اسلام اور حقوق العباد - پروفیسر زید حارث

اسلام کی عمارت کے پانچ ستون ہیں۔ نماز نہ پڑھنے والا سخت وعید کا مستحق ہے۔زکوة دینے کا انکار کرنے والے سے لڑائی کی گئی۔ رمضان کے روزے فرض کر دیئے گئے ۔حج کی استطاعت ہونے کے باوجود بھی یہ فریضہ ادا نہ کرنے والا اللہ کے ہاں مجرم ہے لیکن اسلام کی دوسری تصویر اس دین کا دوسرا رخ تو ہم بھول چکے ہیں اور ہمارے معاشروں اور خاندانوں سے مفقود ہو چکا ہے ۔

یہ وہ حقوق ہیں جو دیکھنے میں تو شاید غیر معمولی اور بہت زیادہ اہمیت کے حامل نہیں لیکن تکمیل ایمان کو انہی حقوق کے ساتھ مشروط کر دیا گیا۔بہترین شخص وہ ہے جو اپنے گھر والوں کے ساتھ بہترین ہے۔(سنن ترمذی صحيح) یعنی کسی کی خیر کا سوال کرنا ہو تو اس کے گھر والوں سےپو چھو کہ اس کا ان کے ساتھ معاملہ کیسا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تین دفعہ قسم اٹھا کر فرمایا کہ اللہ کی قسم تم میں سے کوئی مومن نہیں ہو سکتا اگر اس کا پڑوسی اس کے شر سے محفوظ نہیں۔(صحيح البخاري) بلکہ ایک جگہ تو پڑوسی کے ساتھ حسن تعامل کو ایمان کا لازمی حصہ قرار دیا کہ "تم میں سے جو اللہ اور آخرت کے دن پہ ایمان رکھتا ہے وہ اپنے پڑوسی کے ساتھ احسان کرے"۔(صحيح مسلم) √ صلہ رحمی کو اللہ کے عرش کے ساتھ لٹکا دیا گیا (صحيح مسلم) ۔
انسان کے لئے ہر قسم کی عطا کو صلہ رحمی کے ساتھ معلق کر دی گیا۔(صحيح البخاری)

ایمان کی تکمیل کو اس بات کے ساتھ مشروط کر دیا گیا کہ آپ اس وقت تک مومن نہیں ہو سکتے جب تک اپنے مسلمان بھائی کے ہر معاملے کو اس انداز سے نہ دیکھ لیں کہ اگر یہی معاملہ آپ کے ساتھ ہو تو کیا آپ اس پہ راضی ہوں گے۔(صحيح البخاری) مہمان نوازی کو ایمان کا جز قرار دے دیا گیا. (صحيح مسلم) الغرض کہ اسلام حقوق العباد میں زیادہ حساس اور زیادہ روشن کردار ادا کرتا ہوا نظر آتا ہے۔ عبادات کی ادائیگی میں کثرت اہتمام کرنے والے یاد رکھیں کہ ایمان کی تکمیل حقوق العباد کے بغیر ممکن نہیں ۔ عبادت کا نفع آپ کی ذات کو ہے اور معاملے کا حسن ایک خوبصورت معاشرہ اور سوسائٹی کی بنیاد رکھتا ہے۔ عبادت کرنے سے نفس اور نفسانی بیماریوں کی تربیت اس طرح نہیں ہو پاتی جس قدر انا، تکبر، کینہ، حسد اور بد گمانی جیسی بیماریوں کی اصلاح حقوق العباد کی ادائیگی سے ہوتی ہے۔اسی لئے صحیح احادیث میں حقوق العباد کی ادائیگی کو عبادات سے افضل قرار دیا گیا۔ ابو درداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کیا میں تم کو روزے اور نماز اور صدقہ سے بہتر عمل نہ بتاؤں؟ انہوں نے کہا کیوں نہیں اے اللہ کے رسول آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: باہمی معاملات کو درست کرتے رہنا۔(سنن ابی داؤد صحيح) حقوق العباد کی ادائیگی پہ اپنے کردار کو واضح کیجئیے اور اپنے خاندانوں اور گھروں میں اطمینان اور سکون پیدا کیجئیے۔