دور حاضر کا حجاب، پردہ یا فیشن - طوبی صدیقی

سب سے پہلے تو ہمیں یہ سوچنا چاہیے کہ ہم حجاب کیوں کرتے ہیں اس کا کیا مقصد ہے؟ کیا فوائد ہیں؟ ہر کام کو کرنے کا کوئی نہ کوئی مقصد ضرور ہوتا ہے کسی بھی کام کے کرنے سے پہلے انسان اپنی فکر کو حرکت دیتا ہے آیا وہ یہ کام کر رہا ہے تو کیوں کر رہا ہے اور کیسے کر رہا ہے۔ یہ کیا اور کیوں کے جوابات ہی انسان کو کسی بھی کام کا مقصد فراہم کرتے ہیں۔

انسان کسی بھی کام کا مقصد طے کر لیتا ہے تو وہ کام کرنا آسان ہوجاتا ہے کیوں کہ جس کام کے پیچھے کوئی مقصد کار فرما نہ ہو انسان اس سے جلد یا بدیر اکتا جاتا ہے یا پھر اس کام سے نفع بخش برآمد نہیں ہوتا۔ حجاب عربی زبان کا لفظ ہے جس کے معنی ہیں پردہ، ڈھانپنا، چھپانا وغیرہ۔ حجاب کی صورت میں اللہ نے عورت کو ظاہری پاکیزگی کے ساتھ باطنی بیماریوں سے محفوظ رہنے کا بھی نسخہ عطا فرمایا ہے۔ حجاب یا پردہ عورت اپنی حفاظت کے لیے کرتی ہے۔ اپنے آپ کو لوگوں کی بری نظر سے بچانے کے لیے، اپنی زیب و زینت چھپانے کے لیے کرتی ہے اس کے علاوہ حجاب حصول تقوی کا ذریعہ بھی ہے۔ جب ایک عورت خود کو پردے میں چھپا کر رکھتی ہے تو وہ نہ صرف خود گناہ سے اور اپنی جانب آنے والے فتنوں سے محفوظ رہتی ہے بلکہ اپنے ارد گرد کے لوگوں کو بھی بدنگاہی سے بچاتی ہے۔ جب کہ ایک بے پردہ عورت خود بھی گناہ گارہوتی ہے اور اپنے ساتھ دیگر کئی لوگوں کو بھی بد نگاہی کرنے کا موقع دے کر گناہ گار کرتی ہے۔ قرآن پاک میں اللہ تعا لیٰ نے مختلف سورتوں میں عورتوں کے لیے حجاب کرنے کا حکم د یا ہے۔ سورہ نور کی آیت 31 میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا، ”مسلمان عورتوں سے کہوکہ وہ بھی اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنی عصمت میں فرق نہ آنے دیں اور اپنی زینت کو ظا ہرنہ کر یں سوائے اس کے جو ظاہر ہے اور اپنے گر یبانوں پر اپنی اوڑھنیاں ڈالے رہیں اور اپنی آرائش کو کسی کے سا منے ظا ہر نہ کریں“۔

یہ بھی پڑھیں:   عورت کو چاردیواری سے نکالنے کی مہم - حنظلہ عماد

سورہ احزاب کی آیت نمبر 59 میں اللہ تعالیٰ فرما تا ہے، ”اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم! اپنی بیویوں اور صا حبزادیوں سے اور مسلما نوں کی عورتوں سے کہہ دوکہ وہ اپنے اوپر اپنی چادریں لٹکا لیا کریں اس سے بہت جلد ان کی شناخت ہو جایا کرے گی پھر نہ ستا ئی جائیں گی اور اللہ تعالیٰ بخشنے والا مہربان ہے“۔
اس حکم ربانی کے آگے کوئی دلیل معنی نہیں رکھتی، یہاں آکر ہر حجت تمام ہوجاتی اور ہر بحث بے کار ہوجاتی ہے لیکن آج کل کے دور میںبکثرت دیکھا جاسکتا ہے کہ پردہ یا حجاب کوخواتین نے رنگا رنگ اور جالی داراسکارف کے ذریعے فیشن بنا لیا ہے تو کہیں فٹنگ کے عبایا کے ذریعے اپنی زینت ظاہر کرتی نظر آ تی ہیں۔جس کا سب سے بڑا نقصان خود عورت ذات کو ہی پہنچ رہا ہے عورتوں کو بری نظر سے بچانے کے لیے پردہ کا حکم دیا گیا ہے جبکہ آج کا پردہ عورت کو مزید لوگوں کی طرف متوجہ کرنے کا باعث بن رہا ہے۔دیدہ زیب اور مختلف رنگوں کے عبائے حجاب کا مقصد پورا کرنے کے لوگوں کی توجہ اپنی جانب مبذول کروانے کا باعث بن رہے ہیں
پردہ کرنا سر پر خوبصورتی کے ساتھ اسکارف لینا نہیں ہے۔ پردہ ایسا ہو جس میں عورت کا چہرہ، بال اور جسم چھپ سکے نہ کہ مزید نمایاں ہوں۔فیشن زدہ حجاب کی روک تھام کے لیے سب سے پہلے تو ہمیں خود یہ عہد کرنا ہوگا کہ ہم ایسا کام نہ کریں جو دین اٍسلام اور احکام الہیہ کے خلاف ہو۔اصلاح کا آغاز انسان کو ہمیشہ اپنی ذات سے کرنا چاہیے۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ معاشرے سے بے حیائی، بے راہ ری اور زنا جیسے گناہ عظیم کا خاتمہ ہوجائے تو ہمیں احکام الہیہ کو اپنی زندگی میں اس کی اصل روح کے ساتھ نافذ کرنا ہوگا۔