خدارا بڑے فیصلوں کے لئے اکٹھے ہوجائیں- محمد عامر خاکوانی

پاکستانی سیاست میںپولرائزیشن یا تقسیم کوئی نئی بات نہیں۔ ساٹھ اور ستر کے عشرے میں رائٹ اور لیفٹ کی باہمی تقسیم بہت گہری تھی۔ لیفٹ کا خاصا زور تھا، پیپلزپارٹی نے بھی شروع میں لیفٹ کے کارکنوں اور خاص کر سوشلسٹ ذہن رکھنے والے شاعر، ادیب ، دانشوروں کو ساتھ ملانے کے لئے لیفٹ کی جانب جھکائو کا اشارہ دیا بلکہ اپنے چار بنیادی نعروں میں سے ایک’’ سوشلزم ہماری معیشت ہے ‘‘کے نام سے شامل کر لیا۔ ترقی پسندوں نے پیپلزپارٹی کو دل وجاں سے سپورٹ کیا۔نیشنل عوامی پارٹی (نیپ )نے بلوچستان اور سرحد میں نشستیں لیں۔ پختون، بلوچ قوم پرستوں کی اس جماعت کا تاثر بھی لیفٹ کی جماعت کا تھا۔ اس زمانے میں رائٹ ونگ کے لکھنے والوں نے بھی اپنا مورچہ جمایا اور خوب جم کر لکھا۔ رائٹ لیفٹ کی یہ جنگ بعد میں سیاسی اثرات کی وجہ سے کسی حد تک بھٹو، اینٹی بھٹو لڑائی میں بدل گئی ۔ یہی وجہ ہے کہ بھٹو صاحب کے خلاف پی این اے کا اتحاد بنا تو اس میں رائیٹ، لیفٹ، سنٹرکی تمام جماعتیں شامل تھیں۔

ولی خان لیفٹ کے سمجھے جاتے تھے، اصغر خان ہماری آج کی اصطلاح کے مطابق پکے سیکولر ، مگر اسی اتحاد میں ان کے ساتھ ہی اینٹی سیکولر، اینٹی سوشلسٹ جماعت اسلامی بھی موجود تھی اور مولانا نورانی کی جے یوپی ، مفتی محمود کی جے یوآئی بھی حصہ تھی ،جبکہ پیر پگاڑا اپنی مسلم لیگ اور نوابزدہ نصراللہ خان اپنی پارٹی کے ساتھ حصہ بنے۔ ضیا دور میں ایم آرڈی کے پلیٹ فارم پر دوبارہ رائیٹ، لیفٹ کی جماعتیں بلکہ پرو بھٹو، اینٹی بھٹو جماعتیں اکٹھی ہوگئیں۔ بھٹو کو کوہالہ پل پر پھانسی دینے کا مطالبہ کرنے اور فوجی قیادت کو تختہ الٹنے کا ترغیب آمیز خط لکھنے والے اصغر خان اور بیگم نصرت بھٹو اس اتحاد میں اکٹھے ہونے پر مجبور تھے۔ جماعت اسلامی نے البتہ اس بار باہر رہنا اور غیر جماعتی انتخابات کا حصہ بننا پسند کیا، ان پر مارشل لا ء کی بی ٹیم کی پھبتی ایسی چسپاں ہوئی کہ تین چار عشرے گزر جانے کے باوجود بھی مکمل طور سے ہٹ نہیں سکی۔ نوے کا عشرہ ہم نے ایک بار پھر سے بھٹو، اینٹی بھٹو ووٹ بینک کی کشمکش میں گزارا۔ محترمہ بے نظیر بھٹو اپنے والد کے سیاسی ورثے کو لے کر چل رہی تھیں، تو دوسری جانب اینٹی بھٹو ووٹ بینک میاں نواز شریف کے گرد اکٹھا ہوگیا۔ اسلامی جمہوری اتحاد کا تجربہ کس نے کیا، کون کون شامل تھا، سب جانتے ہیں۔ ہماری اسٹیبلشمنٹ اس وقت اینٹی بھٹو بلاک کے ساتھ کھڑی تھی۔

حتیٰ کہ میاں نواز شریف نے ایک بار اسٹیبلشمنٹ کے نمائندے غلام اسحاق خان سے ٹکر لی ، باہر ہوگئے ،مگر دو سال بعد پھر الیکشن جیت کر وزیراعظم بن گئے۔ اس سیاسی لڑائی کے دوران ایک دوسرے کو بہت کچھ کہا گیا۔ اس اخبارنویس نے خود اپنے کانوں سے میاں نواز شریف کو ایک جلسے میں محترمہ بے نظیر کو سکیورٹی رسک کہتے سنا۔ دوسری جانب بی بی اور ان کے ساتھی شریف خاندان کو اعلانیہ لوہا چور اورکرپشن کا استعارہ کہتے تھے۔ دونوں جماعتوں اور ان کے حامیوں کو یقین کامل تھا کہ ان کا مخالف لیڈر ملک لوٹ کر کھا گیا ہے۔ میاں نواز شریف نے میاں سیف الرحمن کے ذریعے جو احتساب کرایا، وہ بھی ہر ایک کو یاد ہوگا۔ عدالت پر اثرانداز ہو کر فیصلہ لینے کی کوشش تو آڈیو ٹیپ کی صورت میں میڈیا پر آ چکی ہے۔انٹر نیٹ پر کوئی ڈھونڈے تو مل بھی جائے گی۔ یہ سب کچھ تاریخ کا حصہ ہے، کسی کے مٹانے سے مٹ نہیں سکتا۔ جنرل پرویز مشرف جب اقتدار پر قابض ہوئے اوراپنا اقتدار طویل کرنے کے لئے کوشاں رہے۔ تب جا کر دونوں بڑی جماعتوں کو احساس ہوا کہ ہم نے اپنی لڑائیوں میں نقصان اٹھایا جبکہ اقتدار تو کسی اور کے پاس ہے۔ تب چارٹر آف ڈیموکریسی لکھا گیا۔ ایک ایسی دستاویز جس کے اندر کئی بہت عمدہ نکات ہیں۔ یہ اور بات کہ اس چارٹر پر دستخط ہونے کے ساتھ ہی اس کی خلاف ورزی بھی شروع ہوگئی۔

ڈکٹیٹر کے ساتھ این آراو ہوا اور وطن واپسی کی راہ بھی ہموار ہوئی۔ اگلے دس برس دونوں بڑی جماعتوں کی باری باری حکومت کے رہے۔ یہ سبق دونوں جماعتوں نے سیکھا کہ مخالف کی حکومت نہیں گرانی اور اپنی باری کا انتظار کرنا ہے۔ اگرچہ اس میں فرینڈلی اپوزیشن کا احساس پیدا ہوا اور خاص کر میاں نواز شریف نے بہت دب کر اپوزیشن کی۔ جہاں ضروری تھا، وہاں بھی حکومت کو ٹف ٹائم نہیں دیا۔ اس خلا کو پھر عمران خان نے پر کیا۔ پیپلزپارٹی حکومت کی بیڈ گورننس، آصف زرداری کی بدترین حکمرانی اور لوٹ مار کا فائدہ عمران خان کو ملا ۔ پیپلز پارٹی کا ووٹ بینک ٹوٹ کر ان کی طرف آیا اور وہ تیسری طاقتور جماعت بن کر ابھرے۔ 2013ء کے انتخابات کے بعد عمران خان نے دھاندلی کا الزام لگایا اور اس میں اتنا آگے چلے گئے کہ اسلام آباد دھرنا دے ڈالا۔ اس وقت تو تحریک انصاف کے کارکن اور جوشیلے ووٹر بات سننے کو تیار نہیں تھے، آج ان سے نجی محفل میں بات ہو تو وہ اعتراف کرتے ہیں کہ یہ سیاسی غلطی تھی۔ عمران خان کو اس دھرنے نے نقصان پہنچایا۔ وہ گھنٹوں جوشیلی تقاریر کرتے رہتے۔ خطیب وہ تھے نہیں کہ ہر روز ایسی تقریر نبھا جائے، نتیجے میں ان کی تقریر میں زیادہ زور جارحیت ، ذاتی حملوں پر رہا۔ اس سے تحریک انصاف کے معتدل حامیوں کا ایک حلقہ دلبرداشتہ ہو کر الگ ہوا۔ اس دھرنے سے کچھ حاصل نہیں ہو سکا ، پشاور سکول سانحے کی آڑ لے کر دھرنا ختم کرنا پڑا۔ آخری دنوں میں تو لوگوں کی حاضری چار پانچ سو سے زیادہ نہیں تھی۔

اس دھرنے کی تلخی، کڑواہٹ آج تک ہمارے سیاسی منظر نامے پر موجود ہے۔ پانامہ کے بعدعمران خان کا انداز بہت جارحانہ رہا اور وہ مسلسل حکومت پر ہارڈ ہٹنگ کرتے رہے۔ انتخابی مہم میں بھی خان صاحب کا یہی انداز رہا۔ دوسری طرف ن لیگ سے بھی کچھ لوگ تمام حدیں کراس کر گئے اور عابدشیر علی،رانا ثنااللہ، طلال چودھری ، دانیال عزیز وغیرہ کے لئے گالم گلوچ بریگیڈ کی اصطلاح وضع ہوئی۔ بدقسمتی سے الیکشن کے بعد بھی صورتحال ویسی چل رہی ہے۔ دونوں اطراف سے سخت لب ولہجہ اپنایا جاتا ہے۔ چاہیں تو کسی کو کم ، کسی کو زیادہ الزام دیں۔ سچ مگر یہ ہے کہ حکومت، اپوزیشن دونوں ہی جارحانہ موڈ میں ہیں۔ حکومت احتساب پر بہت زیادہ زور دے رہی ہے اور یہ کام نیب اور دیگر اداروں پر چھوڑنے کے بجائے لفظی جنگ کے ذریعے لیا جا رہا ہے۔دوسری جانب اپوزیشن اس حوالے سے متحد ہے اور وہ پارلیمنٹ نہیں چلنے دے رہی۔ قومی اسمبلی میں پبلک اکائونٹس کمیٹی کا سربراہ میاں شہباز شریف کو ایک طرح سے حکومت کو مجبور کر کے بنوایا گیا۔ اب یہی طریقہ پنجاب اسمبلی میں حمزہ شریف کے لئے برتا جا رہا ہے۔ یوں لگتا ہے جیسے اپوزیشن کا بنیادی مسئلہ کسی خاص شخص کو پبلک اکائونٹس کمیٹی کی سربراہی دلانا ہے،جبکہ حکومت اسے ہر حال میں محروم رکھنا چاہتی ہے۔ حکومت ، اپوزیشن کی لڑائیاں، سیاسی جماعتوں کی باہمی تقسیم ہم نے پہلے بھی دیکھی ہے، مجبوراً اب پھر دیکھ لیں گے۔

میرے جیسے لوگوں کو تشویش یہ ہے کہ پاکستان اس وقت نہایت سنگین ، گمبھیر معاملات سے دوچار ہے۔ امریکہ افغانستان سے نکلنے لگا ہے۔ اس کی کوشش ہے کہ نکلنے سے پہلے اپنے لئے باعزت واپسی کا تاثر بنانے کے ساتھ افغانستان کا مستقبل کا سیٹ اپ ایسا بن جائے جو اینٹی امریکہ نہ ہو سکے۔ پاکستان پر ا س حوالے سے بہت زیادہ دبائو ہے۔ دوسری طرف ہماری ابتر معاشی حالت سب کے سامنے ہے۔ یہ درست کہ موجودہ حکومت اپنی ناتجربہ کاری کی وجہ سے کئی غلطیاں کر رہی ہے، اسد عمر کے پاس واضح ویژن نہیں تھا اور شائد اتنی اہلیت بھی نہیں کہ بحران سے نکال پاتے۔ یہ مسئلہ مگر صرف حکومت کی نااہلی یا ناتجربہ کاری کا نہیں۔ آئی ایم ایف سے ڈیل میں بہت کچھ اور بھی شامل ہوتا ہے ۔ امریکہ کی اشیرباد لئے بغیر کوئی ملک بھی آئی ایم ایف سے ڈیل نہیں کر پاتا۔ پاکستان کا آئی ایم ایف سے معاہدہ ہونے والا ہے اور اب آخری لمحات میں خاصا کچھ ایسا بھی ہوگا جو میڈیا میں بیان نہیں کیا جا سکتا۔ بھارت کے ساتھ ہم چند ہفتے پہلے جنگ کی کیفیت سے باہر نکلے ہیں۔ خطرہ مگرٹلا نہیں۔ ریجنل کرائسس ابھی جاری ہے۔ سری لنکا میں جو ہوا، وہ ایک نئے سنگین منظرنامے کی خبر دے رہا ہے۔

کیا اب وقت نہیں آیا کہ ہماری سیاسی جماعتیں اپنی لڑائی چند مہینوں کے لئے ہولڈ پر رکھ کر اہم قومی ایشوز پر اتفاق رائے پیدا کریں؟ ڈکٹیٹر زکے خلاف ہماری بڑی جماعتیں اکٹھی ہوتی رہی ہیں، ملک کی خاطر متحد ہونے اور اجتماعی قومی دانش سے ملکی پالیسیاں بنانا زیادہ اہم وجہ ہے۔ کیا یہ ممکن ہے کہ وزیراعظم عمران خان چندماہ، صرف چند ماہ کے لئے اپنے شعلہ اگلتے الفاظ پر قابو پا کرملکی معیشت، خارجہ پالیسی اور دفاع کے حوالے سے قومی اتفاق رائے پیدا کریں، اپوزیشن بھی خوش دلی سے جواب دے۔ پارلیمنٹ کی قائمہ کمیٹیاں اس کام کے لئے استعمال ہوسکتی ہیں اور آل پارٹیز کانفرنس بھی بلائی جا سکتی ہے۔ خوش قسمتی سے سول حکومت، ملٹری اسٹیبلشمنٹ ایک ہی صفحے پر ہیں۔ اگر پارلیمنٹ اور پوری سیاسی قیادت بھی اسی پیج پر موجود ہو تو ریاست کے لئے بڑے فیصلے کرنا کس قدر آسان ہوجائے گا۔ کیا ایسا دل خوش کن منظر دیکھنا ممکن ہو پائے گا؟

Comments

محمد عامر خاکوانی

محمد عامر خاکوانی

محمد عامر ہاشم خاکوانی کالم نگار اور سینئر صحافی ہیں۔ روزنامہ 92 نیوز میں میگزین ایڈیٹر ہیں۔ دلیل کے بانی مدیر ہیں۔ پولیٹیکلی رائٹ آف سنٹر، سوشلی کنزرویٹو، داخلی طور پر صوفی ازم سے متاثر ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.