حسِ لطیف اور قومِ ثقیل - سمیرا امام

ہماری ایک اعلیٰ پائے کی تعلیم یافتہ دوست جنہیں ہم مکمل طور پہ ولی گردانا کرتے تھے اور انھیں ہر قسم کی انسانی خواہشات سے مبرا خیال کرتے تھے ' نے ایک شام ہمیں برقی پیغام ارسال کیا کہ انھیں انتہائی ایمرجنسی میں چند پشتو رومانوی اشعار بھیجے جائیں ـ

ہائیں ... اول تو ہمیں اس بات کی ہی سمجھ نہیں آئی کہ محترمہ کو یہ مغالطہ آخر کیسے لگ گیا کہ پختون قوم کسی قسم کی حس لطیف کا شکار بھی ہوتی ہے ـ اور حس لطیف بھی وہ جسے رومانس کہا جاتا ہے ـ لیکن ادبی خاتون تھیں اور ہمیں خود کو یہ کہہ کر بے ادب ہر گز ثابت نہیں کرنا تھا کہ ہم اس نامراد خاندان سے تعلق رکھتے ہیں کہ جہاں اماں دوپٹے کا پلو دانت میں دبا کے ابا کا تعارف کچھ ایسے انداز میں کرواتی ہیں کہ جی یہ والد صاحب ہیں... سننے والا اگر کوئی باہر کا بندہ ہو تو شاید ابا کو اماں کے والد ہی گردان لیں ـ لیکن اس ستم ظریفی کا کیا کیجیے کہ ابا بہتر سال کی عمر میں بھی دلکش و رعنا ہیں اور اماں باون سال میں بھی انکی بیٹی کم از کم نہیں دکھائی دیتیں ـ اب ہم نے برقی پیغام کو متعددبار پڑھ کر خود کو یقین دہانی کروائی کہ یقیناً محترمہ رومانوی اشعار ہی کی بات کر رہی ہیں ـااور اس پہ طرہ یہ کہ اشعار کا تقاضا بمع ترجمہ کے کیا جا رہا ہے ـ اپنی یادداشت کے بحر بیکراں میں ہم نے طارق بن زیاد کی کشتیاں تیرا کے متعدد غوطے لگوائے لیکن نتیجہ صفر ابھی ہم بحر بیکراں سے نکل کے بحر ظلمات میں گھوڑے دوڑانے ہی والے تھے کہ اپنی مادری و پدری زبان کا ایک شاہکار شعر ہمیں یاد آگیا ـ ارشاد فرمایا
زما پہ خواخے دے لعنت شی - دا دہ اولس شرم اے مالا لویا او نا
ترجمہ: ہماری ساس کی شان میں ان پانچ انگلیوں کا نذرانہ جنہیں عرف عام میں لوگ دو حرف بھیجنا کہتے ہیں ـ
کہ یہ چچا چھکن جیسے دنیا کی آنکھ کے شہتیر قسم کے بیٹے کی پرورش ہماری خاطر کی ہے ـ

خوشی خوشی شعر بھیجا لیکن بجائے احسان ماننے کے محترمہ برہم ہو گئیں ... اور فرمانے لگیں میں نے رومانوی شعر مانگا تھا لعنتی نہیں ـ کیسی ناہنجار خاتون تھیں جس شعر میں ساس کی خدمت میں نذرانہ پیش کیا گیا کیونکہ وہ محبوب کو جنم دینے کی مرتکب ٹہری ہیں اس شعر کو لعنتی کہہ کے ٹھکرا رہی ہیں ـ ہم ابھی باقاعدہ طور پہ روٹھنے والے تھے کہ خیال آیا بے ادب کہلائے جائیں گے ـ لہذا تحمل کے دامن کو مضبوطی سے پکڑ کر ارشاد کیا : پیاری ایسا بھی کیا اتاؤلا پن ذرا صبر فرما لیجیے ہم اپنی اماں سے پوچھ کے بتائے دیتے ہیں ـ امید ہے کہ اپنی مسلمانی کا لحاظ کرتے ہوئے آپ نے کسی ہالی ووڈ کے کافر اسٹار جیسے محبوب کو نہیں پسند کیا ہوگا جو پانچ منٹ کے وقفے میں محبوبہ بدلنے کا رجحان رکھتا ہو ـ اور آپ اماں سے شعر پوچھنے کے وقفے تلک محبوب کو چاند تاروں کے بیان میں الجھائے رکھیں ـ رات کا وقت .. اماں نیند میں اونگھتی ہوئی .. ڈرتے جھجھکتے شرماتے لجاتے عرض کیا : اماں پشتو میں کیا رومانوی اشعار ہوتے ہیں؟ اماں کا جواب شعر سمیت گولی کی رفتار سے آیا ...ہاں بھلا کیوں نہیں ہوتے ہماری زبان کسی سے کم ہے کیا .. رحمان بابا فرماتے ہیں :
مار چے سوڑے تا نیزدے شی التا سم شی - تہ دہ گور پہ غاڑہ سم. نہ شوے رحمانا
ترجمہ: سانپ بل کے قریب پہنچ کے اپنی بے ڈھنگی چال سیدھی کر لیتا ہے ـ لیکن اے رحمان تم تو قبر میں پاؤں لٹکائے بیٹھے ہو پھر بھی چال چلن درست نہ ہوا

اماں ! اللہ رسول کو مانیں ...یہ رومانوی شعر ہے؟ ؟؟ مانتی ہوں اس شعر کے آخر میں بابا کا نام آتا ہے لیکن غضب خدا کا ساری دنیا کے شوہروں کا نام رحمان ہونے سے تو رہا ....اماں نے سوئی آنکھیں پھٹ سے کھولیں .. ابرو اچکا کے مشکوک ترین نگاہوں سے مجھے گھورا ... اور سوال کیا .. یہ رومانوی کیا ہوتا ہے ـ؟؟
ہائیں ... اب یہ کون بتائے ... وہ اماں رومانوی شعر وہ شعر ہوتا ہے جو میاں بیوی ایک دوسرے کو سناتے ہوں ـ اماں کے تیور مزید بگڑ گئے ـ
بی بی ہمارے زمانے میں میاں بیوی کی آنکھ میں شرم حیا موجود تھی ایسے منہ اٹھا کے شعر و شاعری کرنے نہیں بیٹھ جاتے ... تمھارے تو دیدوں کا پانی مر گیا ہے ـ باوا نے یونیورسٹیوں میں بھیج کے لڑکیوں کی آخرت برباد کر ڈالی ..... ماں کے سامنے عشق معشوقی کی باتیں کر رہی ہیں .... اور اس قدر ذلت کے بعد جی چاہتا تربیلہ کی جھیل میں ڈوب کے پانی کو تا حیات زہریلا کر دوں ... لیکن اماں کی زبان کی گولہ باری جو بند ہونے کو تھی اچانک دوبارہ شروع ہو گئی .. اور یہ تم کس خوشی میں میاں بیوی کے پشتو اشعار پوچھ رہی ہو ..تمھارا میاں تو افریقیوں کی زبان بولتا ہے ـ کس کو شعر و شاعری سنا رہی ہو .....
اماں ....... احتجاجاً اتنی ہی آواز نکل سکتی تھی ... لہذا ہم نے واک آؤٹ کرنا زیادہ مناسب سمجھا .. لیکن شعر کا مسئلہ جوں کا توں تھا ـ
سوچا لالئی کو فون کر کے مدد مانگتے ہیں کیا خبر بھائی صاحب نے جوانی کے زمانے میں ترنگ میں کبھی دو چار اشعار سنائے ہوں ـ

فون ملایا ..لالئی کی سدا کی اکتاہٹ بھری آواز سنائی دی ... کیا ہوا؟ ؟ بابا تو ٹھیک ہیں نا ؟ لاحول ولا .. ماں بہن کا ہوچھ لیا کرو...بابا کا مجھے کیا علم وہ اسلام آباد ہم یہاں .. اچھا پھر چلو اللہ حافظ ... لالئی میں آپکا سوشل میڈیا نہیں ہوں جو فقط خاندان بھر کی خبریں پہنچاتا ہو ...مجھے آپ سے ایک ضروری کام ہے ...
ہاں بولو ... ؟ پشتو کا رومانوی شعر سنائیں ..... استغفراللہ .. میں تمھاری بڑی بہن ہوں .. کیا بالکل ہی حیا مر گئی ہے ـ
لالئی ڈرامے بازی مت کریں ... شعر سنا دیں .. اچھا سنو ... جی جی ارشاد ...
جانان زما زہ دہ جانان یم - کہ پہ بازار مے خرسا وی ورسرا زم
ترجمہ: میں انکی وہ میرے - اگر بیچ بازار بھی بکنے کا ڈر ہے تو میں ساتھ چلنے کو تیار ہوں ـ
لاحول ولا لالئی ...ابا کا نام ڈبو دیا ... کیا ساری عمر اس قسم کی بے وقوفی سکھاتے رہے ہیں وہ؟ ؟ کہ آپ بیچ بازار کسی جانان ٹائپ شے کے ہاتھوں بکنے کو تیار ہو گئیں .. یوسف نہیں ہیں آپ ..عورت ذات ہیں کچھ تو لحاظ کیا ہوتا .. لالئی پہ دل کی بھڑاس نکالنے کے بعد ہم نے خاندان بھر کی خواتین سے رابطے کیے اور جی بھر کر مغلظات سنیں ـ حالانکہ یہ وہ خواتین ہیں کہ جنہیں آپ شادیوں میں ٹپے ماہیے گاتے سن لیں تو آپکو غش پڑ جائیں .... لیکن اس وقت میری مٹی پلید کرنا انھوں نے اپنا دینی و حمیتی فریضہ خیال کیا اور عشقیہ شاعری کی بات کرنے والی کو سو کوڑوں سے کم کی سزا دینے پر بھی قادر نہ ہوتیں اگر ان پھپھے کٹنیوں کو کوئی قاضی کا عہدہ عنایت فرما دیتا ... لیکن اللہ گنجے کا ناخن نہیں دیتا یہی اسکے راز ہیں اور یہی اسکی حکمتیں ـ
( نوٹ!! پشتو الفاظ کو پشتو رسم الخط سے ناواقفیت کی بنا پہ درگزر کیا جائے)