کیا اللہ کو دیکھنا ممکن ہے ؟ محمد رضوان خالِد چوھدری

ثاقِب بھائی پُوچھتے ہیں کیا اللہ کو دیکھنا ممکن ہے۔ دیکھیے! اللہ کے خاص اپنے لیے بچھائے حقائق میں اُسکی موجودگی دیکھنا تو ممکن ہے۔ آپ کو ایک واقعہ سُناتا ہُوں۔ اُن دنوں میں دہریت سے بالکل نیا نیا اسلام میں داخل ہُوا تھا، چند دن ہی ہوئے تھے رمضان آ پُہنچا ۔ عین رمضان سے ایک دن پہلے مجھے ایک کمرہ کرائے پر لینا پڑا ، مالک مکان ہندو تھا اور گھر میں دو کمرے ایک چھوٹا سا کچن اور ڈائننگ ایریا تھا ایک کمرے میں مالک مکان رہتا دوسرا میرا کمرہ تھا۔

میں پہلی بار روضے رکھ رہا تھا تبھی کافی پُرجوش تھا ، دو بجے اُٹھ کر تراویح پڑھتا ، پھر سحری بناتا ۔ گھر اتنا چھوٹا تھا کہ مالک مکان کی آنکھ کھُل جاتی ، وہ بہت غصے میں آجاتا ۔ میں اُسے بتاتا کہ بس اتنے دن باقی ہیں، اُسے ایئر پلگز بھی لا کر دیے تاکہ اُسے سویرے سویرے کی میری چہل پہل سے پریشانی نہ ہو, لیکن اُسنے وہ ائیرپلگ باقائدہ میری طرف اچھال دیے اور کہا کل نئے گھر کا بندوبست کرو۔ میں بطور کرائے دار اپنے حقوق سے واقف تھا اُسکی وارننگ سنجیدہ نہ لی۔
اُسنے میری شکایت کر دی، دو دن بعد کونسل کے افراد مجھے ملنے آئے، میں نے اُنہیں ساری بات بتائی تو اُنہوں نے اُلٹا اُسی کو سمجھایا کہ کرائے دار کے مذھبی معاملات میں دخل مت دو اگر اس سے کمرہ خالی کروانا ہے تو باقائدہ دو ماہ کا نوٹس دینا ہوگا۔ وہ خاموش ہو گیا۔ اگلی صبح میں اُٹھا تو وہ پہلے سے ڈائننگ ایریا میں بیٹھا کوئی کتاب پڑھ رہا تھا۔ اسے سلام کر کے میں نے فریج کھولا تو بھونچکا رہ گیا فریج سے کھانے پینے کا میرا سارا سامان غائب تھا۔ میں نے اُس سے پُوچھا تو کہنے لگا مشترکہ فریج میں ایکسپائر چیزیں رکھنا جرم ہے میں نے آج صفائی کے دوران دیکھا تُمہاری سب چیزیں ایکسپائر تھی، ساتھ ہی کہنے لگا تُم دیسی سٹور سے چیزیں لیتے ہی کیوں جانتے نہیں ہمارے لوگ کتنے چور ہیں۔

میں جانتا تھا کہ بہرحال میری وجہ سے اسکی نیند خراب ہوتی ہے اسکا غصے میں مجھ سے بدلے کی کوشش جبلت کا تقاضہ ہے, لہٰذا خاموش ہو گیا۔وہ کہنے لگا اوپر فریزر میں تھوڑا پورک اور میرے کمرے میں وائن رکھی ہے کہو تو لا دوں ۔ میں نے اُسے کہا ہندو تو گوشت کھاتے ہی نہیں کیا تُم ہندو نہیں ہو ۔ وہ بولا پریکٹیسنگ نہیں ہُوں , مذاھب میں رکھا بھی کیا ہے خود کو دیکھو اب پانی پی کر نامعلُوم بھگوان کے لیے سارا دن بھوکے رہو گے میری مانو تھوڑا پورک تل لو وہ سامنے فریزر میں رکھا ہے۔ نہ جانے کیسے میرے مُنہ سے نکل گیا تُم بے فکر رہو اندیکھا بھگوان مجھے بھُوکا نہیں رکھے گا ۔ وہ ہنس کر بولا تُمہارے پاس گاڑی بھی نہیں ہے, اس وقت بس بھی نہیں چلتی , تُمہارا دیسی سٹور سات بجے کھلے گا, قریب ترین چوبیس گھنٹے والا سٹور بہت دور ہے , آج بھوکے ہی رہو گے۔ میں نے کہا چلو کوشش میں حرج نہیں اور ٹیکسی کو کال کرنے کا سوچ کر گھر سے باہر نکل آیا ۔ گھر کے بالکل ساتھ وہ دیسی سٹور تھا جو بند تھا اُسی کے سامنے ایک سری لنکن شخص اپنی ویگن سے کچھ نکال کر سٹور کے دروازے پر رکھ رہا تھا۔ میں نے اُسے پُوچھا بھائی یہاں قریب ترین چوبیس گھنٹے والا سٹور کہاں ہے۔
وہ بولا تُمہیں کیا چاہیے۔ میں نے کہا دودھ ڈبل روٹی اور انڈے۔ وہ بولا روضہ رکھنا ہے، میں نے کہا جی ہاں، وہ بولا رُکو اور اپنی گاڑی کے پیچھلے حصے میں چلا گیا۔
دو منٹ بعد آیا اور ایک شاپنگ بیگ مجھے پکڑا دیا جِس میں دودھ، دہی، انڈے، بریڈ اور مکھن سے ملتا جلتا کوئی پیسٹ تھا۔

میں نے حیرانی سے اُسکی طرف دیکھا تو وہ بولا میں سٹورز پر یہ سب سپلائی کرتا ہُوں اور ہر سٹور کا آرڈر سٹور کھلنے سے پہلے اُنکے پیچھے فائر ڈور پر رکھ جاتا ہُوں ۔ میں نے اُسے کہا لیکن میرے پاس ڈیبٹ اور کریڈٹ کارڈ ہے کیش نہیں ہے ، اُس نے شاپنگ بیگ مجھے پکڑایا ، گاڑی میں بیٹھا اور گاڑی سٹارٹ کر کے بولا , تُم سے میں نے پیسے مانگے ہی کب ہیں اور چلا گیا۔ اس ساری گفتگو اور لین دین میں مجھے زیادہ سے زیادہ پانچ منٹ لگے ہونگے۔ گھر سامنے ہی تھا، میں اندر آیا تو مالک مکان وہیں بیٹھا تھا۔ میں سامان بیگ سے نکال کر میز پر رکھا تو وہ باقائدہ اُچھل پڑا اور بولا یہ کہاں سے لائے۔ میرے مُنہہ سے بے ساختہ نکلا میرا اللہ دے گیا۔
میں جب بھی اس واقعے کو یاد کرتا ہوں تو مجھے قرآن کی وہ آیت یاد آتی ہے جِس میں اللہ اپنے نبیﷺ سے کہتے ہیں، ’’ آپ سے میرے بارے میں کوئی پُوچھے تو کہنا قریب ہی تو ہے‘‘ پھر وہ میرا دوست بن گیا۔ ہم نے کئی مہینے گیتا مل کر پڑھی، ڈسکشن کرتے، عقلی دلیلوں سے اللہ پر بات ہوتی، میرے اسلام قبُول کرنے کے بعد وہ پہلا شخص تھا جسے میں نے اسلام میں داخل کیا، اب اُسکی بہن بھی مسلمان ہے، والد بھی اسلام کے لیے بہت نرم ہو گیا تھا لیکن چار ماہ پہلے اُسکی وفات ہو گئی۔
آپ کا سوال تھا کیا اللہ کو دیکھنا ممکن ہے۔ میرا جواب ہے جی ہاں اللہ کے خاص اپنے لیے بچھائے حقائق میں اُسکی موجودگی دیکھنا ممکن ہے البتہ میں یہ نہیں کہہ سکتا کہ اُس سحری والا وہ بندوست میرے لیے تھا یا اجے کے لیے .