈﺭ ﭘﯿﺪﺍ ﮐﺮﯾﮟ
    ﺁﺝ ﺳﮯ ﮨﯽ ﮔﻨﺎﮨﻮﮞ ﮐﻮ ﭼﮭﻮﮌﯾﮟ
    ﺁﺝ ﺳﮯ ﮨﯽ ﺳﺐ ﻓﻀﻮﻝ ﺑﺎﺗﻮﮞ ﮐﻮ ﭼﮭﻮﮌﯾﮟ
    ﺗﺎﮐﮧ ﺭﻣﻀﺎﻥ ﮐﮯ ﻣﺒﺎﺭﮎ ﻣﮩﯿﻨﮯ ﻣﯿﮟ ﮨﻤﺎﺭﮮ ﻟﯿﮯ ﺁﺳﺎﻧﯽ ﮨﻮ۔
    ﺍﯾﮏ ﺑﺨﺸﺶ ﮐﺎ ﻣﻮﻗﻊ ﻣﻞ ﺭﮨﺎ ﮨﮯ
    ﺍﻭﺭ ﺑﺨﺸﺶ ﮐﺴﯽ ﺑﮭﺎﺅ ﺳﮯ ﻧﮩﯿﮟ ﻣﻠﺘﯽ
    ﯾﮧ ﺻﺮﻑ ﺑﮩﺎﻧﮯ ﺳﮯ ﻣﻠﺘﯽ ﮨﮯ
    ﮐﯿﺎ ﭘﺘﮧ ﯾﮧ ﺭﻣﻀﺎﻥ ﮨﯽ ﺑﮩﺎﻧﮧ ﺑﻦ ﺟﺎﺋﮯ۔۔